ارجنٹائن اور یونان کے درمیان ہونے والے ورلڈ کپ میچ میں وسط ایشیائی ریفری

ارماتوف تیسری دفعہ ورلڈ کپ میچ میں ریفری کے طور پر خدمات سے انجام دیں گے

شاکر سعدی

2010-06-21

پرتوریا، جنوبی افریقہ -- فیفا نے ورلڈ کپ کے سب سے قابل احترام ترین کام کے لیے جو کہ جنوبی افریقہ اور میکسیکو کے درمیان ہونے والا افتتاحی میچ تھا، ریوشان ارماتوف کا انتخاب کر کے کچھ لوگوں کو حیران کر دیا ہے کیونکہ وہ زیادہ مشہور نہیں ہیں اور وہ اس ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والے سب سے کم عمر ریفری ہیں۔

وہ ابھی سے عالمی کپ کے میچوں میں میں تیسری دفعہ ریفری کے طور پر خدمات سر انجام دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔

ارماتوف اور ان کی ٹیم جس میں رافیل الیاسوف (جن کا تعلق بھی ازبکستان سے ہے) اور بہادر کوچکروف (کرغزستان) نے افتتاحی میچ کے بعد انگلینڈ اور الجیریا کے درمیان ہونے والے میچ میں خدمات سر انجام دیں۔ اب وہ بائیس جون کو ارجنٹائن اور یونان کے درمیان ہونے والے گروب بی کے میچ میں ریفری کے طور پر خدمات سر انجام دیں گے۔

ارماتوف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ میرے لیے دوسرے میچوں کی طرح ہی ایک میچ ہے۔

ارجنٹائن کے صحافیوں نے پوچھا کہ ارماتوف، میدان میں دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کی موجودگی میں، جن میں لیونل میسائی بھی شامل ہیں، کیسا محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "جب میں کسی میچ میں ریفری کے طور پر خدمات سر انجام دیتا ہوں تو میں یہ نہیں جانتا کہ دنیا کا بہترین کھلاڑی کون ہے۔ میرے لیے فٹ بال کے تمام کھلاڑی برابر ہیں اور تمام ٹیمیں ایک جیسی ہیں۔ کھیل کے کچھ اصول ہیں جن کا مجھے خیال رکھنا ہوتا ہے اور اس سلسلے میں ارجنٹائن اور یونان کے بارے میں کوئی بات بھی اہمیت نہیں رکھتی"۔

سینٹرل ایشیا آن لائن نے ارماتوف سے پوچھا کہ عالمی کپ کے افتتاحی میچ میں ریفری کے طور پر خدمات سر انجام دینا انہیں کیسا لگا۔

انہوں نے کہا کہ "سب سے اہم چیز یہ ہے کہ میں نے یہ بھولنے کی کوشش کی کہ یہ افتتاحی میچ ہے۔ میرے لیے یہ بات زیادہ اہمیت رکھتی تھی کہ میں اپنے کاموں پر زیادہ توجہ مرکوز کروں۔ صرف اسی صورت میں آپ کامیابی سے ریفری کی خدمات سر انجام دے سکتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ تینوں ریفریوں کے لیے مل جل کر کام کرنا اہم تھا۔

انہوں نے کہا کہ "میرے لیے الیاسوف اور کوچکروف کے بغیر اتنی کامیابی سے کام کرنا بہت زیادہ مشکل ہو جاتا۔ اس لیے میں اپنی کامیابی کو ان سے سانجھا کرنے کا پابند ہوں"۔

ارماتوف کے والد جو کہ خود بھی ریفری ہیں، نے انہیں کمال حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنے کا سبق سکھایا ہے۔

ارماتوف نے کہا کہ "میرے والد ہمیشہ ریفری کے طور پر میرے کام میں غلطیاں تلاش کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ مجھے بتاتے تھے کہ میں نے کسی میچ میں کہاں پر غلطی کی ہے۔ میں ہمیشہ انہیں یہ سمجھانےکی کوشش کرتا کہ ہم ہمیشہ ایسی جگہ پر پوزیشن نہیں لے سکتے جہاں سے ہم ہر چیز کو صاف طور پر دیکھ سکیں۔ ٹیلی ویژن پر ہے چیز کو صاف طور پر اور مختلف زاویوں سے دیکھنا آسان ہے"۔

ارماتوف نے کہا کہ جب وہ وسط ایشیا میں ریفری کے طور پر خدمات سر انجام دیتے ہیں تو وہ ان ٹیموں کے میچ دیکھتے ہیں جن کے لیے انہوں نے ریفری کے طور پر خدمات سر انجام دینا ہوتی ہیں تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ خصوصی توجہ کی ضرورت کہاں پر ہے۔ عالمی کپ میں، تکنیکی جائزہ ٹیم کے پاس تمام میچوں کی ریکارڈنگ موجود ہے جسے حکام دیکھ سکتے ہیں۔

عالمی کپ کی رفتار کافی زیادہ تیز ہے۔ بائیس جون کو ہونے والا میچ ان کے لیے دس دن میں ہونے والا تیسرا میچ ہو گا۔ ٹورنامنٹ کے ریفریوں کو جسمانی تربیت اور میچ کے بعد صحت یابی کے لیے خصوصی ہدایات دی جاتی ہیں۔

انہوں نے اکیس جون کو کہا کہ "تو آج، انگلینڈ اور الجیریا کے درمیان ہونے والے میچ کے تین دن بعد، میں اپنے آپ کو مکمل طور پر تازہ دم محسوس کرتا ہوں۔ میں ارجنٹائن اور یونان کے درمیان ہونے والے میچ کے لیے تیار ہوں"۔

کچھ ریفریوں کو پہلے ہی عالمی کپ میں برے فیصلے کرنے پر خارج کر کے انہیں نائب ریفری کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ ارماتوف نے کہا کہ انہیں علم نہیں ہے کہ تیسرے میچ کے بعد کیا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ "ججنگ کمیٹی یہ فیصلہ کرے گی کہ فائنل میچ میں ریفری کے طور پر کون خدمات سر انجام دے گا۔ مگر میں فائنل میں جانے کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا۔ جس طرح ہر سپاہی کا خواب ہوتا ہے کہ وہ جنرل بنے، ہر ریفری کا خواب ہوتا ہے کہ وہ عالمی چیمپین شپ کے فائنل میں خدمات سر انجام دے"۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 3)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • براہ راست فٹ بال میچ 22 جون 2010

    June 22, 2010 @ 04:06:00PM
    oksarfraz
  • روشن، آپ کی کارکردگی بہتر ہے، اسے برقرار رکھیں۔ رافیل اور بخادر، آپ کو بھی سلام۔ اچھا کام کر رہے ہیں۔ جمے رہیں، فائنل ہمارا ہے۔

    June 22, 2010 @ 03:06:00AM
    Равшан
  • روشن صاحب، آپ کو شرمانے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ اس وقت دنیا کے بہترین ریفری ہیں۔ ویسے ہم ازبکستان والوں کے لئے یہ باعث حیرت ہے۔ ہمیں معلوم تھا کہ آپ اچھے ریفری ہیں لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ آپ اتنے زبردست ہیں۔ مختصراً یہ کہ آپ کی کارکردگی بہتر ہے، اسے برقرار رکھیں۔

    June 22, 2010 @ 03:06:00AM
    Равшан