پشتون باشندوں کی جانب سے طالبان کی مخالفت
پشتون رہنما جوگیزئی نے کوئٹہ میں طالبان شورٰی کی موجودگی کی تردید کی ہے
غنی کاکڑ
2010-06-08
کوئٹہ – ادھر جبکہ پاکستان کی عسکریت پسندی کے خلاف جنگ جاری ہے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں آباد پشتون عوام کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ناقدین شورش پسندوں کی مبینہ مدد پر پشتون باشندوں کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ اس سے شورش کے خاتمے کی کوششیں زیادہ دشوار ہوتی جا رہی ہیں۔
پشتون قبیلے کے رہنماء اور پشتون الاسی قومی جرگے کے کنوینر نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے سینٹرل ایشیا آن لائن کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران پشتون قوم کے متعلق پائے جانے والے بعض منفی تصورات اور ان پر قابو پانے کی جدوجہد سے متعلق گفتگو کی۔
جوگیزئی نے کہا کہ یہ غلط تصورات غیر ملکی جہادی گروپوں کے باعث ہیں جو پشتون سرزمین کو اپنے مذموم مقاصد کی خاطر استعمال کر رہے ہیں اور جہاد اور مقدس جنگ کے نام پر امن کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ جوگیزئی نے کہا کہ اپنے قائدانہ کردار میں وہ ایک متحد اور پرامن پاکستان کے حامی ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ دہشت گردوں اور دیگر شرپسندوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پشتون باشندے امن اور ہم آہنگی کی حمایت کرتے ہیں تاہم وہ ایک مذموم چکر میں پھنس کر رہ گئے ہیں جس کے تانے بانے سابق سوویت یونین اور افغانستان کے درمیان جنگ سے جا ملتے ہیں۔ اس جنگ میں پشتون باشندوں نے خود کو میدان کارزار میں کھڑا محسوس کیا۔
جوگیزئی نے کہا کہ پاکستان میں عسکریت پسندی کے خلاف حکمت عملی تب ہی کامیاب ہو سکتی ہے اگر غیر ملکی عسکریت پسند گروپوں کو نشانہ بنا کر کمزور کر دیا جائے۔ لیکن اس پالیسی کی کامیابی کا دارومدار مقامی آبادی کے شرپسندوں اور دیگر امن دشمن عناصر کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور انہیں اپنی سرزمین سے بے دخل کرنے پر ہے۔
پشتونوں کی جانب سے عسکریت پسندوں کی حمایت کے ایک مستقل غلط تصور کو تقویت پہنچانے کا ایک عنصر یہ تاثر ہے کہ قبائلی عمائدین ان کی مدد کر رہے ہیں۔
تاہم، جوگیزئی نے اس دلیل کو کلی طور پر غلط دعوٰی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قبائلی آبادی نے ہمیشہ عسکریت پسندوں کو بے دخل کرنے اور امن و سلامتی کے دوبارہ قیام کا عزم ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں یہاں اس بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں سینکڑوں بے گناہ پشتون جاں بحق ہوئے ہیں جو کہ ایک انتہائی تشویشناک امر ہے۔
ذرائع ابلاغ سے ملنے والی اطلاعات کا ابھی تک یہ کہنا ہے کہ قبائلی عمائدین افغان طالبان جیسے گروپوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا الزام ہے جسے جوگیزئی معمولی نہیں سمجھتے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ حقائق کے بغیر ایسے دعوے کرنے والے صحافیوں کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ یہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ اگر قبائلی عمائدین نے عسکریت پسندوں کی اس طرح حمایت کی ہوتی تو پھر بلوچستان بھی طالبان کا گڑھ بن جاتا۔
ذرائع ابلاغ کی خبروں میں اکثر اس بات کا چرچا رہتا ہے کہ کوئٹہ میں طالبان کی فعال شورٰی موجود ہے۔
جوگیزئی نے کہا کہ یہ مسئلہ گاہے گاہے سامنے آتا رہا ہے۔ تاہم کوئی ایسی ٹھوس معلومات نہیں ہیں جن کی بنیاد پر ان دعووں کی تصدیق کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں سے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تیزی آنے کے باعث کوئٹہ میں طالبان کی موجودگی ماند پڑ رہی ہے۔
اگرچہ بعض مقامات پر دہشت گردی کی گرفت ختم ہو چکی ہے تاہم یہ اب بھی ایک مسئلہ ہے۔ جوگیزئی نے کہا کہ بلاشبہ امن مذاکرات میں پشتونوں کی شرکت کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
جوگیزئی نے خبردار کیا کہ پشتون باشندوں کو اس عمل سے باہر رکھنے کی صورت میں یہ اہم مذاکرات ناکامی سے دوچار ہو جائیں گے۔ پشتون باشندے دہشت گردی کا براہ راست نشانہ بنے ہیں اور وہ روزمرہ کی بنیاد پر اس خطرے کا سامنا کر رہے ہیں اور اس کے خلاف برسرپیکار ہیں تاہم ملک کے قائدین نے انہیں مذاکرات میں نمائندگی کے قابل نہیں سمجھا۔
انہوں نے ایسی غفلت کو منافقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ پشتونوں کے خلاف ہیئت حاکمہ کے تعصب کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے پشتونوں کو دہشت گردی اور نسل کشی کے متاثرین قرار دیا۔
انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ پشتونوں کو ایک اقلیت کی طرح امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جوگیزئی نے کہا کہ پشتون ایک ایسی سرزمین پر آباد ہیں جو پانی، معدنیات اور قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال ہے۔ لیکن انہیں وسائل تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے اور وہ ملک کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی فیصلوں سے قطعی طور پر لاعلم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں انہیں غربت، افلاس اور مصائب کی زندگی میں دھکیل دیا گیا ہے۔
جوگیزئی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو مل جل کر پشتونوں اور دونوں ملکوں کی حالت سدھارنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں بھی پشتونوں کو اپنے حقوق اور مقام کی جدوجہد کا سامنا ہے۔ ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں کو دہشت گردی کے مشترکہ خطرے کا سامنا ہے اور اسی وجہ سے ہمیں اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک باہمی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔
جوگیزئی نے کہا کہ علاوہ ازیں تعلیم، ثقافت، معیشت، زبان، معاشرہ، خاندان اور ماحول سب کی اپنی اپنی اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونوں کو اپنے مفادات کی حفاظت کرنا ہو گی۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
میرے خیال میں نواب صاحب نے جو نکتہ اٹھایا ہے وہ تمام مسائل کی بنیاد ہے۔ صرف نواب صاحب ہی وہ شخص ہیں جو عوام کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔
اگر ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرلیں تو باہر سے آ کر کوئی بھی ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ ہمیں ہم آہنگی کی خاطر متحد ہو جانا چاہیے اور اگر اس کے لئے ہمیں اپنا سر بھی کٹانا پڑے تو ہم دریغ نہیں کریں گے۔ ہمیں خان کی طرح جینے اور خان کی طرح مرنے کی ضرورت ہے۔
پشتون عوام طالبان سے مختلف ہیں۔ وہ زندگی میں کامیابیوں کو پسند کرتے ہیں اور وہ دنیا کی ایک عظیم قوم ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا جھگڑنا پسند نہیں کرتے اور نہ ہی وہ دوسروں سے لڑنا چاہتے ہیں۔ تمام پشتون اور مسلمانوں کو سلام۔
میں نواب صاحب کے اکثر نکات سے اتفاق نہیں کرتا۔ وہ خود بھی جاگیرداری نظام کا حصہ ہیں جہاں غریبوں کو بہت سی بنیادی ضروریات سے محروم رکھا جاتا ہے۔ میں پاکستان کے جنوبی علاقوں میں رہنے والے پشتون باشندوں کی حقیقی نمائندگی کرنے پر محمود خان اچکزئی صاحب کو سلام پیش کرتا ہوں۔ نواب صاحب کو ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کی ضرورت ہے جو مسائل سے دور ہو اور لوگوں کو مرضی کی زندگی گزارنے کے قابل بنائے۔ ایک رہنما صرف اسی صورت میں کامیاب ہوتا ہے اگر اس کی زیر قیادت عوام خوش ہوں۔ ہمارے بیشتر نواب اور سردار اپنی ان وسیع جاگیروں کے لئے زندگی گزار رہے ہیں جو انہوں نے اپنے آئندہ ذریعہ معاش کے لئے بنا رکھی ہیں۔ ہر کوئی دہشت گردی کے خلاف ہے اور خاص طور پر پشتون باشندے دہشت گردی کے ان واقعات کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ تاہم ہمیں دہشت گردی کی وجوہات کو بھی دیکھنا ہو گا۔ اس کا واحد ممکنہ سبب یہ ہے کہ وہ طاقتور لوگوں کے پیدا کردہ خلاء کو بھرتے ہیں۔ میں نواب صاحب کا انتہائی احترام کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ وہ زیادہ موزوں انداز میں لوگوں کی قیادت کا جذبہ جاری رکھیں گے۔
ایک پشتون کی حیثیت سے میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پشتون انتہائی خود دار، امن پسند اور مذہبی لوگ ہیں۔ علماء ان کے مذہبی جذبات سے اکثر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پشتون علاقوں کو ترقی دینے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو زیادہ مواقع ملیں اور وہ اپنی زندگی کا معیار بہتر بنائیں۔
میرے خیال میں نواب صاحب کو پختون مسائل کے حل کے لئے پاکستانی اور افغان پشتون قبائل کے نمائندوں پر مشتمل ایک لویہ جرگہ طلب کرنا چاہیے۔
طالبان پشتون معاشرے کی تخلیق نہیں ہیں بلکہ وہ پاکستانی فوج کی تخلیق ہیں۔ ازراہ کرم، سچ کو جاننے کی کوشش کریں۔ ننگیال خان
ہمارے ہاں عظیم قیادت چھپی ہوئی ہے یعنی ہم عوام کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیے اور عمل کرنا چاہیے۔ اب آگے بڑھنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ پرانے آزمودہ کار رہنما بے کار ہیں۔ میرے خیال میں نوجوان اور متحرک تازہ خون ملک اور ہم وطنوں کی خدمت کے لئے تیار ہے۔ میں امن سے محبت کرتا ہوں اور پائیدار امن کے لئے دعاگو ہوں۔ جناب محتاط رہیں
میں آپ کی ویب سائیٹ باقاعدگی سے ملاحظہ کرتا ہوں لیکن میں نہیں جانتا کہ آپ نے یہاں میرا تبصرہ کیوں شائع نہیں کیا۔ میں نے پانچ سے زیادہ مرتبہ تبصرہ لکھا لیکن اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ بہرحال میں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کا کام بہت اچھا ہے۔ نواب صاحب نے بڑے واشگاف الفاظ میں اپنا مدعا بیان کیا ہے اور میری خواہش ہے کہ وہ امن ایجنڈے میں اپنا حقیقی کردار ادا کریں۔
نواب جوگیزئی صاحب کا کہنا ہے کہ پاکستانی ہیئت حاکمہ پختون مسائل کی ذمہ دار ہے لیکن میں ان سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ وہ درست نہیں کہہ رہے۔ اس کی ذمہ داری سب رہنماؤں پر عائد ہوتی ہے اور وہ خود سہرفہرست ہیں۔
