رباب محبت اور عقیدت کا ساز ہے

موسیقاروں کا کہنا ہے کہ اس ساز سے انہیں روحانی طاقت ملتی ہے

عبد اللہ جان

2010-07-14

پشاور -- فن کار کی انگلیاں قدیم ساز رباب کے تاروں پر رقص کناں ہیں اور رباب کے متوالے نیم وا آنکھوں سے ایک پشتو گیت پر سر دھن رہے ہیں۔

شمال مغربی پاکستان کے شہر پشاور کے نزدیک ایک چھوٹے سے گاؤں میں بیٹھے حاضرین میں سے 25 سالہ محمد فہیم نے بتایا کہ مجھے رباب کی دھنوں سے روحانی طاقت حاصل ہوتی ہے۔

فہیم نے بتایا کہ پشتون باشندے رباب پر جان چھڑکتے ہیں۔

رباب لکڑی سے بنا ہوا تاروں والا ایک ساز ہے جس کا اندرونی حصہ کھوکھلا ہوتا ہے اور کھلی جگہ پر ایک جھلی چڑھی ہوتی ہے۔ جھلی پر ایک اونچا حصہ ہوتا ہے جس میں سے نائیلون اور دھات کے تار گزرتے ہیں۔ فن کار تاروں کو چھیڑنے کے لئے دھات کا ایک نوکدار ٹکڑا استعمال کرتا ہے۔

ساٹھ سالہ سرفراز خان نے پشتو کے مقبول گیتوں سے دیہاتی محفل کو گرما دیا۔ فہیم اور دیگر لوگ اٹھ کر رقص کرنے لگے۔

چالیس سال سے زائد عرصے سے رباب بجانے والے سرفراز خان نے بتایا کہ رباب پشتونوں کی پہچان ہے۔ چونکہ سرفراز نے شادی نہیں کی لہٰذا انہیں اپنے اس ساز سے محبت کی شراکت کی ضرورت نہیں پڑتی۔

سرفراز نے رباب سیکھنے کے شوق میں 20 سال کی عمر میں نزدیکی قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے نقل مکانی کی۔

سرفراز جس گاؤں میں اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے اس سے محض چند کلومیٹر دور قبائلی علاقے میں فائرنگ کی آوازیں گونج رہی تھیں کیونکہ پاکستانی فوج نے وہاں اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ پاکستان کے نیم خودمختار قبائلی خطوں میں عسکریت پسند اسلامی شریعت کا اپنا تصور نافذ کرنے کے لئے پاکستان کی ریاستی عملداری کو چیلنج کر رہے ہیں۔

سرفراز نے بتایا کہ ایک وقت ایسا تھا جب میں ہزاروں افراد کے مجمع کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کے خوف کی وجہ سے اب اس طرح کی تقریبات نہیں ہوتیں۔ تحفظ کے نقطہ نظر سے اب گھروں کے اندر چھوٹے پیمانے پر محفلوں کا انعقاد ہوتا ہے۔

عسکریت پسندوں نے فنون اور ثقافت کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ دھمکیاں موصول ہونے کے نتیجے میں متعدد فن کار شہر چھوڑ کر چلے گئے یا پھر انہوں نے اپنے فن کو خیرباد کہہ دیا۔ شورش پسندوں نے پشاور اور شمال مغربی پاکستان کے دیگر شہروں میں موسیقی کی دکانوں کو بم دھماکوں سے اڑا دیا۔

سرفراز اب پشاور میں گلوکاروں کی گلی ڈبگری بازار میں رباب بجانے والے واحد فن کار رہ گئے ہیں۔ ڈبگری بازار میں موسیقاروں، گلوکاروں اور دیگر فن کاروں کے چند ایک مکانات اور دفاتر ہی کام کر رہے ہیں۔ سرفراز وہاں ایک چھوٹی سی ورکشاپ چلا کر کچھ اضافی رقم کماتے ہیں۔

سرفراز کے پاس ایک ساز مرمت کے لئے لانے والے الاس خان نے بتایا کہ انتہائی اچھا رباب بجانے کے ساتھ ساتھ وہ سازوں کی مرمت میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔

سرفراز نے بتایا کہ رباب میری زندگی ہے اور میں اسے نہ بجانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

