عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ میں پاکستانی سیاست دانوں کی جانوں کا نذرانہ
پشتون قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی اس میں سر فہرست ہے
جاوید عزیز خان
2010-07-26
پشاور -- چھبیس جولائی کو صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کے گھر کے قریب ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں ایک پولیس افسر اور دو کانسٹیبلوں سمیت سات افراد جاں بحق اور 25 دیگر زخمی ہو گئے۔
زخمی ہونے والے دو افراد وزیر اطلاعات کے رشتہ دار ہیں۔
چوبیس جولائی کو مسلح افراد نے میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے میاں راشد حسین کو پشاور سے 25 کلومیٹر دور مشرق میں ان کے آبائی گاؤں پبی میں ہلاک کر دیا تھا۔
میاں راشد حسین کے جنازے میں شریک سینکڑوں سیاست دانوں اور دیگر سوگواروں کے قریب پہنچنے والے ایک خودکش بمبار کو ایک پولیس اہلکار نے روکا جس نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔
صوبہ خیبر پختونخواہ اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرنے والی قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے سب سے زیادہ نقصانات کا سامنا کیا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے ایک ضلعی رہنما نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران ہمارے 481 رہنماؤں اور سینئر سرگرم کارکنوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ اس قربانی کی ملک بھر میں اور یہاں تک کہ پورے خطے میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔
وزیر اطلاعات اور ملک میں عسکریت پسندی کے ایک کٹڑ مخالف میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے کا قتل تازہ ترین صدمہ تھا۔
میاں افتخار حسین اور سینئر وزیر بشیر احمد بلور کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے مقامات پر دیگر حکام سے پہلے پہنچ جاتے ہیں اور متاثرین کو دلاسا دینے کے ساتھ ساتھ عسکریت پسندوں کو شکست دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔
اگرچہ عسکریت پسند عام طور پر کسی حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے انتظار کرتے ہیں تاہم خود کو تحریک طالبان پاکستان کا نائب ترجمان ظاہر کرنے والے احسان اللہ نے اگلے ہی روز ذرائع ابلاغ کے اداروں کو فون کر کے میاں راشد حسین کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان نے چھ افراد کو اس کارروائی کی ذمہ داری سونپی تھی اور وہ تمام اپنے ٹھکانوں پر واپس لوٹ آئے ہیں۔
نوشہرہ کے ضلعی پولیس افسر نثار خان تنولی نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ ہم ابھی تک واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں تاہم اس معاملے کی حساس نوعیت کے پیش نظر ہم تازہ ترین پیشرفت سے آگاہ نہیں کر سکتے۔
بعض انٹیلیجنس اطلاعات کے مطابق، وزیر اطلاعات ان کلیدی سرکاری عہدیداروں میں شامل ہیں جن کے خاندان دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔
بعض سیاست دانوں نے اپنے خاندانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے سیکورٹی اقدامات کیے ہیں۔
وقفے وقفے سے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے میاں افتخار حسین نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ ہمیں اپنے شہداء پر فخر ہے جنہوں نے ملک کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ایسے بزدلانہ اقدامات ہمیں دہشت گردوں کو شکست دینے سے نہیں روک سکتے۔
خود میاں افتخار حسین بھی 2008 میں بشیر احمد بلور کے ہمراہ بین الصوبائی کھیلوں کی اختتامی تقریبات میں شرکت کے بعد واپس لوٹتے ہوئے قیوم اسپورٹس کمپلیکس کے داخلی دروازے پر ہونے والے ایک خودکش حملے میں بچ گئے تھے۔
اس حملے میں کم از کم چار افراد جاں بحق اور متعدد دیگر زخمی ہوئے تھے۔
بشیر احمد طالبان کی ایک ہٹ لسٹ میں سر فہرست ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ میں دو خودکش حملوں میں محفوظ رہا ہوں جن میں سے ایک قیوم اسٹیڈیم میں اور دوسرا نمک منڈی میں ہوا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ میرے گھر پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا جبکہ میں اپنے بڑے بھائی اور وفاقی وزیر غلام احمد بلور کے ہمراہ لیڈی ریڈنگ اسپتال کے باہر ایک حملے میں بال بال بچا۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کے گورنر اویس احمد غنی نے میاں افتخار حسین کی جرات اور عوامی نیشنل پارٹی کی قربانیوں کو سراہا۔
اویس غنی نے کہا کہ میاں افتخار حسین نے جس جرات اور پامردی سے اس سانحے کا سامنا کیا وہ تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔
غلام احمد بلور نے بے گناہ راشد حسین کی ہلاکت کو غیر انسانی اقدام قرار دیا۔
تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین دہشت گردوں کی موت کی فہرستوں میں شامل ہیں اور تمام جماعتوں نے نقصانات اٹھائے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سینئر سرگرم کارکن ڈاکٹر شوکت علی نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان پیپلز پارٹی کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
ہم نے اس جنگ میں اپنی تاحیات چیئر پرسن اور دو بار کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی زندگی کی قربانی دی۔
سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز اور صوبائی سربراہ امیر مقام سمیت دیگر رہنماؤں پر بھی خودکش حملے کیے گئے۔
خودکش بمباروں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیر اعلٰی دوست محمد کھوسہ کی رہائش گاہ کے نزدیک حملہ کیا اور پی ایم ایل (ن) کے رکن قومی اسمبلی رشید نوانی کو قتل کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے مں متعدد بے گناہ افراد جاں بحق ہوئے۔
جماعت اسلامی کے ترجمان محمد اقبال نے بتایا کہ ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف قصہ خوانی بازار میں نکالی گئی ایک ریلی پر ہونے والے خودکش حملے میں ہماری جماعت کے 24 کارکن اور رہنما جاں بحق ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں جماعت کے دو سابق اراکین اسمبلی صابر اعوان اور شبیر احمد خان شامل ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ نواز اور ایک اور دینی جماعت جمعیت علمائے اسلام فضل کے اراکین پر بھی حملے ہوئے ہیں۔
میاں راشد حسین کے جنازے میں شریک وزیر اعلٰی امیر حیدر ہوتی اور متعدد وزراء اپنے ساتھی میاں افتخار حسین کو دلاسا دیتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔
تاہم صوبہ خیبر پختونخواہ کے سیاست دان دہشت گردی کے خلاف جنگ پر کاربند ہیں۔
وزیر اعلٰی امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ ان وحشی درندوں نے ہمارے بچوں کی جانیں لینا شروع کر دی ہیں تاہم ہم آخری سانس تک ان کا مقابلہ کریں گے۔ ان گھناؤنے جرائم میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
دنیا کے اس حصے میں بدترین حالات ہیں تاہم لوگوں کی قربانیوں سے جلد ہی ان مصائب کا خاتمہ ہو جائے گا۔
مجھے یہ مضمون پسند آیا۔ ہمیں جاوید اور صحافت میں ان کی کامیابی پر فخر ہے۔
یہ حقیقی حالات سے نمٹنے کا بہترین طریقہ ہے۔
کر بھلا سو ہو بھلا
یہ حقیقت ہے کہ اے این پی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے پاکستانی سرزمین پر لڑی جانے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انتہائی بڑی قربانیاں دی ہیں۔ بشیر احمد بلور کا یہ کہنا درست ہے کہ ہم تیسری عالمی جنگ لڑ رہے ہیں اور دنیا کو دہشت گردوں کے خلاف ہماری مدد کرنی چاہیے۔ میرے خیال میں اس حوالے سے قربانیاں دینے والے تمام افراد کا اعتراف کیا جائے اور انہیں معاوضہ ادا کیا جائے۔ اس مشکل وقت میں دنیا کو پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اللہ پاکستان اور اسلام کی حفاظت کرے!