شمالی تاجکستان کی ٹیم میں پہلی بار غیر ملکی نژاد فٹ بالر کی شمولیت

گھانا کے باشندے کی خجند آمد

میکس مقصودوف

2010-07-24

خجند – تاجکستان کی ٹاپ لیگ میں کھیلنے والے ایف سی خجند فٹ بال کلب نے گھانا کے ایک کھلاڑی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ شمالی تاجکستان کی کسی ٹیم میں شامل ہونے والے وہ پہلے غیر ملکی نژاد فٹ بالر ہیں۔

خجند کے کوچ اراز تورا کولوف نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ ولیم گیانی مڈ فیلڈر ہیں۔ تورا کولوف نے مزید بتایا کہ 23 سالہ ولیم نے ابھی تک صرف 20 منٹ تک کھیلنے کا مظاہرہ کیا ہے تاہم جلد ہی اہم میچ ہونے والے ہیں۔

صغد اوبلاست کی حکومت خجند کے مالی اخراجات برداشت کرتی ہے۔ ٹیم نے تین بار تاجک کپ جیتا ہے جبکہ وہ دو بار دوسرے نمبر پر اور چھ بار تیسرے نمبر پر رہی ہے۔ رواں سال اب تک کے میچوں میں خجند نو ٹیموں میں ساتویں نمبر پر رہی ہے اور ماضی کی نسبت کچھ زیادہ بہتر کھیل کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ صغد اوبلاست کی حکومت ٹیم کے کھلاڑیوں میں اہم تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے۔

گیانی نے 6 سال کی عمر میں اپنے آبائی وطن گھانا میں کھیلنا شروع کیا تھا۔ وہ اپنے وطن کی ٹاپ لیگ میں پہنچ گئے۔ سال 2008 میں انہوں نے ماسکو کی ٹیم کاماز کے ساتھ معاہدہ کیا اور پھر دوردوئی دینامو میں شمولیت اختیار کر کے کرغزستان چلے گئے۔ ان کے اس دربدر مستقبل کے دوران ان کی اہلیہ گھانا میں ہی مقیم رہیں۔

گیانی نے بتایا کہ یہ معاہدہ اچھا ہے اور یہاں تربیت کے حالات بھی بہتر ہیں۔ تورا کولوف نے بتایا کہ خجند نے دوردوئی ٹیم انتظامیہ کے ساتھ ابتدائی استفسارات کے بعد گیانی کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے مذاکرات شروع کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سفارشات بہتر ہیں اور ہم نے ان کے ساتھ چھ ماہ کا معاہدہ کیا ہے۔

گیانی کو 2,000 امریکی ڈالر کی رقم بطور بونس دی گئی اور وہ ٹیم کے فراہم کردہ ایک اپارٹمنٹ میں بغیر کرایے کے رہتے ہیں۔

تاجکستان کی ٹاپ لیگ میں نو ٹیمیں شامل ہیں۔ صغد اوبلاست فٹ بال فیڈریشن کے نائب چیئرمین رستم میرو فیئیف نے بتایا کہ لیگ میں افریقہ اور جنوبی امریکا کے کھلاڑی بھی کھیلتے ہیں۔ دوشنبہ کی ایف سی تسسکا پومیر میں گھانا کے دو کھلاڑی چارلی ناکوتی اور گیبریئل دونتوہ شامل ہیں۔ گھانا کے ایک اور کھلاڑی علیجاہ آری قرغون تپہ کے ایف سی وخش کے ساتھ کھیلتے ہیں۔

برازیل کے ایک کھلاڑی جیلتن اولیویئرا ترسن زادہ کے ایف سی ریگارا کے ساتھ کھیلتے ہیں جسے تاجک کپ جیتنے کے لئے مقبول ٹیم تصور کیا جا رہا ہے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 18)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • اگر آپ تاجکوں کو 2000 ہزار ڈالر دیں گے تو وہ بین الاقوامی کھلاڑیوں سے بھی اچھا کھیلیں گے۔

    February 11, 2012 @ 06:02:12AM romaregar
  • نیم حملہ آور کا ایسا کوئی کردار نہیں ہے۔

    November 11, 2010 @ 03:11:00PM Tima Altay Kray
  • مجھے اس کھلاڑی کی کارکردگی پر انتہائی خوشی ہے۔

    September 13, 2010 @ 01:09:00AM maston
  • مجھے تاجک فٹ بال کی ذرہ بھر پروا نہیں۔

    September 11, 2010 @ 02:09:00PM karim
  • بظاہر صغد میں فٹ بال کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر خجند خلبک کے درمیان اگلے میچ کو ہی دیکھ لیں۔ ایک ماہ سے اس کے اشتہارات چل رہے ہیں، لاٹریاں نکل رہی ہیں اور 25 ہزار نشستوں پر مشتمل اسٹیڈیم تیار کیا گیا ہے۔

    August 21, 2010 @ 07:08:00AM bakha
  • مجھے علم نہیں تھا کہ غیر ملکی کھلاڑی بھی تاجک کلبوں میں کھیلتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم ترقی کر رہے ہیں۔

    August 4, 2010 @ 03:08:00AM parosh