ایران کی ترکمانستان میں قائم جوہری نگرانی اسٹیشن پر نکتہ چینی

یہ مرکز جوہری تجربات پر پابندی کی تعمیل کی نگرانی کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے

ڈین شونڈ

2009-12-14

علی بیک، ترکمانستان – دنیا بھر میں جوہری تجربات کا سراغ لگانے کے لئے ترکمانستان میں قائم زمینی ارتعاش کی نگرانی کے ایک مرکز نے ایرانی حکام کے غضب کو دعوت دی ہے جن کا یہ دعوٰی ہے کہ یہ مغربی طاقتوں کی جانب سے اس کی جاسوسی کا ایک اڈا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی خبر کے مطابق، ایران کے جوہری مذاکرات کار کے ایک مشیر ابو الفضل زہروند نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو بتایا کہ، "ایسے مرکز کی شناخت کا انکشاف ہونے کے بعد، یہ بات واضح ہے کہ اس سرگرمی کا مقصد ۔۔۔ ایران کی نگرانی کرنا ہے"۔

لیکن دیگر بین الاقوامی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ نگرانی مرکز کا مقصد زمینی ارتعاش کا پتا چلانے کا سوا اور کچھ نہیں اور ترکمانستان صرف وہ سفارتی وعدے نبھا رہا ہے جو ماضی میں اس نے بین الاقوامی برادری سے کیے تھے۔

تجربات پر جامع پابندی معاہدہ تنظیم (CTBTO) کے ابتدائی کمیشن کی ایک ترجمان، انیکا تھن بورگ، نے بتایا کہ علی بیک میں قائم جوہری تجربات کا سراغ لگانے والا مرکز 89 ممالک میں قائم 340 مراکز میں سے ایک ہے جنہیں جوہری تجربات پر جامع پابندی معاہدے کی تعمیل کی نگرانی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

مجوزہ یا پہلے سے کام کرنے والے 340 نگرانی مراکز میں سے 120 ممکنہ زیر زمین جوہری تجربات کے دھماکوں سے پیدا ہونے والی ارتعاشی لہروں کی نگرانی کرتے ہیں۔ علی بیک کو زمینی ارتعاش کی نشاندہی کے مقام کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔

"نگرانی مراکز معاہدے کا ایک لازمی عنصر ہیں"، تھن بورگ نے کہا۔ "ترکمانستان اور ایران دونوں ہی اس کے رکن ممالک ہیں اور وہ ان مذاکرات کا حصہ تھے جن میں یہ طے کیا گیا کہ ان نگرانی مراکز کو کہاں قائم کیا جائے گا۔ یہ مرکز کوئی نیا نہیں ہے"۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے مطالعاتی مرکز کے ایک ایگزیکیٹو افسر، کینلے بٹلر، نے بتایا کہ اس بات پر یقین کرنے کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی کہ ایران کے الزامات اس کی حکومت اور اس کی سرحد سے ملحق ترکمانستان کے ساتھ کسی قسم کے تنازعے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

"ترکمانستان تو صرف تجربات پر پابندی کے معاہدے کا ایک رکن ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے"، بٹلر نے کہا۔ "ایران محض دکھاوا کر رہا ہے اور ایران کی جانب سے ترکمانستان میں مرکز کے قیام سے متعلق کسی قسم کی شکایت بلاجواز ہے"۔

بٹلر نے کہا کہ ترکمانستان نے تجربات پر پابندی کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور اس کی توثیق کر رکھی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے کسی قسم کے جوہری ہتھیاروں کا تجربہ نہ کرنے کا عزم کر رکھا ہے اور وہ دیگر اقوام کی جانب سے تجربات کرنے کی حیثیت کی نگرانی میں مدد دے گا۔

بٹلر اور تھن بورگ دونوں کا یہ کہنا تھا کہ خود ایران میں بھی نگرانی کے مراکز موجود ہیں۔

تجربات پر جامع پابندی معاہدہ تنظیم (CTBTO) کی ویب سائیٹ کے مطابق، ایران میں تین مراکز ہیں جو سب زمینی ارتعاش کی نگرانی کرتے ہیں جبکہ وہ مزید تین مراکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جن میں سے ایک جوہری تجربات کے دھماکوں کے باعث فضا میں تابکاری مواد کی نگرانی کرے گا۔ بٹلر نے کہا کہ جوہری تجربات کی نگرانی کے سلسلے میں اپنا کردار نبھانے کے علاوہ، ترکمانستان اپنے مرکز کی مدد سے علاقائی ارضیاتی تعاون بھی کر رہا ہے۔

"یہ زلزلے کے انتہائی خطرات سے دوچار خطہ ہے، چنانچہ وہاں زمینی ارتعاش کا مرکز ارتعاش کے واقعات، جوہری اور غیر جوہری، سے متعلق مزید معلومات فراہم کرے گا"، انہوں نے کہا۔ تجربات پر جامع پابندی معاہدہ تنظیم (CTBTO) کی ویب سائیٹ کے مطابق، 1948میں علی بیک سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اشک آباد ایک زلزلے کے نتیجے میں تباہ ہوگیا تھا جس کی ریکٹر اسکیل پر شدت 7.3 تھی۔ اس زلزلے میں 110,000 کے قریب افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 4)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے