قازقستان میں عدالت نے ہڑتال کو غیر قانونی قرار دے دیا
کاپیزا نور تازینا
2010-03-11
مانگستو اوبلاست، قازقستان – زہاناؤزن کی مقامی عدالت نے ازن مونائی گیز کے تیل کے کارکنوں کی جاری ہڑتال کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ یہ بات 11 مارچ کو ذرائع ابلاغ کی خبروں میں بتائی گئی۔
تاہم، عدالت نے یہ بھی کہا کہ کمپنی کے اعلٰی انتظامی افسران نے ملک کے ضابطہ محنت کی خلاف ورزی کی ہے۔ عدالت نے انہیں ایک ماہ کے اندر اس بات کی وضاحت پیش کرنے کو کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کیا اصلاحی اقدامات کریں گے۔
کمپنی کے جنرل ڈائریکٹر کنزہی بیک ابراشیف نے اخبار قازقستان اسکایا پراودا کو بتایا کہ کارکن غیر ذمہ دار مظاہرین کے بہکاوے میں آ گئے ہیں۔
دس مارچ کو ہڑتالی کارکنوں کی تعداد 10,000 سے تجاوز کر گئی۔ قازقستان ٹوڈے نے اپنی خبر میں بتایا کہ کارکن کمپنی کی انتظامیہ اور اپنی ٹریڈ یونین کے چیئرمین کی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا مطالبہ ہے کہ تنخواہوں کی نئی اسکیم کو منسوخ کیا جائے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس سے تنخواہوں میں کٹوتیاں لگیں گی۔ کمپنی نے کہا ہے کہ تنخواہوں کے نئے نظام کو متعارف کرانے کا مقصد قازقستان کے قانون کی پاسداری ہے اور اس کے نتیجے میں تنخواہوں میں کٹوتیاں نہیں کی جائیں گی۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے