پشتون باشندوں میں روایتی چپل کی مقبولیت

چپل سازوں کا کہنا ہے کہ یہ ہنر دیرپا ہے

اقبال خٹک

2010-09-06

پشاور – پشاور کے صدر بازار کے قریب خیبر سپر مارکیٹ میں رازق خان سپلے کی ایک نئی دکان کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے اور سیلزمین سے کہا کہ مجھے چپلوں کے کوئی نئے ڈیزائن دکھائیں۔

سیلزمین نے چپلوں کے چند جوڑے کاؤنٹر پر رکھے اور رازق ان کا معائنہ کرنے لگے۔ رازق خان نے ان کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ یہ جوڑا بہتر ہے اور پھر قیمت پوچھی۔

اٹھائیس سالہ رازق خان ایک دیہاڑی دار مزدور ہیں جو یومیہ تقریباً 400 روپے (4.70 امریکی ڈالر) کماتے ہیں۔ تاہم وہ سپلے کا جوڑا خریدنا چاہتے ہیں کیونکہ ستمبر کے دوسرے ہفتے میں عید ہے اور یہ جوتیاں دیرپا ثابت ہوتی ہیں۔

پشتو زبان میں چپل کو سپلے کہا جاتا ہے اور یہ طویل عرصے سے پشتون روایت کا حصہ ہے۔ محققین کے درمیان اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ سپلے سب سے پہلے کب متعارف ہوئیں۔ شلوار قمیض کے ساتھ پہنی جانے والی چمڑے کی سپلے ایک عام پشتون باشندے کے روایتی لباس کا حصہ ہے۔

پشاور چھاؤنی کے علاقے صدر بازار میں اسمارٹ شوز نامی دکان کے منیجر 66 سالہ خواجہ مختار احمد نے ان چپلوں کی مقبولیت کی وضاحت کی۔ انہوں نے بتایا کہ سپلے غریب لوگوں کا انتخاب ہے کیونکہ وہ ہاتھ سے تیار کی جاتی ہے اور دیرپا ہے۔

رازق خان نے بھی اس بات سے اتفاق کیا۔ پشاور کے نواحی علاقے سربند کے مزدور رازق کا کہنا تھا کہ ہم غریب لوگ سپلے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ سخت ماحول میں بھی انہیں استعمال کیا جا سکتا ہے اور انہیں صرف پانی سے بچانے کی ضرورت پڑتی ہے۔

پشاور کے شمال میں پشتون ثقافت کا آئینہ دار ضلع چارسدہ سپلے کی تیاری کے حوالے سے خاص شہرت رکھتا ہے۔ انیس سو ستر اور اسی کے عشروں میں چارسدہ والی سپلے پہننا فیشن کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

اس کے بعد سے سپلے کی تیاری کا ہنر دیگر شہروں میں بھی پھیل چکا ہے۔ اب پشاور، مردان اور بنوں سپلے کی تیاری کے حوالے سے معروف ہیں۔

خواجہ نے کہا کہ جہاں بھی پشتون آباد ہیں آپ کو سپلے کی دکانیں مل جائیں گی۔ پشتون باشندے سپلے کے بغیر نہیں رہ سکتے۔

تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل اپنے آباؤاجداد کی روایت سے منہ موڑ رہی ہے۔

خواجہ نے کہا کہ نئی نسل نے سپلے کی بجائے بوٹ استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سپلے کی فروخت میں 40 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے۔

تاہم شہر کے پرانے مرکز میں نمک منڈی کا چکر لگاتے ہوئے نیو رائل چپل میکر کے مالک 60 سالہ جان گل سے ملاقات ہوئی جنہوں نے بتایا کہ یہ اب بھی پشتون ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مارکیٹ کی ہر دکان میں آپ کو کاریگر سپلے کے ہر ممکن حد تک زیادہ جوڑے تیار کرنے میں مصروف دکھائی دیں گے۔

عید کی آمد کے ساتھ خریداروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

متوقع خریداروں کے ہجوم میں گھرے ہوئے بگ جولی شوز کے دکاندار طاہر ندین نے بتایا کہ عید کے تہوار پر خریداروں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے اور کسی اور مہینے اتنا زیادہ کام نہیں ہوتا۔

طاہر نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ بوٹ سپلے ثقافت کی جگہ لے سکتے ہیں۔ طاہر کا خاندان چار نسلوں سے چپل کے کاروبار سے منسلک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پشتون زندہ ہیں سپلے کی ثقافت موجود رہے گی۔

سپلے خاص طور پر موسم بہار اور گرما میں پشتون باشندوں میں مقبولیت حاصل کرتی ہیں۔ تاہم، موسم سرما میں ان سے پاؤں گرم نہیں رکھے جا سکتے۔

نور شہزاد نے خیبر سپر مارکیٹ میں سپلے کی ایک نئی دکان کھولی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کس نے کہا ہے کہ پشتون سپلے سے گریز کر رہے ہیں؟ انہوں نے بوٹوں کو سپلے کی فروخت کی جگہ لینے سے متعلق خواجہ مختار احمد کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ سپلے پشتونوں میں اب بھی کافی زیادہ مقبول ہیں۔

سپلے کے کاروبار کی کامیابی میں کچھ حصہ اقتصادی وجوہات کا بھی ہے۔ سپلے کے ایک جوڑے کی قیمت پانچ سو سے ایک ہزار روپے (5.90 تا 11 امریکی ڈالر) تک ہے جبکہ جوتوں کا ایک جوڑا 15 سو سے 4 ہزار روپے (17 تا 47 امریکی ڈالر) میں دستیاب ہے۔

نور نے ایک راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ اونٹ کی کھال سے تیار کردہ سپلے زیادہ دیرپا ہوتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اونٹ کی کھال سخت ہوتی ہے۔ اگر آپ سپلے کو پانی سے بچا کر رکھیں تو اسے پانچ سال تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔

نور شہزاد نے جنوبی ضلع کرک کے اپنے آبائی شہر لتمبر میں گاڑیوں کی فروخت کا کام چھوڑ کر جوتوں کے کاروبار پر 4 لاکھ روپے (4 ہزار 7 سو 61 امریکی ڈالر) کی سرمایہ کاری کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اپنی سرمایہ کاری سے مجھے آنے والے مہینوں اور سالوں میں اچھا کاروبار کرنے میں مدد ملے گی۔

پشاور میں سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن سینٹر کے ایک ٹاک شو کے پروڈیوسر جہانزیب خان نے بتایا کہ یہ ہماری ثقافت کا حصہ ہے اور پشتون باشندے سپلے کی ثقافت کو ترک نہیں کریں گے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 1)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے