قازق صدر نے 2020 تک کی ترقیاتی حکمت عملی طے کر لی
مستحکم اقتصادی نمو اور صنعت کاری میں اضافہ اہم اہداف میں شامل ہیں
دیدار دیوسن بیک
2010-01-29
آستانہ -- 29 جنوری کو قازق صدر نور سلطان نذر بائیف نے پارلیمان کے ایک مشترکہ اجلاس میں قازقستان کے عوام کے نام اپنا روایتی سالانہ پیغام دیا۔
"میرا بنیادی مقصد آنے والی دہائی میں ملک کی اقتصادی نمو کی ضمانت دینا اور نئے مواقع کا راستہ کھولنا ہے۔ میرا آج کا پیغام اسی موضوع پر وقف ہے"، انہوں نے "نئی دہائی، نئی اقتصادی نمو - قازقستان کے لئے نئے مواقع" کے عنوان سے اپنے خطاب میں کہا۔
قازقستان کو دنیا کے تیز ترین ترقی پزیر ملکوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ ملک کے قومی وقف فنڈ کے بین الاقوامی اثاثہ جات اور ذخائر اب 50 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں اور گزشتہ 10 سالوں میں ان میں 25 گنا سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
نذر بائیف کے مطابق، "قازقستان نے ان تمام سماجی ذمہ داریوں کو پورا کر لیا ہے جن کا اسے اکیسویں صدی کے پہلے عشرے میں سامنا تھا۔ ہم نے اپنی منصوبہ بندی کے مطابق زندگی گزارنا شروع کر دی ہے اور ہم نے (اپنے) طے کردہ اہداف حاصل کر لیے ہیں"۔
انہوں نے کہا کہ "ان سالوں کے دوران اوسط ماہانہ تنخواہ میں پانچ گنا اور اوسط پینشن میں تین گنا اضافہ ہوا ہے، خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والی آبادی کی شرح چار گنا کم ہو کر 50 سے 20 فیصد پر پہنچ گئی ہے، اور آبادی کی بنیادی صحت کے اشاریوں میں بہتری آئی ہے"۔
نذر بائیف کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے بھی قازقستان کی کامیابیوں کا اعتراف کیا ہے اور قازقستان کو ان ملکوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے جہاں 2009 میں انسانی صلاحیت کی بلند سطح رہی ہے۔
"یہ ہماری حالت میں بہتری کا ایک ناقابل تردید ثبوت ہے"، صدر نے کہا۔ "اب، قازقستان 'حکمت عملی 2020 ' کی تکمیل کی جانب قدم بڑھائے گا"۔
نذربائیف نے کہا کہ حکمت عملی 2020 کے اہداف تیز تر صنعت کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ذریعے مستحکم اقتصادی نمو کا حصول ہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے قومی وقف فنڈ سے 8 ارب امریکی ڈالر 2010 بجٹ کے لئے منتقل کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔
"سرمایے کی یہ منتقلی کسی اور چیز سے زیادہ صنعت کاری پر مرکوز ہوگی"، انہوں نے بتایا۔ "بجٹ کے لئے قومی فنڈ سے کوئی دیگر قرضہ جات یا مزید رقم منتقل نہیں کی جائے گی"۔
"ان اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے، 2020 تک قومی فنڈ کے اثاثوں میں 90 ارب ڈالر تک اضافہ ہو جائے گا جو کہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 30 فیصد سے کم نہیں ہیں"، انہوں نے کہا۔
سماجی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے قابل استطاعت گھروں کی فراہمی کی ایک نئی حکمت عملی کی تجویز پیش کی۔ منصوبے کے تحت، جو افراد رہائشی تعمیراتی بچت بینک (RCSB) میں نئے گھریلو بچت اکاؤنٹ کھولیں گے انہیں کم شرح سود پر رہن کے حصول کا موقع ملے گا۔
پارلیمانی اراکین نے نذر بائیف کے اس اعلان کو سراہا جس میں کہا گیا ہے کہ وظائف اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کا اطلاق اب یکم جولائی کی بجائے یکم اپریل سے ہو گا۔
صدر نے 2010 کے دوران ملک کی خارجہ پالیسی کی اہم ترجیحات کو یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم (او ایس سی ای) کی اپنی صدارت سے منسوب کیا۔ نذر بائیف نے کہا کہ یورپی تنظیم میں قازقستان کی صدارت کا مقصد سلامتی کو بہتر بنانا اور دنیا بھر کے لوگوں کی ترقی کی حوصلہ افزائی ہے۔
انہوں نے کہا "ہم اس کے لئے ہر ممکن کوششیں کریں گے تاکہ یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم اکیسویں صدی میں دنیا کی متنوع حیثیت کو تسلیم کرنے والا ادارہ بن جائے"۔
قازق ماہر سیاسیات اور خطرات کا تخمینہ لگانے والے گروپ کے ڈائریکٹر دوسیم ست پائیف نے کہا کہ قازقستان کے عوام کے نام صدارتی پیغام کے مندرجات اس کے عنوان سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کی رائے میں، "یہ پیغام بنیادی طور پر ریاستی اداروں اور ان اعلٰٰی سطحی سرکاری ملازموں کے لئے بہتر ہے جنہوں نے اسے تیار کیا ہے"۔
"عوام کو کلی معاشیات اور اسی طرح کی باتوں کے بارے میں بھاری بھرکم اصطلاحات میں کوئی دلچسپی نہیں"، انہوں نے کہا۔ "ان کی دلچسپی کا محور تنخواہوں اور پینشنوں میں مناسب حد تک اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ، لوگ مہنگائی میں کمی میں دلچسپی رکھتے ہیں تاکہ قیمتیں 'آسمان سے باتیں نہ کرنے لگیں'"۔
ان کے خیال میں رواں برس کے لئے "ان (نذر بائیف) کی متعین کردہ شرائط کو ایک لحاظ سے بار بار دہرایا جا رہا ہے اور اس سے اس فونو گراف ریکارڈ کی یاد تازہ ہوتی ہے جس کی سوئی ایک جگہ اٹک گئی ہو"۔
"انہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے ساتھ تعاون کے اظہار اور پینشنوں اور تنخواہوں میں اضافے سے بات شروع کی۔ لیکن انہوں نے اس بات کو بالکل نظر انداز کر دیا کہ حکومتی اقدامات کا مختلف اثر ہوتا ہے۔ اس کی بجائے ان کے دیگر سماجی ذمہ داریوں پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے، جیسا کہ گزشتہ سال کرنسی کی قدر میں کمی کو ہی دیکھ لیں"، انہوں نے کہا۔
ازات نیشنل سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سیکرٹری جنرل امیر زہان کوسانوف نے کہا کہ صدر کے پیغام میں بہت سے اقتصادی اہداف شامل تھے لیکن انہوں نے سیاسی اصلاحات اور جمہوریت کے بارے میں کوئی ٹھوس بات نہیں کی۔
"ابھی تک صدر کے نزدیک (مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے) ملکی سیاست پر بات چیت ایک طویل المیعاد چیز ہے"، کوسانوف نے کہا۔ "اپنے پیغام میں وہ ہمیشہ اس شعبے کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو دراصل قازقستان کے لئے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے"۔
نذربائیف نے اس طرح کی اپنی پہلی تقریر 1997 میں کی تھی۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے