ضلع ٹھٹھہ سیلاب کی زد میں

اسی لاکھ سے زائد متاثرین کو ہنگامی امداد کی ضرورت ہے

جاوید محمود

2010-08-27

کراچی – ستائیس اگست کو دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو جانے سے ضلع ٹھٹھہ میں ایک حفاظتی بند میں شگاف پڑ گیا اور نئے علاقے زیر آب آ گئے جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد نے نقل مکانی شروع کر دی۔ یہ بات حکام نے بتائی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہفتے کے وسط سے لے کر اب تک 10 لاکھ کے قریب افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

ملک بھر میں 80 لاکھ سے زائد سیلاب متاثرین کو ہنگامی امداد کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان ماریزیو گیولیانو نے بتایا کہ 25 اگست کے بعد سے ٹھٹھہ اور قمبر شہداد کوٹ میں 10 لاکھ کے قریب افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

سندھ کے وزیر آب پاشی جام سیف اللہ دھاریجو نے بتایا کہ دریائے سندھ پر کوٹ عالم کے نزدیک سرجانی بند میں 200 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے ضلع ٹھٹھہ کے 4 لاکھ آبادی پر مشتمل تین شہر سجاول، میرپور بٹھورو اور دڑو زیر آب آ گئے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر قریبی بجورہ بند ٹوٹ گیا تو ٹھٹھہ شہر بھی سیلاب کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

صوبائی وزیر آب پاشی سیف اللہ دھاریجو نے بتایا کہ دریائے سندھ کے کوٹری بیراج پر بجورہ بند سخت دباؤ کی زد میں ہے جہاں 27 اگست کو پانی کی آمد 9 لاکھ 64 ہزار کیوسک تک پہنچ گئی جبکہ بیراج میں زیادہ سے زیادہ 7 لاکھ کیوسک پانی گزرنے کی گنجائش ہے۔ 1952 میں اس بیراج سے 8 لاکھ کیوسک پانی کا ریلا گزرا تھا۔

ٹھٹھہ کی رہائشی سندھ کی وزیر ثقافت سسی پلیجو نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے پیشگی خبردار کرنے کے نتیجے میں ٹھٹھہ کی 3 لاکھ آبادی میں سے بیشتر افراد پہلے ہی محفوظ مقامات کو نقل مکانی کر چکے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں سے ضلعی انتظامیہ حفاظتی بندوں کو مضبوط بنا رہی ہے اور آبادی کے انخلاء میں مدد دے رہی ہے۔

سسی پلیجو نے بتایا کہ آئندہ کئی روز تک کوٹری بیراج میں سیلاب کا خطرہ رہے گا۔ ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ حکومت نے سیلاب کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان میں کمی لانے کے لئے حفاظتی اقدامات اٹھائے ہیں۔

دریائے سندھ کا پانی سمندر کی جانب رواں دواں

چھبیس اگست کی شب دریائے سندھ کا پانی بحیرہ عرب میں گرنا شروع ہو گیا۔ سندھ کے محکمہ آب پاشی کے حکام کا کہنا ہے کہ کوٹری بیراج سے گزرنے والا سیلابی ریلا کھارو چھان اور کیٹی بندر کے مقامات پر دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں داخل ہو کر سمندر میں مل جائے گا۔

حکام نے بتایا کہ گدو اور سکھر بیراجوں میں پانی کی آمد کم ہو کر 6 لاکھ کیوسک کی محفوظ سطح تک پہنچ گئی ہے اور آئندہ ہفتے کے اختتام پر کوٹری بیراج میں بھی پانی کی سطح مستحکم ہو جائے گی۔

سیلاب سے سندھ میں 6 ارب 50 کروڑ ڈالر کے نقصانات

وزیر اعلٰی سندھ کے اقتصادی مشیر ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کراچی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی تاریخ کے بدترین سیلاب کے باعث صوبہ سندھ میں 6 ارب 50 کروڑ ڈالر کے نقصانات ہوئے ہیں۔

قیصر بنگالی نے کہا کہ چھ اضلاع میں لاکھوں گھر تباہ ہو جانے سے مکانات کے شعبے کو تقریباً 3 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔

قیصر بنگالی نے مزید کہا کہ جنوبی سندھ میں جاری نقصانات کی شدت کا تخمینہ لگانے کے بعد نقصانات میں اضافہ ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات خیبر پختونخواہ اور پنجاب سے زیادہ ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو امدادی کیمپوں میں مقیم سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کے لئے اپنے ترقیاتی اخراجات میں کمی کرنا پڑے گی۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 0)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے