پاکستان میں دیسی ساختہ بموں کی اسمگلنگ اور استعمال میں اضافہ
پاک افغان سرحد پر بروقت حفاظتی اقدامات کے لئے زور دیا جا رہا ہے
غنی کاکٹر
2010-08-20
کوئٹہ - پاک افغان سرحد کے راستے اسمگل ہونے والے دیسی ساختہ بموں نے ایک خوف کی فضاء پیدا کر دی ہے اور یہ پاکستان کے عام شہریوں کے خلاف شورش پسندوں کا انتہائی ہلاکت خیز ہتھیار بن چکا ہے۔
انسانی حقوق کے سرگرم کارکن نعمت خان نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ ہمارے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق دیسی ساختہ بموں کے سب سے زیادہ دھماکے گنجان آباد علاقوں میں ہوئے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر عام شہری ہلاک ہو گئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کاروباری اور آبادی کے مراکز پر دیسی ساختہ بم حملوں سے اقتصادی زندگی تعطل کا شکار ہو گئی ہے اور آبی، برقی اور سیکورٹی کی سہولیات کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔
انٹیلیجنس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں سرگرم شورش پسند زیادہ تر اسمگل شدہ اور ان پھٹے سوویت گولہ بارود سے تیار کردہ دیسی ساختہ بم اور خودکش جیکٹیں استعمال کرتے ہیں۔
پاکستان میں دیسی ساختہ بموں کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ شورش پسندوں نے انہیں عام ہتھیاروں پر ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔
انٹیلیجنس ذرائع نے بتایا کہ عسکریت پسند بلوچستان، جنوبی وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں بظاہر فوجی اور سرکاری اہداف کے خلاف دیسی ساختہ بموں کا بکثرت استعمال کر رہے ہیں تاہم وہ عام طور پر انہیں پرہجوم مقامات پر استعمال کرتے ہیں اور عام شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔
اگرچہ پاکستان میں دیسی ساختہ بم دھماکوں کے باعث ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں کوئی درست سرکاری یا غیر سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں تاہم اخلاص سوشل ٹرسٹ کے جمع کردہ بعض اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ دیسی ساختہ بم دھماکوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اخلاص سوشل ٹرسٹ کے ایک عہدیدار ایم حنیف نے بتایا کہ دیسی ساختہ بم دھماکوں کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ پاکستان کے لئے تشویش کا باعث ہے اور ذرائع ابلاغ اور بعض دیگر ذرائع سے حاصل کردہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ سال 2002 سے 2010 تک دیسی ساختہ بم دھماکوں میں 70 فیصد ہلاکتیں ہوئیں۔
انہوں نے بتایا کہ بیشتر دیسی ساختہ بم عسکریت پسندوں نے نصب یا استعمال کیے تھے اور گزشتہ آٹھ سالوں میں بلوچستان میں دیسی ساختہ بم دھماکوں کے 907 واقعات کی اطلاع ملی ہے۔
سینئر سیاسی و دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ سرحدوں پر مناسب حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی میں اسمگلر پاکستان اور افغانستان دونوں میں بلا خوف و رکاوٹ دھماکہ خیز مواد اسمگل کرتے ہیں۔
حسن عسکری نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ سرحدوں پر بروقت حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ شرپسندوں کے دیسی ساختہ بموں کی اسمگلنگ کے راستے کو بند کیے بغیر سلامتی کے اہداف حاصل نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ملک پہلے کی نسبت کہیں زیادہ غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ پاکستان کی یہ داخلی کمزوریاں اسے بیرونی مداخلت کے خطرے کا شکار بناتی ہیں۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سیاسی تشدد اور دہشت گردی پاکستان کی داخلی ہم آہنگی اور بیرونی کردار کے لئے دیگر سنگین ترین خطرات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی خطرات کی نسبت یہ عوامل پاکستان کی قومی سلامتی کے لئے زیادہ مخدوش حالات پیدا کرتے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کار اور افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر رستم شاہ مہمند نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ پاکستان اپنے داخلی عدم استحکام کا خود ذمہ دار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دیسی ساختہ بم تیار کرنے میں ملوث دہشت گرد اور دیگر جرائم پیشہ تنظیموں کو منتشر اور ختم کرنے کے لئے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں کثیر الفریقی کارروائی، نگرانی کے اقدامات، تربیتی اور تکنیکی کوششیں اور سرحدوں کی حفاظت کی استعداد بڑھانا شامل ہیں۔
