ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے افغان نوجوان پاکستان میں کرکٹ کھیل رہے ہیں

بین الملکی کھیلوں سے علاقائی سالمیت اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو مدد ملتی ہے

ضیاء الرحمٰن

2010-08-31

کراچی – افغانستان کے نوجوان کرکٹر کراچی میں سرکاری سرپرستی میں ہونے والے ایک کرکٹ ٹورنامنٹ میں شرکت کر رہے ہیں۔ افغان اور پاکستانی کھلاڑیوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کھیلوں کے ذریعے دونوں ملکوں میں امن کو فروغ دینے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ڈاکٹر ایم اے شاہ لیفون نائٹ ٹرافی 2010 ٹورنامنٹ کا اہتمام حکومت سندھ کی وزارت کھیل نے کیا ہے اور اس میں 16 ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔ یہ میچ کراچی کے مختلف میدانوں میں ہمیشہ رات کے وقت کھیلے جاتے ہیں۔

افغان یوتھ کرکٹ ایسوسی ایشن کے نو کھلاڑی افغانستان کی قومی ٹیم میں شامل ہیں اور وہ رواں سال کے اوائل میں ویسٹ انڈیز میں منعقدہ آئی سی سی ٹونٹی ٹونٹی کپ میں ملکی دستے کا حصہ تھے۔

افغان یوتھ کرکٹ ایسوسی ایشن کے کپتان اور افغان قومی ٹیم کے کھلاڑی خالق داد نوری نے کہا کہ کسی بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں کھیلنا افغان کرکٹروں کے لئے اعزاز کی بات ہے۔

نوری نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ اس ٹورنامنٹ میں افغان کرکٹ ٹیم کی شمولیت نہ صرف افغانستان میں کرکٹ کی ترقی کی جانب ایک مثبت قدم ہے بلکہ اس سے پاک افغان تعلقات کو مستحکم بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

کرکٹ کا کھیل نوجوانوں کی توجہ عسکریت پسندی سے دور ہٹائے گا

انہوں نے مزید کہا کہ ہم افغانستان میں کرکٹ کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ اپنے جنگ سے تباہ حال ملک کے نوجوانوں کو جنگ اور منشیات سے ہٹا کر کرکٹ اور اپنے وطن کے ایک روشن مستقبل کی جانب راغب کریں۔

افغان ٹیم کے ایک اور کھلاڑی سمیع اللہ شنواری نے کہا کہ افغانستان میں کھیلوں کو تیزی سے مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ سے ان کے ملک کے تصور کو بحال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

شنواری نے بتایا کہ افغان عوام کسی اور کھیل کی نسبت کرکٹ میں بہت زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ اب افغانستان میں بیشتر مرد و خواتین اور نوجوان اس کھیل کے مداحوں میں شامل ہیں۔

سندھ کے وزیر کھیل ڈاکٹر سید محمد علی شاہ نے افغان ٹیم کی شرکت پر اس کا شکریہ ادا کیا۔ پاکستان میں امن و امان کی مخدوش صورت حال کے باعث بین الاقوامی ٹیمیں ملک میں کرکٹ کھیلنے سے گریزاں ہیں۔

شاہ نے بتایا کہ سری لنکا اور ہانگ کانگ کی ٹیموں کو بھی اس ٹورنامنٹ میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی تاہم انہوں نے سیکورٹی خدشات کی بناء پر پاکستان آ کر کھیلنے سے انکار کر دیا۔

سندھ کے وزیر کھیل نے بتایا کہ کھلاڑیوں کی حفاظت کے لئے نقائص سے پاک انتظامات کیے گئے ہیں۔ افغان ٹیم کو کراچی میں اپنے قیام کے دوران دیگر سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔

کرکٹ سے بین الاقوامی تعلقات مستحکم ہوں گے

انہوں نے کہا کہ دونوں ملک دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور دونوں اقوام کے درمیان میچوں کے انعقاد سے لوگوں کو یہ پیغام ملے گا کہ وہ مل جل کر دہشت گردی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ نوری نے بتایا کہ ان کی ٹیم کو افغان حکومت اور افغانستان کرکٹ بورڈ کی معاونت حاصل ہے۔

انتیس اگست کو کورنگی الفلاح کے خلاف میچ میں شنواری نے پانچ وکٹیں لیں اور دو کھلاڑیوں کو رن آؤٹ کیا۔ افغان ٹیم نے یہ میچ جیت کر ٹورنامنٹ کے کوارٹر فائنل کے لئے کوالیفائی کر لیا۔ فائنل 6 ستمبر کو ہو گا۔

