تاجک حکام کا اخمدوف کی ہتھیار اٹھانے کی دھمکی پر ردعمل
بزرگ مخر انصوری اور میکس مقصودوف
2010-07-28
دوشنبہ – تاجکستان کے کئی مبصرین نے متحدہ تاجک حزب اختلاف کے سابق عسکری کمانڈر مرزو خدزہا اخمدوف کی اس دھمکی پر ردعمل ظاہر کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر حکومت نے 2008 میں اسپیشل پولیس کے قتل ہونے والے کمانڈر اولیگ زخر چینکو کے ہنوز حل طلب معاملے میں ان پر مقدمہ چلانے کی کوشش کی تو وہ دوبارہ ہتھیار اٹھا لیں گے۔
وزارت داخلہ کے ترجمان مخمد اللو اسد اللوئیف نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ یہ کہانی جھوٹ پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ متعدد غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے اداروں کی پھیلائی ہوئی یہ کہانی غیر مصدقہ ہے اور اسے غلط معلومات تصور کیا جا سکتا ہے۔ ہم اس کی وضاحت کریں گے کہ یہ کہانی کس نے تحریر کی ہے اور اس کی تردید تیار کر رہے ہیں۔
اسلامی رینائسنس پارٹی کے ترجمان خکمت اللو سیف اللو زودہ نے بتایا کہ اخمدوف کے مبینہ ملوث ہونے کا جواب تشدد کی بجائے قانونی طریقے سے دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرقی تاجکستان کی صورت حال کی روشنی میں اس معاملے پر ایک عملی گروپ قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پورے خطے میں عدم استحکام کو روکا جا سکے۔
سینٹرل ایشیا آن لائن کے ساتھ ایک انٹرویو میں اخمدوف نے بتایا کہ ان کے پاس ابھی ہتھیار نہیں ہیں تاہم ان کے حامیوں کی تعداد کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر زخر چینکو کا مقدمہ دوبارہ شروع کیا گیا تو وہ ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اخمدوف نے کہا کہ وہ زخر چینکو کے معاملے میں بے قصور ہیں۔ زخر چینکو فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئے تھے تاہم اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ وہ جس گولی سے ہلاک ہو ئے وہ اخمدوف کی طرف سے آئی تھی۔
پندرہ جولائی کو ایک اخباری کانفرنس میں صدارتی مرکز برائے طویل المیعاد تحقیق کے ڈائریکٹر سخروب شریپوف کافی پر امید دکھائی دیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کئی وجوہات کی بناء پر امن قائم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں آٹھ قانونی سیاسی جماعتیں موجود ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مذہبی انتہاپسندی پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور اس کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔
ان کے خیال میں استحکام کی مکمل ضمانت لوگوں کے ذہنوں میں خانہ جنگی کے واقعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے عوام کبھی بھی اس افراتفری اور طوائف الملوکی کے دور کی جانب لوٹنا نہیں چاہیں گے جو 1990 کے عشرے کے ابتدائی سالوں میں عام تھا۔












رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )