ملا فضل اللہ نے سوات میں شکست تسلیم نہیں کی
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں مکمل شکست ہو چکی ہے
قاسم یوسف زئی
2010-07-23
پشاور – چالیس منٹ کے دورانیے پر مشتمل سوات کے بنیاد پرست رہنما ملا فضل اللہ کی جاری ہونے والی نئی وڈیو میں انہیں خودکش بمباروں کے ایک گروپ سے خطاب اور فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وڈیو سے ان کے گروپ کی طاقت ثابت نہیں ہوتی۔
ملا فضل اللہ نے دو سال تک وادی سوات میں شریعت نافذ کرنے کی ایک مہم چلائی جس کے دوران مخالفین کے سر قلم کیے گئے اور لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت کی گئی۔ پاکستانی فوج نے مئی 2009 میں کارروائی شروع کر کے انہیں اپنے ساتھیوں سمیت علاقے سے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔
کسی نامعلوم مقام اور وقت پر فلمائی جانے والی وڈیو میں فضل اللہ خودکش بمبار قرار دیے جانے والے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ حکومت اور فوج ان کی دشمن ہے اور انہیں ہدف بنایا جائے۔ اے ایف پی کو اس وڈیو کی ایک نقل موصول ہوئی ہے۔
ایک سینئر صحافی اور تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو فون پر بتایا کہ سوات میں فضل اللہ اور ان کے عسکریت پسندوں کو مکمل شکست دی جا چکی ہے اور میرا نہیں خیال کہ وہ علاقے میں دوبارہ آ سکتے ہیں۔ وڈیو میں فضل اللہ نے دعوٰی کیا تھا کہ ان کے گروپ نے ایک حکمت عملی کے تحت سوات کو چھوڑا ہے تاہم یوسف زئی نے ان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔
یوسف زئی نے بتایا کہ یہ حکمت عملی نہیں تھی بلکہ اپنی مکمل شکست کے بعد وہ سوات چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت میں فضل اللہ اور ان کے عسکریت پسندوں کا علاقے پر مکمل کنٹرول تھا تاہم وہ پاکستانی فوج کی کارروائی کے آگے جم کر کھڑے نہ ہو سکے اور ان میں سے بہت سے ہلاک یا گرفتار ہوئے اور بعض فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
یوسف زئی نے بتایا کہ ان کے بعض کلیدی رہنما مارے گئے ہیں، بعض کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور تقریباً 3,000 عسکریت پسند اب بھی فوج کی تحویل میں ہیں۔
تیئس جولائی کو ڈان نے اپنی خبر میں بتایا کہ نئی وڈیو منظر عام پر آنے کے فوراً بعد سوات میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے ملا فضل اللہ اور 49 دیگر مشتبہ عسکریت پسندوں کو مطلوب دہشت گرد قرار دے دیا۔ دیگر مطلوب دہشت گردوں میں عسکریت پسند کمانڈر شاہ دوران بھی شامل ہے۔
چوبیس مئی کو افغانستان کے صوبہ نورستان کے گورنر نے جلال آباد میں صحافیوں کو بتایا کہ فضل اللہ کی زیر قیادت 300 کے قریب انتہائی مسلح افراد نے ان کے صوبے کے ایک دور افتادہ ضلع پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں عسکریت پسندوں اور افغان پولیس کے درمیان خوفناک لڑائی چھڑ گئی۔
چھبیس مئی کو مشرقی افغانستان میں سرحدی پولیس کے کمانڈر محمد زمان ماموزئی نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ پاکستان کے عسکریت پسند رہنما صوبہ نورستان کے ضلع برگ متل میں افغان پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے ہیں۔
یوسف زئی نے کہا کہ پاکستانی فوج اب سوات میں ایک چھاؤنی قائم کر رہی ہے جس کے بعد عسکریت پسندوں کی علاقے میں واپسی ناممکن ہو جائے گی۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
میں اس فقرے کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں کہ نئی وڈیو منظر عام پر آنے کے فوراً بعد سوات میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے انہیں اور 49 دیگر مشتبہ عسکریت پسندوں کو مطلوب دہشت گرد قرار دے دیا۔ سمجھ نہیں آتی کہ وڈیو آنے سے قبل انہیں مطلوب دہشت گرد کیوں نہیں قرار دیا گیا۔ کیا اس سے پہلے وہ مطلوب نہیں تھے؟