افغان ٹیم کے بیشتر اراکین نے سوویت یونین کے حملے اور اس کے بعد چھڑنے والی خانہ جنگی کے دوران ملک سے نقل مکانی کر کے اپنی ابتدائی زندگی پاکستان کے مہاجر کیمپوں میں گزاری جہاں انہوں نے کرکٹ سیکھی۔

ایک مقامی ٹیم کورنگی سی سی کے کھلاڑی ارشد علی نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہم اس ٹورنامنٹ میں افغان کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں جس سے ہمارے دو طرفہ تعلقات مضبوط ہوں گے۔

سینٹرل ایشیا آن لائن کو یہ بھی پتا چلا ہے کہ افغانستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے اکتوبر میں دونوں ملکوں کی ٹیموں کے درمیان ایک روزہ سیریز منعقد کرانے کی درخواست کی تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنی ٹیم کی مصروفیت کی بناء پر اس سے معذرت کر لی۔ پاکستان کے سینئر کرکٹروں نے اس انکار پر نکتہ چینی کی ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے سابق صدر احسان مانی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو افغانستان کو اس کھیل میں اپنی جگہ بنانے میں مدد دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی مدد کرنا ہماری ذمہ داری ہے تاکہ ہمارا خطہ مضبوط بن سکے۔

شاہ نے کہا کہ ایک روزہ سیریز دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گی۔

سندھ کے وزیر کھیل کا کہنا تھا کہ افغان ٹیم ایک اور ٹورنامنٹ کھیلنے کے لئے آئندہ چھ ماہ میں پاکستان کا چکر لگائے گی اور ہم انہیں تمام سہولیات اور کرکٹ کے لئے درکار تربیت فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 28)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • ٹھیک ہے۔

    April 23, 2012 @ 09:04:05AM mahmmad.rafiq
  • کرکٹ۔ یہ اچھے تبصرے ہیں۔

    March 17, 2011 @ 07:03:00AM FARZAN JUNAID
  • سلام، میرا نام برہان الدین ہے۔ میں بین الاقوامی کرکٹ کے میدان میں افغان ٹیم کو آسٹریلیا، بھارت اور انگلینڈ کے خلاف کھیل کر انہیں شکست دیتے دیکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے کرکٹ کھلاڑی بننے کا بہت شوق ہے۔

    November 19, 2010 @ 05:11:00AM Burhanuddin
  • مجھے پاکستان اور افغانستان دونوں کی کرکٹ ٹیمیں پسند ہیں تاہم دونوں ملکوں کی کرکٹ ٹیموں میں کچھ فرق ہے۔ جب پاکستان کی ایک وکٹ گرتی ہے تو پوری ٹیم دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے اور ایک ایک کر کے تمام وکٹیں گرنے لگتی ہیں۔ اس کے برعکس افغان ٹیم دباؤ کا شکار نہیں ہوتی۔ افغان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بہت بہادر ہیں اور گزشتہ میچوں میں وہ کافی اچھا کھیلتے رہے ہیں۔ ہم پاکستان اور افغانستان دونوں کی کامیابی کے لئے دعاگو ہیں۔

    November 12, 2010 @ 11:11:00PM hikmatghani
  • میرا خیال ہے کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ افغان کرکٹ ٹیم کو ملک میں ایک روزہ بین الاقوامی میچ اور ٹونٹی ٹونٹی کھلا کر ان کی مدد کرے۔ اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آئے گی اور یہ افغانستان اور پاکستان دونوں میں کرکٹ کی بہتری کے لئے بھی اچھا قدم ہے۔ اب دونوں ملکوں کو دیانت داری سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

    October 26, 2010 @ 12:10:00AM Mirwais khan
  • میں کرکٹ کھیلتا ہوں۔ میں آپ کے ساتھ کرکٹ کھیلنا چاہتا ہوں۔ میں ایک اچھا آل راؤنڈر ہوں۔

    October 21, 2010 @ 04:10:00AM adeel khalid
  • afghan youth cricket ne pakistan main ha ker khala ya ak acha aqdam ha

    October 10, 2010 @ 12:10:00AM ABDUL BASIT
  • افغانستان اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان میچ ایک خوش آئند بات ہے کیونکہ دونوں برادر ملکوں کے درمیان گہرے تعلقات ہیں اور اس کا دونوں ملکوں کے عوام پر مثبت اثر پڑے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو توڑنا نہیں چاہیے تاہم دونوں جانب سے دیانت داری کی ضرورت ہے۔

    October 7, 2010 @ 12:10:00AM Ajmal
  • میں کرکٹ کھیلتا ہوں اور اس کھیل کو پسند کرتا ہوں۔

    September 25, 2010 @ 11:09:00AM MUHAMMAD SALMAN IQBAL
  • کرکٹ

    September 6, 2010 @ 12:09:00PM irfanullah