کاروباری رہنماؤں نے پاک افغان تجارتی راہداری معاہدہ مسترد کر دیا

حکومت کا کہنا ہے کہ تاجروں نے معاہدے کو ٹھیک طرح سے سمجھا نہیں

حسن خان

2010-07-23

اسلام آباد – پاکستان کے صنعت کاروں اور کاروباری رہنماؤں نے نئے پاکستان افغان تجارتی راہداری معاہدے کو اتفاق رائے سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ان کے ملک کی کمزور اور دہشت گردی سے متاثرہ معیشت کو مزید نقصان پہنچے گا۔

خیبر پختونخواہ ایوان صنعت و تجارت (کے پی سی سی آئی) کے صدر ریاض شاہد نے کہا کہ ہم اس معاہدے کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ پاکستان کی صنعتوں اور کاروبار کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔

اس معاہدے میں پاکستان نے پہلی بار افغانستان کو اپنا تجارتی سامان واہگہ سرحد کے راستے بھارت لے جانے کی اجازت دی ہے۔ اس کے عوض پاکستان افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے وسطی ایشیا کو سامان برآمد کرے گا۔

وزارت تجارت و کاروبار کے ترجمان شہاب خان نے بتایا کہ نئے معاہدے کے تحت افغانستان وسطی ایشیائی ملکوں کو پاکستانی برآمدات کے لئے ایک محفوظ راستے کو یقینی بنائے گا۔ پرانے معاہدے میں ایک محفوظ راستے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

شہاب خان نے اس معاہدے کا دفاع کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ مبصرین اور ماہرین نئے افغان پاکستان تجارتی راہداری معاہدے کے مخالف کیوں ہیں۔ معاہدے کی مخالفت کرنے والوں نے اس معاہدے کو صحیح طرح سمجھا ہی نہیں۔

انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن پختونخواہ کے ڈائریکٹر غلام سرور مہمند نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔

ممتاز صنعت کار اور پاک افغان تجارتی امور کے ماہر غلام سرور مہمند نے کہا کہ ہمارے اور کاروباری طبقے کے اس معاہدے پر سنگین تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اس سے پاکستان میں راہداری کے سامان کی اسمگلنگ میں مزید اضافہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کی بندرگاہ سے کھلے ٹرکوں پر افغانستان جانے والا سامان خطرے کی زد میں ہو گا۔ حکومت کے لئے اس امر کو یقینی بنانا ناممکن ہے کہ پاکستانی سرزمین پر ان ٹرکوں کے سامان کو نہیں کھولا جائے گا۔

پشاور کے تاجر اور خیبر پختونخواہ ایوان صنعت و تجارت کے سابق صدر شرافت علی مبارک کا کہنا تھا کہ سامان لے جانے والے کھلے ٹرکوں کے تحفظ میں حکومت کی ناکامی سے اسمگلنگ میں انتہائی اضافہ ہو گا اور صنعتی اداروں کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ جائے گا۔

مبارک نے کہا کہ حکومت نے بین الاقوامی دباؤ کے تحت عجلت میں اس معاہدے پر دستخط کیے۔

غلام سرور مہمند کا کہنا تھا کہ معاہدے میں وسطی ایشیا کو برآمدات سے متعلق حصے مبہم اور پیچیدہ ہیں۔

مہمند نے کہا کہ آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ کو پاکستانی برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ملکوں کے برعکس پاکستان کی آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ کے ساتھ کوئی مشترکہ سرحد نہیں اور افغان سرزمین کے راستے ان ملکوں کو پاکستانی برآمدات میں اضافہ کرنے کے امکانات معدوم ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، 2007 سے 2008 تک پاکستان اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کے درمیان تجارت محض 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 2 کروڑ 34 لاکھ امریکی ڈالر رہی جس میں پاکستانی برآمدات 1 کروڑ 66 لاکھ ڈالر پر مشتمل تھیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے 21 جولائی کو ایک بیان میں معاہدے پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک افغانستان کے ساتھ تجارتی راہداری کے کسی معاہدے پر دستخط نہیں کیے گئے۔

وزارت تجارت کے عہدیدار شہاب خان نے کہا کہ وزیر اعظم کی بات درست ہے۔ دونوں ملکوں کے وزرائے تجارت نے معاہدے کی بجائے ابھی تک صرف ریکارڈ کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔

تاہم شہاب کا کہنا تھا کہ معاہدے پر دستخط کرنا اب پاکستان کی اخلاقی مجبوری ہے۔ پاکستان اس معاہدے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے عجلت میں طلب کی گئی ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے پر تنقید کرنے والے حقائق سے لاعلم ہیں۔

کائرہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ہم نے چار سال تک اس معاہدے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا اور یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے کہا حکومت نے اس معاہدے پر اتفاق کرنے سے قبل کاروباری طبقے اور سیاسی حزب اختلاف سمیت تمام متعلقہ افراد کو اعتماد میں لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے زیادہ مفاد میں ہے۔ اب افغانستان کے راستے پاکستانی سامان وسطی ایشیائی ملکوں تک بحفاظت پہنچے گا۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ذریعے کوئی بھارتی سامان برآمد نہیں کیا جائے گا۔ صرف افغان ٹرکوں میں افغان سامان بھارت کو برآمد کیا جائے گا۔

قبل ازیں افغانستان کے وزیر تجارت انوار الحق احدی نے واہگہ سرحد کے راستے افغان ٹرکوں میں افغانستان کو بھارتی سامان برآمد کرنے کے امکان کی جانب اشارہ کیا تھا تاہم یہ حصہ معاہدے میں شامل نہیں ہے۔ اس کے باوجود کاروباری رہنما معاہدے کی حمایت کرنے کے معاملے میں تذبذب کا شکار ہیں۔

تجارتی اور صنعتی طبقے کے انتہائی سرگرم رکن غلام سرور مہمند نے کہا کہ حکومت کی جانب سے نئے معاہدے میں ان کے نکات کو شامل نہ کرنے پر تاجر اور صنعت کار بڑے مظاہروں اور ہڑتالوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 1)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • یہ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ پاکستان کے بانی اور جنوبی ایشیا کے عظیم رہنما محمد علی جناح کی رحلت کے بعد پاکستانی سیاست دان/فوجی جنتا بدقسمتی سے بھارت کے ساتھ مذاکرات/معاہدوں سے فائدہ اٹھانے میں بری طرح ناکام رہے، چاہے یہ سندھ طاس کا معاہدہ ہو، اعلان تاشقند ہو، شملہ معاہدہ یا پھر تازہ ترین پاک افغان تجارتی راہداری کا سمجھوتہ جو ایک سست زہر کی مانند مہلک نتائج دکھائے گا۔ یہ صنعتی شعبے کے لئے تذلیل اور ایک مکمل تباہی کی ترکیب ہے جسے بہت سی آزمائشوں، دشواریوں اور امکانات سے تیار کیا گیا۔ اس معاہدے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں کیونکہ اسے انتہائی زیادہ دباؤ کا شکار ہو کر سمجھا اور مکمل کیا گیا ہے۔ خون چوسنے والی ویمپائر نے اپنی ارزاں ہوس کی خاطر پاک سر زمین کے مفادات کا سودا کر دیا۔

    July 28, 2010 @ 03:07:00AM
    Shaw
  • امریکا کی مہربانی سے افغانستان کے ساتھ نئے تجارتی راہداری معاہدے پر دستخط کرنے سے بھارت اور اس کے دیرینہ حلیف افغانستان کو قانونی جواز اور سہولیات فراہم ہوں گی تاکہ وہ پاکستان اور خطے میں زیادہ آسانی سے اور بلاتعطل تباہی پھیلانے کے قابل ہو سکیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ہم نے ہندوؤں کو اس امید پر ہر سہولت فراہم کی کہ ان کا خطے کے غیر ہندو باشندوں کی جانب رویہ کم غیر معاندانہ ہو جائے گا۔ تاہم ہمیں تاریخ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر مغل بادشاہ اکبر یہ مقصد حاصل نہ کر سکا تو پھر کوئی بھی نہ کر سکے گا۔ ہمارا مسئلہ نااہل اور بدعنوان قیادت ہے، وہ یا تو انتہائی مذہبی ہیں یا پھر مکمل سیکولر۔ جب عظیم قومی مفاد کی بات آتی ہے تو ہم انتہائی آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔ کوئی اپنا پڑوسی تو تبدیل کر سکتا ہے لیکن اس کی فطرت نہیں بدل سکتا۔ اور یہی حال ہندوؤں کا ہے۔ وہ زہریلے سانپ کی طرح ہیں، چاہے آپ ان کے ساتھ کتنا اچھا سلوک ہی کریں ڈسنا ان کی فطرت ہے۔ اگر آپ کسی کو دوست نہیں بنا سکتے تو کم از کم اسے دشمن بنالیں کیونکہ اس طرح آپ اپنا دفاع تو کر سکیں گے۔ اگر آپ کسی بیمار سانپ کو گھر لائیں گے تو وہ صحت یاب ہونے پر آپ کو پوری طاقت سے ڈسنے کی کوشش کرے گا۔ ہمارے ساتھ روز اول سے اپنے تمام دشمنوں کے ساتھ یہی معاملہ درپیش ہے۔ وہ سردمہری سے آغاز کرنے کی بات کرتے ہیں اور ہم فوری طور پر کشمیر اور دیگر بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لئے مکالمے اور مذاکرات کی بھیک مانگنا شروع کر دیتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہماری بات مان لیں گے۔ ہونہہ

    July 25, 2010 @ 10:07:00AM
    Aftab Alam
  • اگر ہم تھوڑی سی توجہ دیں تو حقیقت یہ ہے کہ یہ معاہدہ یا مفاہمت کی یادداشت افغانستان سے زیادہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔ افغانستان کے تاجروں کو دیگر طریقے ڈھونڈنا ہوں گے اور اس کی شرائط کا مطالعہ کرنے کے بعد ان پر غور کرنا ہو گا۔ امید ہے کہ وہ سمجھداری سے کام لیں گے۔ بصد احترام۔ آپ کی ویب سائیٹ کا ایک قاری۔

    July 24, 2010 @ 06:07:00PM
    کاربر
  • پاکستان نے کبھی بھی افغانستان کی کسی تیسرے ملک کے ساتھ تجارت کے لئے افغان عوام کو فائدہ نہیں پہنچایا۔ پاکستان کو صرف اپنے اہداف سے غرض ہے۔ پاکستانی حکومت نے امریکی دباؤ میں آ کر اس معاہدے پر دستخط کیے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان خطے میں صرف اپنے مقاصد اور اغراض میں دلچسپی رکھتا ہے۔ میں پاکستانی معاہدے کی مذمت کرتا ہوں۔ پاکستان کی حکومت کبھی بھی اس معاہدے پر عملدرآمد نہیں کرے گی۔

    July 24, 2010 @ 09:07:00AM
    Khan