قازقستان کے مسودہ قانون سے حکومتی شفافیت میں اضافے کا امکان
اسٹین راجرز
2010-09-03
آستانہ – پارلیمان میں زیر غور ایک مسودہ قانون سے قازقستان کی حکومت میں مزید شفافیت پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ بات 2 ستمبر کو انسٹیٹیوٹ برائے امن و جنگ کی اطلاعات کاری نے اپنی خبر میں بتائی۔
اس مسودہ قانون میں سرکاری اداروں سے مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کے لئے درکار وقت میں کمی، مبہم وجوہات کی بناء پر معلومات فراہم نہ کرنے کو روکنے کی غرض سے رازداری کی واضح تعریف اور اداروں کی جانب سے معلومات کے حصول کی زبانی درخواستوں کا ریکارڈ اور ان پر عمل درآمد کی شرط شامل ہیں۔
مسودہ قانون پر عوامی سماعت اگست میں منعقد ہوئی۔ انسٹیٹیوٹ برائے امن و جنگ کی اطلاعات کاری نے بتایا کہ ستمبر کے اواخر میں ہونے والی کانفرنس میں ان سماعتوں سے حاصل ہونے والی سفارشات کا خلاصہ تیار کیا جائے گا اور وزارت مواصلات کو پیش کر دیا جائے گا۔ پارلیمان میں یہ حتمی مسودہ قانون 2011 میں پیش ہونے کا امکان ہے۔
اس مسودہ قانون کی تیاری میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام، مقامی ذرائع ابلاغ اور شہری معاشرے کی تنظیموں نے مدد کی ہے۔ رواں سال کے اوائل میں صدر نور سلطان نذر بائیف نے حکومت میں زیادہ شفافیت اور احتساب پر زور دیا تھا۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے