اورکزئی ایجنسی کے بے گھر خاندانوں کی گھروں کو واپسی کا عمل شروع
پہلے مرحلے میں حکومت چار ہزار چھہ سو ساٹھ خاندانوں کو واپس بھجوائے گی
ایم ابراہیم
2010-09-08
اورکزئی ایجنسی – سیکورٹی فورسز کی جانب سے پرآشوب قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی کے متعدد حصوں سے عسکریت پسندوں کو باہر نکالنے کے بعد ہزاروں بے گھر خاندانوں کی اپنے گھروں کو واپسی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
اورکزئی ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ ریاض محسود نے بتایا کہ فیروز خیل، اتمان خیل اور بیزوت خیل کے بے گھر خاندان عید اپنے گھروں میں منائیں گے کیونکہ یہ علاقے عسکریت پسندوں سے خالی کرا لئے گئے ہیں۔
محسود نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 4 ہزار 6 سو 60 خاندانوں کو واپس بھجوایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے واپس جانے والے ہر خاندان کو پہلے تین دنوں کا تیار کھانا اور چھ ماہ کے خشک راشن کے ہمراہ روزمرہ کے استعمال کی اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں۔
اس سے قبل حکومت نے اعلان کیا تھا کہ چھ ماہ کی مسلسل کارروائیوں کے بعد ماضی میں طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے تین شہروں کو شورش پسندوں سے واگزار کرا لیا گیا ہے۔
کارروائی کے دوران سیکورٹی فورسز نے سینکڑوں عسکریت پسندوں کو ہلاک اور گرفتار کیا جن میں مقامی اور غیر ملکی دونوں شامل ہیں۔
قبائلی امور کے ایک تجزیہ کار سخی محمد نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ اورکزئی ایجنسی سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں جنوبی وزیرستان سے بے دخل ہونے والے طالبان شورش پسندوں کا گڑھ بن چکی تھی۔
محسود نے بتایا کہ گزشتہ سال مارچ میں اورکزئی میں شروع ہونے والی فوجی کارروائی کے نتیجے میں ہزاروں خاندان امدادی کیمپوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ عسکریت پسندوں نے ان کے گھروں پر زبردستی قبضہ کر کے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا یا پھر حکام نے ہلاک یا زخمی ہونے سے بچنے کے لئے انہیں نقل مکانی کی ہدایت کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ اللہ کے فضل و کرم سے یہ کارروائی کامیاب رہی ہے اور اب مامت زئی اور غلجو کے اکا دکا مقامات پر مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے جس پر آئندہ چند ہفتوں میں قابو پا لیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خاندانوں کی واپسی سے عسکریت پسندوں کے ارادے مزید کمزور ہوں گے۔
انتظامی حکام نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ واپسی کا تین روزہ عمل 7 ستمبر کو شروع ہوا۔
دریں اثناء، اورکزئی انتظامیہ اور فوجی حکام فیروز خیل، بیزوت خیل اور اتمان خیل کے عمائدین کے ساتھ ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔ معاہدے کے مطابق:
- فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کی اجتماعی علاقائی ذمہ داری کی شق کے تحت قبائل اپنی سرزمین اور تمام سرکاری تنصیبات کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے۔
- وہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے خالی کرائے گئے علاقوں میں شرپسندوں (طالبان) کو اڈے اور تربیتی کیمپ قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
- قبائل عسکریت پسندوں کی موجودگی اور ان کے کسی تربیتی کیمپ سے متعلق اطلاعات کا سیکورٹی فورسز اور مقامی پولیٹیکل انتظامیہ سے تبادلہ کریں گے۔
- مذکورہ معاہدے کے تحت وعدہ کردہ تعاون میں ناکامی یا غفلت کی صورت میں قبائل فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کے تحت سزا کے مستوجب ہوں گے۔
ان کی واپسی کے وقت فرقہ وارانہ خونریزی کے خطرے کے پیش نظر اورکزئی کی پولیٹیکل انتظامیہ نے واپس لوٹنے والے خاندانوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے بیم خیل، مانی خیل، اسپویا اور استوری خیل میں مقیم شیعہ عمائدین کے ساتھ بھی ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
محسود نے کہا کہ یہ اقدام اس لئے ضروری تھا کیونکہ واپس لوٹنے والے اکثر خاندانوں کو شیعہ آبادی کے زیر اثر علاقوں سے گزرنا تھا اور ہم نے شیعہ عمائدین پر واپسی کے عمل میں فرقہ وارانہ کارروائیوں سے باز رہنے کی پابندی عائد کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ شیعہ برادری اس معاہدے کی پاسداری کرے گی۔
ادھر، اورکزئی پولیٹیکل انتظامیہ نے ان 157 لیویز اہلکاروں کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے جنہوں نے فوجی کارروائی کے آغاز پر اپنے فرائض ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
محسود نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ حال ہی میں طالبان شورش پسندوں سے واگزار کرائے گئے علاقوں میں سیکورٹی کو بڑھانے کے لئے کم از کم 900 قبائلیوں کو لیویز اور خاصہ دار فورس میں بھرتی کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد قبائلی نوجوانوں کے لئے ملازمت کے زیادہ مواقع پیدا کرنا اور موجودہ قبائلی فورس کو مستحکم کرنا ہے۔














رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )