جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع زیر بحث
پاکستان کے سیاسی اور سلامتی کے امور کے تجزیہ کاروں نے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے
حسن خان
2010-07-27
اسلام آباد - پاکستانی حکومت کی جانب سے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو چیف آف آرمی اسٹاف کی حیثیت سے مزید تین سال کی توسیع دینے کے فیصلے نے ملک بھر میں گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے۔
ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی منتخب سویلین حکومت نے چیف آف آرمی اسٹاف کا دوسری میعاد کے لئے تقرر کیا ہو اور سیاسی اور سلامتی کے امور کے بہت سے تجزیہ کاروں کے بقول یہ درست اقدام ہے۔
تاہم بعض دیگر مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے بالآخر فوج کو زک پہنچے گی۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کی تعریف
اس فیصلے کے حامی ملک کے موجودہ حالات، پاکستان کے مغربی علاقوں میں شورش پسندوں کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں اور جمہوریت کے استحکام میں جنرل کیانی کے کردار کا حوالہ دیتے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کار امتیاز گل نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ جنرل کیانی نے ان تمام پرآشوب سالوں میں اپنا آئینی کردار برقرار رکھا ہے۔
اسلام آباد میں مرکز برائے تحقیق و مطالعہ سلامتی کے سربراہ امتیاز گل نے فوج کی ساکھ کو بہتر بنانے اور سیاست میں دخل دینے کی بجائے اپنے فوجی کردار کی حدود کے اندر رہنے پر جنرل کیانی کی تعریف کی۔
جنرل کیانی کے پیشرو جنرل پرویز مشرف کے دور میں عوام کی نظروں میں پاکستان کی فوج کا وقار کافی گر گیا تھا۔
ایک دفاعی تجزیہ کار ریٹائرڈ بریگیڈیر محمود شاہ نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے فوج کے گرتے ہوئے حوصلوں کو بحال کیا ہے۔
شاہ نے کہا کہ جب جنرل کیانی نے نومبر 2007 میں فوج کی کمان سنبھالی تو ہمارے فوجیوں کے حوصلے پست ہو چکے تھے اور ان میں لڑنے کا جذبہ ختم ہو چکا تھا۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اگلے محاذوں پر قیادت کر کے فوجی افسروں کا اعتماد بحال کرنا ہے۔
فیصلے کو غیر معمولی تاہم ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے
بریگیڈیر محمود شاہ نے جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کو غیر معمولی تاہم ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ پاکستان غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے لہٰذا وقت کا تقاضا تھا کہ غیر معمولی فیصلہ کیا جائے۔ اسلام آباد میں الجزیرہ انگریزی کے بیورو چیف کمال حیدر نے کہا کہ جنرل کیانی نے پاکستان کے مغربی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف اپنی افواج کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔
کمال حیدر نے کہا کہ جنرل کیانی تنازعات سے بالاتر، ثابت قدم، زیرک اور مکمل پیشہ وارانہ سپاہی ہیں جن کے بظاہر کوئی سیاسی عزائم نہیں۔
ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک منتخب وزیر اعظم نے کسی فوجی کمانڈر کی ملازمت کی میعاد میں توسیع کی ہے۔
پشتون قوم پرست جماعت پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر رحیم مندوخیل نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں پارلیمان کی بالادستی ہے۔
حوصلوں پر پڑنے والے اثرات پر نکتہ چینی
تاہم مزدور کسان کمیونسٹ پارٹی کے صدر افضل شاہ خاموش نے کہا کہ فوج کے سربراہ کو ملازمت میں توسیع دینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج کے باقی جنرلوں میں قیادت کی اہلیت موجود نہیں۔
خاموش نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ فیصلے سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ جنرل کیانی فوج کی ہیئت مقتدرہ میں واحد شخص ہیں جو پانچ لاکھ فوجیوں کی قیادت کرنے کے قابل ہیں۔ یہ فوج کو بطور ادارہ کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
ایک اور سیاسی مبصر نے اس فیصلے کے طریقہ کار پر تنقید کی۔
ایک نامور وکیل اور سابق وزیر اطہر من اللہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا حقیقی وجوہات تھیں جن کی بنیاد پر حکومت کو یہ فیصلہ کرنا پڑا۔
اطہر اور خاموش دونوں کا یہ کہنا تھا کہ اس فیصلے سے بالآخر فوج کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ حکومت ایک شخص کی تعریف کی خاطر دوسروں کی خدمات کو نظر انداز کر رہی ہے۔
سیاسی و سماجی کارکن اور افغان اور قبائلی امور کے ایک مبصر ایمل خٹک نے کہا کہ تنقید کو ایک جانب رکھتے ہوئے، دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور جغرافیائی و سیاسی حالات ہی وہ بنیادی وجوہات تھیں جن کی بناء پر جنرل کیانی کو فوج کا اعلٰی کمانڈر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
تاہم، ایمل خٹک نے تین سال کی توسیع سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ توسیع کی مدت ایک سال سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔
ایمل نے کہا کہ وہ اس تنقید کو سمجھتے ہیں کہ اتنی طویل توسیع سے دیگر افسران کا پیشہ وارانہ مستقبل متاثر ہو سکتا ہے اور فوج کا ادارہ کمزور ہو سکتا ہے۔
فوج حوصلوں میں کمی کے خدشات پر قابو پانے کے لحاظ سے کافی مضبوط ہے
تاہم بریگیڈیر شاہ کے خیال میں جنرل کیانی کے اپنے عہدے پر برقرار رہنے سے فوج کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنرل کیانی فوج میں ایک انتہائی مقبول کمانڈر ہیں اور انہیں فوج کے اندر اور سویلین حلقوں میں یکساں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے فوج کی تعمیر و ترقی اور اسے ایک پیشہ وارانہ لڑاکا فوج بنانے کے لئے بہت کچھ کیا ہے۔
انتہائی مذہبی جماعت اسلامی کے سوا سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔
سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ذرائع ابلاغ کے سامنے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع پر کوئی اعتراض نہیں۔
جمعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر مولانا راحت حسین نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ جنرل کیانی نے موجودہ جمہوری نظام کی تعمیر اور اسے برقرار رکھنے میں کافی کردار ادا کیا ہے۔
مولانا راحت حسین نے مزید کہا کہ فوج کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو 2007 کے انتخابات میں مداخلت سے روکنے پر سیاسی قیادت نے ان کی تعریف کی۔
مولانا راحت نے کہا کہ جنرل کیانی نے ان سینکڑوں فوجی افسران کو واپس بلا لیا جنہیں مشرف کے دور میں سول اداروں میں تعینات کیا گیا تھا۔ ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع سے سول حکومت کو استحکام حاصل ہوا ہے اور فوج کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
یہ مضمون اتنے بڑے حروف میں کیوں لکھا گیا ہے؟
فوج کا سربراہ کبھی تنہا کام نہیں کرتا، کام ہمیشہ مل جل کر کیا جاتا ہے۔ کور کمان کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کی یکساں اہلیت رکھتی ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ فوج میں کسی کا وجود بھی ناگزیر نہیں ہوتا لیکن سب سے پریشان کن بات سیاست دانوں کی پسند ناپسند ہے جو افراد کو اپنی مرضی سے لاتے ہیں اور بعد میں ان کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے اس واحد ادارے کو سیاسی رنگ دے دیا ہے جہاں استحقاق کی قدر تھی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ماضی سے سبق سیکھیں اور سیاست سے کوسوں دور رہیں مبادا کہ نواز شریف کی طرح پچھتانا پڑے۔ دانا وہ ہے جو دوسروں کی غلطیوں سے سبق سیکھے۔ فوج کے سربراہ کو اس توسیع کو قبول نہیں کرنا چاہیے۔