انٹیلیجنس ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض بیرونی ممالک بھی پاکستان کے عسکریت پسندوں کو دھماکہ خیز مواد اور ہتھیار بھجوا رہے ہیں۔
بلوچستان کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس انویسٹیگیشن قاضی عبد الواحد نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاک افغان سرحد کے راستے پاکستان میں دھماکہ خیز مواد اسمگل کرنے کی متعدد کوششوں کو ناکام بنایا ہے اور بلوچستان کے مختلف علاقوں سے کئی ٹن وزنی انتہائی دھماکہ خیز مواد ضبط کیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسمگل شدہ سامان عسکریت پسندوں کے لئے خودکش جیکٹیں، دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑیاں اور بم کی دیگر اقسام تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ امن دشمن عناصر سامان کی فراہمی کے علاوہ شورش پسندوں کو تربیت بھی دے رہے ہیں۔
اس کے نتیجے میں شورش پسند تکنیکی مہارتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
بلوچستان کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ایک سابق عہدیدار امتیاز احمد نے بتایا کہ بلوچستان میں باغیوں کے استعمال کردہ دیسی ساختہ بموں کو زیادہ تر نوکیا فون یا دستی ریڈیو جیسے ٹرانسمیٹر کے ذریعے دھماکے سے اڑایا جاتا ہے جبکہ بعض دیگر بموں کا دھماکہ کرنے کے لئے واشنگ مشین کے ٹائمر استعمال کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز دیسی ساختہ بموں کا سراغ لگانے کے آلات سے محروم ہیں اور ابھی تک اس قسم کے حملوں کو روکنے میں ناکام رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیائی ملکوں کو امونیم نائٹریٹ کھاد کی پیداوار، فروخت، ترسیل اور استعمال کی نگرانی کرنے اور اسے منظم بنانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ بیشتر عسکریت پسند دیسی ساختہ بم اور دیگر بم بنانے میں اسے استعمال کرتے ہیں۔
افغان حکومت وسائل کی کمی کا رونا روتی ہے۔
اسپن بولدک میں تعینات افغان سرحدی محافظین کے ایک اعلٰی عہدیدار احد خان ادوزئی نے بتایا کہ ہماری حکومت نے کھاد کے طور پر امونیم نائٹریٹ کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے اور ہمیں اس کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کے خلاف کارروائی کرنے کے احکامات ملے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے پاس دیسی ساختہ بموں کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے وسائل کی کمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امونیم نائٹریٹ کے اسمگلروں کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دیسی ساختہ بم شورش پسندوں کی جانب سے افغان سرحد پر استعمال کیے جانے والے اہم ہتھیار بن چکے ہیں۔ ہمیں دیسی ساختہ بموں کا مقابلہ کرنے کے لئے جدید ترین استعداد درکار ہے۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
حکومت صرف کھا پی رہی ہے اور مزے کر رہی ہے جبکہ غریب عوام کا برا حال ہے۔
پاکستان ہماری مادر وطن ہے اور اپنی مادر وطن سے ہمیشہ پیار کریں۔
آپ درست کہتے ہیں۔
مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ ایک جانب تو پاکستان کی حکومت بلوچستان میں بھارت کے ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے یہ دعوٰی کرتی ہے کہ بھارت وہاں باغیوں کی مدد کر رہا ہے اور دوسری جانب اس کا کہنا ہے کہ وہ بلوچ قوم پرستوں کے ساتھ مذاکرات کرے گی۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں بلوچ عسکریت پسندوں نے پاکستانی فوج اور عوام کے خلاف ہزاروں دیسی ساختہ بم اور بارودی سرنگیں استعمال کی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے کس طرح یہ دھماکہ خیز مواد حاصل کر کے دیسی ساختہ بم تیار کیے؟ اگر بھارت اس میں ملوث ہے تو پھر ہمارے سلامتی کے ادارے کیا کر رہے ہیں؟ کیا انہوں نے پاک افغان سرحد پر اس طرح کے تمام عناصر کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے؟ یا پھر وہ معاہدے پر عملدرآمد میں ناکام ہو چکے ہیں۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ ایک روز میں کچھ خریداری کی غرض سے چمن کی سرحد پر گیا جہاں میں نے سیکورٹی اہلکاروں کو رشوت لے کر افغان باشندوں کو افغانستان سے پاکستان داخل ہونے کی اجازت دیتے دیکھا۔ رشوت دینے والوں کو بالکل چیک نہیں کیا جا رہا تھا۔ آپ کی رپورٹ کی وساطت سے میری پاکستانی حکام کو تجویز ہے کہ وہ اس معاملے پر سنجیدہ رویے کا مظاہرہ کریں۔ یہ کوئی عام بات نہیں ہے۔ ایک روز یہ ہمارے لئے ایسا چیلنج بن جائے گا جس پر قابو پانا ناممکن ہو گا۔
main ye he keho ga k zardari dafa ho jao lalnti .
جیو اور جینے دو۔ جیو پاکستان خبروں کا ایک اچھا چینل ہے۔
سلام۔ میرا تعلق پاکستان سے ہے۔ میں زرداری صاحب کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے ایک شہر میں سیلاب سے ہر چیز تباہ ہو گئی ہے۔ انہیں چاہیے کہ نواب شاہ کو اتنا مثالی شہر بنا دہیں کہ لوگ کراچی جانا چھوڑ دیں اور کراچی کے لوگ نواب شاہ آنا شروع کر دیں۔ ازراہ کرم، میرا پیغام وصول کریں۔
main sadar pakistan asif ali zardari say ya kahna chata hou k ap pakistani awwm ka khayal karin itni zayda mahgani kar di ha k aik poor admi ka jena daswar ho gay ha poor admi ki koi zandigi ni k wo g sakay poor k liya na to nokri ha aur na hi koi nsaholit ha
میں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ آپ کی کاوش اچھی ہے۔ قسمت بخیر!
5_2_1990 ha main job ke thlss main ho mhrbi karp job do
ذرا سوچیں کہ پاکستان کی کیا حالت ہے اور ہم یہاں آرام سے بیٹھے ہیں۔ ہماری قوم، ہمارا ملک اور ہماری معیشت سب زوال کا شکار ہیں۔
aap ny bht piara mazmoon likha hay .hmari dwain apk 7 hyn
اسلام علیکم! کیا حال ہے؟
مجھے آپ کی رپورٹ پسند آئی جو اسمگلروں کے خاتمے کے لئے اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔ میں دیگر مسائل پر بھی اسی طرح کی رپورٹیں دیکھنے کی توقع رکھتا ہوں۔
اچھا کام کر رہے ہیں اور میں آپ کی زندگی میں کامیابی اور پیشرفت کا متمنی ہوں۔ اللہ آپ کو حفظ و امان میں رکھے۔
جہاں تک نیت کا تعلق ہے تو یہ مضمون بہت اچھے طریقے سے لکھا گیا ہے اور اس کے لئے عمدہ تحقیق کی گئی ہے۔ تاہم میں ان خیالات سے متفق نہیں ہوں کہ پاکستان کی دفاعی ٹیم بہتر طریقے سے کام نہیں کر رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے محدود وسائل کے باوجود ہمارا دفاع ناقابل یقین ہے۔ بدقسمتی سے چند کالی بھیڑیں اس نظام کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ تاہم یاد رکھیں کہ یہ ملک افغانستان یا عراق نہیں ہے۔ دیسی ساختہ بم تیار کرنے کا مقصد خاص طور پر ہمارے ملک کی خوشحالی کو زک پہنچانا ہے اور یہ کوتاہ نظر لوگ کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔
حکومت کو ہمارے ملک پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کے لئے اپنے اندرونی اختلافات کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو دوسرے ملکوں پر انحصار کرنے اور قرض کی بھیک مانگنے سے گریز کرنا چاہیے۔
بہت اچھا کاکڑ صاحب، اپنا تخلیقی سفر جاری رکھیں۔
pakistan ko tabha na karo.aur plz mulik main aman lao.thanks
sallam im from pakistani mary ya msg hai zardi ko kay ya pak kay ek city may tu kuch b nahi hai is city ko aasay baniya kay log karchi nahi jay bakal karachi kay log IS nawabshah CITY MAY aaiya PLZZZZ MARY MSG KO ACCEPT KARIYA APP LOG ...........?
میرا خیال ہے کہ اگر سلامتی کے اقدامات یوں ہی کمزور رہے تو ایک روز دہشت گرد جوہری ہتھیاروں پر قبضہ کر لیں گے۔
نہیں
aap ka mazmoon bohat acha hay ,agar ho sakay to karachi kay target killing kay baray may bhi huch article likhain
دیسی ساختہ بموں کی شہریوں اور ہماری سیکورٹی فورسز کے لئے ہلاکت خیزیوں اور اثرات کے پیش نظر پاکستان کو ان کا استعمال روکنے کی ایک مؤثر حکمت عملی اور استعداد کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے بے پناہ وسائل اور سائنسی طریقہ کار درکار ہیں اور یہ کوئی آسان کام نہیں۔ دشمن کے ذہن تک رسائی کے بغیر جوابی انٹیلیجنس کی کوئی بھی کارروائی بری طرح ناکام ہو جائے گی۔ بظاہر دشمن ہمارا ذہن پڑھتے ہوئے اپنے خلاف ہماری استعداد کا تخمینہ لگا رہا ہے جبکہ ہم ابھی تک شرپسندوں کی صفوں میں گھسنے اور ان کے طریقہ واردات کی جانچ پڑتال اور تخمینہ لگانے کی صلاحیتوں سے محروم ہیں۔ ہمیں شرپسندوں کی ان کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے ایک جارحانہ دفاعی حکمت عملی اور استعداد کی ضرورت ہے۔ اگر یہ ہتھیار سرحد پار سے اسمگل ہو رہے ہیں اور ہمارے پاس اس حوالے سے معتبر ثبوت اور اطلاعات موجود ہیں کہ یہ دھماکہ خیز مواد افغانستان سے آ رہا ہے تو ہمیں وسیع تر قومی مفاد کی خاطر کوئی اقدام اٹھانے سے گریز نہیں کرنا چاہیے، چاہے ہمیں افغانستان میں ہی انہیں روکنے کی کارروائیاں کیوں نہ کرنی پڑیں۔ اگر افغان حکومت پاکستان میں دھماکہ خیز مواد کی اسمگلنگ کے انتہائی تشویش ناک رجحان پر قابو پانے کے مؤثر اقدامات نہیں کرتی تو پاکستان کو تمام ممکنہ اقدامات اور دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کا اپنی سرزمین سے خاتمہ کرنے کی ضرورت ہے۔
میرا اندازہ ہے کہ پاکستان دہرا کردار ادا کر رہا ہے جس کی وجہ سے یہ خطرہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔
dashatgarde amare sabqa paleseo ka nateja he jeskey waja se is kate me dashatgarde oe re he
مجھے یہ مضمون انتہائی تخلیقی اور حقیقت پسندانہ لگا اور اپنی جامع حکمت عملی کے باعث یہ ہر لحاظ سے خصوصی تعریف کا مستحق ہے۔ اس کی پہلی لائن اتنی دلچسپ تھی کہ میں پورا مضمون پڑھنے پر مجبور ہو گیا۔ میرے خیال میں آپ لوگ امن کو فروغ دینے میں بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکام اس طرح کے بموں کی اسمگلنگ کے لئے افغان شہریوں کو مؤرد الزام ٹھہرا رہے ہیں لیکن میں اس سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ یہ حقائق کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ اسمگلنگ اتنے آرام سے ہو رہی ہو؟ پھر پاکستانی حکام کیا کر رہے ہیں؟ درحقیقت بجٹ کا بہت بڑا حصہ دفاع پر خرچ کیا جا رہا ہے اور اگر وہ اس چیلنج سے نمٹنے سے قاصر ہیں تو پھر میرے نزدیک وہ نااہل ہیں۔ اس بدقسمت ملک کے شہری کی حیثیت سے میرا یہ مشاہدہ ہے کہ قانون صرف غریب اور کمزور عوام کے لئے ہے جبکہ قانون ساز خود اس کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔ سب سے بڑے مجرم تو سربراہ مملکت ہیں جن کی اپنی اہلیہ ان کے دور حکومت میں جاں بحق ہوئیں اور وہ مجرموں کو پکڑنے سے قاصر ہیں یا پھر وہ خود ہی ان کی ہلاکت میں ملوث تھے جس کی وجہ سے وہ قوم سے حقائق چھپا رہے ہیں۔ آپ کی مؤقر ویب سائیٹ، سینٹرل ایشیا آن لائن، کی وساطت سے میری اعلٰی حکام سے گزارش ہے کہ وہ اپنے مفادات کی بجائے اس ملک کے مستقبل پر دھیان دیں۔ امید ہے کہ آپ قطع برید کیے بغیر میرا تبصرہ شائع کریں گے۔
