ازبک فٹ بال درخشاں مستقبل کے لئے کوشاں

نئے کوچ اور فیڈریشن کے صدر شائقین کو عالمی کپ میں شمولیت کی آس دلا رہے ہیں

شاکر سعدی

2010-07-24

تاشقند ۔۔ ازبکستان میں فٹ بال کے بیشتر شائقین نے رواں سال عالمی فٹ بال کپ کے پانچ میچوں میں ریفری کے فرائض سرانجام دینے والے روشن ارماتوف کو انتہائی وارفتگی سے دیکھا۔

اب انہیں امید ہے کہ ازبکستان کی قومی ٹیم جلد ہی ان کی پیروی کرتے ہوئے اگلی بار دنیا کے سب سے زیادہ پرجوش کھیلوں کے مقابلے میں حصہ لے گی۔

ازبکستان کی ٹیم کے شائقین کے کلب کے سربراہ عبدو رخمون فوضلوف نے کہا کہ ہمیں روشن ارماتوف کا ہم وطن ہونے پر فخر ہے۔ ان کی بدولت دنیا بھر کے لوگوں میں ازبکستان کا نام معروف ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کاش ہماری ٹیم بھی عالمی کپ میں حصہ لینے جنوبی افریقہ گئی ہوتی۔

ازبکستان کی ٹیم عالمی کپ کی ٹیمیں منتخب کرنے کے چار ٹورنامنٹوں میں حصہ لے چکی ہے تاہم ہر بار وہ اہلیت میں ناکام رہی۔ 2005 میں بحرین کے خلاف میچ میں ریفری نے دوبارہ پینالٹی کک مارنے کی اجازت نہ دی جس کے نتیجے میں کھیل برابر رہا۔ ازبکستان کی فٹ بال فیڈریشن نے کھیل کے نتائج کو چیلنج کر دیا۔ فیفا نے مقابلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ازبکستان کے ہارے ہوئے میچ کو دوبارہ کرانے کا حکم دیا تاہم مقابلہ ایک بار پھر برابر رہا۔

گزشتہ سال ازبکستان کی فٹ بال فیڈریشن کے صدر ذاکر شون الماتوف مستعفی ہو گئے۔ ان کی جگہ تعینات ہونے والے سینیٹر میر ابرور عثمانوف نے فوراً ہی کام سنبھال لیا اور ازبکستان کی فٹ بال فیڈریشن کے دفتر میں زیادہ وقت گزارنے لگے۔

ایف سی نیفچی کے تکنیکی ڈائریکٹر رسلان خدائی داتوف نے بتایا کہ عثمانوف کی تقرری سے نہ صرف ازبکستان کی فٹ بال فیڈریشن کے ڈھانچے میں بہتری آئی بلکہ فیڈریشن کا معیار بھی کافی بہتر ہو گیا۔ ماضی میں، ازبکستان کی فٹ بال فیڈریشن کے اخراجات پورے کرنے کے لئے زیادہ تر کلبوں کے اراکین کی سالانہ فیسوں پر انحصار کیا جاتا تھا۔ تاہم، عثمانوف کے دور میں منصوبے کی مرکزی مالی امداد کے لئے فٹ بال امدادی فنڈ قائم کیا گیا۔

نئے قائد، نئے منصوبے

عثمانوف نے مختلف منصوبوں پر کام شروع کیا ہے جن میں سب سے اہم فٹ بال ماسٹری کے ریپبلکن اسکول کی تعمیرنو ہے۔

فٹ بال کے امدادی فنڈ کے ڈائریکٹر دزہاخونگیر مخمودوف نے بتایا کہ اسکول کی تعمیرنو پر 40 لاکھ امریکی ڈالر لاگت آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ازبکستان کی فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض سنبھالتے ہوئے عثمانوف کی تمام کوششوں کا محور ایک مخصوص ہدف تھا یعنی قومی ٹیم کو عالمی کپ میں شمولیت کا اہل بنانا۔

اس کے لئے ایک نئے کوچ کا انتخاب اور ٹیم کی مناسب انداز میں تربیت ضروری تھی۔ اگرچہ ان کے پیشرو کا زیادہ تر انحصار غیر ملکی کوچوں پر تھا، عثمانوف نے 2007 میں ازبکستان کے کوچ رؤف انیلیئف کا انتخاب کیا۔ حتٰی کہ جب انیلیئف کو برطرف کیا گیا اور ان کے متبادل کے طور پر برازیلی نژاد کوچ زیکو کا نام سامنے آ رہا تھا، عثمانوف نے ستمبر 2008 میں مرزا لعل قاسموف کو نیا کوچ مقرر کر دیا۔

اس وقت تک، حتمی انتخاب کے دو دور مکمل ہو چکے تھے اور ازبکستان دونوں مقابلے (قطر سے تین صفر اور آسٹریلیا سے ایک صفر) ہار چکا تھا جس کے بعد اس کے عالمی کپ میں شرکت کے امکانات تقریباً معدوم ہو چکے تھے۔

عثمانوف نے قاسموف کا صحافیوں سے تعارف کراتے ہوئے کہا کہ ہم قاسموف پر یہ دباؤ نہیں ڈال رہے کہ وہ ہر قیمت پر ہماری ٹیم کو عالمی کپ میں شامل کرائیں۔ ہم اس لحاظ سے وہاں جانے کی خواہش نہیں رکھتے کہ گروپ مرحلے کے بعد ہی ہمیں شکست کا سامنا کر کے باہر نکلنا پڑے۔

نوجوان اور پرعزم کوچ قاسموف نے انتہائی جوش و خروش سے کھلاڑیوں کو تربیت دینے کا آغاز کیا اور اپنی ٹیم کو جاپان کے خلاف میچ برابر کرنے اور متحدہ عرب امارات کو شکست دینے کے قابل بنایا۔ تاہم یہ سلسلہ قائم نہ رہ سکا۔ بحرین، آسٹریلیا اور جاپان کی ٹیموں نے ازبکستان کو شکست دے کر اسے مزید چار سال کے انتظار کے کرب میں مبتلا کر دیا۔

کھلاڑی الیگزینڈر گائن رخ نے کہا کہ آخری چند میچوں میں ہماری ٹیم میں اتحاد کا فقدان تھا۔ غالباً اس کا سبب قاسموف کا زیادہ تجربہ کار نہ ہونا ہے۔ ہمیں ایک موقع ملا تھا جو ہم نے ضائع کر دیا۔

گائنرخ مایوسی کو مستقبل کے لئے ایک اچھے سبق کے طور پر دیکھتے ہیں جب بعض نئے ہونہار کھلاڑی ابھر رہے ہوں گے۔

غیر ملکی کھلاڑیوں کی شمولیت توجہ کا باعث

ازبکستان کے فٹ بال کلب کا منظر بھی دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا رہا ہے جس میں ان بڑی رقوم کا بھی عمل دخل ہے جو تاشقند کا ایف سی بنیود کور پیش کر رہا ہے۔ ایف سی بنیود کور نے برازیلی نژاد کھلاڑی ریوالڈو کی خدمات حاصل کیں حالانکہ وہ 36 سال کے ہو چکے تھے۔

بنیود کور نے کوچ کی اسامی پر کرنے کے لئے بھی برازیل کا رخ کیا۔ زیکو نے چھ ماہ تک ٹیم کے کوچ کے فرائض سرانجام دیے جس کے بعد ان کے ہم وطن فیلپ اسکولاری نے جون 2009 میں ان کی جگہ سنبھالی۔ اسکولاری 2002 کی عالمی کپ چیمپئن ٹیم کے کوچ رہ چکے ہیں۔ اسکولاری کو کوچ کے فرائض سرانجام دینے کے لئے مبینہ طور پر 1 کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر کے معاوضے کی پیشکش کی گئی۔

بنیود کور کے عملے کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ ہم نہیں جانتے کہ اسکولاری یا ریوالڈو کی حقیقت میں کیا آمدنی ہے یا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ادا کی جانے والی زیادہ تر رقم سوئٹزر لینڈ میں اندراج شدہ متنوع کاروباری مفادات کی حامل زیرومیکس کمپنی غالباً اپنے سوئس بینک اکاؤنٹوں سے ادا کرتی ہے۔

