سوات میں کامیاب فوجی کارروائیوں کے بعد سیاحت کی صنعت بحال ہونے کی امیدوں میں اضافہ
سوات میں عسکریت پسندی کے باعث سیاحت کی صنعت کو 40 کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان پہنچا
جاوید عزیز خان
2010-06-28
کالام، پاکستان – لاہور سے ایک ہائی روف وین چلا کر آنے والے حنیف احمد چار سال کے وقفے کے بعد کالام پہنچ کر انتہائی پرجوش ہیں۔ وہ اور ان کے اہل خانہ کالام میں وقت گزارنے اور گزشتہ سالوں کی یادیں تازہ کرنے کے لئے انتہائی بے قرار تھے۔
پشاور سے 295 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع وادی کالام میں ہر سال موسم گرما میں ہزاروں سیاح آیا کرتے تھے۔ موسم گرما میں جب پاکستان کے بیشتر علاقوں میں 53 ڈگری سینٹی گریڈ تک جھلسا دینے والی گرمی پڑتی ہے، تو سیاح سرسبز پہاڑوں اور معتدل موسم کا لطف اٹھانے اس طرف نکل آتے تھے۔
تاہم، ان شاندار دنوں کا اس وقت اچانک خاتمہ ہو گیا جب عسکریت پسندوں نے وادی سوات پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد دو سال تک سخت گیر نظام نافذ کیے رکھا۔ یہ نظام مئی 2009 میں فوجی کارروائیوں کے مکمل ہونے کے ساتھ ختم ہوا۔
پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ڈپٹی منیجر برائے تشہیر و فروغ طیب ناصر میر نے بتایا کہ وادی سوات میں صورت حال معمول کی جانب لوٹ رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہر روز راولپنڈی اور لاہور سے متعدد بسیں پہنچتی ہیں۔ سوات کے تمام نجی ہوٹلوں نے ایک کمرے کا زیادہ سے زیادہ کرایہ 500 روپے فی رات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پی ٹی ڈی سی نے سیدو شریف میں واقع اپنے موٹل کے کرایوں میں 20 فیصد اور کالام میں واقع موٹل کے کرایوں میں 50 فیصد رعایت کر دی ہے۔ اور سیدو شریف، مینگورہ، فضاگٹ، میاندم، مدین اور بحرین ایک بار پھر سیاحوں کے لئے کھل گئے ہیں۔
مقامی باشندے اور سیاح یہ امید کر رہے ہیں کہ رواں موسم گرما میں سیاحت پر انحصار کرنے والے ہزاروں خاندانوں کے مصائب کا خاتمہ ہو جائے گا۔ سوات کے ہوٹلوں میں 30,000 سے 50,000 افراد ملازمت کرتے ہیں۔ تاہم، ابھی یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔
وادی کالام میں ایک پرتعیش ہوٹل کے منیجر عاصم نے بتایا کہ اگرچہ ہم 70 فیصد رعایت کی پیشکش کر رہے ہیں لیکن ہوٹل کے 74 کمروں میں سے آج صرف دو کمرے کرایے پر لگے ہیں۔ تاہم، رواں سال گزشتہ تین سالوں کی نسبت بہتر دکھائی دیتا ہے کیونکہ ایک طویل عرصے کے بعد علاقے میں امن لوٹ آیا ہے۔
عسکریت پسندی کے دوران، کالام میں ایک پولیس تھانے کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ یہاں کہ فوجی کارروائی کے کئی ماہ بعد تک کالام میں کرفیو لگا رہا۔ بحرین اور مدین، جہاں ہزاروں ہوٹل اور موٹل ہیں، کو بھی مشکلات اور تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔
بالائی کالام سے تعلق رکھنے والے سبحان اللہ نے اپنے خاندان کے مصائب کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایک سی ڈی کی دکان کے نزدیک ہونے کے باعث میرا گھر دھماکے سے اڑا دیا گیا جبکہ میرا ایک بھائی عسکریت پسندوں سے لڑائی میں زخمی ہو گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے گھرانے کو 12 لاکھ روپے (14,000 امریکی ڈالر) کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
تاہم، اب امن برقرار ہے۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس مالاکنڈ قاضی جمیل الرحمٰن نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ سیاحوں کو کسی بھی قسم کا سیکورٹی مسئلہ نہیں ہے۔
سوات سے منتخب ہونے والے ایک صوبائی وزیر ایوب خان اشعری نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ حکام وادی میں مزید پارک اور تفریح گاہیں قائم کریں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکام سوات میں ایک آسٹروٹرف ہاکی اسٹیڈیم تعمیر کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔
سوات ہوٹلز ایسوسی ایشن کے صدر زاہد خان کے تخمینے کے مطابق، گزشتہ سال تک سوات میں ہوٹل کی صنعت کو 7 ارب 50 کروڑ روپے (8 کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر) کے مالی نقصانات برداشت کرنا پڑے۔ صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر کھیل و ثقافت سید عاقل شاہ نے سیاحت کے شعبے کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ 40 کروڑ امریکی ڈالر لگایا ہے۔
زاہد خان نے بتایا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت دہشت گردوں کے ہاتھوں نقصانات اٹھانے والے مالکان کو مناسب معاوضہ ادا کرے۔ ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ صنعت کو اپنی سہولیات کی تجدید کے لئے سود سے پاک قرضوں کی ضرورت ہے۔
سوات میں سیاحت کی صنعت کو بحال کرنے کی کوشش ترجیح بن چکی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں سیدو شریف میں ایک بین الصوبائی سیاحتی کانفرنس منعقد ہوئی جبکہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلٰی امیر حیدر خان ہوتی نے سیاحت کی حوصلہ افزائی کے لئے مئی کے اختتام پر سوات کا دورہ کیا۔
وفاقی وزیر سیاحت مولانا عطاء اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ علاقے کو ایک بار پھر سیاحت کا گڑھ بنانے کے لئے تعمیر نو کا کام جلد ہی شروع کیا جائے گا۔ وفاقی وزارت سیاحت اور صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت مالم جبہ کے اسکی بازی کے مقام کی بحالی کے ایک مشترکہ منصوبے پر کام کر رہی ہیں۔ شورش کے دوران اس جگہ کو بم حملوں سے تباہ کر دیا گیا تھا۔
پوری وادی میں سیکورٹی اقدامات سخت ہیں۔
دریا کے کنارے مقبول تفریحی مقام فضاگٹ کے بالمقابل امام ڈھیرئی کا مدرسہ واقع ہے جو تحریک طالبان سوات کا سابق ہیڈکوارٹر تھا۔ فوج نے امام ڈھیرئی پر نگاہ رکھنے کے لئے پارک کے نزدیک ایک حفاظتی چوکی قائم کر رکھی ہے۔
سیاحوں کو ضلع سوات میں داخلے کے مقام لنڈاکی اور وادی کالام کے درمیان قائم 24 چیک پوسٹوں پر تلاشی کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ غیر رہائشی موٹر ڈرائیوروں کو مدین، بحرین اور کالام میں داخل ہوتے وقت حکام کو اپنی گاڑیوں میں موجود تمام مسافروں کے نام بتانے پڑتے ہیں۔ ہر ہوٹل کو تمام مہمانوں کا ریکارڈ رکھنا پڑتا ہے۔ ہر رات پولیس ہوٹل میں مقیم افراد کی جانچ پڑتال کے لئے چکر لگاتی ہے۔
ایک سیاح نصیر خان نے بتایا کہ علاقے میں امن کو یقینی بنانے کے لئے یہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کی آمد شروع ہونے کے بعد ان اقدامات سے مسائل پیدا ہوں گے۔
ایک سیاح اسرار باچہ نے کہا کہ حکومت کو بحرین کالام شاہراہ کے مسئلے کو بھی حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑی میں سڑک کے 35 کلومیٹر طویل حصے کو طے کرنے میں دو گھنٹوں کا وقت لگتا ہے۔
ایک ہوٹل کے نام ظاہر نہ کرنے والے مالک نے بتایا کہ ماضی میں حکومت نے کالام میں بغیر رش کے سیزن فروری میں 20 دن مفت رہائش کی پیشکش کر کے اچھا نہیں کیا۔ اس کی بجائے انہیں رواں مہینے میں یہ اعلان کرنا چاہیے تھا۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
یا اللہ سوات کے عوام کو عسکریت پسندوں کے سائے سے محفوظ رکھ! سوات کے عوام نے شورش پسندی سے بہت دکھ جھیلے ہیں۔ امید ہے کہ لوگ مستقبل میں ان مجرموں کو بے نقاب کریں گے۔
یہ بہت اچھی کریم ہے۔
تقریبات اب بھی منائی جا رہی ہیں۔ پنجاب اور دیگر علاقوں سے ہزاروں لوگ نئے اور پرامن سوات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
میں امید کرتا ہوں کہ آپ مجھے افغانستان کی خبریں روزانہ ای میل کے ذریعے بھیجیں گے۔
ہم رواں سال موسم گرما میں یہ امید لے کر سوات جا رہے ہیں کہ اللہ ہمارے پاکستان کی ہمیشہ حفاظت کرے اور ہمیں اپنے ملک کے ساتھ مخلص ہونے اور اس کا خیال رکھنے کی توفیق دے، آمین۔
نہ صرف سوات بلکہ پورے پاکستان اور خطے بھر میں امن کی ضرورت ہے۔ امن ہمارا بنیادی انسانی حق ہے اور امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کو ہمارے حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔
پاکستان کے شورش زدہ علاقوں میں اس قسم کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔
اللہ پاکستان اور افغانستان سے ان عناصر کا خاتمہ کرے تاکہ ایک بار پھر سیاحت اور دوسری سرگرمیاں فروغ پا سکیں۔ سوات واقعی بہت خوبصورت مقام ہے اور وہ اتنی زیادہ خونریزی کا مستحق نہیں تھا۔
مجھے دو بار سوات جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ سیر کے لئے شاندار جگہ ہے۔ امید ہے کہ لوگوں کو ایک بار پھر فطرت کے حسین مناظر کو دیکھنے کا موقع ملے گا۔ اچھا کام ہے۔ مثبت انداز قائم رکھیں۔
سوات میں 29 جون کو ایک میلہ شروع ہو گا جو 18 جولائی تک جاری رہے گا۔ اللہ کے فضل سے امن واقعی بحال ہو چکا ہے۔