یہ تعلیم یافتہ لوگوں کی اچھی کاوشیں ہیں۔ اگر اس مضمون میں شورش پسندوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے دیسی ساختہ بموں کی کچھ تصاویر ہوتیں تو یہ کہیں زیادہ مفید ہو سکتا تھا۔ جہاں تک حکومت کے اختیار اور عملداری کا تعلق ہے تو ہم سب کو علم ہے کہ وہ پاکستان کے غریب عوام کا تحفظ کرنے میں کتنی مخلص ہے۔ اللہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی حفاظت کرے۔
یہ انتہائی حیران کن بات ہے کہ آج کے دور میں پاکستان تمام وسائل کے ہوتے ہوئے بھی دہشت گردی پر قابو پانے سے قاصر ہے جو خطے میں اس کے اپنے کردار کے باعث پھیل رہی ہے۔ میرے خیال میں اس کی وجہ پاکستان پیپلز پارٹی کی بدعنوان اور نااہل حکومت ہے۔
سلام دوست، یہ ایک اچھا مضمون ہے۔ ان کاوشوں کو جاری رکھیں۔
سرکاری حکام کی سرپرستی کے بغیر کوئی بھی اتنی آسانی سے دھماکہ خیز مواد کی اسمگلنگ نہیں کر سکتا۔ میرے خیال میں سب سے پہلے تو ان سرکاری حکام کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو ان عناصر کی مدد کر رہے ہیں۔ پاکستانی قوم کو سلامتی کو بہت بڑا خطرہ درپیش ہے۔ میں اس رپورٹ کے جامع معیار پر آپ کی تعریف کرنا چاہتا ہوں اور آپ کے لئے بہترین تمنائیں رکھتا ہوں۔ برائے مہربانی اس طرح کے انتہائی اہم موضوعات پر لکھنا جاری رکھیں کیونکہ اس سے امن کے مقصد کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
hum aap k is ikdam par aap ko slaam pesh karta huon
مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ ایک طرف تو پاکستانی حکومت بھارت پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ بلوچستان میں ملوث ہے اور وہاں شورش پسندوں کے ہاتھ مضبوط کر رہا ہے اور دوسری جانب وہ بلوچوں کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتی ہے، یہ کیسے ممکن ہے۔ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان میں بلوچ عسکریت پسندوں نے پاکستانی فوج اور عوام کے خلاف ہزاروں دیسی ساختہ بم استعمال کیے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کہاں سے یہ دھماکہ خیز مواد حاصل کر کے دیسی ساختہ بم تیار کرتے ہیں۔ دوسری چیز یہ کہ اگر بھارت اس میں ملوث ہے تو پھر پاکستانی کی سیکورٹی ایجنسیاں وہاں کیا کر رہی ہیں؟ کیا انہوں نے پاک افغان سرحد پر اس طرح کے تمام عناصر کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے؟ یا پھر وہ اس معاہدے کو محفوظ بنانے میں ناکام ہو چکے ہیں؟ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ ایک روز کچھ خریدنے کی غرض سے میں چمن گیا جہاں سیکورٹی اہلکار افغانستان سے آنے والے ہر شخص سے رشوت لے کر اسے چیک کیے بغیر جانے دے رہے تھے۔ آپ کی رپورٹ کی وساطت سے میری پاکستانی حکام کو تجویز ہے کہ اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دیں کیونکہ ایک روز یہ ناقابل شکست چیلنج بن کر ابھرے گا۔
سینٹرل ایشیا آن لائن ویب سائیٹ شاندار کام کر رہی ہے۔ خطے میں امن و ہم آہنگی کے فروغ کے لئے آپ کی کوششیں انتہائی قابل قدر ہیں۔ میں صرف چند الفاظ کا اضافہ کرنا چاہوں گا کہ دیسی ساختہ بموں کے چیلنج پر صرف اسی صورت میں قابو پایا جا سکتا ہے اگر ہم سب اس کا متحد ہو کر مقابلہ کریں۔
bat to kisae had tak ap ki drst hy magar hamin ais ke bnyady wajah malom karny ho gay jo ke ya hai ghalat palisian awr ghairon ki gholami ka twaq phanna.
غنی صاحب، یہ بہت اچھا مضمون ہے۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان کو دیسی ساختہ بموں کا مقابلہ کرنے کے لئے خصوصی یونٹ قائم کرنے کی ضرورت ہے جو اس مخصوص خطرے سے نمٹ سکے۔
میں پاکستانی حکام کے ان دعووں سے متفق نہیں ہوں کہ ان کے ملک میں دیسی ساختہ بم افغانستان سے آ رہے ہیں۔ یہ پاکستان کی اپنی ایجاد ہے اور تمام عسکریت پسند ملک میں دھماکوں کے لئے دیسی ساختہ بم استعمال کر رہے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ دیسی ساختہ بم پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں کیونکہ ان کے پاس پیشگی حفاظت کا کوئی نظام موجود نہیں۔ یہ واحد وجہ ہے کہ آج کل ملک خاص طور پر بلوچستان میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ باغی بلوچستان کے آبادی کے مراکز میں فوج پر حملوں کے لئے دیسی ساختہ بم استعمال کرتے ہیں۔
کاکڑ صاحب، بہت اچھا مضمون لکھا ہے آپ نے۔ بہترین تمناؤں کے ساتھ۔
کیا آپ اخلاص سوشل ٹرسٹ کا لنک فراہم کر سکتے ہیں؟ میں دیسی ساختہ بموں کے بارے میں جمع کیے جانے والے اعداد و شمار کے متعلق مزید جاننا چاہتا ہوں۔ بہت شکریہ۔
یہ کاکڑ صاحب کی بہت اچھی رپورٹ ہے۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورت حال کے باعث یہ مسائل کئی گنا بڑھ گئے ہیں اور اس کے باوجود فوج اور حکومت نے فوجی کارروائیوں کی مکمل تفصیلات یا پاکستان میں اس خطرے میں اضافے کے نتیجہ خیز تخمینے سے آگاہ نہیں کیا۔ مشرق میں افغان پاکستان سرحد کے نزدیک فاٹا کے علاقوں میں اسلامی انتہاپسندوں کے اثر و رسوخ میں اضافہ اور قبضہ سب کے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور میرے خیال میں یہ بات واضح ہے کہ یہ خطہ القاعدہ کی کارروائیوں کا گڑھ بن چکا ہے۔ عسکریت پسندوں تک تمام دیسی ساختہ بموں کی ٹیکنالوجی اسی علاقے سے آتی ہے۔
غنی صاحب، بہت اچھی رپورٹ تحریر کی ہے آپ نے۔ ہمارے پیارے وطن میں دیسی ساختہ بم اور ان کی تیاری پوری قوم کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ حکومت کو اس سنگین معاملے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اب بھی دنیا کو اس سخت چیلنج میں پیشرفت کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ کاکڑ صاحب، میں اس رپورٹ کی تیاری میں آپ کی جانفشانی کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ برائے مہربانی اس طرح کے اہم مسائل پر مضامین لکھتے رہیں اور مجھے امید ہے کہ ہمارے مقامی ذرائع ابلاغ بھی اس جانب توجہ دیں گے۔
میری عاجزانہ رائے میں ہمیں اپنی قوم کے ساتھ مخلص ہونے کی ضرورت ہے ورنہ ہماری تمام قوم ایک محفوظ زندگی سے کٹ جائے گی جس کا وہ آج مطالبہ کر رہی ہے۔ اب تمام شرپسندوں اور عسکریت پسندوں کو دیسی ساختہ بموں کی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہے۔ سب سے اہم چیز قوم میں اس کے بارے میں شعور بیدار کرنا اور دشمن کو باہر سے شکست دینا ہے۔
اتنی اچھی رپورٹیں پیش کرنے پر اللہ آپ کو برکت دے۔
سب سے پہلے تو میں سینٹرل ایشیا آن لائن کی تعریف کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی رپورٹوں کے ذریعے عوام کے ان مسائل کو اجاگر کرنے میں بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ میرا درج ذیل تبصرہ شامل کریں گے۔ بلوچستان کے وزیر اعلٰی شرپسندوں اور دہشت گردوں کی براہ راست سرپرستی کر رہے ہیں اور وہ اپنی حکومت کو بی ایل اے، بی آر اے، بی آر پی جیسی تنظیموں کی مدد سے چلا رہے ہیں۔ یہ تمام ملک دشمن عناصر عام شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر دیسی ساختہ بم استعمال کر رہے ہیں جبکہ وزیر اعلٰی نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ میری آپ سب سے درخواست ہے کہ اس معاملے پر توجہ دیں اور ان جرائم پیشہ گروہوں کا خاتمہ کریں تاکہ یہاں امن کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ بلوچستان میں بہت سے دیسی ساختہ بم استعمال ہوئے جن میں سینکڑوں افراد جاں بحق ہو گئے۔ شکریہ۔