میرے خیال میں پختونوں کو دہشت گردی کے مددگاروں کا خطاب طالبان کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ وہ حقیقت میں امن کے قاتل ہیں۔ نواب صاحب کو اس لعنت کے خاتمے کے لئے کام کرنا چاہیے۔
میرے خیال میں پختونوں کو دہشت گردی کے مددگاروں کا خطاب طالبان کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ وہ حقیقت میں امن کے قاتل ہیں۔ نواب صاحب کو اس لعنت کے خاتمے کے لئے کام کرنا چاہیے۔
نواب صاحب، آپ نے درست فرمایا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پشتون تمام غیر ملکی دہشت گردوں کو اپنی سرزمین سے بے دخل کر دیں اور دنیا کو دکھائیں کہ وہ اس میں کامیاب ہوئے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہاں آپ کے تمام جوابات زبردست ہیں۔ میں اس معاملے پر توجہ دینے کے لئے سینٹرل ایشیا آن لائن کا انتہائی ممنون ہوں۔
پختون قبائل کے قابل احترام نواب صاحب، ہم اپنی قوم کے لئے آپ کی محبت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ عاطف شہزاد، کابل
نواب صاحب یہ ایک شاندار کام ہے۔ اس میں پشتونوں کے حقیقی مسئلے کی جانب نشاندہی کی گئی ہے۔
یہ میزبان اور مہمان دونوں کی اچھی کاوش ہے۔ میں آپ سے اور تمام مقررین کے نکات سے متفق ہوں۔ لیکن مجھے ایک اعتراض ہے۔ ہم سب صرف باتیں کرتے ہیں اور عمدہ لفظوں سے متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ہمیں نواب صاحب کی طرح بعض تعلیم یافتہ رہنما مل جائیں۔ میرا نواب صاحب سے ایک سوال ہے۔ اگر آپ کو مسئلے کا علم ہے تو پھر آپ کچھ ہم خیال لوگوں کو ساتھ ملا کر ایک تحریک کیوں نہیں شروع کر دیتے؟ سب سے پہلے جس چیز پر ہمیں قابو پانا ہے وہ تعلیمی اور اقتصادی مسائل ہیں۔ دوسری چیز یہ ہے کہ ہمیں نسل در نسل قیادت کے چنگل سے باہر نکلنا ہے۔ میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تمام لوگوں کو حکمرانی اور ملک کے معاملات میں شمولیت کا موقع دیا جائے۔ نوابوں، ملکوں اور خانوں کا نظام اب مزید نہیں چل سکتا۔ یہ سب سے سنجیدہ مسائل ہیں جو توجہ طلب ہیں۔ میرا تبصرہ پڑھنے کے لئے وقت نکالنے کا بہت شکریہ۔
پشتونخواہ کے نام نہاد رہنماؤں نے ہمیشہ ہی غیر پشتونوں کے مقابلے میں پشتونوں کی مخالفت کی۔ انہوں نے پشتون طالبان کی مخالفت کی اور شمالی اتحاد کی ازبک، تاجک اور ہزارہ اقوام کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے پشتون طالبان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور ہلاک کرنے کے لئے امریکی عیسائی قوتوں کا استقبال کیا۔ پشتونخواہ نے پشتون مجاہدین کے نام پر افغانیوں کو قتل کرنے کے لئے دہریوں پر مشتمل سوویت افواج کا خیر مقدم کیا۔ اگر قبل از تاریخ پشتونخواہ موجود ہوتے تو وہ پشتونوں کے خلاف ہلاکو خان اور چنگیز خان کی حمایت کرتے۔ آخر محمود خان اچکزئی کی پشتونخواہ جماعت کیوں ہمیشہ حملہ آوروں/پشتونوں کے قاتلوں (سامراج) کی حمایت کرتی ہے؟ انہوں نے 1998 میں بلوچستان میں قومی مردم شماری کا بائیکاٹ کرنے کے ذریعے پشتونوں کو ختم کر دیا اور بلوچ قوم پرستوں کا ساتھ دیا جس سے بلوچستان میں پشتون اقلیت بن کر رہ گئے۔ ہم پشتونوں کے خلاف نہیں ہیں اور ہم امریکا کے خلاف پشتونوں کی حمایت کرتے ہیں جو کہ جوگیزئی کے تبصرے کے بالکل خلاف ہے۔ پشتونخواہ کو میری نصیحت ہے کہ عمل قول سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔
محترم کاکڑ صاحب، میں نے آپ کے انٹرویو کا بغور مطالعہ کیا ہے جس میں نواب صاحب نے صاف گوئی سے اور ایک اعلٰی رہنما کی طرح صورت حال کو واضح کیا ہے۔ میں اسی کے مطابق اپنے خیالات سے آگاہ کرنا چاہوں گا۔ 1) پشتون معاشرے میں ناخواندگی کی شرح بہت زیادہ ہے، 2) وہ قبائلی تنازعات اور مسائل میں لچک کا مظاہرہ نہیں کرتے، 3) آج کل وہاں کوئی مرکزی قیادت نہیں ہے، 4)، ریاستی حکام کا اب بھی خیال ہے کہ وہ پاکستان کے وفادار نہیں، 5) مذہبی رہنما بھارت میں برطانوی راج کے آغاز سے ہی سامراجی طاقتوں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنے رہے ہیں۔ انہوں نے 1930 میں افغانستان کے بادشاہ امان اللہ کے خلاف پشتونوں کو بھڑکایا اور وہ خطے میں ان کے مفادات کے لئے اب بھی موجود ہیں۔ میرا تمام پشتونوں کو مشورہ ہے کہ وہ اس افراتفری میں انتہائی احتیاط اور غور و فکر سے اپنے مفادات کا تحفظ کریں اور ہتھیار پھینک کر کتاب اٹھالیں۔ سب کا شکریہ۔
اچھا کام ہے۔ اس طرح کی شخصیات انٹرویو کا حق رکھتی ہیں اور ان کی قوموں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے رہنما کیا سوچ رہے ہیں اور ان کا انداز کیا ہے۔
درست کہا۔ جوگیزئی صاحب، آپ واقعی اپنے قبائل کی نمائندگی کا حق رکھتے ہیں۔ آپ کی گفتگو آپ کے اعلٰی تصورات کی عکاس ہے۔
کوئی بھی پاکستانی رہنما اتحاد کے بغیر پختون مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔ میرا خیال ہے کہ پشتونوں کے مسئلے کا واحد حل لویہ جرگہ میں مضمر ہے۔
میں آپ سے متفق ہوں۔ دراصل یہ ساری گڑبڑ جنرل ضیاء الحق نے اسلام کے نام پر پھیلائی۔ انہوں نے تمام عسکریت پسند تنظیمیں قائم کیں جنہیں سرد جنگ کے دور میں استعمال کیا گیا اور اب یہ عناصر اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے پختون سرزمین کو استعمال کر رہے ہیں۔
اس تمام صورت حال کے علاوہ امن قائم کرنے اور تمام طالبان کو گرفتار کرنے کی ضرورت ہے جو کہ امن کو تباہ کر رہے ہیں۔ میں آپ کے کام کی تعریف کرتا ہوں۔
نواب صاحب کا کہنا ہے کہ پشتون امن چاہتے ہیں تو پھر وہ متحد ہو کر اس مقصد کے حصول کی جدوجہد کیوں نہیں کرتے۔ صرف خواہش سے کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔
یہ بہت سادہ سی بات ہے۔ میرا خیال ہے کہ پختون علاقوں میں گڑبڑ کی بنیادی وجہ پنجابی سوچ ہے جو کبھی بھی پختونوں کو امن سے نہیں رہنے دینا چاہتے اور وہ ان پر امن کے خلاف سرگرمیوں کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ افغانستان میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے۔ ایک کمانڈر نے دشمن کمانڈر پر طالبان کے ساتھ رابطوں کا الزام لگایا اور پھر غیر ملکی افواج کے حملوں میں وہ مارے گئے۔
نواب جوگیزئی کا امن کا تصور انتہائی خوش آئند ہے۔ اچھا کام ہے۔
نواب ایاز اعلٰی بصیرت کے حامل ایک عظیم رہنما ہیں۔
میرا خیال ہے کہ یہ غلط فہمی مغربی قوتوں اور غیر ملکی ایجنسیوں کی پھیلائی ہوئی ہے۔ مقامی لوگ طالبان ہیں نہ دہشت گرد۔ وہ تو بس اپنے علاقوں میں امن برقرار رکھنے پر کاربند ہیں جیسا کہ نواب جوگیزئی نے انتہائی واضح انداز میں کہا ہے۔ میں مکمل طور پر ان سے متفق ہوں۔ اعجاز خان، قلعہ سیف اللہ
