عوام کے خادموں کے لیے محل، عوام کے لیے کچی آبادیاں

اس سال کے شروع میں ریڈیو پوائنتاحت نے ایسے پروگرام نشر کیے جن کا مقصد تپِ دق (ٹی بی) کے خلاف جنگ میں مدد کرنا تھا۔ سرکاری طور پر ازبکستان اسے مسئلے سے موثر طریقے سے نپٹ رہا ہے۔ لوگوں کو

ولادیمیر پیتروف

2009-10-15

اس سال کے شروع میں ریڈیو پوائنتاحت نے ایسے پروگرام نشر کیے جن کا مقصد تپِ دق (ٹی بی) کے خلاف جنگ میں مدد کرنا تھا۔ سرکاری طور پر ازبکستان اسے مسئلے سے موثر طریقے سے نپٹ رہا ہے۔ لوگوں کو "کھانے سے پہلے ہاتھ دھو لیں" یا "امیر اور صحت مند ہونا بہتر ہے بجائے کہ آدمی غریب اور بیمار ہو" جیسے نعرے سنائی دیتے ہیں۔

برائے مہربانی کسی زمانے میں مشہور، تاشقند کے تپ دق کے علاج کے مراکز "سرخ اکتوبر" کی تصاویر پر ایک نظر ڈالیں۔ ازبکستان کے آزادی حاصل کر لینے کے وقت تک یہ ٹی بی کا علاج فراہم کرتا تھا اور اس میں سے جو کچھ بھی باقی بچا ہے وہ ابھی بھی علاج مہیا کرتا ہے۔ اب یہ مرکز سیکنڈ ہسپتال کے زیرِ انتظام کام کرتا ہے۔

دنیا بھر میں اس بیماری سے جنگ کرنے کے لیے قابل قدر فنڈز مختص کیے جاتے ہیں مگر ہمارے بارے میں کیا خیال ہے؟ ہم اس مسئلے سے کیسے نپٹ رہے ہیں؟ اس سال ٹی بی کے علاج کے لیے مختص شدہ پہلے ہی سے حقیر امداد کو تاشقند کی بائیس سوویں سالگرہ کے باعث کم کر دیا گیا۔ ابھی تک مختص کی جانے والی رقم میں سے صرف بائیس فیصد کو اس بیماری سے جنگ کرنے کے لیے جاری کیا گیا ہے۔

ہر چیز پر لالچ اور کنجوسی موجود ہے، جن میں اعلی ترجیح کی اشیا جیسے ادویات اور خوراک، جنہیں اس بیماری کا جامع علاج تصور نہیں کیا جا سکتا، سے لے کر بجلی (جو کہ شام کو آٹھہ بجے بند ہو جاتی ہے اور غسل خانوں میں بھی کوئی بلب بھی نہیں ہوتا) شامل ہیں۔ مگر اس مسئلہ کا الزام صرف تاشقند کی بائیس سوویں سالگرہ پر آنے والے اخراجات پر نہیں لگایا جا سکتا۔ خرابی کا یہ عمل تقریبا بیس سالوں سے جاری ہے۔

زیادہ تر واقعات میں، اب مریضوں کو اپنی ادویات خود خریدنی پڑتی ہیں، مگر سب لوگ اس کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں۔ ہمیں اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ سرکاری طور پر ٹی بی کا علاج مفت ہے۔ تاہم ایسے مریض جن کا کافی علاج نہیں ہوا ہے یا انہوں نے اپنا علاج پورا نہیں کیا ہے، دیرینہ طور پر تکلیف کا نشانہ بننے والوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں بعد میں ادویات ناکام ہو جاتی ہیں کیونکہ مریضوں میں ان کے خلاف مدافعت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کے بعد ان کا علاج کرنا بہت زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

سوویت دور میں، تصاویر میں موجود عمارتیں مریضوں سے کھچا کھچ بھری ہوتی تھیں۔ اب وہ کہاں ہیں؟ ہمارے آزاد ازبکستان میں قیدیوں کی بڑی تعداد، سابقہ مجرموں اور مہاجر کارکنوں کی بڑی تعداد اور کام کے ایسے حالات کے ساتھ جو ٹی بی انفیکشن کے لیے نہایت ساز گار ہیں، ٹی بی کے واقعات میں ممکنہ طور پر اضافہ ہوا ہے اور ٹی بی کی بیماری کا شکار بہت سے لوگ ہمارے درمیان رہ رہے ہیں اور وہ بجائے اس کا درست طریقے سے علاج کروانے کے، انجانے میں یہ بیماری پھیلا رہے ہیں۔

حکومت نے ایک فوری حل ڈھونڈ لیا ہے۔ اس نے روٹین میں کیا جانے والا فلیوروگرافی کا طبی معائینہ بند کر دیا ہے جس کا مقصد ٹی بی کی ابتدائی تشخیص کرنا ہوتا ہے، اب مریضوں کو فلیوروگرافی اور دیگر ضروری طبی معاینے خود کروانے پڑتے ہیں۔ اب ٹی بی کی ڈسپنسریوں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ واقعات کی رپورٹ نہ دیں اور صرف ایسے مریضوں کو ہی قبول کریں جن میں بیماری کی واضح علامات جیسے تھوک میں خون کا آنا یا تھوک کا کوچ بسیلس کے لیے پازیٹو ہونا، موجود ہوں۔

حکومت کی طرف سے، اس مسئلے کے لیے اختیار کیے جانے والے لائحہ عمل کو سامنے رکھتے ہوئے، میرے خیال میں ازبکستان کے لوگوں کے لیے اس کے نتائج نسل کشی کے ہوں گے۔ ٹی بی ایک سماجی بیماری ہے جو کہ جیلوں اور کچی آبادیوں میں پھیلتی ہے اور غریب لوگ جو کہ ازبکستان کی آبادی کی اکثریت کی نمائندگی کرتے ہیں، کا اس بیماری کا شکار ہونے کا خطرہ سب سے زیادہ ہے۔

اب چلیں سیکنڈ ہسپتال کے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر علاج کرنے والوں کی طرف جاتے ہیں۔ حکومت نے صاف طور پر اپنے لوگوں کو لا وارث چھوڑ دیا ہے اور یہ تصویر حکومت کی پالیسی کو ظاہر کرتی ہے۔

ہسپتال کا عملہ، جن کی تنخواہیں بہت کم ہیں، اپنی پوری ممکنہ کوشش کرتے ہیں۔ چیف ڈاکٹر اپنے خرچے پر اُس عمارت کی دیکھ بھال اور مرمت کو جاری رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے وہ انچارج ہوتے ہیں۔ صبح چھہ بجے وارڈز اور احاطے کی صفائی کی جاتی ہے اور پوچا مارا جاتا ہے۔ عملہ، وارڈ میں دن میں پانچ سے چھہ دفعہ پوچا مارتا ہے۔ اگر ہسپتال کے پاس ادویات کی کافی فراہمی اور ضروری آلات موجود ہوں تو مریضوں کو تمام انجیکشن اور تجویز کردہ مقدار میں دوائی مل جاتی ہے۔ مگر ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے۔

کیا حکام نے ملک میں تپ دق کے ناکافی علاج کے نتائج کو نظر انداز کر دینے کا انتخاب کیا ہے؟ ہمارے پاس ضروری طبی عملہ اور عمارتیں موجود ہیں۔ صرف حکومت کی طرف سے اس مسئلہ کا مکمل طور پر مقابلہ کرنے کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے کے ارادے کی کمی ہے۔

میں اس بات پر زور دینا پسند کروں گا کہ یہ ہماری قوم کی صحت کے لیے بہت ہی اہم ہے۔ ٹی بی ایک عوامی صحت کا مسئلہ ہے اور اسے سیاسی ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔

تاشقند کی بائیس سوویں سالگرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے، میں نے یہ پیغام ازبکستان کے صدر، وزارتِ صحت اور دیگر موزوں اداروں کو بھی بھیجا ہے کیونکہ درج بالا ہسپتال بھی تاشقند کا حصہ ہے۔

یہ ہمارے راہ نماوں کو یاد دہانی کروانے کے لیے ہے کہ "عوامی خادموں" کے لیے محلوں کی تعمیر کرنا ہی ان کی واحد ترجیح نہیں ہونی چاہیے– وہ لوگ جن کی وہ خدمت کرتے ہیں انہیں ہسپتالوں، علاج کے مراکز، سکولوں، بچوں کے لیے کھیل کے میدانوں اور دیگر سماجی بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔

یا ہو سکتا ہے کہ ایک ہاتھ کو خبر نہ ہو کہ دوسرا ہاتھ کیا کر رہا ہے؟

ٹی بی کی گیارہ عمارات میں سے صرف تین چار ہی اچھے طریقے سے کام کر رہی ہیں۔ باقی تمام بہت ہی خستہ حالت میں ہیں مگر پھر بھی ان کا استعمال جاری ہے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 16)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • ہر کسی کو قبر میں جانا ہے۔ قبر میں اور قیامت کے دن کوئی ملا یا آیت اللہ ہماری مدد کو نہ آئے گا۔ ہر کسی کو اپنے حالات کو خود سامنا کرنا ہو گا۔ ہر کسی سے اس کے کاموں کا حساب کتاب لیا جائے گا۔ اس لیے اپنا خیال رکھیں اور دوسروں کے بارے میں پریشان ہونا چھوڑ دیں۔ اللہ سچ کے ساتھ ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ جھوٹوں پر لعنت ہو۔ تبلیغی جماعت والوں نے اسلام کو تباہ کر دیا ہے۔ یہ سب سے خطرناک گروہ ہے جس نے مسلمانوں کے درمیان نفرت کا جنم دیا ہے۔ آخر ہر دھماکے کے الزام میں تبلیغیوں کو ہی کیوں پکڑا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی، القاعدہ اور حزب التحریر سب سے بڑی دہشتگرد جماعتیں ہیں۔ ان کے ماننے والوں کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس قسم کے اسلام کو فروغ دے رہے ہیں۔

    October 9, 2011 @ 05:10:00AM
    Zaheer
  • بسم اللہ۔ میرے دوستو جان اور سمجھ لو کہ ہمارے سامنے اسلام کے بھیس میں نہایت خطرناک لوگ پھرتے ہیں تبلیغی جماعت والے۔ یہ ہر وقت اللہ رسول کا نام لیتے ہیں لیکن ان کی پیروی نہیں کرتے۔ یہ صرف چھ چیزوں پر اصرار کرتے ہیں جن کا قرآن حدیث یا اسلام میں کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ دراصل یہ چھ چیزیں مسیحی کتابوں یں ہیں آپ انہیں کسی بھی گرجا گھر میں جا کر دیکھ سکتے ہیں۔ کتاب مقدس کا چھٹا باب اعمال۔ انہوں نے یہ بنا کر ہر مسجد میں پھیلا دیا ہے اور قرآن حدیث اور بخاری شریف کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ تبلیغی جماعت کوئی محنت نہیں کر رہی ہے۔ یہ بات سمجھ لیں اور اسے اپنی گفتگو میں دوسروں کو سمجھائیں اور اپنے سکول، دفتر، کالج، ہسپتال، دکان میں عام کریں۔ اگر آپ اس کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو ان سے کتاب فضائل اعمال طلب کریں اور ان سے پوچھیں کہ یہ اچھی ہے یا بخاری شریف۔ وہ کہیں گے بخاری شریف لیکن ان سے پوچھیں کہ وہ فضائل اعمال مسجدوں میں کیوں پڑھاتے ہیں۔ خبردار رہو مسلمانوں کے بھیس میں یہ تبلیغی جماعت والے بھارتی کمانڈو ہیں جو سوات میں گھس گئے اور پھر طالبان بن کر وہاں کارروائیاں شروع کر دیں اور بھارت، افغانستان، ایران، چین اور امریکہ اور اسرائیل ان کی مدد کر رہے ہیں۔ اب تبلیغی جماعت دنیا کی خطرناک جماعتوں میں سے ایک ہے۔ ان کے ساتھ مت جائیں اگر وہ آپ کو چار ماہ کے لیے کہیں تو اس دووران وہ آپ کے دماغ پر قابو پا لیں گے اپنی جادوئی گفتگو سے۔ پھر آپ نہ دین کے رہیں گے اور نہ دنیا آپ ایک ناکارہ مسلمان بن جائیں گے۔ اگر آپ مزید جاننا چاہتے ہیں تو مجھے لکھیں۔

