کراچی کو اقتصادی نقصانات کا سامنا
تشدد کے باعث شہر کو ایک دن میں پندرہ ارب روپے کا نقصان
ضیاء الرحمان
2010-08-05
کراچی -- کراچی میں سیاسی تشدد اور ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات کی لہر نے کاروباری زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور شہر کے باسیوں کو اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔
چار بچوں کے والد ارشد علی نے بتایا کہ شہر میں جاری ہنگاموں اور عوامی ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث میں کام پر نہیں جا سکا۔ اب میری جیب خالی ہے اور میرے بچوں کو بھوکا سونا پڑے گا۔
دو اگست کو متحدہ قومی موومنٹ کے ایک رکن صوبائی اسمبلی رضا حیدر کے قتل کے بعد پھوٹ پڑنے والے ہنگاموں میں 100 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اگست کی 3 اور 4 تاریخ کو مقامی صنعتیں اور کاروباری مراکز بند رہے اور شرپسندوں نے درجنوں دکانوں، ہوٹلوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔
تقریباً 1 کروڑ 80 لاکھ افراد کی آبادی پر مشتمل کراچی شہر کا سرکاری محصولات میں حصہ 70 فیصد کے قریب ہے اور پاکستان کی ایک چوتھائی مجموعی ملکی پیداوار یہاں سے حاصل ہوتی ہے۔
کراچی کے آل ٹریڈرز الائنس کے سربراہ عتیق میر نے بتایا کہ دو دن مقامی مارکیٹیں بند رہنے سے 2 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ شہر کے خریداری مراکز اور بڑی مارکیٹیں زیادہ متاثر ہوئیں کیونکہ تاجروں نے دکانیں نہیں کھولیں۔
عتیق میر نے کہا کہ کراچی تشدد سے پاک ہو چکا تھا اور ملک کی کمزور معیشت میں اپنا بڑا حصہ ادا کر رہا تھا تاہم اب دہشت گرد شہر میں نسلی اور فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دے کر پاکستان کی معیشت کو مفلوج کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تشدد کے واقعات کے نتیجے میں بہت سے کاروبار مستقل بند ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 40 فیصد کاروبار تباہی کے دھانے پر کھڑے ہیں۔ عتیق میر نے حکومت سے شہر میں امن بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان کے ایوان ہائے صنعت و تجارت کی فیڈریشن کے صدر سلطان چاؤلہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ صرف 3 اگست کو پاکستان کو تقریباً 15 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
چاؤلہ نے بتایا کہ شہر کے گڑبڑ زدہ علاقوں میں رہائش پذیر ملوں اور کارخانوں میں کام کرنے والے تقریباً 70 فی صد محنت کش کام پر نہ جا سکے۔
تاہم کراچی کی معیشت کے بارے میں طویل المیعاد خدشات بھی موجود ہیں۔
کراچی اسٹاک ایکسچینج کے عہدیدار رضوان اشرف نے بتایا کہ شہر میں تشدد کے واقعات پر حکومتی ردعمل سے پریشان اور غیر مطمئن مقامی سرمایہ کاروں کو دیکھتے ہوئے کوئی غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان نہیں آئے گا۔ کراچی میں تشدد سے مارکیٹ رجحانات متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ تشدد پر قابو پانے کے لئے سخت اقدامات اٹھائے اور تاجروں اور کاروباری مالکان کو اپنا کام کرنے دے۔
حکومت سندھ کے مشیر برائے سرمایہ کاری زبیر موتی والا نے بتایا کہ ہم غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یہاں سرمایہ لگانے پر راغب کرنے کی سخت کوششیں کر رہے ہیں اور ان میں سے بہت سے اس پر آمادہ بھی ہو جاتے ہیں تاہم پرتشدد ہنگاموں کے باعث وہ واپس جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات کی تازہ لہر میں جاں بحق ہونے والوں کی اکثریت صوبہ خیبر پختونخواہ کے دیہاڑی دار مزدوروں پر مشتمل تھی۔
کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ارشاد بخاری کے مطابق، 2 اگست کے بعد سے شرپسندوں نے 75 بسوں، عوامی گاڑیوں اور ٹرکوں کو نذر آتش کر دیا جس سے تقریباً 5 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
بخاری نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تحفظ کی فراہمی میں ناکامی کے باعث ٹرانسپورٹروں کو اپنی زندگیاں خطرے میں نہیں ڈالنی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو نذر آتش کی جانے والی گاڑیوں کا معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔
ٹرک مالکان کی تنظیم کے رہنما مختیار محسود نے بتایا کہ تشدد کے واقعات میں ٹرانسپورٹروں کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ بسوں، منی بسوں اور ٹرکوں سمیت بیشتر ٹرانسپورٹ پشتون باشندوں کی ملکیت ہے۔
علاقے کے پٹرول پمپوں کو پہنچنے والے نقصان اور ان کی بندش سے مزید نقصانات ہوئے ہیں۔
ایک پٹرول پمپ کے منیجر اصغر خان نے بتایا کہ شہر میں 400 کے قریب پٹرول پمپ ہیں اور ایک پٹرول پمپ پر اوسطاً یومیہ 10 ہزار لٹر پٹرول اور 5 ہزار لٹر ڈیزل فروخت ہوتا ہے۔ پٹرولیم کی صنعت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ شہر کی آبادی کو ایندھن کی قلت کا سامنا ہے۔
سینئر کاروباری صحافی اور تجزیہ کار وکیل رحمٰن نے بتایا کہ تشدد کے باعث شہر پر پڑنے والے کل مالی اثرات کا تخمینہ لگانا دشوار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم کراچی میں دہشت گرد حملوں یا تشدد کے باعث ملک کی معیشت پر پڑنے والے حقیقی نقصان کا تخمینہ نہیں لگا سکتے کیونکہ اس میں بہت سے عوامل ہیں۔ تاہم کراچی میں ایک روز کی ہڑتال سے اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
ایم کیو ایم کو اب اپنی پالیسی تبدیل کرنی چاہیے۔ وہ ہمیشہ کراچی میں تشدد پھیلانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ حکومت کے اس مسئلے کے بارے میں ایم کیو ایم سے بات کرنی چاہیے اور اگر وہ جرائم پیشہ سرگرمیاں ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، تو بغیر کسی قسم کی ہمدردی دکھاتے ہوئے ایم کیو ایم کو کچل دینا چاہیے۔
ma nowshera ka rahana wala ho,mujhy bohat khokhy ha ka nowshera loggo na flood ka muqabala kia
muttaheda par papandi lagana chiye our ye waqat ki zarot hai wo sangeenjarayem main malos hai eak dehshard gar tanzeem hai karachi main darjano waqiyar hoi kese eak ki bi inkwayeri nahi hoyi cheef jasris ko ghawar karna chahiyeour inke jorayem ka inkwayeri suprem kort ko karna chahiye kahahan hai azaad midiya kahan hai azaad adliya kahan hai khakomat kahan hai intezamya kahan hai rinjar kahan hai iftehar choodri jis ki aamad pe 12 maye 2007 main kittne begonahon ka hoon bahaya wakeelo nko zenda jalaya giya logon ke ghar jalaye gaye karachi ki amman keliye idaron ko aage aana hoga sopreem kort ko apna kirdar aada karna chahiye take muttahedda par pabadi lagaye kabtak loge thosron ke hath maringe our hakomat ko bi apna kirdar aada karna chahiye
bismillah herehman neraheem main bhee ek yateem hoon allah say dua go rehta hoon hamare mulk pakistan pay rehem karan agar allah pak na reham nakiya to hum kis ka dur par jayanga kyounka mera gunehgar ka aumaal shayad aisay nahin ha allah pak sub par rehmatoon fazeelatoon nematoon say nawazay aamin sumaamin
میری حکومت پاکستان بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی سے اپیل ہے کہ کسی خوف و خدشے کے بغیر کراچی میں ایم کیو ایم کی حکومت کے خلاف کارروائی کی جائے۔ کیونکہ صرف ایک دہشت گرد جماعت ہی کراچی میں تمام قتل و غارت گری کی ذمہ دار ہے۔ اس میں زمینوں پر قبضہ کرنے والا مافیا، اسلحہ مافیا اور منشیات مافیا سب ہی شامل ہیں۔ وہ ہر موقع پر اس جماعت کے حکم کے تعمیل کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چار پانچ روز میں کراچی میں بہت سے افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔
پاکستانی عوام کو آسانی سے تقسیم کیا جا سکتا ہے اور ان میں نفاق معاشی لحاظ سے پاکستان کو شدید نقصان پہنچانے کی عام وجہ ہے۔ پاکستان کے لوگ انتہائی جذباتی اور بے وقوف ہیں۔ وہ انتہائی تنگ نظر ہیں۔ اسی وجہ سے ان عناصر کو پاکستان کو تقسیم کرنے کے لئے زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی۔ پاکستان کی قیادت بالغ نظر اور عوام دوست نہیں ہے۔ کراچی میں مسائل پیدا کر کے وہ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ سیاسی فوائد حاصل کر رہے ہیں تاہم اس حکمت عملی سے بالآخر سیاسی جماعتوں کی حمایت میں کمی واقع ہو گی اور انہیں ہی نقصان پہنچے گا۔ میرا خیال ہے کہ ایم کیو ایم کو کراچی پر حکومت کرنے کی اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اور اسے چاہیے کہ وہ لوگوں کے دل و دماغ جیت کر امن قائم کرے اور اپنے ہی شہر کو تباہ کرنے کی پالیسی چھوڑ دے۔ اس طرح کی تباہ کن پالیسیاں اختیار کرنا غلط مفروضہ ہے۔ لوگ ہدف بن جانے کے خوف کے پیش نظر اس پر آواز نہیں اٹھا رہے۔ مرکز کی حکومت عام حالات میں بھی نظم و نسق سنبھالنے سے قاصر ہے۔ ہمسایہ ملک پاکستان اور اس کی معیشت کو مفلوج بنانے کے لئے صورت حال سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ ایک گولی چلاتے ہیں لیکن یہاں کے عوام کو اس کے پیچھے کارفرما منطق سمجھ نہیں آتی اور وہ اس کا شکار ہو کر اپنے ہی ملک کو جلا دیتے ہیں۔ اللہ پاکستان کو طوائف الملوکی اور بدعنوان رہنماؤں سے بچائے۔