میرا خیال ہے کہ اسلام میں کہا گیا ہے کہ جہاد ان کے خلاف فرض ہے جو اسلام کے لئے خطرہ ہوں لیکن ایسے حالات میں جہاں اسلامی حکومتیں اس طرح کے دشمنوں کی حمایت کریں وہاں ان حکومتوں کے خلاف بھی جہاد کرنا چاہیے۔ لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ جہاد کے نام پر بعض عناصر اپنے مسلمان بھائیوں کا خون بہا رہے ہیں، پھر انہیں درست کیسے کہا جا سکتا ہے۔ ان کا واحد نام دہشت گرد اور کام دہشت گردی ہے۔
میں تمام پختونوں پر یہ لازمی اور قرض قرار دوں گا کہ وہ اس عظیم قوم کے مایہ ناز سپوتوں کی اخلاقی، سیاسی اور مالی حمایت کریں۔ مجھے یہ انداز نگارش پسند آیا اور امید ہے کہ آپ کی کوششوں کے ذریعے پختون آگے قدم بڑھائیں گے۔
نواب ایاز صاحب ہمارے ایک عظیم عدم تشدد کے داعی پشتون رہنما ہیں۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ان کے رہنما اصولوں کی روشنی میں ہماری حالت بہتر ہو گی کیونکہ پشتونوں پر عالمی توجہ سے ہمیں اپنی جدوجہد میں اضافے کا سنہری موقع ملا ہے تاکہ ہم اپنے عوام کو جہالت کے غلبے سے باہر نکالیں اور کاشتکاروں میں شعور بیدار کریں۔ یہ سینٹرل ایشیا آن لائن کی ایک بہت اچھی کاوش ہے۔
پرویز مشرف پختونوں کے سب سے بڑے قاتل ہیں کیونکہ انہوں نے دنیا میں یہ پراپیگنڈا کر رکھا تھا کہ ہر پگڑی باندھنے والا شخص طالب ہے اور طالبان دہشت گرد ہیں۔ نواب جوگیزئی نے درست سمت میں اشارہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے سب سے زیادہ پشتون متاثر ہوئے ہیں۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ امن دشمن عناصر کی حمایت کریں گے؟
میں سمجھتا ہوں کہ پشتونوں کو برسر اقتدار لانے کا ایک سادہ سا طریقہ لویہ جرگہ ہے۔ روایتی پشتون یقیناً اس نصب العین کو حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ قابل احترام نواب صاحب اس کا آغاز کریں۔ (نائیک نذر، کابل)
دنیا میں ہر جگہ پختون مصائب کا شکار ہیں۔ آخر کیوں؟ اس سوال کا جواب کون دے گا؟ سوات، کراچی، جنوبی وزیرستان اور دیگر علاقوں میں سیاحوں کی جنت ایک لحاظ سے جہنم بن گئی ہے جس کے پیچھے حکومت پاکستان کی غلط پالیسیوں اور طالبان کے انتہاپسند مذہبی ایجنڈے کا ہاتھ ہے۔ ازراہ کرم خدا کے لئے پختونوں کو اپنی زندگی پرامن طریقے سے گزارنے دیں۔ نواب جوگیزئی صاحب نے درست کہا کہ یہ جنگ ہے۔ میں آپ کی کوششوں کو سراہتا ہوں۔
یہ صورت حال انتہائی پریشان کن ہے کیونکہ گزشتہ چند سالوں سے ہم نے میدان کارزار کو پاکستان منتقل ہوتے دیکھا ہے۔ میرے خیال میں دہشت گرد وہ ہیں جو قبائلی علاقوں میں بے گناہ افراد کو بم حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں کیونکہ اس طرح وہ اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ نواب صاحب کو تنقید کرنے کی بجائے اس تحریک کو خود شروع کرنا چاہیے۔ سنگین آفریدی، سوات
نواب صاحب کا نقطہ نظر اچھا ہے اور میں یہاں بتانا چاہتا ہوں کہ پختون علاقوں میں امریکی مداخلت سے عدم اعتماد اور نفرت میں اضافہ ہو گا اور انتہاپسندی کو فروغ ملے گا۔ وہ کسی بھی ملک کی ثقافت، مذہب یا عوام کی نجی زندگی کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ بندوق لے کر بے گناہ عام شہریوں کے خلاف استعمال کرنا کبھی بھی متبادل نہیں ہونا چاہیے۔
اپنے ملک سے متعلق تمام خبروں کی شراکت کے لئے شکریہ۔ بے گناہ لوگوں کی حالت پر رحم آتا ہے۔ مضامین کی زبان بہت سادہ اور عام فہم ہے جنہیں سمجھنا آسان ہے۔
میرا تعلق کوریا سے ہے اور میں پہلی بار آپ کی ویب سائیٹ ملاحظہ کر رہا ہوں۔ مجھے یہ بہت معلومات افزاء اور دلچسپ لگی۔ جہاں تک آپ کی رپورٹ سے متعلق میری رائے کا تعلق ہے تو یہ عمدہ کام ہے۔ ازراہ کرم ایسے مسائل پر بھی قلم اٹھائیں جو دنیا خاص طور پر کوریا میں حکام کے غیر قانونی استعمال سے پیدا ہو رہے ہیں جہاں بہت سی چیزیں غلط راہ پر ہیں۔
یہ بات درست ہے اور میں نواب صاحب سے متفق ہوں کیونکہ پختون امن دشمن نہیں بلکہ امن پسند لوگ ہیں تاہم سازشوں کی بناء پر وہ مختلف علاقوں میں دہشت گرد مشہور ہو گئے ہیں۔ میری پشتون بھائیوں سے التجا ہے کہ وہ امن اور ہم آہنگی کی جانب قدم بڑھائیں اور تمام شرپسندوں کو باہر نکال پھینکیں۔ اچھی تحریر ہے۔
سب سے اہم چیز قوم میں شعور بیدار کرنا ہے اور میرے خیال میں سب سے بہتر یہ چیز ہو گی اگر قبائلی رہنما غیر ملکیوں کو قبائلی علاقوں سے نکال دیں۔ محترم نواب صاحب، میں آپ کے بیان کردہ قومی مفاد کو سلام کرتا ہوں۔
مجھے یہ پسند آیا۔ اس اچھے کام کو جاری رکھیں۔
کاکڑ صاحب، آپ کے معیاری کام کے باعث میری رائے میں یہ رپورٹ انتہائی ستائش کی مستحق ہے۔ آپ کی تمام ٹیم زبردست کام کر رہی ہے۔ ازراہ کرم اس طرح کے موضوعات پر قلم اٹھاتے رہیں۔
میرے خیال میں پختونوں کو اپنے حقوق کے لئے پہلے متحد ہونا چاہیے اور پھر وہ اپنے علاقوں میں دہشت گردی کو شکست دے سکیں گے۔ عسکریت پسند ان کی پناہ گاہوں کو استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ردعمل پیدا ہو رہا ہے۔ نواب صاحب ایک عظیم رہنما ہیں۔ اگر تمام پختون باشندے ان کی ہدایات کی روشنی میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں تو مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے مقصد کو پا لیں گے۔ سینٹرل ایشیا آن لائن ایک اچھی ویب سائیٹ ہے جہاں معیاری صحافت دیکھنے کو ملتی ہے۔
یہ بات یاد رکھنا اہم ہے کہ
بہت اچھی تخلیق ہے کاکڑ صاحب۔
میں جناب جوگیزئی کی رائے سے متفق نہیں ہوں۔ آپ کا کہنا ہے کہ پشتون امن کے خواہش مند ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا طالبان کی حمایت کرنا امن ہے؟
بہت اچھا مضمون ہے کاکڑ صاحب، میرا خیال ہے کہ آپ کو امن جرگے سے متعلق نواب جوگیزئی سے بھی سوال کرنا چاہیے کہ جرگہ اس معاملے پر کیوں خاموش ہے اور متحرک کردار ادا نہیں کر رہا۔ میں آپ کی ویب سائیٹ باقاعدگی سے دیکھتا ہوں اور تمام خبریں اچھی ہوتی ہیں۔ بہترین تمناؤں کے ساتھ
اس انٹرویو میں نواب جوگیزئی نے کہا کہ پشتون ایک اقلیت کی طرح امتیازی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ سب ان رہنماؤں کی وجہ سے ہوا جو حقوق کو نظر انداز کرتے رہے ہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ ایک سربراہ کی حیثیت سے نواب صاحب آگے بڑھ کر پختون علاقوں میں استحکام اور ہم آہنگی کے لئے ایک امن جرگہ بلائیں گے۔
میں بین الاقوامی تعلقات کا ایک طالب علم ہوں۔ آپ نے بہت اچھا لکھا ہے۔ پختون علاقوں میں دہشت گردی کی بنیادی وجوہات لاعلمی ہیں۔ سب سے پہلے تو انہیں تعلیم دینے کی ضرورت ہے اور قبائلی سرداروں کو اس ضمن میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہیے۔
یہ اچھا کام ہے اور مجھے پسند آیا۔ حقائق کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔
طالبان میں غالب اکثریت پشتونوں کی ہے اور وہ جنوبی افغانستان میں تعینات 10,000 سے زائد نیٹو فوجیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے افغان اور پاکستانی پشتون دونوں سے افراد بھرتی کر رہے ہیں۔ پس منظر کے لئے یوریشیا ادراک کی محفوظ دستاویزات کا مطالعہ کریں۔ پاکستانی طالبان کے رہنماؤں نے بھی پاکستان کی ایک قبائلی ایجنسی شمالی وزیرستان میں ایک اسلامی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔
آپ نے درست لکھا نواب جوگیزئی صاحب کہ اس تمام صورت حال کی نمائندگی لفظ منافقت ہی کر سکتا ہے۔ وہ جو دہشت گردوں کی حمایت کر رہے ہیں اپنے جرائم کا بوجھ پختونوں کے کندھوں پر لادنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا پنجاب میں پنجابی طالبان نہیں ہیں، ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیوں نہیں کیا جاتا؟ کیا اس وجہ سے کہ ان کا تعلق پنجاب سے ہے اور وہ اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں؟ جناب برائے مہربانی دنیا کو اس بات سے آگاہ کریں کہ پشتون وہ نہیں ہیں جن کا ان پر الزام لگایا جا رہا ہے۔
آپ لوگ واقعی بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ تمام حکام کو اس غلط فہمی سے جان چھڑا لینی چاہیے کہ پشتون طالبان ہیں۔ میں اس مضمون کے لئے انتہائی مشکور ہوں کہ آپ نے دنیا کو حقائق کا آئینہ دکھایا۔
جی ہاں میرا خیال ہے کہ جب تک پشتونوں کو ان کے جائز حقوق نہ دے دیے جائیں، ایسی تمام کوششیں بے سود ثابت ہوں گی۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ نے اس معاملے پر بات کرنے کے لئے انتہائی موزوں رہنما کا انتخاب کیا ہے۔ مجھے یہ پسند آیا۔
جی ہاں میرا خیال ہے کہ یہ سوچ غلط ہے کیونکہ اگر طالبان پشتون ہیں تو وہ آخر اس بے دردی سے اپنے ہی عوام کی جان کیسے لے سکتے ہیں؟ بہت اچھی تحریر ہے کاکڑ صاحب۔
عزیز دوستو، www.centralasiaonline.com ویب سائیٹ کے بارے میں جان کر خوشی ہوئی۔ پشتون وسطی ایشیا کے باشندے ہیں۔ ہم سینٹرل ایشیا آن لائن کی ٹیم کی کاوشوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر آپ یہ ویب سائیٹ پشتو زبان میں بھی شروع کر دیں تو ہم آپ کے انتہائی مشکور ہوں گے ۔ ہم www.pukhtunkhwa.com کے نام سے ایک ویب سائیٹ چلا رہے ہیں۔ میں آپ کے ساتھ بعض مفید معلومات کی شراکت کرنا چاہتا ہوں۔ ہم سے رابطہ رکھیے گا۔ شکریہ۔ یاسر علی باچہ
اچھی تحریر ہے۔ میرا خیال ہے کہ نواب جوگیزئی اعلٰی بصیرت کے حامل ہیں۔ حکومت پاکستان بظاہر دہشت گردوں اور ان کی پرورش کرنے والے علاقوں کے خاتمے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔ یہ دہشت گرد پاکستان کی ہیئت حاکمہ کے مہمان ہیں جو پختون اور افغان باشندوں کو ختم کرنے کے ان کے مفادات کی بہتر انداز میں خدمت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ان کی سرزمین اور وسائل پر بھی قبضہ کرنے میں مدد دے رہے ہیں جن پر ان کی حریص نگاہیں بہت عرصے سے جمی ہوئی تھیں۔
میں آپ سے متفق ہوں۔ میرا خیال ہے کہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنا جائز ہے لیکن دنیا میں ہر جگہ ان قواعد کا اطلاق ہونا چاہیے۔ سینٹرل ایشیا آن لائن کی امن اور ہم آہنگی کے لئے خدمات قابل ستائش ہیں۔ آپ کی پوری ٹیم کے لئے بہترین دعائیں۔
شاندار کام۔ میں حقیقی صحافت پیش کرنے پر سینٹرل ایشیا آن لائن کی کوششوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ نواب صاحب نے ان باتوں کے ذریعے قوم کے لئے اپنی عظیم محبت ظاہر کی۔ شکریہ۔