کراچی میں ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات کے بعد شہر کو اسلحے سے پاک کرنے کے مطالبات

حکومت سندھ نے اس خیال کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی قائم کر دی

ضیاء الرحمٰن

2010-07-28

کراچی – تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کراچی میں ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کے لئے شہر کو اسلحے سے پاک کرنا ضروری ہے۔

سیاسی مبصرین ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات کی تعداد میں اضافے پر تشویش میں مبتلا ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ شہر کو ہتھیاروں سے پاک کرے اور تشدد پر قابو پانے کے لئے غربت میں کمی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنے جیسی اقتصادی پالیسیوں کے لئے مالی وسائل مختص کرے۔

سندھ کے وزیر اعلٰی سید قائم علی شاہ نے بتایا کہ حکومت نے کراچی کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کے پروگرام پر عملدرآمد کرنے کی غرض سے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے جنوری 2010 سے لے کر اب تک ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات میں اضافے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

اکیس سے چھبیس جولائی تک ان واقعات میں 42 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ مرنے والوں میں سے بعض کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور پنجاب پشتون اتحاد سے ہے، تاہم بیشتر سیاسی لحاظ سے سرگرم کارکن نہیں تھے۔

ایم کیو ایم اور اے این پی نے ایک دوسرے پر حالیہ تشدد کا الزام عائد کیا ہے تاہم وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کسی بھی سیاسی جماعت کے ملوث ہونے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان کی مذمت کی۔

رحمان ملک نے کہا کہ مختلف ذاتوں، نسلوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد شہر میں امن و ہم آہنگی سے رہتے ہیں تاہم دہشت گرد اپنے گھناؤنے عزائم کی تکمیل کے لئے نسلی بنیادوں پر تشدد کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں۔

کراچی میں ہلاکتوں کا الزام غیر قانونی ہتھیاروں کی تجارت پر

مایوس شہریوں نے قتل کے ان واقعات کی مذمت کرنے کے لئے شہر بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں لیکن ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ حالیہ سالوں میں ہر دو سے تین ماہ بعد ہلاکتوں میں اضافے کی لہر آتی ہے جس میں متعدد افراد جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان پر قابو پانے کے معاملے میں بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان انسانی حقوق کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں 889 افراد قتل ہو چکے ہیں جن میں سے تقریباً 260 کو کراچی میں ہدف بنایا گیا۔

کمیشن کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ گزشتہ سال کراچی میں 884 قتل ہوئے جن میں سے 184 کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔ پاکستان انسانی حقوق کمیشن کے صوبائی رابطہ کار عبد الحئی نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ رواں سال شہر میں ہلاکتوں کی تعداد دوگنا ہو گئی ہے۔

کراچی کے نیشنل سوشل فورم کے صدر اور ہتھیاروں سے پاک کراچی کے ایک سرگرم کارکن اقبال جمیل نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ شہر میں امن و امان کو تباہ کرنے والے تشدد کی بنیادی وجہ غیر قانونی ہتھیاروں کی موجودگی ہے۔

اقبال جمیل نے کہا کہ خودکار رائفلوں اور پستولوں سمیت چھوٹے ہتھیار غیر قانونی طور پر بآسانی دستیاب ہیں اور وہ مختلف سیاسی جماعتوں اور عسکریت پسند گروپوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔

پولیس ذرائع کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کی خبروں میں بتایا گیا کہ شہر میں قتل کر کے فرار ہو جانے والے فائرنگ کے تقریباً 95 فیصد واقعات میں 9 ملی میٹر اور اعشاریہ 30 قطر کے پستول استعمال کیے گئے۔

خبروں میں مزید بتایا گیا کہ اگرچہ اس حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں تاہم 2009 میں شہر میں ایک لاکھ پچیس ہزار کے قریب 9 ملی میٹر پستول فروخت کیے گئے۔

ایک وکیل مرخم چیتل نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ شہر کے دیگر جرائم کی نسبت غیر قانونی ہتھیاروں کے مقدمات عدالتوں میں سب سے زیادہ پیش ہوتے ہیں۔

چیتل نے بتایا کہ اس وقت غیر قانونی ہتھیار رکھنے والے ملزمان کے مقدمات زیریں عدالتوں میں چل رہے ہیں جہاں یہ جرم قابل ضمانت ہے۔

سندھ حکومت کے ایک وزیر انجنئیر محمد رفیعہ نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے کراچی کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لئے اتحادی جماعتوں کے تعاون سے ایک مشترکہ لائحہ عمل تجویز کیا ہے۔

پاکستان میں ہتھیاروں کے الزامات میں سخت سزاؤں پر غور

اقبال جمیل نے بتایا کہ وفاقی حکومت ایک ایکٹ لانے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت غیر قانونی ہتھیار رکھنے کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہو گی اور غیر قانونی ہتھیار رکھنے کے الزام میں گرفتار افراد کو انسداد دہشت گردی کی عدالت بھیج دیا جائے گا۔

محمد رفیعہ نے بتایا کہ ہدف بنا کر قتل کرنے کے بیشتر واقعات میں غیر قانونی ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امن دشمن عناصر کے خلاف ایک حالیہ کارروائی کے دوران غیر قانونی ہتھیاروں کی ایک بڑی تعداد ضبط کی گئی ہے۔

ایک صحافی اور کراچی میں انسانی حقوق کی تنظیم سوسائٹی برائے ترقی و انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن اختر حسین بلوچ نے بتایا کہ اقتصادی مایوسی، بالخصوص نوجوانوں میں بے روزگاری، متشدد جرائم میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔

بلوچ نے بتایا کہ سیاسی اور مذہبی جماعتیں تشخص پر مبنی تنظیموں کے لئے حمایت مضبوط بنانے کی غرض سے اقتصادی محرومی کے جذبات سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔

ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات کا تعلق نسلی اختلافات سے ہے

تشدد کی بڑھتی ہوئی لہر کو روکنے اور شہریوں میں شعور بیدار کرنے کے لئے "ہدف بنا کر قتل کرنے کی مذمت کیجیے" نامی امن کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں دانشور، شہری، سیاسی و امن کارکن اور ٹریڈ یونینوں کے نمائندے شامل ہیں۔

خواتین کے حقوق کی ایک ممتاز کارکن اور کمیٹی کی رکن صالحہ آپا نے کہا کہ بعض عناصر تشدد میں نسلی رنگ کی آمیزش کر رہے ہیں جس کے باعث کراچی میں آباد مختلف قومیتوں کے افراد میں خوف و ہراس بڑھ رہا ہے تاہم متفکر شہریوں کی حیثیت سے ہم اس کی مزاحمت کریں گے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے پشتون اور تقسیم ہند کے وقت بھارت سے ہجرت کر کے آنے والے مہاجر وہ دو طبقات ہیں جنہوں نے نسلی بنیادوں پر تشدد سے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔

کراچی میں پلنے بڑھنے والے 33 سالہ پشتون باشندے اشرف خان نے بتایا کہ میں ایک مزدور ہوں اور میرا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن پہلی بار مجھے ہلاکت کا خدشہ ہے۔

مہاجر طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے بھی انہی جذبات کا اظہار کیا۔

اڑتیس سالہ عاطف رضا نے کہا کہ اب ہم دیگر قومیتوں کے علاقوں میں جانے سے خوفزدہ ہیں۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 9)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • مجھے بی بی سی کی خبریں بہت پسند ہیں۔

    July 30, 2010 @ 08:07:00AM
    M SOAHIB
  • فوج کو کراچی میں غیر قانونی ہتھیاروں کے خلاف ایک سخت کارروائی شروع کرنی چاہیے اور دہشت گرد تنظیموں پر پابندی لگا دینی چاہیے۔

    July 29, 2010 @ 06:07:00AM
    Hassan