پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کی مالی امداد کو روکنے کے اقدامات میں اضافہ

چھ سو سے زائد کمپنیاں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی امداد کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں

جاوید محمود

2010-09-01

کراچی ۔۔ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے تمام اسٹاک ایکسچینجوں اور مالیاتی کمپنیوں کو کثیر الملکی مالیاتی کارروائی ٹاسک فورس کے تجویز کردہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی امداد کے خلاف اقدامات پر عمل درآمد کی ہدایت کی ہے۔

تیس اگست کو کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے اسٹاک ایکسچینجوں، نیشنل کموڈیٹی ایکسچینج لمیٹڈ اور نیشنل کلیئرنس کمپنی کو جاری کیے گئے ایک مراسلے میں سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کہا کہ تمام اندراج شدہ کمپنیاں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی امداد کے خلاف مالیاتی کارروائی ٹاسک فورس کی ہدایات پر عمل کریں۔ یہ ہدایات عوام کے لئے دستیاب نہیں ہیں۔

مراسلے میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ایران اور جنوبی کوریا کی حکومتوں نے ابھی تک مالیاتی کارروائی ٹاسک فورس کو مشکوک افراد کی جانب سے اپنی مالیاتی کمپنیوں کے ناجائز استعمال کو ختم کرنے کی یقین دہانیاں نہیں کرائیں۔

سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے بتایا کہ مالیاتی کارروائی ٹاسک فورس نے بعض قانونی حدود کی نشاندہی کی ہے جن میں مالیاتی اداروں کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی امداد کے خلاف اقدامات کرنے اور ان پر عمل نہ کرنے کی صورت میں وابستہ خطرات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

الفلاح بینک لمیٹڈ کے چیف ایگزیکیٹو افسر سراج الدین عزیز نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایت پر ہم اکثر اپنے صارفین کے کوائف کی تصدیق کرتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ القاعدہ یا طالبان مالی لین دین کے لئے ہمارے بینکوں کو استعمال نہ کر سکیں۔

پاکستانی بینکوں میں اکاؤنٹ کھلوانے کا طریقہ کار سخت ہے

بینکوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی خیراتی ادارے، کمپنی یا فرد کا اکاؤنٹ کھولنے کے لئے سخت طریقہ کار اختیار کرتے ہیں۔

کراچی میں این آئی بی بینک کی ویسٹ وہارف شاخ کے منیجر مختار احمد نے بتایا کہ ہم اس وقت تک نیا اکاؤنٹ نہیں کھولتے جب تک کہ ہمیں یقین نہ ہو جائے کہ صارف ایک حقیقی شخص اور ٹیکس گزار ہے اور اس کی آمدنی کا ذریعہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی امداد نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بینک نے کسی کھاتے دار کے لئے نیا اکاؤنٹ کھولنے کے ایک فارم پر دستخط لازمی قرار دیے ہیں جسے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تیار کیا ہے۔ اس فارم کا مقصد کھاتے دار کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا ہیں۔

اکتیس اگست کو جے او وی سی مالیاتی سروسز فرم کے چیف آپریٹنگ افسر احمد نبیل نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے اسٹاک مارکیٹ میں تجارت کرنے والی 600 سے زائد کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان کی مالیاتی کمپنیوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی امداد کے امکان کے خاتمے کے لئے مزید اقدامات کریں۔

سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور مالیاتی کارروائی ٹاسک فورس نے پاکستانی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی امداد میں سہولیات فراہم کرنے والی مشکوک بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے سے گریز کریں۔

نبیل نے کہا کہ ہم اپنے صارفین کے ریکارڈ کی نگرانی کر رہے ہیں اور قومی ٹیکس نمبر اور کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کے حصول کے ذریعے اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ وہ اس عمل میں ملوث نہیں۔

پاکستانی کاروباری رہنماؤں کا مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کا عزم

پاکستانی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران اور چیف آپریٹنگ افسران سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو بیان حلفی جمع کرا رہے ہیں جس میں انہوں نے اس بات کا عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ نگرانی میں اضافہ کریں گے اور مطلوبہ طریقوں کی بیخ کنی کے لئے اضافی اقدامات کریں گے۔

سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کے نقائص کو دور نہ کرنے والی مالیاتی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔

اکتیس اگست کو سینٹرل ایشیا آن لائن سے باتیں کرتے ہوئے نبیل کا کہنا تھا کہ پاکستانی بینکوں، سرمایہ کار کمپنیوں، لیزنگ کمپنیوں، اسٹاک بروکروں اور زر تبادلہ کی کمپنیوں نے پہلے ہی بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مالیاتی کمپنیوں کو مالیاتی کارروائی ٹاسک فورس کے تجویز کردہ مزید اقدامات پر عمل کرنا ہو گا۔

نبیل نے اس بات کی نشاندہی کی کہ گزشتہ چند سالوں میں پاکستان میں بیرون ملک سے ترسیلات زر میں خاصا اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور سرمایہ کاروں کو رقم کی منتقلی کے لئے کئی دہائیوں سے موجود نقدی کی غیر رسمی منتقلی کے حوالہ (یا ہنڈی) نظام کی بجائے بینکاری کے ذرائع استعمال کرنے کی ترغیب ملی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2001 سے قبل ترسیلات زر 2 ارب ڈالر تک ہوتی تھیں جو 2010-2009 میں بڑھ کر 8 ارب 50 کروڑ امریکی ڈالر سے زائد ہو گئیں۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 10)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • خبریں

    September 14, 2010 @ 05:09:00AM
    tanveer
  • اردو خبریں

    September 13, 2010 @ 09:09:00PM
    waqasashraf
  • ٹھیک ہے۔

    September 11, 2010 @ 11:09:00PM
    KAKA
  • Zila Sialkot Tasil DASKA wail Police Loot mar kar rahe hai koi in ko rokna wala nehi hai wo paisa lata hai or kisi ko be mar sakta hai ya dunia main kia ho reha hai Sader Sb in k Khalf koi karwai kyun nhei karta kia in say darta hai ager kuch b nehi kar sakta to UNIVESTRY k Student ya Collage k Student ko moka daay student he sub kuch kar la gay r u com the reply me and my ID arfan_shahzad_tiger@yahoo.com i am waiting for uyour ans

    September 3, 2010 @ 04:09:00AM
    Irfan