اس اچھے کام کو جاری رکھیں۔ اگر دہشت گردوں نے دفاعی پوزیشن اختیار کر لی ہے تو وہ معصوم انسانوں کو ہلاک کرنے کی بجائے اب راہ فرار اختیار کریں گے۔ اگر دہشت گردوں کو اپنا تعاقب کرنے والوں کا خوف ہو تو ان کی جانب سے عوامی مقامات پر بم رکھنے کا کم امکان ہے۔
جناب مصنف، میں آپ کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ پاکستان میں دیسی ساختہ بم اور دھماکہ خیز مواد اسمگل کرنے میں بھارت کا بہت بڑا کردار ہے۔ مجھے یاد ہے کہ پاکستانی حکام نے جنوبی وزیرستان کے علاقے رزمک اور دیگر بہت سے مقامات پر مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر چھاپے مار کر بھارتی ساختہ دیسی بم برآمد کیے۔ ذرائع ابلاغ پر بھی ان کی تشہیر کی گئی تھی۔ میرے خیال میں یہ تمام جرائم کی جڑ ہے اور اسے روکنے کے لئے ہمیں اقدامات اٹھانا ہوں گے اور دوسرے ملکوں کا تعاون بھی حاصل کرنا ہو گا۔
یہ ایک مکمل مضمون ہے۔ میرا خیال ہے کہ سرکاری حکام کی سرپرستی کے بغیر کوئی بھی اتنی آسانی سے دھماکہ خیز مواد کی اسمگلنگ نہیں کر سکتا۔ یہ سرکاری سرپرستی میں چلنے والے گروہوں کی جنگ ہے۔ سب سے پہلے تو انہیں کچلنے کی ضرورت ہے اور پھر آپ کے محکمے کے ذریعے عام ترسیل کو روکا جا سکتا ہے۔ میری پاکستان کے اعلٰی حکام سے گزارش ہے کہ اس مسئلے سے ترجیحی بنیادوں پر نمٹیں کیونکہ یہ ہمارے لئے اب ایک بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
بہت خوب کاکڑ صاحب۔ یہ شاندار مضمون ہے۔
میں مہمند صاحب کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ پاکستان میں پھیلنے والے تمام جرائم اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں بنیادی کردار سابق صدر مشرف کا ہے۔ ان کے فیصلوں نے پاکستان کو ایک ناکام ریاست بنا دیا۔ اگر وہ ایسا کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل قوم کو اعتماد میں لے لیتے تو ملک کی یہ نازک حالت کبھی نہ ہوتی اور نہ ہی عسکریت پسندی اتنے بڑے پیمانے پر پھیلتی۔ میرا خیال ہے کہ اس میں قصور ہماری پوری قوم کا بھی ہے کہ انہوں نے اپنے حقوق کے لئے جدوجہد نہیں کی۔ میں پاکستان کے بارے میں اس حساس رپورٹ پر سینٹرل ایشیا آن لائن کا مشکور ہوں۔
میں آپ کی رپورٹ پر صرف ان الفاظ میں تبصرہ کرنا چاہتا ہوں۔ یہ تحسین کا مستحق ہے اور اس کے مقاصد پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تمام متعلقہ افراد کو ہمارے معاشرے سے اس خطرے کو دور کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اس میں زیادہ نقصان حکام کی بجائے عوام کا ہو رہا ہے۔
یہ ایک اچھا مضمون ہے اور آپ نے ایک انتہائی اہم مسئلے کا انتخاب کیا ہے۔ میں سینٹرل ایشیا آن لائن کے خصوصی مضامین کو بہت پسند کرتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ آپ ذرائع ابلاغ کے اس حقیقی کردار کو جاری رکھیں گے۔
کاکڑ صاحب، بہت اچھا مضمون ہے۔ میں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور آپ کے تجزیے سے اتفاق کرتا ہوں۔ دفاعی اور جارحانہ دونوں نظاموں میں یہ بہت اہم عنصر ہے کیونکہ دونوں تحفظ کے مقصد کے لئے ہیں اور اس دوران دشمن کو ان پر قابو پانے کی راہ میں تکنیکی لحاظ سے مشکلات پیدا کی جاتی ہیں۔ اسی لئے دیسی ساختہ بموں کا استعمال ایک بڑا خطرہ ہے۔
کاکڑ صاحب، یہ اچھا مضمون ہے۔ میرے اندازے میں حکام کو اس چیز پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ آج کی جدید دنیا میں دیسی ساختہ بم کسی بھی جگہ تیار کیے جا سکتے ہیں اور اس کے لئے دستیاب مواد زرعی اور طبی مقاصد کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کی تیاری کے لئے بھی کوئی بہت گہرا تکنیکی علم درکار نہیں۔ لہٰذا ہر موقع پر آگہی انتہائی ضروری ہے۔
