خیبر پختونخواہ میں پشتون خواتین کے کھیلوں میں اضافہ
نظامت کھیل صوبے میں خواتین کے کھیلوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے
جاوید عزیز خان
2010-07-10
پشاور -- چند سال قبل شورش زدہ شمالی وزیرستان میں رہنے والی ماریہ طورپکے وزیر اپنی والدہ کے لئے مٹی کے گھڑوں میں پانی بھر کر لاتی تھیں اور جنگل سے لکڑیاں کاٹتی تھیں۔
اب 19 سالہ ماریہ طور پاکستان کی اسکواش چیمپئن کے طور پر سامنے آئی ہیں۔
ماریہ طور نے اپنی قبائلی روایات سے انحراف کرتے ہوئے اسکواش کورٹ میں سب کھلاڑیوں سے مقابلہ کیا ہے۔ ان کی آرزو اقوام متحدہ کا امن کا پیام رساں بننا ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہیں تاکہ وہ معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
تاہم، وہ صوبہ خیبر پختونخواہ اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کی واحد خاتون کھلاڑی نہیں ہیں جو اس عمومی تصور کو زائل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ پشتون معاشرے میں خواتین کے ساتھ جبر و تشدد کا سلوک کیا جاتا ہے۔
خیبر پختونخواہ میں خواتین کے کھیلوں کی نظامت کی سربراہ رشیدہ غزنوی نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں دنیا بھر کے مختلف کھیلوں میں صوبہ خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں کی نمائندگی کرنے والی بہت سی لڑکیاں موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے میں مقامی روایات کی پاسداری کے ذریعے خواتین کے کھیلوں میں اضافہ کرنے کے لئے ایک مکمل نظامت قائم کی گئی ہے۔
ماریہ طور نے بتایا کہ دنیا بھر میں اسکواش کے اہم مقابلے جیتنے کے ذریعے اپنے ملک کا نام روشن کرنے کے ساتھ ساتھ میں امن کا پیام رساں بننا چاہتی ہوں اور موسیقی کے ذریعے اس پیغام کو عام کرنا چاہتی ہوں۔
جنوبی وزیرستان کے علاقے شکئی میں پیدا ہونے والی ماریہ طور شمالی وزیرستان کی تحصیل میران شاہ اور فرنٹیئر ریجن کوہاٹ کے شہر درہ آدم خیل میں پلی بڑھی ہیں اور بعد میں ان کا خاندان پشاور منتقل ہو گیا۔
ماریہ طور نے بتایا کہ میری والدہ کی خواہش تھی کہ میں کھیلوں میں حصہ لوں تاکہ میرا غصہ اور وزن کنٹرول ہو سکے۔ میں نے وزن اٹھانے سے آغاز کیا اور بعد میں اسکواش کی طرف راغب ہو گئی۔ چیمپئن ماریہ طور لڑکوں کے ساتھ لڑائی بھڑائی کرتی تھیں اور انہوں نے مردانہ کٹ بال رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے کبھی برقعہ نہیں پہنا اور اگر میں کبھی پہنوں تو لوگ سمجھیں گے کہ برقعے کے اندر کوئی لڑکا موجود ہے۔
ماریہ طور نے اپنا پہلا اعزاز ہاشم خان جونیئر چیمپئن شپ میں جیتا۔ بعد میں وہ قومی خواتین اسکواش چیمپئن شپ میں مقدس اشرف کو اسٹریٹ سیٹس میں شکست دے کر سب سے کم عمر چیمپئن بن گئیں۔
پاکستان کی ایک اور اسکواش چیمپئن کارلا خان ہیں جو ویسے تو برطانیہ میں مقیم ہیں لیکن انہوں نے بہت سے مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔ کارلا خان دنیائے اسکواش کے مایہ ناز کھلاڑی جہانگیر خان کی عم زاد ہیں اور اپنے بیرون ملک قیام کی وجہ سے بعد میں بہت سے بین الاقوامی اداروں نے انہیں پاکستان کی نمائندگی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ لڑکیوں کو کھیلوں میں حصہ لینا چاہیے۔ ذرائع ابلاغ کو اس حوالے سے شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ والدین اپنی بچیوں کو کھیلوں میں حصہ لینے کے لئے راغب کریں۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں سے برداشت کا حوصلہ پیدا ہو گا اور دہشت گردی کا شکار کھیلوں کے شائقین کے دلوں میں امید جاگے گی۔
صوبے اور فاٹا کے لڑکیوں کے تمام اسکول اور کالج خواتین کے کھیلوں کی پہلے سے کہیں زیادہ حمایت کر رہے ہیں۔ طالبات بہت سے کھیلوں میں حصہ لے سکتی ہیں۔
پشاور میں ایک خاتون استاد حنا ممتاز نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ ہم اپنی لڑکیوں کی کھیلنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کیونکہ کالج کے احاطے کے اندر انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ ہمارے پاس صوبے بھر میں اور فاٹا میں چند اچھی ٹیمیں ہیں جو قومی سطح پر مختلف کھیلوں میں حصہ لے رہی ہیں۔
چھ جماعتوں کے مذہبی اتحاد پر مشتمل متحدہ مجلس عمل کی سابق حکومت نے لڑکیوں کی تربیت کے لئے مرد کوچوں اور کھیل کے میدان میں خواتین کے میچوں میں مرد تماشائیوں کی آمد پر پابندی عائد کر دی تھی جس سے خواتین کے کھیلوں کو دھچکا لگا۔ تاہم، حکام نے لڑکیوں کی تربیت کے لئے خواتین کوچوں اور خواتین کو چار دیواری کے اندر انہیں کھیلتے دیکھنے کی اجازت دے دی۔
رشیدہ نے بتایا کہ ہم چار دیواری کے اندر لڑکیوں کے کوچنگ اور تربیتی کیمپ منعقد کر رہے ہیں تاکہ والدین کے لئے اپنی بیٹیوں کو کھیلنے اور تربیت حاصل کرنے کے لئے بھیجنے میں آسانی ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ماریہ طور کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخواہ کی متعدد دیگر خواتین کھلاڑیوں نے کھیلوں کے شعبے میں نام بنایا ہے۔
بیس کے پیٹے میں دائیں ہاتھ سے درمیانی رفتار سے باؤلنگ کرانے والی کانیتا جلیل نے بتایا کہ ابتدا میں کھیلوں میں حصہ لینا دشوار تھا تاہم ان کے والد اور بھائی نے کرکٹ کھیلنے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ آج وہ قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی ایک اہم رکن ہیں۔
صوبے کی بانی خواتین کھلاڑیوں میں 38 سالہ شبانہ اختر بھی ہیں۔ وہ پاکستان کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے 1996 میں اٹلانٹا اولمپکس میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔ بعد میں انہوں نے 1996 میں اسلام آباد میں منعقدہ خواتین کے بین الاقوامی کھیلوں میں حصہ لیا اور چار طلائی تمغے جیتے۔ انہوں نے 100 میٹر اور 200 میٹر ڈیش کے مقابلوں میں ریکارڈ قائم کیے۔
ایران میں منعقدہ اسلامی ملکوں کی خواتین کے دوسرے یک جہتی کھیلوں میں شبانہ نے لانگ جمپ اور 4 ضرب 200 میٹر ریلے میں ایک ایک سونے کا تمغہ جیتا۔
شبانہ نے اپنی کارکردگی کی بناء پر جرمنی، سویڈن، انڈونیشیا اور دیگر ملکوں میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت کی۔
رشیدہ نے بتایا کہ ہمارے ہاں اب ایک خواتین کی کبڈی ٹیم بھی تیار ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ، ہماری لڑکیاں ٹیبل ٹینس، فٹ بال، نیٹ بال، ہاکی، بیڈمنٹن، تائی کوانڈو اور ملک میں کھیلے جانے والے ہر کھیل میں حصہ لے رہی ہیں۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
سلام۔ میرا نام شازیہ ہے اور میں شمال مغربی سرحدی صوبے کی پہلی خاتون ہوں جو ملکی سطح پر پہنچی ہے۔ میں نے صحت اور جسمانی تعلیم کے مضمون میں ایم اے کی سند حاصل کر رکھی ہے۔ میں نے مختلف کھیلوں میں کوچ کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دی ہیں۔ مجھے مختلف کھیلوں کی کوچنگ کا تین سالہ تجربہ حاصل ہے۔
یہ ہمارے لئے باعث شرم ہے۔ ہمارے مذہب میں خواتین کو کھیلنے کی اجازت نہیں کیونکہ کھیل کے دوران انہیں چھوٹی قمیضیں اور پتلونیں پہننا پڑتی ہیں اور اسلام میں اس لباس کی ممانعت ہے۔
خواتین ہماری آبادی کے 51 فیصد حصے پر مشتمل ہیں اور انہیں ان کے واجب حقوق ادا کرنے چاہئیں۔ ہم ان کے کھیلنے کے حق کی حمایت کرتے ہیں۔
ہم عہد تاریک میں رہتے رہے ہیں لیکن آج حالات میں بہتری دکھائی دے رہی ہے۔ مجھے انڈور ٹیبل ٹینس بہت پسند ہے۔ میں اپنی روایات کی خلاف ورزی نہیں کرتی اور میرے لئے اپنے ساتھیوں کے سامنے کھیلنا کبھی مسئلہ نہیں رہا۔ ہمیں کھیلوں اور صحت مندانہ سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہیے۔