    September 26, 2011 @ 05:09:00AM
    habibullah jan
  • یقینا مسائل موجود ہیں لیکن بالخصوص صحت کے شعبے میں بہت سے ملکوں میں نہیں ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ روس میں سب کچھ ٹھیک ہے؟ روس میں علاج کے اخراجات ازبکستان جیسے نہیں ہیں، اس کے لیے تو یہاں مکان تک فروخت کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں اپنی سوچ مثبت رکھنا ہے۔ ازبکستان میں امن ہے، لوگ دھوکہ دہی، چوری اور ایسے دیگر جرائم سے محفوظ ہیں۔ بچے اپنے والدین کے بغیر سکول آتے جاتے ہیں، ایسا آپ دنیا میں کہیں نہیں دیکھیں گے۔ خوراک اور رہائش کے اخراجات قابل برداشت ہیں۔ میں تین سال سے ازبکستان میں کام کر رہا ہوں، اور یہاں کی حکومت کی مرہون منت اور ازبک عوام کے اچھے سلوک کی بدولت بہت خوش ہیں۔ مشکلات ہر جگہ ہیں۔ آپ کے اہل خانہ کے لیے میری نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ پیوول۔

    September 10, 2011 @ 08:09:00AM
    Павел, Россия -Ташкент
  • ازبکستان میں ہر طرف جھوٹ پھیلا ہے اور لوگوں کے لیے کچھ بھی تبدیل نہیں ہو گا۔ لوگوں کی نسل کشی ہو ری ہیے اور ہر کوئی پیسے اور منافع کے لیے اس کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ پھانسی کی سزا اور دیگر سخت سزائیں نافذ کی جائین، بدعنوان اداروں کو پھانسی کی سزا اور جائیداد ضبط کرنے کے ذریعے ختم کیا جائے۔ نجی محلات کو ضبط کر کے لوگوں، غریبوں کو دے دینا چاہیے۔

    August 21, 2011 @ 09:08:00AM
    илхом
  • یہ ہی طریقہ ہے کہ ہم لوگوں کے نوکروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ وہ ایک خوش اور خوشحال زندگی گزارتے ہیں، لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن ہمارے لیے ایک چیز باعث سکون ہے کہ ہم سب کو ایک دن مرنا ہوگا۔ ہم اس کائنات کے مطابق صحیح زندگی گزارتے ہیں، جبکہ وہ ایسا نہیں کرتے اور ان کو اس کا بھرپور صلہ ملے گا، اس سے زیادہ اور میں کیا کہہ سکتا ہوں؟ ہر ایک کو فارغ کردو، چالاک اور قابل قبول رہنماؤں کا انتخاب کریں جو لوگوں کے فائدے کے لیے معملات نمٹا سکیں۔

    July 4, 2011 @ 11:07:00AM
    ЛЮБОВЬ
  • ہم بہت جلد دوستی، اخوت، باہمی امداد کے بارے میں بھول چکے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اس چیز کو بھی بھول چکے ہیں کہ لوگوں کو ایک ایک کر کے ہلاک کرنا بہت آسان ہوتا ہے اور یہی اس وقت کیا جا رہا ہے۔

    May 12, 2011 @ 10:05:00AM
    Cолнышко
  • ہمارے سب سے بڑے بچے کو رواں سال کے آغاز میں ہیپاٹائٹس اے کا مرض لاحق ہو گیا تھا اور ہمیں اس کے خلاف ویکسین کرانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس پر کتنے اخراجات آتے ہیں؟ 2 لاکھ سوم۔ اسے دو بچوں کی ویکسین سے ضرب دیں تو یہ 4 لاکھ سوم بنتے ہیں۔ چھ ماہ بعد ہمیں پھر ویکسین لگوانے کی ضرورت پڑے گی جس پر مزید 4 لاکھ سوم خرچ ہوں گے۔ لوگوں کی آمدنی 1 سو سے 2 سو ڈالر ماہانہ ہے۔ ذرا سوچیں کہ اگر وہ اتنا مہنگا علاج کرائیں تو پھر ان کا گزارا کیسے ہوگا؟ اتفاق سے روس میں اسی ویکسین کی قیمت نصف ہے۔ ہیپاٹائٹس اے ضروری ویکسینوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

    April 19, 2011 @ 02:04:00AM
    vtashkente.ru
  • میں دسمبر میں اپنے بیٹے کے ساتھ وہاں تھا۔ حالات انتہائی خراب تھے۔ تاہم، ڈاکٹر بہت اچھے اور ایمان دار ہیں اور آپ کو مفت مشورہ دیتے ہیں۔ خدا انہیں صحت دے۔

    February 5, 2011 @ 11:02:00PM
    Гульнара
  • وزیر صحت نے اسے نظر انداز کیوں کر دیا؟ کیا وہ مال بنانے میں مصروف ہیں؟ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟

    January 17, 2011 @ 03:01:00PM
    NET RAZNICI
  • میرے خدا! ہمارے اس سینی ٹوریم کے ساتھ کیا ہوا جو کبھی کامیاب ہوا کرتا تھا؟ میں نے 1989 میں بوروفسکی میڈیکل اسکول سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہاں اپنی پہلی انٹرن شپ کی تھی۔ وہاں بہت اچھے اور نفیس لوگ کام کرتے تھے۔ عملہ انتہائی دوستانہ مزاج کا حامل تھا۔ وہاں مریضوں کو اچھی خوراک دی جاتی تھی اور ان کا علاج کیا جاتا تھا اور تمام ادویات دستیاب تھیں۔ لوگ وہاں چھ ماہ تک قیام کرنے کے بعد صحت مند ہو کر لوٹتے تھے۔ مجھے ان شہریوں سے گہری ہمدردی ہے جنہیں فریو تھراپسٹوں کی پیشہ وارانہ مدد درکار ہے۔

    August 18, 2010 @ 03:08:00PM
    Елена
  • دسویں جماعت کے نصاب میں ایک کہانی ہوا کرتی تھی۔ اس کہانی میں تین بادشاہ اور تین منصف تھے جن کا کام یہ فیصلہ کرنا تھا کہ کس کی سلطنت بہترین ہے۔ سب سے پہلے انہوں نے ایک سلطنت کا دورہ کیا جہاں ہر جگہ بہت خوبصورت عمارتیں موجود تھیں تاہم لوگ غریب تھے اور اپنے بادشاہ سے ناخوش تھے۔ پھر انہوں نے دوسری سلطنت کا دورہ کیا جہاں انہوں نے دیکھا کہ سڑکیں پھولوں اور پودوں سے آراستہ اور صاف ستھری اور مزین ہیں تاہم سلطنت کے لوگ غریب اور اپنے بادشاہ سے ناخوش تھے۔ سب سے آخر میں وہ تیسری سلطنت گئے جہاں انہوں نے دیکھا کہ عوام بادشاہ پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہے ہیں اور خوشی سے جھوم رہے ہیں کیونکہ بادشاہ نے عوام کے مسائل حل کیے اور انہیں خوشحال بنا دیا۔ یہ سلطنت اتنی خوبصورت نہیں تھی کیونکہ اس میں عمارتیں اور سڑکیں اچھی حالت میں نہ تھیں تاہم عوام خوش تھے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے کسی بھی صدر نے اپنی ذات کے سوا عوام کے مسائل کو کبھی اہمیت نہیں دی۔ اگر ایک بھی مخلص شخص آ جائے تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے احکامات کی تعمیل نہیں کرتے۔ اگر ہم اللہ کی پیروی کریں تو پھر غریب اور صدر کے درمیان کسی طرح کا کوئی فرق نہیں رہے گا۔ لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ ناممکن ہے۔ جب ہم کوئی غلط کام کرنا چاہتے ہیں تو آسانی سے کر لیتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ہم درست کام کرنا نہیں چاہتے۔ اگر ہمیں مسائل کا سامنا ہے تو ہمیں ذمہ داری اس کو سونپ دینی چاہیے جو کہتا ہے کہ اسے کرو۔ تجاویز انتہائی آسان ہیں اور ان پر عمل کرنا بھی ممکن ہے۔ اسلام کا ہر کردار اس دنیا کے لئے ہے اور دوسری کے لئے نہیں۔

    July 28, 2010 @ 03:07:00AM
    Iftikhar bashir
  • مجھے امید ہے کہ دوسرے لوگ بھی اس طرح واضح انداز میں لکھیں گے اور دنیا کی توجہ اس ملک اور حکومت کی جانب مبذول کرائیں گے جس کے آمر اسلام کریموف کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کے لئے مغرب اس کی حمایت کر رہا ہے۔

    July 14, 2010 @ 06:07:00AM
    Justin
  • یہ مصنف کی ایک اچھی کاوش ہے۔ ہر حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ صحت اور غربت میں اپنی عوام کا خیال رکھے۔ نئے اسپتال قائم کیے جانے چاہئیں اور اس مقصد کے لئے ایک بڑی رقم مختص کر دی جائے۔

    June 6, 2010 @ 01:06:00PM
    Naeem Iqbal
  • بہت سے بچوں والے غیر ذمہ دار والدین کی طرح خراب حکمران بھی ہر چیز پر توجہ چھوڑ دیتے ہیں۔ انہیں قوم کے ورثاء کی صحت کی فکر نہیں ہوتی اور اپنی فطرت کے مطابق ان کا فلسفہ سادہ سا ہے یعنی اگر کوئی شخص زندہ رہنا چاہتا ہے اور اس میں اس کی صلاحیت ہے تو وہ ہر قسم کے حالات میں گزارا کر لے گا۔ غالباً یہ کسی ملک میں حد سے بڑھنے والی آبادی کے مسئلے کو حل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ ایمیزون کے جنگلوں میں رہنے والے قبائل ریاست کی فراہم کردہ بنیادی صحت کی سہولیات کا تصور بھی نہیں کرسکتے اور اپنا خیال خود رکھتے ہیں۔ ان کے ہاں ازبکستان کی نسبت شرح اموات غالباً کہیں زیادہ ہے۔ جب تک صحت، خزانہ اور دیگر شعبوں کے بجٹ منظور کرنے والے اور سماجی پروگراموں کے لئے مالی امداد کا تعین کرنے والے وزراء خود بھی تپ دق میں مبتلا نہیں ہو جاتے اور ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق نہیں ہو جاتا، اس وقت تک وہ تپ دق سے بچاؤ اور اس کے علاج پر مناسب توجہ نہیں دیں گے۔

    March 1, 2010 @ 04:03:00AM
    Павел
  • ہر شعبہ زندگی میں اسی طرح کے حالات ہیں۔ میں اس پر غور کرنے کے بعد اسی طرح کے متاثر کن انداز میں اس شعبہ زندگی کے بارے میں لکھنے کی کوشش کروں گا جس کا مجھے تجربہ ہے اور جس کی صورت حال بھی ملتی جلتی ہے یا اس سے بھی بدتر ہے۔

    February 11, 2010 @ 09:02:00AM
    Dilnoza