زیرومیکس کی مالی مشکلات کے باعث بنیود کور کے حالات پر منفی اثر پڑا جس کے بعد اسکولاری نے مئی میں بنیود کور سے علیحدگی اختیار کر لی۔ ان کی جگہ قاسموف نے سنبھالی۔

ازبکستان کے اکثر فٹ بال مبصرین کا کہنا ہے کہ بنیود کور اپنی رقم کو زیادہ دانش مندی سے خرچ کرسکتی تھی۔ مجموعی ٹیموں کے مرکز کے ایک تربیت کار اور مشیر ویاچیسلاف سولوخو نے کہا کہ بہتر ہوتا اگر وہ رقم ریوالڈو اور اسکولاری کی بجائے بچوں کے لئے فٹ بال کی سہولیات کی ترقی پر خرچ کر دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان میں اعلٰی درجے کے کھلاڑیوں کی تعداد ناکافی ہے۔ بچوں کے فٹ بال کی ترقی پر رقم خرچ کرنے سے صورت حال میں تبدیلی آسکتی ہے۔

تاہم، ایک ٹیم کی جانب سے فٹ بال فیڈریشن کے اخراجات پورے کرنے سے مفادات کا ٹکراؤ ہو سکتا ہے۔ ازبکستان کی فٹ بال فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری سردور اخمتل لائیف نے بتایا کہ ازبکستان کی فٹ بال فیڈریشن 13 فٹ بال اسکولوں کو جدید بنانے کے لئے 4 ارب ازبک سوم (25 لاکھ امریکی ڈالر) مختص کرے گی، جبکہ بچوں کے کھیلوں کا ترقیاتی فنڈ اس مقصد کے لئے مزید 4 ارب ازبک سوم (25 لاکھ امریکی ڈالر) کی رقم دے گا۔

ایشیائی مقابلوں میں بھی اچھے امکانات موجود ہیں۔ تاشقند نے 2006 میں عالمی فٹ سال چیمپئن شپ اور 2008 میں ایشیائی یوتھ فٹ بال چیمپئن شپ کی میزبانی کی تھی۔ رواں سال وہ دونوں کی ایک بار پھر میزبانی کرے گا۔

رخمتل لائیف نے کہا کہ تاشقند میں ایک سال کے دوران دو ایشیائی چیمپئن شپوں کا انعقاد نہ صرف ازبکستان کی فٹ بال فیڈریشن بلکہ مجموعی طور پر قومی کھیلوں کے لئے بھی کافی اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے یہ مراد ہے کہ فٹ بال اور دیگر متعلقہ کھیلوں میں ہماری سہولیات نہ صرف ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن کے تقاضوں پر پورا اترتی ہیں بلکہ یہ براعظم کی بہترین جگہوں میں سے ہیں۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 17)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • ازبکستان کے عوام اگر سخت محنت کو اپنا شعار بنائیں تو انہیں کچھ نہ کچھ مل جائے گا اور وہ عالمی چیمپئن بن جائیں گے۔

    December 5, 2010 @ 03:12:00PM
    sameer
  • ازبکستان یقیناً عالمی کپ میں کھیلے گا۔

    November 13, 2010 @ 08:11:00AM
    muzaffar
  • شعبہ صحافت میں تازہ ترین خبر کا ایک اہم تصور پایا جاتا ہے۔ اس مضمون میں ایک خبر کو دیکھنے کا حوالہ دیا گیا ہے تاہم وہ خبر موجود نہیں ہے۔ باقی سب چیزوں کا پہلے بھی کئی بار تذکرہ ہو چکا ہے۔ دریں اثناء، ازبک فٹ بال کی دنیا میں بہت سی خبریں ہیں جن میں سے کئی تو گرما گرم ہیں۔

    September 20, 2010 @ 04:09:00AM
    Anonymous
  • میرے رہنما کا قول ہے کہ کام کام اور سخت کام۔

    September 14, 2010 @ 02:09:00PM
    ISMAIL NIAZI
  • ازبک فٹ بال کا مستقبل تابناک ہے۔

    August 14, 2010 @ 01:08:00PM
    Акмаль