پاکستان میں خواتین، بچے اور بزرگ شہری سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں

پینتیس لاکھ بچوں اور تیس لاکھ خواتین کو فوری مدد کی ضرورت ہے

جاوید عزیز خان

2010-08-30

پشاور -- اپنے دو کمروں پر مشتمل سابقہ مکان کے ملبے پر بیٹھی ہوئی نوشہرہ کلاں کی الماسا بی بی نے بتایا کہ ہمیں کھانے پینے کے سامان کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے صرف یہ بتائیں کہ آیا حکومت میرا گھر دوبارہ تعمیر کرے گی یا نہیں۔

سیلاب میں اپنا گھر تباہ ہو جانے سے پہلے بھی وہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد اپنی دو بیٹیوں کے ہمراہ کھینچ تان کر گزارا کر رہی تھیں۔ ان کی بیٹیاں گھروں میں کام کاج کرتی ہیں۔ سیلاب میں ان کا گھر، دو بکریاں اور گندم کی تھوڑی سی مقدار بھی ضائع ہو گئی جو انہوں نے بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام سے ملنے والی تھوڑی سی امداد سے خریدی تھی۔

سیلاب کے باعث خواتین، بچے اور بزرگ شہری سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ مقامی اسکولوں میں قائم مختلف کیمپوں میں 70 ہزار سے زائد خواتین اور بچے رہائش پذیر ہیں۔ پناہ کی کوئی مناسب جگہ نہ ملنے پر دیگر لاکھوں افراد نے سڑکوں کے کنارے خیمے نصب کر لیے جہاں کئی روز تک ہونے والی موسلا دھار بارش میں رہنا انتہائی دشوار تھا۔

کیمپوں میں حفظان صحت کی مخدوش صورت حال، مردہ جانوروں کے ڈھانچوں سے پھیلنے والے امراض اور آلودہ پانی سے ہونے والی بیماریوں کے باعث خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

آرمی میڈیکل کالج اور اسلام آباد کے انٹرنیشنل میڈیکل کالج سے تعلق رکھنے والے نوجوان ڈاکٹروں کی ٹیم کی ایک رکن ڈاکٹر رفیعہ نے کہا کہ متاثرہ خواتین، بچوں اور باقی لوگوں کی مدد کے لئے زیادہ سے زیادہ ڈاکٹروں، خاص طور پر لیڈی ڈاکٹروں، کو آنے اور کیمپ لگانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں خواتین اور بچوں کے مرکز کا قیام

قدرتی آفات سے نمٹنے کے کمیشن کے دفتر میں خواتین اور بچوں کے مسائل کے حل کے لئے صنف اور بچوں کا ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔ اطلاعات سے پتا چلا ہے کہ 30 لاکھ کے قریب خواتین متاثر ہیں اور 10 لاکھ بچوں کو صحت کی سہولیات درکار ہیں۔

اقوام متحدہ کے آبادی کے فنڈ کے مطابق، تولیدی عمر کی تقریباً 15 لاکھ خواتین بھی سیلاب متاثرین میں شامل ہیں۔ ادارے کا تخمینہ ہے کہ آئندہ تین ماہ میں تقریباً 52 ہزار 5 سو خواتین کے ہاں بچوں کی پیدائش ہو گی اور 53 ہزار کے قریب نوزائیدہ بچوں کے لئے صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات درکار ہوں گی۔ ادارے نے مزید بتایا کہ مستقبل قریب میں 9 ہزار سے زائد خواتین کو حمل سے متعلقہ پیچیدگیوں کے لئے آپریشن کی ضرورت پڑے گی۔

ازاخیل میں سڑک کے کنارے ایک کیمپ میں رہائش پذیر نوشہرہ کالج کی ایک طالبہ گلمینہ نے بتایا کہ پہلے دو دن تک میں اور میری بہنیں روتی رہیں تاہم بعد میں ہمیں احساس ہوا کہ یہ آفت اللہ کی طرف سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ کسی معزز گھرانے کی خاتون کے لئے حوائج ضروریہ کی غرض سے کسی کھلی جگہ پر جانا یا گھورنے والوں کے چبھتے فقروں کو برداشت کرنا کتنا دشوار ہو تا ہے۔

رات گزارنی بھی انتہائی مشکل ہوتی ہے کیونکہ سر چھپانے کے لئے صرف پلاسٹک کی شیٹ یا خیمہ ہی دستیاب ہے۔

اکثر گھرانوں کے مرد سربراہوں کے جاں بحق ہونے کے بعد متعدد بے گھر خواتین پر اپنے بچوں اور بزرگ اہل خانہ کی کفالت کا بوجھ آن پڑا ہے۔

اپنے شوہر لال محمد سے محروم ہو جانے والی شگفتہ نامی خاتون نے بتایا کہ میرا گھر تباہ ہو چکا ہے اور میرے پاس اپنے چھ یتیم بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے کھانا تک نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کا آبادی فنڈ عملے اور سامان سے آراستہ سات گشتی یونٹوں کی تعیناتی کے علاوہ خیبر پختونخواہ، سندھ اور پنجاب کے دس اضلاع میں 13 سرکاری مراکز صحت کی مدد کر رہا ہے۔ ادارہ آسٹریلیا کی حکومت کی جانب سے عطیہ کردہ وضع حمل میں مدد دینے والے 2 ہزار آلات تقسیم کر رہا ہے۔

طبی عملے کو خدشہ ہے کہ مناسب طبی دیکھ بھال نہ ملنے پر لاکھوں بچے ہیضہ، پیٹ کی بیماریوں، جلد کے امراض اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ بچوں میں بالغوں کی نسبت قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے۔ اب تک بھوک اور پیٹ کی بیماریوں کے باعث تقریباً دو درجن بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

وزیر اعظم گیلانی کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچوں کو دیکھ بھال کی ضرورت ہے

وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ 35 لاکھ سے زائد بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں جبکہ 5 لاکھ سے زائد حاملہ خواتین کو بھی ڈاکٹروں، طبی آلات، وضع حمل میں مدد دینے والے سامان اور ادویات کی ضرورت ہے۔

سیلاب زدہ علاقوں میں صحت کے مسائل سے متعلق ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے حاملہ خواتین اور زچگی کے معاملات کے لئے خصوصی انتظامات کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ طبی سہولیات اور تیمار داروں کی قلت سے کوئی شخص متاثر نہ ہو۔

ثقافتی روایات کے باعث خواتین امداد حاصل کرنے کے لئے قطاروں میں کھڑا ہونے سے انکار کر دیتی ہیں۔

نوشہرہ کلاں کے ایک بزرگ شہری اختر مندوری نے بتایا کہ امداد کے حصول کے لئے قطاروں میں کھڑے افراد میں متاثرین سیلاب، خاص طور پر خواتین، موجود نہیں ہیں۔ وہ گھروں پر مسیحاؤں کی آمد کی منتظر ہیں۔ وہ آٹے کے ایک تھیلے یا ایک بار پکے ہوئے کھانے کے حصول کے لئے اپنی روایات نہیں چھوڑ سکتیں۔

ان علاقوں میں اب بھی بدترین صورت حال ہے جہاں امدادی کارکن رسائی نہیں کر پائے۔

خیبر پختونخواہ کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ پہاڑی اضلاع میں اب بھی 6 لاکھ 60 ہزار متاثرین پھنسے ہوئے ہیں۔ عہدیدار نے بتایا کہ ان میں سے 3 لاکھ 50 ہزار سوات، 1 لاکھ 50 ہزار کوہستان، 1 لاکھ دیر اور 60 ہزار شانگلہ میں ہیں۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 15)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے مسائل کو اٹھانے پر آپ کی ویب سائیٹ کی خدمات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ میں جاوید عزیز خان صاحب اور آپ کی جانب سے خاص طور پر بچوں، خواتین اور بزرگوں کے مسائل کو اجاگر کرنے پر انتہائی مشکور ہوں۔ خواتین، بچوں اور بزرگوں کو عام طور پر کافی نظر انداز کیا جاتا ہے تاہم آپ کی ویب سائیٹ ان کی جانب ہمیشہ سے مہربان رہی ہے۔ جاوید صاحب، خدا آپ کا بھلا کرے۔

    August 31, 2010 @ 07:08:00AM
    Dr Aallya Zahid
  • جاوید عزیز خان صاحب نے نظر انداز کیے گئے بزرگ شہریوں، بچوں اور خواتین کی حالت زار کو بہت اچھے انداز میں اجاگر کیا ہے۔ ان لوگوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    August 31, 2010 @ 06:08:00AM
    Imranuddin Ali
  • یہ واقعی بہت عمدہ تحریر ہے اور پڑھنے کے قابل ہے۔ آنے والے دنوں میں بچوں کی پیدائش کی منتظر خواتین کو زیادہ دیکھ بھال اور سہولیات کی ضرورت ہے۔ ہمارے بچوں اور بزرگوں کو زیادہ حفظان صحت کی سہولیات درکار ہیں۔ تاہم، جیسا کہ گلمینہ نے بتایا بیت الخلاؤں کی بھی کافی ضرورت ہے۔ میری اپنے ڈاکٹر ساتھیوں سے گزارش ہے کہ وہ ان علاقوں میں زیادہ سے زیادہ جائیں۔

    August 30, 2010 @ 08:08:00PM
    Dr Aneela Khan