افغان نوجوانوں کے بارے میں خیالات

افغانستان کی تاریخ کا ایک جائزہ ہمیں جنگ کی یاد دلاتا ہے۔ بد قسمتی سے، یہ زیادہ تر نوجوان ہی تھے جو اس کا نشانہ بنے۔ افغانستان کو بہت سے جسمانی اور جذباتی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور گزشتہ سالوں میں اس نے اپنے بہت سے انسانی وسائل کو کھو دیا ہے۔

سید احسان الدین تاھیری

2009-10-31

افغانستان کی تاریخ کا ایک جائزہ ہمیں جنگ کی یاد دلاتا ہے۔ بد قسمتی سے، یہ زیادہ تر نوجوان ہی تھے جو اس کا نشانہ بنے۔ افغانستان کو بہت سے جسمانی اور جذباتی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور گزشتہ سالوں میں اس نے اپنے بہت سے انسانی وسائل کو کھو دیا ہے۔

1979 کے فوجی انقلاب کے بعد روسی فوجوں کے افغانستان میں داخل ہونے کے بعد لوگ دو گروہوں میں تقسیم تھے۔ ایک گروہ اشتراکیت کی چھتری کے نیچے رہا اور دوسرا مزاحمت اور جنگ کے لیے اٹھ کھڑا ہوا اور انہوں نے ایک دوسرے سے ہی لڑنا شروع کر دیا۔ جہاد کے سالوں کے دوران، دو ملین سے زیادہ لوگ جو کہ زیادہ تر کافی نو عمر تھے، مارے گئے۔

اگر ہم اب نظر دوڑائیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ ملک کے نوجوان اپنے حقوق اور تعلیم کے حق سے محروم ہیں۔ نوجوان لوگ جن کی عمر پچیس سے پینتیس سال کے درمیان ہے، زیادہ تر غیر تعلیم یافتہ ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ پڑھنے کی عمر سے گزر گئے ہیں کیونکہ ان پر اپنے گھروں کے لیے روزی کمانے کی ذمہ داری عائد ہے۔

مجاہدین اور اشتراکیوں کے درمیان تیس سال کی جنگ کے دوران، تعلیم کے شعبے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ نوجوان مختلف سیاسی گروہوں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنے رہے اور یہاں تک کہ طالبان کے زوال کے بعد بھی ایک متحدہ تعلیمی نظام کے نہ ہونے کی وجہ سے نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کسی قسم کی تعلیم سے بھی محروم رہ گئی ہے۔

ووکیشنل تعلیم ایک جزوی حل فراہم کرتی ہے، مگر ملازمت کے مواقع مہیا کرنے کے لیے اسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے، ورنہ بے روزگاری نوجوانوں کو جنگ، منشیات کے استعمال، منشیات کی اسمگلنگ اور خود کشی تک لے جائے گی۔

ہماری موجودہ حکومت کے آٹھ سالہ دور میں، نوجوانوں کی مدد کے لیے بہت ہی کم کام کیا گیا ہے اور اگر کسی نوجوان کی سرکاری اہل کاروں یا این جی اوز تک رسائی ہو تو اس کے لیے ہر چیز مناسب طریقے سے منظم کی جاتی ہے کیونکہ ہمارے ملک میں زندگی کے تمام پہلووں میں تعلقات ہی ترپ کا پتہ ہیں۔

کچھ لوگ سنتے ہیں کہ نوجوانوں کو ملازمت تلاش کرنے میں مدد دینے کے لیے بہت سی تنظیمیں اور دفاتر قائم کیے گئے ہیں۔ مگر وہ دوسرے سیاسی گروہوں کی طرح اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے صرف نوجوانوں کا استحصال ہی کر رہے ہیں۔

تاہم نوجوان لوگ دوبارہ سے بھینٹ چڑھنے یا غلط طور پر استعمال کیے جانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ انہیں تعلیم کی ضرورت ہے۔ اس وقت ستر فیصد تک نوجوان ان پڑھ ہیں۔ تعلیم کے بغیر ان کے مستقبل کے لیے کوئی امید نہیں ہو گی۔ اگر حکومت اور نوجوانوں کی مدد کرنے کے ذمہ دار اداروں نے ان نوجوانوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے کوئی قدم نہ اٹھایا تو وہ غلط راستوں کا انتخاب کرنے پر مجبور ہر جائیں گے، جس سے سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچے گا۔

مجھے اس بات کا اضافہ کرنے دیں کہ افغانستان میں نوجوانوں کی یونینیں موجود ہیں۔ مگر دوسرے اداروں کی طرح وہ صرف واعظ دیتی ہیں اور عمل نہیں کرتیں اور وہ صرف پیسے اکٹھے کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

چونکہ زیادہ تر حکومتی اور غیر حکومتی تنطیمیں نوجوانوں کے لیے کام نہیں کرتی ہیں اس لیے میں ذمہ دار تنظیموں کے حکام سے التجا کروں گا کہ وہ افغانستان کی نوجوان نسل کے لیے کام کریں اور انہیں مناسب تعلیم مہیا کریں۔ تعلیم کے ساتھ، قانون پھر سے ترپ کاپتہ بن جائے گا اور ہمارے ملک کے لیے ایک کامیاب مستقبل کا امکان پیدا ہو جائے گا۔

ادارتی پالیسی: قارئین کے بیان کردہ خیالات ضروری نہیں کہ CentralAsiaOnline.com کی پالیسی کی عکاسی کریں۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 12)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • ذاتی پیغام: نوجوانوں کی تعلیم کی طرف زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔ کیونکہ اگر وہ سکول سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد یونیورسٹی تک نہ پہنچیں تو بے روزگار رہ جائیں گے۔ اس سے ان کے خودکشی، منشیات کے استعمال، سمگلنگ اور دیگر خرابیوں میں ہونے کا امکان بڑھ جائے گا۔ شکریہ۔

    September 17, 2011 @ 03:09:00AM تمیم سید زاده
  • ہاں، پیارے، ایسا ہی ہے۔ ہم افغان نوجوانوں کی کامیابی کے بارے میں پرامید ہیں۔

    July 9, 2011 @ 04:07:00AM بله دوست عزیز این چنین است
  • میں آپ کی باتوں سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ مگر ہم نوجوانوں کو سیاست دانوں سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔

    April 6, 2011 @ 10:04:00PM عبدالغقور
  • یہ افغانستان کے عوام کی بہبود کے لئے کام کرنے کا وقت ہے۔ پاک افغان سرحد پر حفاظتی اقدامات کو سخت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کو محفوظ رکھا جا سکے۔ پاکستان میں موجود تیس لاکھ سے زائد افغان باشندوں کو زبردستی واپس بھیجا جائے تاکہ پاکستان میں امن قائم ہو۔

    February 8, 2011 @ 09:02:00AM usman Baloch
  • ہمارے ملک کے حالات انتہائی خراب ہیں۔

    February 1, 2011 @ 04:02:00AM hakim
  • آپ نے جو کچھ کہا ہے میں اس کی مکمل تائید کرتا ہوں۔ میں ان لوگوں میں شامل ہوں جنہیں جنگ نے 100 فی صد نقصان پہنچایا۔ میں سول انجنئیرنگ کے شعبے کا طالب علم تھا لیکن ہم اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ طالبان کے دور حکومت میں جو کچھ ہوا وہ جنگ کے گزشتہ 30 سالوں سے بڑھ کر تھا۔ آپ نے تو بہت کم لکھا ہے۔

    December 6, 2010 @ 02:12:00AM Abdul Ghafar
  • مجھے آپ تمام پڑھے لکھے افغان باشندوں پر فخر ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ ہر ممکن حد تک مختلف ویب سائیٹوں پر ان مضامین کو فروغ دیں گے کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے نوجوانوں کو سیاسی ہتھیاروں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ مثلاً طاہری صاحب، مجھے امید ہے کہ آپ ہمارے جبر و استبداد کا شکار ملک کے تمام متحرک نوجوانوں تک معلومات پہنچائیں گے۔ بصد احترام، آریان جراسی، قائد نوجوان افغان فدائین

    November 7, 2010 @ 11:11:00PM آریــــــــــــــــــــــــن جرسی
  • میں اپنے تمام دوستوں کا انتہائی مشکور ہوں جنہوں نے افغان مسائل سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ روز اول سے ہی افغان عوام کو جنگ کے مسائل کا سامنا ہے لیکن کسی کو بھی ان کی زندگیوں کی پروا نہیں۔ انسانی بنیادوں پر کام کرنے والی تمام تنظیمیں دیگر علاقوں میں لوگوں کی مدد اور سہولیات کی فراہمی میں مصروف ہیں لیکن وہ افغان عوام کی بہتری اور خوشحالی کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھا رہیں۔ میری تجویز ہے کہ تمام اقوام مل بیٹھ کر افغان مسائل پر تبادلہ خیال کا ایک پلیٹ فارم تشکیل دیں اور افغانوں کے مسائل کا ٹھوس حل تلاش کریں۔

    October 29, 2010 @ 10:10:00PM Fawad Ali Arif
  • میں اپنے دوست کی بات سے مکمل متفق ہوں۔ یہ بات درست ہے کہ افغانستان کے نوجوان تعلیم سے محروم ہیں اور ان کی تعلیم کے لئے کوئی مناسب منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ نوجوانوں کو کسی قوم کی طاقت تصور کیا جاتا ہے لیکن کیا ہمارے نوجوان اس قابل ہیں؟ میرا خیال ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ ہمارے بجٹ میں نوجوانوں کی تعلیم کے لئے بہت کم رقم مختص کی گئی ہے۔ ہمارے نوجوان بنیادی سہولیات سے مکمل محروم ہیں۔ ہم غربت اور جہالت کا شکار ہیں۔ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے لئے اربوں ڈالر مختص کیے جاتے ہیں لیکن نوجوانوں کے مستقبل کے لئے بہت کم رقم رکھی جاتی ہے۔

    August 28, 2010 @ 10:08:00AM tariq
  • ہم ابھی تک افغانستان کے قومی مفادات سے متعلق ایک عمومی معاہدے یا مشترکہ مفاہمت پر نہیں پہنچ سکے اور اس کمزوری کے باعث ہر امید افزا سرگرمی ختم ہو گئی ہے۔ تاحال افغانستان کے نوجوانوں میں عمومی لحاظ سے قابل قبول تصور یا انداز فکر موجود نہیں ہے۔ ناگزیر پس منظر سے محرومی کا شکار عوام کو نظر انداز کرنے کے باعث تعلیم یافتہ افغان بھی ایک قوم بننے یا کامیاب قومی استحکام کی منزل کے حصول تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ ماضی کے جبر و استبداد، پرانی روایات، نوجوانوں کے ساتھ تعاون کی حقیقی بنیادوں کے فقدان اور نسلی رہنماؤں کے ناروا سلوک اور سرگرمیوں کے نتیجے میں ملک کی سیاسی زمرہ بندی میں نوجوانوں کی ایک پیچیدہ اور کوڑھ مغز نسل کے طور پر تعریف کی جا رہی ہے۔ چنانچہ ہمیں نوجوانوں میں اتحاد اور موافقت کی فضاء قائم کرنے کے طریقے ڈھونڈنے اور انہیں اس ملک کی تاریخ اور حقائق کی مشترکہ تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ مجرموں کو مجرم سمجھیں چاہے ان کا تعلق ان کے اپنے قبیلے یا قوم سے ہی کیوں نہ ہو۔

    June 26, 2010 @ 02:06:00AM جمیل شیرزاد
  • افغانستان کے حالات خراب ہیں اور کسی کو بھی ملک کے نوجوانوں کی پروا نہیں۔ ملک میں تمام نوجوان انتہائی نامساعد حالات میں رہ رہے ہیں۔ وہ سب بے روزگار ہیں اور ان کا مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے۔ سرکاری افسران کو ان کی بالکل پروا نہیں اور وہ اپنے ہی بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ بارسوخ اور بہتر خاندانی حیثیت کے حامل نوجوان سرکاری ملازمتیں حاصل کر لیتے ہیں حالانکہ ان کی تعلیمی قابلیت دوسروں کے مقابلے میں بہتر نہیں ہوتی۔ پارلیمان واضح طور پر بدعنوان اراکین پر مشتمل ہے جو دوبارہ منتخب ہونے کے لئے تمام ناجائز سرگرمیوں میں ملوث رہتے ہیں۔ آخر موقع پرستوں کا ایک گروپ جمع ہو کر تمام غیر قانونی کام کیوں کرتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آئندہ میعاد کے لئے منتخب ہونے کی غرض سے ووٹ چاہتے ہیں۔ ہمیں ایک ایسے دن کی امید کرنی چاہیے جب ان مجرموں، لٹیروں اور چوروں کو سزا ملے گی اور انصاف اور مساوات کا بول بالا ہو گا اور ایک ایسا افغانستان معرض وجود میں آئے گا جس میں اس طرح کے چوروں اور ظالموں کی کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ شکریہ۔

    June 18, 2010 @ 02:06:00PM sa
  • سپر پاورز کو جنگی کھیل چھوڑ دینے چاہئیں۔

    March 20, 2010 @ 06:03:00PM Joe
  • افغان عوام کو مدد کی ضرورت ہے کیونکہ انہوں نے جنگ و جدل کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ انہیں امن کی ضرورت ہے۔

    February 11, 2010 @ 04:02:00AM гульжан
  • یہ تلخ حقیقت ہے

    December 20, 2009 @ 03:12:00PM Aimal