تحریک طالبان پاکستان اور لشکر جھنگوی نے لاہور کے قتل عام کی ذمہ داری قبول کر لی

سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے رمضان کے مقدس مہینے میں ہونے والے ان حملوں کی مذمت کی ہے

عبد الناصر خان

2010-09-02

لاہور -- کالعدم دہشت گرد تنظیموں تحریک طالبان پاکستان اور لشکر جھنگوی نے یکم ستمبر کو لاہور میں ایک پرامن مذہبی جلوس پر ہونے والے خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان قاری حسین نے ذرائع ابلاغ میں دعوٰی کیا کہ ان حملوں کا مقصد سنی دیوبندی مسلک کی کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے رہنما علی شیر حیدری کی ہلاکت کا بدلہ لینا تھا۔ علی شیر حیدری کو گزشتہ سال سندھ میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

تین خودکش حملوں میں 37 افراد جاں بحق اور کم سے کم 300 زخمی ہو گئے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے یوم شہادت کے حوالے سے نکلنے والا ماتمی جلوس آخری مرحلے میں بھاٹی گیٹ پر کربلا گامے شاہ کے سامنے پہنچ چکا تھا۔

قاری حسین نے بتایا کہ تین خودکش بمباروں نے یکے بعد دیگرے جلوس کو نشانہ بنایا۔

ایک عینی شاہد نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ پہلا دھماکہ معمولی شدت کا تھا تاہم بعد میں ہونے والے دو دھماکوں سے پورا علاقہ لرز اٹھا۔

ان دھماکوں سے صوبائی محکمہ داخلہ اور پنجاب پولیس کی اسپیشل برانچ کے جاری کردہ انتباہ کی تصدیق ہو گئی جس میں انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے یوم شہادت کے حوالے سے نکالے جانے والے جلوسوں پر متوقع حملوں کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیرینہ رفیق اور داماد تھے۔

سینٹرل ایشیا آن لائن کو پتا چلا ہے کہ 3 اگست کو صوبائی محکمہ داخلہ نے اپنی خفیہ رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان، لشکر جھنگوی اور جند اللہ نے مذہبی جلوسوں پر حملوں کی غرض سے تربیت یافتہ دہشت گردوں کو پنجاب بھیجا ہے۔

اسپیشل برانچ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اسپیشل برانچ نے وزیر اعلٰی شہباز شریف کو براہ راست مطلع کیا تھا کہ دہشت گرد لاہور میں داخل ہو چکے ہیں اور وہ شہر میں اپنے مخالف شیعہ مسلمانوں پر حملے کر سکتے ہیں۔ وزیر اعلٰی نے یہ اطلاع متعلقہ محکموں کو بھجوا دی تھی تاہم انہوں نے بروقت کارروائی نہیں کی۔

لاہور کے ضلعی رابطہ افسر سجاد احمد بھٹہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ سیکورٹی کی بعض خامیوں کے باعث دہشت گرد جلوس میں گھسنے میں کامیاب ہو گئے۔

سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے لاہور دھماکوں کو اسلام پر ہونے والے حملے قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔

سابق رکن پارلیمان اور خودکش حملوں کے خلاف 600 صفحات پر مشتمل فتوے کے مصنف ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں اور وہ انسانیت کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ طاہر القادری نے کہا کہ دہشت گرد اسلام کے بدترین دشمن ہیں۔

سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ طالبان مسلمان نہیں ہیں کیونکہ اگر وہ مسلمان ہوتے تو رمضان کے مقدس مہینے میں بے گناہ لوگوں کو قتل نہ کرتے۔

جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے ان دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسلام دشمن عناصر کی ایک انسانیت سوز کارروائی ہے۔

لشکر جھنگوی تحریک طالبان اور القاعدہ سے روابط رکھنے والی ایک کالعدم فرقہ وارانہ تنظیم سپاہ صحابہ کا شیعہ مخالف عسکری بازو ہے۔

ایک سینئر صحافی عامر میر نے دی نیوز اخبار میں شائع ہونے والی اپنی خبر میں لکھا کہ وزیرستان میں مقیم عبد اللہ منصور وہاں سے لشکر جھنگوی کی قیادت کر رہے ہیں۔ وزیرستان میں قیام کے باعث عبد اللہ کو تحریک طالبان پاکستان اور القاعدہ کے ساتھ روابط قائم کرنے میں مدد ملی۔

میر نے لکھا کہ لشکر جھنگوی اپنی وسیع حکمت عملی کے جزو کے طور پر دہشت گردی کے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے تاکہ ریاست اس کے سنی فرقہ وارانہ نظریے کی تنگ نظر تشریح کو سرکاری نظریہ بنانے پر مجبور ہو جائے۔ یہ تنظیم مخالف شیعہ تنظیموں کے رہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ سرکاری افسران، پولیس اہلکاروں اور عبادت گزاروں پر حملوں میں ملوث رہی ہے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 0)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • Js komain main amn nahi woh tarki nahi kar sakti.

    September 3, 2010 @ 02:09:00PM
    Sadam kaleemullah