پاکستان میں عسکریت پسندی کے باعث کھیلوں کو پہنچنے والا نقصان
کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندی نے کھیلوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے
اقبال خٹک
2010-07-20
پشاور ۔۔ گیارہ جولائی کو یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں ہونے والے جڑواں بم دھماکوں کی گونج کئی روز بعد پشاور کے قیوم اسٹیڈیم میں بھی سنائی دی۔ طالبان کی پرتشدد کارروائیوں کے بعد سلامتی کے خدشات کے پیش نظر حکام نے نیشنل گیمز کو دوسری بار ملتوی کر دیا۔
ویٹ لفٹر رضوان خان نے بتایا کہ عسکریت پسندی نے ملک میں کھیلوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ایک کھلاڑی کا پیشہ وارانہ مستقبل زیادہ طویل نہیں ہوتا اور اگر آپ قومی یا بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں سے اتنا عرصہ باہر رہیں تو آپ ضائع ہونے والے وقت کی تلافی کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ آپ کے لئے ناممکن ہے۔
رضوان خان نے نیشنل گیمز کی تیاری میں کئی ماہ صرف کئے ہیں جو اب دسمبر 2010 میں ہوں گے۔ یہ گیمز نومبر 2009 میں ہونا تھے۔ رضوان نے 90 کلوگرام وزن اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ میں طلائی تمغہ جیتنے کے لئے سخت محنت کر رہا ہوں۔
کمپالا کے بم حملوں میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ تمام افراد اسپین اور ہالینڈ کے درمیان فٹ بال کا فائنل میچ دیکھنے والے شائقین تھے۔ القاعدہ سے متاثر ہو کر کارروائیاں کرنے والی صومالیہ کی عسکریت پسند تنظیم الشہاب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
سال 2007 میں وزیرستان کی سرحدوں سے باہر نکلنے والی طالبان کی عسکریت پسندانہ کارروائیوں نے پاکستان میں کھیلوں کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ پے در پے حملوں نے پاکستان کو کھلاڑیوں کے لئے ایک ممنوعہ جگہ بنا دیا کیونکہ کوئی بھی غیر ملکی ٹیم اب پاکستان میں کھیلنے کے لئے تیار نہیں۔
اس صورت حال میں ٹیموں کے لئے غیر ملکی کوچز کی خدمات حاصل کرنا بھی قریب قریب ناممکن ہو گیا ہے۔ پاکستان جوڈو فیڈریشن کے حکام کسی غیر ملکی کوچ کی عدم موجودگی میں آئندہ سال پاکستان میں منعقد ہونے والے جنوبی ایشیائی جوڈو مقابلوں کی تیاری کا فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل محمد مسعود نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کے ممکنہ حملوں کے خوف کے باعث کوئی بھی غیر ملکی کوچ پاکستان آنے کے لئے تیار نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جنوبی ایشیا کی تمام ٹیموں کو دعوت نامے بھجوائے ہیں اور سبھی نے آنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ وہ بار بار سیکورٹی کی صورت حال سے متعلق سوال کرتے ہیں۔
غیر ملکی ٹیموں کے سامنے پاکستان میں کھیلوں کے دوران ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ یکم جنوری کو لکی مروت میں والی بال کے ایک میچ کے دوران ایک خودکش بمبار نے اپنی جیپ کھیل کے میدان کی دیوار سے ٹکرا دی جس کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے۔
تین مارچ 2009 کو لاہور میں مسلح حملہ آوروں نے دن دیہاڑے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی بس پر فائرنگ کر دی جس میں وہ بال بال بچ گئے۔ حملے کو روکنے کی کوشش کرنے والے چھ پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے۔ سری لنکا کی ٹیم نے اپنا دورہ پاکستان منسوخ کر دیا۔
گیارہ نومبر 2008 کو پشاور بمشکل ہی ایک بڑی خونریزی سے بچا اور خودکش بمبار کے حملے میں قیوم اسٹیڈیم کے باہر موجود چار افراد جاں بحق ہو گئے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اگر وہ اسٹیڈیم کے دروازے کو عبور کر کے اندر داخل ہو جاتا تو ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی تھی کیونکہ تیسرے بین الصوبائی کھیلوں کی اختتامی تقریب کے باعث اسٹیڈیم تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔
نیشنل گیمز کے دو بار التوا سے کھلاڑیوں، شائقین اور منتظمین سب کو یکساں دھچکا لگا ہے۔
پاکستانی اولمپک ایسوسی ایشین کی جانب سے مارچ میں کھیلوں کے دوسری بار التوا کے فیصلے پر بیڈمنٹن کی ایک خاتون کھلاڑی نے نمناک آنکھوں سے ٹی وی پر بتایا کہ عسکریت پسندوں نے انہیں کھیلوں سے دوبارہ محروم کر دیا ہے۔ کھیلوں کے انعقاد میں اس طویل تاخیر نے پشاور اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے باسیوں کو صوبائی دارالحکومت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے موقع سے محروم کر دیا ہے۔
نیشنل گیمز کی میزبانی کرنے والے صوبہ خیبر پختونخواہ اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ذوالفقار علی بٹ نے بتایا کہ کھیلوں سے مراد امن ہے۔ کھیلوں کے مقابلوں پر عسکریت پسندوں کے حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے دل امن کے خلاف ہیں۔ ہم کھیلوں کے ذریعے امن کا پرچار کرتے ہیں۔ ہم ایک روز ان کھیلوں کو یقیناً منعقد کریں گے۔
پشاور میں مقیم کھیلوں کے فروغ کار وقار معروف نے کہا کہ پاکستانی کھیلوں کی بحالی میں کئی سال کا عرصہ لگے گا۔
سینٹرل ایشیا آن لائن سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی کے مستقل خاتمے کے بعد ہم اقتصادی نقصانات سے بحال ہو سکتے ہیں تاہم کھیلوں کا نقصان پورا کرنے میں کئی سال لگیں گے۔ ابھی تک ہم نہیں جانتے کہ عسکریت پسندی ملک بھر میں کھیلوں پر مزید کتنا عرصہ اثر انداز رہے گی۔
افغانستان کی سرحد سے نزدیک قبائلی علاقوں میں عام طور پر کھیلوں کی بہت کم سہولیات میسر ہیں۔ قبائلی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان میں جو موجود بھی ہیں وہ بھی کھیلوں کی بجائے دیگر مقاصد کے لئے استعمال ہو رہی ہیں یا بے کار پڑی ہیں۔ مثال کے طور پر، خار اور میران شاہ کے اسٹیڈیم کئی سال سے خالی پڑے ہیں۔
صحافیوں نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ گزشتہ کئی سالوں سے ان دونوں جگہوں میں سے کسی میں بھی کھیلوں کا کوئی مقابلہ نہیں ہوا۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
Assalam O Alekum May tamam Media ko yay batana chahta ho ka Pakistani Kelarion ko aor asal may Salam Butt ko sakht say sakht saza dene chaheay Q K Os olo k patty nay serf aapnay mulk ko sharmenda kia sub Cricket ke kelarion ko sharmenda kia hay.May tamam PCB aor ICC roknon ko yay apeel karna chahta ka wo Salman Butt ko PK Cricket team say kharej kia jay aor on esi saza dene chaheay ka aayenda tamam Cricketers esay ghalaty say paband ho jay.Is match fixing may Asif aor Amir ke koi ghalati nahe hay Q K jo kuch Amir Aor Asif nay keay hay Wo be Salman Butt ke Sazish the. Wasalam Your Sencier Farhad RBA LandiKotal KhyberAgency.