پاک سعودی سلامتی تعاون القاعدہ کے لئے سنگین خطرہ ہے

لندن سے کمیل ٹاول کا تجزیہ

2010-09-03

لندن - حال ہی میں پاکستانی ذرائع ابلاغ کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ سعودی حکام نے 28 سعودی شہریوں کی ایک فہرست حکومت پاکستان کے حوالے کی ہے جن پر دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے اور ان میں سے بعض غالباً پاکستان میں روپوش ہیں۔

اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان کئی سالوں سے سلامتی کے معاملات میں قریبی تعاون کے باعث یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں تاہم اس سے سعودی عرب میں پائے جانے والے ان خدشات کی عکاسی ہوتی ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں سعودی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں سخت زک اٹھانے کے بعد القاعدہ سعودی مملکت سے باہر اپنے آپ کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس میں سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ 28 مفرور سعودی شہریوں میں سے تین کا آخری بار سراغ پاکستان میں لگایا گیا جبکہ بقیہ 25 آخری بار یمن میں دیکھے گئے۔

چاہے یہ مفرور شہری ابھی تک یمن، پاکستان یا کسی تیسرے ملک میں روپوش ہوں، سعودی عرب کا یہ اقدام القاعدہ کی سرگرمیوں کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ زیادہ تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔

سعودی حکام کا غالباً یہ خیال ہے کہ سعودی مفرور شہریوں کے حقیقی ناموں، تصاویر اور مکمل کوائف پر مشتمل فہرستیں پاکستانی حکام کے حوالے کرنے سے اس بات کو یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے کہ آیا ان میں سے (سعودی عرب کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت رکھنے والا) کوئی شخص کسی دیگر عرفیت سے گرفتار تو نہیں ہوا۔

پاکستانی حکام کو یہ معلومات فراہم کرنے سے پاکستانیوں کو ملک کے اندر مفرور سعودی شہریوں کی نقل و حرکت اور ان لوگوں کے ساتھ روابط کی نوعیت کی ایک واضح تصویر ملے گی جو لاعلمی میں کسی اور ملک سے تعلق رکھنے والے مفرور افراد سے روابط قائم کرتے رہے ہوں۔

پاکستانی سرزمین پر القاعدہ کی سرگرمیاں کئی سال تک دونوں ملکوں کے حکام کے لئے سلامتی کا خدشہ بنی رہیں اور وہ اس تنظیم کے گروپوں کا مؤثر توڑ نہ کر سکے۔

القاعدہ نے روابط کا ایک نیٹ ورک قائم کرنے کے لئے 1980 کی دہائی میں سوویت افواج کے خلاف افغان جہاد کے اختتام کے بعد اور 1990 کے عشرے کے اوائل میں پاکستانی سرزمین اور پاکستان کی قبائلی ہیئت کے بارے میں گہرے علم سے فائدہ اٹھایا۔

بہت سے واقعات میں اس نیٹ ورک نے القاعدہ کو سلامتی کے اداروں کی نگرانی سے بچانے اور ایک محفوظ آڑ فراہم کرنے میں مدد کی جس کے باعث دہشت گرد تنظیم کو 1990 کے عشرے کے دوران اور نئے ہزاریے کے اوائل میں بہت سی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا موقع ملا۔

سال 1993 میں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو بم دھماکے سے اڑانے کی پہلی ناکام کوشش کے فوراً بعد پاکستانی سرزمین پر موجود افغان عربوں کی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز ہو گئی۔ یہ کوشش خالد شیخ محمد کے بھتیجے رمزی یوسف نے کی تھی جسے 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے ہلاکت خیز حملوں کا منصوبہ ساز کہا جاتا ہے۔ 1993 میں پاکستانی حکام نے افغان عربوں کے خلاف کارروائی شروع کی جس کے نتیجے میں درجنوں عسکریت پسندوں کو ملک سے بے دخل کیا گیا اور 1995 میں رمزی یوسف کی گرفتاری اور امریکا کو حوالگی عمل میں آئی۔

تاہم، پاکستانی سرزمین پر القاعدہ کی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہا حالانکہ 1996 میں کابل میں طالبان تحریک کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس نے ہمسایہ ملک افغانستان میں منتقل ہونا شروع کر دیا تھا۔ اس وقت سوڈان سے بے دخل ہونے والی القاعدہ کی قیادت افغانستان منتقل ہو گئی جہاں اس نے 1998 کے اوائل میں قائم ہونے والی تنظیم "یہودیوں اور صلیبیوں کے خلاف لڑنے کا بین الاقوامی اسلامی محاذ" کے دائرہ کار کے اندر مغرب کے خلاف کارروائیوں کی ایک لہر کی منصوبہ بندی شروع کی۔

اگرچہ عملی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوتی تھی تاہم القاعدہ کے عناصر اپنی منزل تک پہنچنے اور وہاں سے کارروائیوں کے بعد واپس لوٹنے کے لئے پاکستان کو ایک سنگم کے طور پر استعمال کرتے رہے۔