رباب صدیوں سے پشتون زندگی کا لازمی عنصر ہے۔ بعض محققین کا کہنا ہے کہ رباب کئی صدیاں قبل اسپین سے پشتون سرزمین پر آیا۔ اسپین میں اس سے ملتا جلتا ایک ساز ریبک بجایا جاتا ہے۔ دونوں کا نام مبینہ طور پر عربی زبان کے لفظ "رباب" سے اخذ کردہ ہے۔

بعض دیگر افراد کا کہنا ہے کہ اسکندر اعظم نے درہ خیبر کے راستے برصغیر پر حملے کے وقت پشتون علاقوں میں یہ ساز متعارف کرایا۔

رباب افغانستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے پشتون باشندوں میں مقبول ہے۔ یہ ساز برصغیر کے دیگر حصوں کے علاوہ ایران، بنگلہ دیش اور مشرق وسطٰی کے بعض علاقوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

اس کے چاہنے والوں کا کہنا ہے کہ ساز کی تاریخ سے پشتون باشندوں کی پرامن فطرت کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پشتون باشندوں نے چوبیس صدیاں قبل اسپین سے متعارف کردہ ریبک میں 7 تاروں کا اضافہ کیا تاکہ فن کار زیادہ لطیف اور رومانوی دھنیں پیدا کر سکے۔

محقق اور پشتو فلم ساز نثار محمد خان نے بتایا کہ ریبک ایک رزمیہ ساز تھا۔ پشتون باشندوں نے اس میں ترمیم کر کے رومانوی دھنیں بجانا شروع کر دیں۔

سرفراز نے بتایا کہ رباب محبت، عقیدت، امن و آسودگی کا ساز ہے۔ نثار خان کا کہنا تھا کہ رباب سے پشتونوں کی محبت سے ان کی امن کی خواہش کا ثبوت ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پشتون اپنی سرزمین پر ہمیشہ سے امن کے خواہش مند رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے رباب میں ترمیم کر کے محبت و امن کی دھنیں بنائیں۔ گاؤں کی محفل موسیقی میں شریک رباب کے ایک اور شائق بہادر خان نے کہا کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ پشتون بندوق کی جگہ رباب یا کسی اور ساز کو اپنائیں۔

تاہم، نثار خان نے اس نقطہ نظر سے اختلاف کیا کہ پشتون ثقافت پر بندوقوں کا غلبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بندوق پشتونوں کی کبھی بھی علامت نہیں رہی۔ پشتون عوام نے بندوق سے پہلے رباب کو اپنایا تھا۔

نثار خان نے کہا کہ درحقیقت ہم پشتونوں نے رباب کو بچے کی مانند گود لیا۔ انہوں نے موسیقاروں کی جانب سے رباب بجانے کے طریقے کا حوالے دیتے ہوئے کہا جس میں وہ اس ساز کو اپنی گود میں رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسیقی کے کسی بھی ساز کے ساتھ اس طرح کا رویہ نہیں اختیار کیا جاتا جس طرح پشتون رباب کے ساتھ کرتے ہیں۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 2)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • مجھے واقعی رباب پسند ہے۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ رباب کی کیا قیمت ہے؟

    February 13, 2011 @ 10:02:00AM
    majid
  • دوست، مجھے ان کا رابطہ نمبر درکار ہے۔ میں ان سے سیکھنا چاہتا ہوں۔

    September 30, 2010 @ 12:09:00AM
    Rehman
  • مجھے ذاتی طور پر رباب سے متعلق آپ کا تبصرہ اچھا لگا۔ آپ کا یہ کہنا درست ہے کہ رباب محبت کا ساز ہے۔

    August 28, 2010 @ 03:08:00AM
    Arooj
  • پشتون سرزمین پر رباب کی آمد غالباً ہمسایہ ملکوں کے عوام خصوصاً تاجک باشندوں کے ذریعے ہوئی۔ رباب ایک تاجک ساز ہے اور روح کو سکون پہنچانے والا لفظ روح باب فارسی زبان سے ماخوذ ہے۔ جنوبی پشتون باشندے شاذ و نادر ہی رباب استعمال کرتے ہیں کیونکہ شمالی پشتون باشندوں کے برعکس ان کا تاجک باشندوں سے رابطہ نہیں رہا۔ اس بکواس سے شرمندہ نہ ہوں کہ پشتونوں نے ریبک نامی ایک رزمیہ ساز میں سات تار جوڑ کر اسے زیادہ رومانوی اور پرامن بنا دیا۔ زندگی میں کبھی تو دیانت داری سے کام لیں۔

    July 15, 2010 @ 09:07:00AM
    Jawan