سابقہ صدر بکائیف کے حامی پارلیمانی انتخابات کے لئے متحد

دیگر جماعتیں بھی ان کے ساتھ شامل ہو سکتی ہیں

علی شیر کابلوف

2010-07-29

بشکیک -- انتیس جولائی کو ادینی کرغزستان کے رہنما اداخم مادو ماروف اور ال ارمانی جماعت کے قائد میراوسلیف نیازوف نے اعلان کیا کہ وہ اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات سے قبل اپنی جماعتوں کا اتحاد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اتحاد کی وجہ یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کے پروگراموں کی ایک مشترکہ سیاسی اور سماجی اقتصادی سمت ہے۔

مادو ماروف نے کہا کہ اس اتحاد کو جغرافیائی لحاظ سے ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ ان کی ادینی کرغزستان جماعت شمالی علاقوں میں مضبوط ہے جبکہ نیازوف کی ال ارمانی کو جنوبی علاقوں میں زیادہ حمایت حاصل ہے۔

ماہر سیاسیات مارس ساریئیف نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے اتحاد کی حقیقی وجہ ان کے سابق صدر کرمنبیک بکائیف کے حامی مشترکہ نظریات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں نے اچانک اتحاد نہیں کیا۔ وہ ایک مضبوط آہنی مٹھی یا عبوری حکومت اور اس میں شامل یا نئے شامل ہونے والے سیاست دانوں کے خلاف ایک سیاسی اتحاد تشکیل دے رہے ہیں۔

مادو ماروف صدر بکائیف کے سرکاری سیکرٹری تھے جبکہ نیازوف سلامتی کونسل کے سیکرٹری رہ چکے ہیں۔ سودروزہستفو پارٹی کے ارکادی گلادیلوف نے بتایا کہ انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں کا اتحاد معمول کی بات ہے۔ تاہم ان مخصوص جماعتوں کے اتحاد کے پیچھے دیگر وجوہات کارفرما ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرغزستان کی سیاست میں سیاسی جماعتوں کا انضمام مشترکہ سیاسی نقطہ نظر کی بنیاد پر نہیں بلکہ جماعتی قائدین کی ذاتی ہمدردیوں کی بناء پر ہوتا ہے۔ ادینی کرغزستان اور ال ارمانی کا اتحاد انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لئے وسائل کا انضمام بھی ہے۔

بشکیک میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں انضمام کا اعلان کرتے ہوئے مادو ماروف اور نیازوف نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اس اتحاد میں شامل ہو سکتی ہیں۔

ماہرین سیاسیات کی ایسوسی ایشن کے سربراہ نور عمروف نے بتایا کہ یہ جماعتیں ان قائدین کی زیر قیادت ہوں گی جو صدر بکائیف سے قریب تھے۔

عمروف نے کہا کہ اگر جماعتیں اپنے مالی وسائل اور حامیوں کا انضمام کر لیتی ہیں تو وہ ایک غیر معمولی طاقت بن جائیں گی اور عبوری حکومت کے اراکین کی جماعتوں کو ان کا مقابلہ کرنے میں دشواری پیش آئے گی۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 4)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • کرغزستان پر بعض مغربی اور ایشیائی ملکوں کا گہرا اثر و رسوخ ہے۔ اس کی بحالی انتہائی دشوار ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کو ملک میں امن و استحکام کی خاطر سرگرمی سے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

    August 27, 2010 @ 08:08:00AM
    askhat
  • میرے خیال میں قازقستان میں انتخابی دوڑ بہت سخت ہو گی۔ ہر کوئی اقتدار کے حصول کا خواہش مند ہے لیکن کسی کو بھی عوام کا خیال نہیں۔ ذاتی طور پر میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے حق میں ہوں ورنہ پھر افراتفری کا سماں ہو گا۔ جہاں تک سابق صدر بکائیف کے حامیوں کا تعلق ہے تو انہیں انتخابات میں حصہ لے کر اپنے انتخابی پلیٹ فارم پر کھڑے ہونے کا کوئی حق نہیں۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ نام نہاد عبوری حکومت اور بعض ناعاقبت اندیش سیاست دانوں کا رویہ مکمل طور پر امتیازی ہے۔

    August 19, 2010 @ 06:08:00AM
    Надира