اچھا مضمون ہے۔ کاکڑ صاحب میں آپ کی کاوش کا انتہائی احترام کرتا ہوں۔ میری رائے میں دیسی ساختہ بموں کے کاروبار میں پاکستانی ملوث نہیں۔ اس کی بجائے یہ ازبک اور افغان باشندوں کا کام ہے جنہیں بھارت کی بزدل خفیہ ایجنسی را مالی امداد فراہم کر رہی ہے۔ وہ خود تو کچھ کرنے کے قابل نہیں لیکن ان دہشت گردوں کی آڑ میں شکار کھیل رہی ہے۔
ہر کسی کو اختلاف رائے کا حق حاصل ہے لیکن ایک بات پر ہم سب کا اتفاق ہو سکتا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے یہ واقعات اچھی چیز نہیں ہیں۔ یہ سرگرمیاں سرحد پار سے ملنے والی مالی و دیگر امداد کے بغیر ممکن نہیں۔ لہٰذا میری تمام متعلقہ افراد کو یہ تجویز ہے کہ وہ غلط فیصلوں کو درست کرانے میں اپنا کردار ادا کریں ورنہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے، نہ صرف پاکستان کے لئے بلکہ خطے کے دیگر ملکوں کے لئے بھی۔ فیضی 2005 10 ماہ قبل
یہ کاکڑ صاحب کی بہترین رپورٹ ہے۔ میرا خیال ہے کہ دہشت گردی کے ان تمام حربوں کا مقصد دہشت گردوں کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے تاکہ وہ آسانی سے ہر چیز کو تباہ کر سکیں۔ ملک کے ہر شہری اور معاشرے کو ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
آپ کا کہنا درست ہے اور میں اس سے اتفاق کرتا ہوں لیکن جوہری ہتھیاروں کو دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے سے کون روکے گا؟
ہم بہت پیچھے ہیں۔ ہم دشمنوں اور محتاط انداز میں تباہی کے منصوبوں میں تمیز نہیں کر سکتے۔
میرے خیال میں پاکستان میں ہونے والی ان کارروائیوں کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی را اور اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کا ہاتھ ہے۔ وہ اپنے اہداف کا کھوج لگانا چاہتے ہیں اور پاکستان میں عدم استحکام پھیلا رہے ہیں۔ حکومت کو صرف طالبان کو مؤرد الزام ٹھہرانے کی بجائے حقیقت کو بھانپنا چاہیے۔
یہ انتہائی معلوماتی رپورٹ ہے اور میں اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ میں امن و ہم آہنگی کے لئے آپ کی جدوجہد کو سلام پیش کرتا ہوں۔ اللہ پاکستان کو ہر قسم کی آفت سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
میرا خیال ہے کہ اس وقت پاکستان کے پاس دیسی ساختہ بموں کا کھوج لگانے کے آلات کا فقدان ہے اور اسی وجہ سے ہماری سالمیت کو خطرہ لاحق ہے۔ مجھے آپ کی رپورٹ پسند آئی کیونکہ یہ متوازن اور معلومات افزا ہے۔
یہ ایک عمدہ کام کا نمونہ ہے اور مجھے انتہائی پسند آیا۔ میں تمام ذمہ دار افراد سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ اسے روکنے کے اقدامات اٹھائیں۔ آپ کیا کر رہے ہیں اور کیوں خاموش بیٹھے ہیں؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ ان دیسی ساختہ بم دھماکوں میں عوام جاں بحق ہو رہے ہیں۔ برائے مہربانی قوم کو جواب دیں۔
کاکڑ صاحب، آپ کا تجزیہ بہت اچھا ہے۔
میں کاکڑ صاحب کی اس بات سے متفق ہوں کہ بلوچستان میں تمام باغی تنظیمیں دیسی ساختہ بم استعمال کر رہی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ بات سب کے علم میں ہے کہ ان تنظیموں کو سرحد پار سے مدد مل رہی ہے۔ انہیں دیسی ساختہ بم تیار کرنے کی ٹیکنالوجی ان لوگوں سے مل رہی ہے جنہوں نے روس سے تربیت حاصل کر رکھی ہے۔
مجھے یہ تسلیم کرنے میں عار نہیں کہ یہ بہت اچھا کام ہے اور آپ نے پاکستان میں پائے جانے والے اس مسئلے کا بہترین تجزیہ کیا ہے۔ یقیناً یہ دیسی ساختہ بم سب سے بڑا خطرہ ہیں اور اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ فاروق اسد، راولپنڈی
کاکٹر صاحب، آپ نے بہت اچھا مضمون لکھا ہے۔