میاں افتخار حسین کے بیٹے کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا
جاوید عزیز خان
2010-07-24
پشاور - چوبیس جولائی بروز ہفتہ صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کے ترجمان اور عسکریت پسندوں کے کٹڑ مخالف میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے کو ضلع نوشہرہ کے پبی ٹاؤن میں ان کے گھر کے نزدیک گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
ضلعی پولیس افسر نثار خان تنولی نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ پچیس سالہ راشد حسین اپنے گھر کے نزدیک چہل قدمی کر رہے تھے کہ پستولوں سے مسلح دو افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔ نثار خان نے بتایا کہ راشد حسین موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ ان کے عم زاد امجد کو فوری طور پر لیڈی ریڈنگ اسپتال پہنچایا گیا جہاں ان کی حالت تشویش ناک ہے۔
میاں افتخار حسین ہمیشہ سے عسکریت پسندوں کے خلاف کھلم کھلا آواز اٹھاتے رہے ہیں اور انہوں نے عسکریت پسندوں کو متنبہ کیا تھا کہ وہ آخری سانس تک ان کا پیچھا کریں گے۔ وہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردانہ حملوں پر ہمیشہ تنقید کرتے رہے ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف اپنی تقریروں کے باعث انہیں شہرت حاصل ہوئی تھی۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
میاں افتخار حسین ایک بہادر انسان ہیں اور میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔ دہشتگردوں نے اس کے اکلوتے بیٹے کو قتل کر دیا ہے لیکن میاں افتخار اب بھی بہادری سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ انہیں صحت اور صبر دے اور ان کے بیٹے کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