افغان خواتین کے حالاتِ زندگی پر ایک نظر

آبادی کا آدھا حصہ ہونے کے باوجود، اپنے حقوق حاصل کرنے کے سلسلہ میں خواتین ابھی بھی کمزور ترین مخلوق ہیں۔

سید احسان الدین طاھری

2009-09-24

آبادی کا آدھا حصہ ہونے کے باوجود، اپنے حقوق حاصل کرنے کے سلسلہ میں خواتین ابھی بھی کمزور ترین مخلوق ہیں۔ مسلسل جدوجہد اور مصائب کا سامنا کرنے کے باوجود وہ سیاست اور معاشرے میں ابھی تک کوئی نمایاں کامیابیاں حاصل نہیں کر سکی ہیں۔ آج کے افغانستان میں خواتین ابھی بھی اپنے بہت سے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں اور وہ ہمیشہ سے کمزور طبقہ ہیں۔

ہر کوئی اس بات سے آگاہ ہے کہ افغان خواتین نے زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر روس کے قبضہ کے خلاف جنگ میں، وہ اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ موت تک لڑئیں، مگر بدقسمتی سے تاریخ دانوں اور اس دور کے مصنفین نے اس سلسلہ میں افغان خواتین کے بہادرانہ اعمال اور قربانیوں کو نظر انداز کرنے کا انتخاب کیا ہے۔

یہ بات افسوس ناک ہے مگر ہماری تاریخ میں بار بار، سیاسی طاقتوں اور خواتین کے حقوق کے محافظوں نے عورتوں سے صرف کاغذ پر یا ذرائع ابلاغ میں ہی "ہمدردی" کی ہے اور اُن پر مگرمچھ کے آنسو بہانے کے علاوہ بہت کم کام ہی کیا ہے۔ ہم نے ابھی تک اُن کے حقوق کو مان لینے کے مطالبے کی حمایت میں کوئی عملی اقدامات نہیں دیکھے ہیں، جو کہ آج کل بالکل بھی اچھے نہیں ہیں۔

وہ خواتین جو شہری علاقوں میں رہتی ہیں وہ عام طور پر تعلیم یافتہ خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ آزادی سے گھوم پھر سکتی ہیں، تعلیم حاصل کر سکتی ہیں اور اپنے مستقبل کا خود انتخاب کر سکتی ہیں۔ بدقسمتی سے، دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ہو سکتا ہے کہ انہیں اپنے شوہروں کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر جانے کی اجازت بھی نہ دی جائے۔ اگر ایک غریب حاملہ عورت گر کر بے ہوش ہو جائے، تو ہو سکتا ہے کہ اُس کا شوہر یا اُس کا خاندان اُسے کلینک لے جانے سے ہی انکار کر دیں۔ اس کے علاوہ، بہت سے شہری اور دیہی گھر ایسے ہیں جہاں شوہر اور اُن کی بیویاں ایک میز پر بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتے، یا شوہر پہلے کھانا کھاتے ہیں اور اُن کی بیویاں بعد میں کھانا کھاتی ہیں۔

اس بات کو سامنے رکھنا چاہیے کہ نہ تو اسلام اور نہ ہی ہمارے ملک کی اعلیٰ ثقافت اس طرح کے رویے کی اجازت دیتی ہے۔ جو لوگ اس طرح کا طریقہ کار اختیار کیے ہوئے ہیں انہیں اس بات کی اطلاع دینی چاہیے کہ اُن کا عمل زندگی گزارنے کا انسانی یا اسلامی طریقہ نہیں ہے۔ وہ کن روایات کو نبھا رہے ہیں؟

افغانستان کے بہت سے گاوں اور ڈسٹرکٹس ایسی ہیں جہاں خواتین کے خلاف بہت سے تعصبات پائے جاتے ہیں، جیسے کہ ایک لڑکی اس زمین پر تعلیم حاصل نہیں کر سکتی، مناسب کپڑے نہیں پہن سکتی یا اپنے مستقبل کے شوہر کا آزادانہ اور پر امن طریقے سے اپنی خواہشات کے مطابق انتخاب نہیں کرسکتی۔ آئین کی طرف سے مردوں اور عورتوں کو مساوی حقوق دیے جانے کے باوجود یہ صورتِ حال موجود ہے۔

اسلام نہایت سختی سے مردوں اور عورتوں دونوں کے مذہبی حقوق کا دفاع کرتا ہے۔ اس نے مکمل طور پر دونوں کے حقوق بیان کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ، اسلام نے اپنی مقدس کتاب میں خواتین کی آزادی کے بارے میں بہت سے اہم اصول بیان کر دیے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی حدیثیں ایسی ہیں، جن میں سے ہم اپنی تشریحات کے مطابق اپنا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔

خدا کا شکر ہے کہ اب ہمارے پیارے ملک میں لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے کافی تعلیمی بنیاد موجود ہے۔ دور دراز کے علاقوں میں لڑکیوں کے لیے سکول بنانے کے لیے بہت سے اقدامات کیے گئے ہیں جن سے لڑکیوں کو موقعہ ملے گا کہ وہ لڑکوں کے شانہ بشانہ تعلیم حاصل کر کے اپنے ملک کی مختلف شعبوں میں خدمت کر سکیں۔ وہ خواتین جو اپنی تعلیم کو جاری رکھنا چاہیں یا عملی کام کواپنی زندگیوں میں شامل کرنا چاہیں وہ ایسا کر سکیں۔ اللہ ہم سب کو کامیابی عطا کرے!

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 12)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • شکر ہے خدا ہے کہ شہروں میں خواتین کی حالت اچھی ہے۔ تاہم، باقی علاقوں، بالخصوص جنوبی صوبوں میں اچھی نہیں۔

    November 3, 2011 @ 07:11:00AM
    Abdulrman
  • افغان خواتین نہایت غریب اور بے بس ہیں۔

    July 30, 2011 @ 09:07:00AM
    صالحه
  • یہ بہت اچھی کہانی ہے۔

    May 11, 2011 @ 10:05:00AM
    hakim
  • یہ ایک بہترین مضمون ہے۔ تاہم میرا خیال ہے کہ مزید سو سال گزرنے کے بعد بھی افغانستان اور پاکستان میں خواتین کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ معاشرہ اس وقت جاہل، مکار اور بدعنوان لوگوں کے نرغے میں ہے جو اسلام کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

    March 4, 2011 @ 01:03:00AM
    Маhмуд Муртаза
  • خواتین کے ساتھ اس طرح کا رویہ انتہائی افسوس ناک ہے۔

    March 3, 2011 @ 09:03:00AM
    Aisha`
  • انسانیت، شخصی آزادی، شخصی خود مختاری، خواتین کے حقوق۔

    January 18, 2011 @ 11:01:00PM
    Farvehardin
  • ازراہ کرم، پاکستانی خواتین میں شعور بیدار کرنے کے لئے مزید مضامین لکھیں۔ شاید آپ کو علم نہیں کہ جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں میں خواتین کتنی ابتر زندگی گزار رہی ہیں۔

    January 9, 2011 @ 02:01:00PM
    ZAFAR IQBAL.
  • sir g bohat h acha lkha h aap ne and ye aakhar kb tk chalega aase as ka The END NAE HONA?

    January 7, 2011 @ 02:01:00AM
    liaquat Ali
  • جناب، یہ ایک بہت عمدہ مضمون ہے۔ اللہ آپ کو مزید ایسے مضامین لکھنے کی توفیق دے تاکہ لوگوں کو حقائق کا علم ہو سکے جیسا کہ اس مضمون میں کوشش کی گئی ہے۔

    December 23, 2010 @ 11:12:00AM
    sahira Bhutto
  • سلام۔ آپ لوگ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ یہ مضمون واقعی لاجواب ہے۔ تاہم میرا خیال ہے کہ ابھی تک دور افتادہ علاقوں میں رہنے والی لڑکیوں پر خصوصی توجہ نہیں دی گئی۔ مجھے امید ہے کہ کسی روز اس طرف بھی توجہ دی جائے گی۔

    November 14, 2010 @ 08:11:00AM
    afghan
  • میرے خیال میں یہ ایک خوشگوار تبدیلی ہے کہ لڑکیوں کو تمام شعبہ ہائے زندگی میں اپنی موجودگی ظاہر کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ میرا اس بات پر بھی پختہ یقین ہے کہ آج کی عورت ہر شعبے میں نمایاں مقام حاصل کر رہی ہے اور وہ اپنے حقوق سے آگاہ ہے۔ مرد بھی اب خواتین کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔ چند بنیاد پرستوں کی آراء کو سب کی نمائندگی نہیں سمجھنا چاہیے۔ میں جو کچھ ہوں مجھے اس پر فخر ہے اور مجھے یہ احساس تفاخر میری قومیت اور بالآخر میرے ملک نے عطا کیا ہے۔ مجھے پاکستان سے محبت ہے۔

    October 26, 2010 @ 12:10:00PM
    mona rauf khan
  • جناب محترم، میں آپ کے مضامین خاص طور پر خواتین سے متعلق مضامین کو انتہائی دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔ آپ جیسی خصوصیات کے حامل شخص کو سراہنا دشوار ہے جو ظاہری اور باطنی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اللہ آپ کے زور قلم میں اضافہ کرے گا اور آپ محبوب افغانستان کے بارے میں مزید لکھیں گے۔ جناب مجھے اپنا ای میل پتا ارسال فرمائیں۔ آپ کا مخلص حسن سعید

    October 21, 2010 @ 07:10:00AM
    HASAN SAEED
  • لوگو، آپ کا دماغ تو نہیں چل گیا؟ افغانستان میں خواتین کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جاتا ہے اور ان کے ناک کان کاٹ دیے جاتے ہیں جبکہ آپ کا کہنا ہے کہ وہاں حالات ٹھیک ہیں۔ میرا اندازہ ہے کہ ہر ملک میں بعض احمق لوگ موجود ہوتے ہیں تاہم بعض ملکوں میں ان کی تعداد کافی زیادہ ہوتی ہے۔ بظاہر اس کا تعلق ان کی موروثی خصوصیات سے ہے۔

    October 18, 2010 @ 08:10:00AM
    Просто женщина
  • ہم مسلمانوں کو ترقی کرنے کے لئے خود کو بدلنا ہو گا۔ یہ ایک اچھا مضمون ہے۔

    September 12, 2010 @ 02:09:00PM
    ajay
  • زبردست سندھ ٹی وی۔ اپنی معیاری نشریات جاری رکھیں۔

    August 16, 2010 @ 04:08:00AM
    Shama
  • بہت اچھا مضمون ہے۔ مجھے یہ پسند آیا۔

    August 5, 2010 @ 02:08:00PM
    Mohammad Aslam Bhatti
  • مضمون کے لئے شکریہ!

    May 19, 2010 @ 09:05:00AM
    aigerim