پاکستان میں سیکورٹی خدشات کے باعث آثار قدیمہ کی کھدائی میں رکاوٹ
حکام کا کہنا ہے کہ بہت سے ماہرین آثار قدیمہ کی کھدائی کے لئے پاکستان نہیں آئیں گے
آمنہ ناصر جمال
2010-06-30
اسلام آباد - پاکستان میں مدفون آثار قدیمہ کے بے شمار خزانے اس وقت کے منتظر ہیں جب ماہرین کھدائی کا کام دوبارہ شروع کرنے کے لئے اپنے تحفظ سے متعلق مطمئن ہو جائیں گے۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کی نظامت برائے آثار قدیمہ و عجائب گھر نے ضلع چترال کے دور افتادہ گاؤں پرواک میں سترہویں صدی قبل مسیح سے تعلق رکھنے والی چکنی مٹی کی قبروں اور نوادرات کا سراغ لگایا ہے۔
کھدائی کرنے والی ٹیم کے ایک رکن زور آور خان نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ آریائی تہذیب سے تعلق رکھنے والی ان اشیاء سے ہمیں قبل از تاریخ عہد کے بارے میں جاننے میں مدد ملے گی۔
زور آور خان نے بتایا کہ ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر حسن دانی مرحوم نے اس وقت کی تہذیب کو گندھارا قبروں کی ثقافت کا نام دیا تھا۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں دو قدیم تہذیبیں پائی جاتی ہیں۔ ملک میں قبل از تاریخ وادی سندھ کی تہذیب اور گندھارا تہذیب کے 2,500 سے زائد آثار موجود ہیں جن میں سے بیشتر پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں واقع ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخواہ میں پتھر کے زمانے سے تعلق رکھنے والے تاریخی مقامات بھی موجود ہیں۔
تاہم، سیکورٹی خدشات کے باعث کھدائی کا کام سست پڑ گیا ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی محکمہ برائے آثار قدیمہ و عجائب گھر کے ڈپٹی ڈائریکٹر بہادر خان نے بتایا کہ خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخواہ میں سیکورٹی سے متعلق پائے جانے والے خدشات کے باعث ماہرین پر مشتمل سات غیر ملکی ٹیمیں آثار قدیمہ کی کھدائی، تحفظ اور تزئین کے کام کے لئے نہیں آ سکیں گی۔
فرانس، جرمنی، اٹلی، کوریا، جاپان، انگلینڈ اور چین سے تعلق رکھنے والے آثار قدیمہ کے ماہرین پاکستان میں تاریخی مقامات کی کھدائی میں پیش پیش رہے ہیں۔ تاہم، پاکستان کے انتہائی پرآشوب حالات کو دیکھتے ہوئے وہ ان دنوں اپنے ملکوں میں ہیں۔
بہادر نے اطالوی، جرمن اور جاپانی ماہرین کے حوالے سے بتایا کہ حکومت پاکستان نے انہیں سیکورٹی کے لئے موزوں حالات کی یقین دہانی نہیں کرائی۔
اسلام آباد میں وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی مشنوں پر ان کی اپنی حکومتوں کی جانب سے پابندی عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
یہ مقامات اب آثار قدیمہ کی دریافتوں کے منتظر ہیں۔ پشاور میں منگول، سکھ اور برطانوی فاتحین کے عہد کے نقوش و نگار موجود ہیں۔ مختلف عہدوں سے تعلق رکھنے والا مزین چوب کاری کا کام ماہرین کو صوبائی دارالحکومت کی متنوع ثقافتی تاریخ کا سراغ لگانے کے قابل بناتا ہے۔
بہادر نے بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کی وادی گومل میں قبل از تاریخ آثار بھرے پڑے ہیں جس کے بعد ضلع بنوں کا نمبر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جہاں تک بدھ مت کے دور کا تعلق ہے تو سوات، دیر، پشاور، مردان، صوابی، ہری پور اور مانسہرہ میں اس کے بے شمار ممکنہ آثار موجود ہیں۔
بدھ مت کے مقامات پر بھی سیکورٹی کا کافی زیادہ مسئلہ ہے۔ شمالی علاقوں میں واقع بہت سے مقامات پر پاکستانی طالبان اور سیکورٹی فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ اس کے علاوہ، انہیں اسلامی انتہاپسندوں کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بہادر نے بتایا کہ امن کے فقدان سے ہر چیز کو خطرہ لاحق ہے۔ بدھ مت کے آثار کو تباہ کرنا اسلام نہیں ہے تاہم بعض عناصر حکومت پر دباؤ ڈالنے اور عام لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے انہیں تباہ کر دیتے ہیں۔
انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام پسندوں نے سوات میں ساتویں صدی میں چٹانوں پر کندہ بدھ مت کے نقوش و نگار کو تباہ کر دیا۔ ان کی اس مہم سے سوات سے باجوڑ تک پھیلے ہوئے گندھارا خطے کے قدیم مقامات کو نقصان پہنچا ہے۔
بہادر نے بتایا کہ پاکستان ثقافتی ورثے سے مالا مال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مغلیہ فن تعمیر کو موزوں انداز میں محفوظ رکھا جائے تو یہ مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد کے لئے دلکشی کا مرکز بن سکتا ہے۔
ٹیکسلا میں سوغات فروخت کرنے والے ایک دکاندار نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وادی ٹیکسلا کو بھی دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگ کے اثرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ غیر ملکیوں نے اب یہاں آنا چھوڑ دیا ہے۔ مقامی لوگوں کی ان مقامات میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم سارا دن گاہکوں کے منتظر رہتے ہیں لیکن یہاں کوئی بھی نہیں آتا۔
بہادر نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت سے ہمارے 22 لاکھ سال پرانے پتھر کے زمانے کے ثقافتی ترکے کو خطرات لاحق ہیں۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
سیلاب میں گھرے ہوئے اپنے پاکستانی بھائیوں کی مدد کریں۔
میں مصنف کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں۔ پاکستان کے لئے یہ ایک انتہائی کٹھن وقت ہے۔ پاکستان کی حکومت اور پالیسی سازوں نے کبھی بھی تاریخی وسائل پر غور نہیں کیا۔ درحقیقت موجودہ جنگ کی کوئی حیثیت نہیں اور یہ وسائل کی جنگ ہے جس میں امریکا تاحال کامیاب ہے۔ پاکستان کے عوام حقیقی صورت حال سے لاعلم ہیں۔ یہ اس کی کامیابی ہے کہ وہ اپنے عزائم کی خبر نہیں لگنے دیتا۔ ہم وسائل کے اعتبار سے دنیا کے امیر ترین لوگ ہیں لیکن ہم اس لحاظ سے بے بس ہیں کہ ہم ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے اور نہ ہی ہم نے ان سے متعلق کوئی واضح پالیسی اختیار کی ہے۔ ہمارے ہاں قیمتی خزانے دفن ہیں جن میں تیل، گیس، قیمتی پتھر شامل ہیں اور ہمیں پھر بھی امریکا کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ لڑا کر مروانا چاہتا ہے اور ہم اس کے آلہ کار بنتے جا رہے ہیں۔ یہ چیز ہمارے لئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ میں مصنف ظہیر کے خیالات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ زہری، تیمرگرہ، دیر