اس بات کی تصدیق پاکستانی حکام کے ان انکشافات سے ہوئی کہ 7 اگست 1998 کو مشرقی افریقہ میں امریکی سفارت خانوں پر بم حملوں میں ملوث بعض افراد کراچی ایئرپورٹ کے راستے ملک سے فرار ہوئے۔ اس کے نتیجے میں کراچی کے گنجان آباد شہر میں پہنچنے والے عرب باشندوں کے خلاف سلامتی کے اقدامات سخت کر دیے گئے۔ مثال کے طور پر، جعلی پاسپورٹوں کی شناخت کے لئے کراچی ایئرپورٹ پہنچنے والے افراد کی آنکھوں کا معائنہ کرنے کی غرض سے کیمرے نصب کر دیے گئے۔

اگرچہ افغان سرزمین میں اس تحریک کا زور اس وقت ایران کی جانب منتقل ہو گیا تاہم پاکستان القاعدہ کے بیشتر اراکین کے لئے ایک راہ گزر بنا رہا جو خاص طور پر افغانستان سے ملحق قبائلی علاقوں میں آباد ہو گئے تھے۔ یہ عمل 11 ستمبر 2001 کو امریکا پر ہونے والے حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آغاز تک جاری رہا۔

القاعدہ کو اس وقت حیرت کا جھٹکا لگا جب طالبان کی مرکزی سرپرستی کرنے والے پاکستان کے انٹیلیجنس ادارے اسامہ بن لادن کی تنظیم کے گروپوں کے خلاف جنگ میں شامل ہو گئے جس کے نتیجے میں تنظیم کے سینکڑوں کارکن پاکستانی سرزمین پر ہلاک یا گرفتار ہوئے۔

تاہم، القاعدہ اس دھچکے سے جلد ہی سنبھل گئی۔ اس نے طالبان تحریک کی پاکستانی شاخ یعنی تحریک طالبان پاکستان کے آغاز اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ کئی سالوں سے استوار تعلق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قبائلی علاقوں میں اپنے گروپوں کو منظم کیا۔ حقانی نیٹ ورک کو افغان طالبان کا حصہ تصور کیا جاتا ہے لیکن یہ خاص طور پر پاکستان کے شمالی وزیرستان علاقے میں سرگرم ہے جہاں حقانی قبائل آباد ہیں۔

اگر کئی سالوں سے ملنے والی ان متعدد اطلاعات کو سچ مان لیا جائے کہ حقانی نیٹ ورک اور پاکستان کے سیکورٹی اداروں کے بعض عناصر کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے تو سعودی حکومت کی جانب سے پاکستان میں سرگرم سعودی مفرور شہریوں کی گرفتاری کے لئے فعال تعاون کا اقدام بلاشبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس صورت میں پاکستانی حکام کو وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کے زیر اثر علاقوں میں روپوش کسی بھی شخص تک رسائی مل جائے گی۔

تاہم، مطلوب افراد کی گرفتاریوں سے القاعدہ کو طویل عرصے میں زیادہ نقصان نہیں پہنچے گا۔ یہاں جو چیز داؤ پر لگی ہوئی ہے وہ ان افراد سے کہیں زیادہ قیمتی ہے جن کی جگہ غالباً متبادل کارکن لائے جا سکتے ہیں۔ القاعدہ کو سعودی اور پاکستانی حکام کے درمیان تعاون کے نتیجے میں ہونے والی گرفتاریوں سے زیادہ زک نہیں پہنچے گی بلکہ اس کے لئے زیادہ خطرہ افغانستان میں اپنی کارروائیوں میں رکاوٹ اور کابل اور طالبان کے درمیان کسی معاہدے کا امکان ہے۔

آج سعودی عرب افغانستان میں امن کے حصول کی کوششوں کی کافی زیادہ حمایت کرتا دکھائی دیتا ہے اور ان کوششوں میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے۔

سعودی حکومت ماضی میں بھی افغان صدر حامد کرزئی کی حکومت اور طالبان کے بعض اراکین کے درمیان مصالحت کی کوششیں کرتی آئی ہے۔

لیکن آج ان علاقوں میں ہونے والی اہم کوشش بظاہر پاکستان کے ذریعے ہے جو بہت سے تجزیہ کاروں کے خیال میں کابل اور طالبان کے ملا عمر جیسے کلیدی افراد کے درمیان اختلافات کو ختم کرانے میں پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

کسی بھی قسم کی مصالحت، چاہے وہ پاکستان کی اپنی طالبان شاخ کے ساتھ ہو یا افغانستان کی اپنے طالبان کے ساتھ، القاعدہ کے لئے کافی خطرناک ہے۔ تنظیم اپنی سرگرمیاں روکنے پر مجبور ہو جائے گی یا پھر اس کے جنگجوؤں کو افغان پاکستان سرحد کے نزدیک ان محفوظ علاقوں سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جہاں وہ اس وقت مقیم ہیں۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 1)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے