بلوچستان میں اسلحہ اسمگلنگ میں اضافہ

حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ طویل اور غیر محفوظ سرحد کے باعث صورت حال خراب ہو رہی ہے

غنی کاکڑ

2010-04-09

کوئٹہ – ابتدا میں پولیس کا خیال تھا کہ انہیں اپنا مطلوبہ شخص مل گیا ہے۔

چار سال قبل، ضلع مستونگ کے جنوبی علاقے دشت میں بھاری ہتھیاروں سے لدے تین ٹرک قبضے میں لینے کے بعد پولیس اور جرائم کی تفتیش کے محکمے (سی آئی ڈی) کے حکام نے ایک مقامی کاشتکار ہزار خان کرد پر ان ہتھیاروں کی ملکیت کا الزام عائد کیا۔

بعد میں حکام نے تعین کیا کہ یہ ہتھیار اسمگلروں نے افغانستان سے اسمگل کیے تھے اور کاشتکار کا ان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

قبضے میں لیے گئے ہتھیار راکٹ لانچروں، مارٹر گولوں، سب مشین گن اور کلاشنکوف رائفلوں، آر پی جی 7 راکٹوں، 107 ملی میٹر دہانے کی طیارہ شکن توپوں، ٹینک شکن بارودی سرنگوں اور جان لیوا بارودی سرنگوں پر مشتمل تھے اور ایک اعلٰی سطحی عہدیدار کی ملکیت تھے جو بلوچستان کابینہ کے ایک رکن ہیں۔

سی آئی ڈی بلوچستان نے بالآخر اس عہدیدار پر بھاری ہتھیاروں کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کی فرد جرم عائد کی۔ کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے وزیر کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے لیکن اس کے بعد کوئی کارروائی عمل میں نہ آ سکی۔ بلوچستان کے سابق وزیر اعلٰی میر جام محمد یوسف نے مقدمہ واپس لے لیا۔

پاکستان میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس پر بعض حلقوں کو تشویش لاحق ہے۔ وزارت داخلہ کے اعلٰی ذرائع نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ حالیہ سالوں کے دوران اسلحے کے کاروبار میں 50 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

سلامتی امور کے ایک سینئر تجزیہ کار ریٹائرڈ میجر جنرل طلعت مسعود نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ صرف لائسنس رکھنے والے افراد اور فروخت کنندگان کو ہتھیار فروخت کرنے کا نظام رائج کئے بغیر حکومت کے لئے غیر قانونی اسلحے کے کاروبار کو روکنا مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ درہ آدم خیل میں تیار ہونے والے اسلحے کے لئے قدغن اور توازن کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ طلعت مسعود نے بتایا کہ مقامی طور پر خریدا گیا اسلحہ اکثر جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کے ہاتھوں میں پہنچ جاتا ہے۔

بلوچستان کرائم برانچ کے ایک تفتیشی افسر اسحاق علی چنگیزی نے کہا کہ ہم سب کے لئے یہ امر باعث تشویش ہے کہ بعض عناصر افغانستان سے بھاری اسلحہ یہاں اسمگل کر رہے ہیں کیونکہ وہاں ان ہتھیاروں تک رسائی آسان ہے۔

چنگیزی نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے اسمگلنگ کے مقبول مقامات پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے اور انہوں نے اسمگلنگ کی کئی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔ مجرم اکثر پھلوں کی پیٹیوں کے ذریعے حکومت مخالف عناصر اور شرپسندوں کو اسلحہ فراہم کرتے ہیں۔

بلوچستان پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل قاضی عبد الوحید نے بتایا کہ بلوچستان نہ صرف اسمگلنگ کی منزل بن چکا ہے بلکہ اب یہاں غیر قانونی ہتھیاروں کے انبار لگ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ بعض اسمگلر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھاری اسلحے کے ذخائر جمع کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عسکریت پسند طالبان کے دور کی طرح اب بھی افغانستان سے اسلحہ حاصل کر رہے ہیں۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اسلحے کی مانگ کافی زیادہ ہے۔ فاٹا اور دیگر علاقوں میں ہمیشہ سے اسلحے کی مارکیٹیں موجود ہیں جو مقامی خریداروں کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں اور وہ ان مارکیٹوں سے بغیر لائسنس اسلحہ حاصل کر لیتے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ سیکورٹی ایجنسیاں اسلحے کے کاروبار میں ملوث گروہوں کا قلع قمع کیوں نہیں کرتیں تو انہوں نے کہا کہ ہم سب ان کارروائیوں کو روکنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، لیکن عسکریت پسند ایک طویل اور غیر محفوظ سرحد سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

فرنٹیئر کور بلوچستان کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل سلیم نواز نے سرکاری ٹیلی ویژن چینل پی ٹی وی کو بتایا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران عسکریت پسندوں اور اسلحہ اسمگلروں کے حملوں میں ڈیڑھ سو ایف سی اہلکار جاں بحق اور ساڑھے تین سو شدید زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس مدت کے دوران ایف سی اور مقامی پولیس نے ملک دشمن سرگرمیوں کے الزامات کے حوالے سے 55 افراد کو گرفتار کیا۔

سلیم نواز نے کہا کہ ایف سی کو بین الاقوامی سرحد کے 60 کلومیٹر اندر تک ممنوعہ اشیاء کو ضبط کرنے کے لئے کسٹم کے اختیارات حاصل ہیں۔ تاہم، منشیات، اسلحہ اور گولہ بارود کے لئے کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔ ان چیزوں کو صوبے میں کہیں بھی قبضے میں لیا جا سکتا ہے۔

ایک دفاعی تجزیہ کار اور سابق سینیٹر کامران خان نے کہا کہ وسطی ایشیا میں مختلف طاقتوں کے مفادات ہیں اور بلوچستان کا جغرافیائی محل وقوع انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ طاقتیں یہاں استحکام نہیں چاہتیں۔

کامران نے کہا کہ میرے خیال میں غیر ملکی مدد کے بغیر، بلوچستان میں بھاری ہتھیار اسمگل نہیں کیے جا سکتے۔ اسلحے کا منافع بخش کاروبار بلوچستان اور دیگر صوبوں میں گروہوں کی لڑائیوں میں مدد دے رہا ہے۔

کامران خان نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اسلحے کی اسمگلنگ میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ سرحد کے مسائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے کی کوششوں میں اضافہ کرنے سے اسمگلنگ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ کامران خان نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں غیر قانونی ہتھیاروں کو قبضے میں لینے یا ہتھیاروں کی فروخت کو منظم کرنے کی نیم دلی سے کوششیں کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور حکومت میں بھی ایک ایسی ہی کوشش کی گئی تھی لیکن وہ انتہائی ناکامی سے دوچار ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں ایک بڑی رکاوٹ ہماری حکمرانوں کی جانب سے قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے اور مراعات یافتہ طبقے کے افراد کو استثناء دینے سے انکار کرنے کی نااہلی ہے۔

حکومت بلوچستان نے ہتھیاروں کی سر عام نمائش پر پابندی کو سختی سے نافذ کرنے اور مسلح محافظوں کے ہمراہ گھومنے والے افراد کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پولیس نے اس وابستگی پر عملدرآمد کی غرض سے عوامی مقامات پر اسلحے کی نمائش کی خلاف ورزی پر حال ہی میں کوئٹہ میں صوبائی وزیر سردار ثناء اللہ زہری کے دو مسلح محافظوں کو گرفتار کرلیا۔

لیکن بلوچستان پولیس کے حامد شکیل صابر اور ضلعی پولیس افسر قلعہ عبد اللہ چمن نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ پوری سرحد پر گشت کرنے کے لئے ان کے پاس ناکافی وسائل ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کا کہنا تھا کہ بہت سے اسمگلر بے پناہ اثر و رسوخ کے حامل ہیں جس کے باعث انہیں روکنا دشوار ہو جاتا ہے۔

صابر نے کہا کہ بلوچستان میں بھاری ہتھیاروں کے اسمگروں کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ انہیں مبینہ طور پر سرحد پار اور بعض قبائلی علاقوں کی سرکردہ شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہے۔ قبائلی علاقوں کا کچھ حصہ پاکستان میں اور بقیہ افغانستان میں ہے۔ صابر کا کہنا تھا کہ طویل اور زیادہ تر بغیر گشت کے سرحد افغانستان کے قندھار، زابل اور ہلمند صوبوں سے متصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کئی بار یہ شکایت کی ہے کہ اسمگلر وہاں سے اسلحہ لاتے ہیں لیکن وہ بلا خوف و خطر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 31)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • آپ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ اسے جاری رکھیں۔ میں آپ کے لئے بہترین قسمت کا متمنی ہوں کیونکہ آپ پوشیدہ سچ کو آشکار کر رہے ہیں۔

    August 23, 2010 @ 02:08:00PM
    sofia bano
  • میں ایک اسمگلر بننا چاہتا ہوں۔

    May 24, 2010 @ 04:05:00AM
    M.BALOCH
  • واحد چیز یہ ہے کہ بدقسمتی سے ہم پاکستانی عوام ایک نقطہ نظر پر متفق نہیں ہو سکتے یعنی ہمیں اپنے محبوب وطن کی بہتری کے لئے کام کرنا چاہیے تاکہ ہم غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو پکڑنے کی سخت کوششیں کریں اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں میں شرح خواندگی میں اضافے کے ذریعے شعور بیدار کریں۔ تعلیم صرف بنیادی سطح کی نہ ہو بلکہ یہ تکنیکی سطح کی بھی ہو تاکہ تعلیم حاصل کرنے والا شخص باعزت طریقے سے روزگار کما سکے اور ہر قسم کے تشدد کی سرگرمیوں سے دور رہے۔ اپنے سرحدی علاقوں کے تحفظ کے لئے ہمیں ہمسایہ ملکوں کے ساتھ باہمی مفاہمت کو فروغ دینا چاہیے۔ اس کے لئے ہمیں سرحدوں پر موزوں گشت اور قابل احترام اور علاقے کے ذمہ دار شریف شہریوں کو اسلحہ لائسنس جاری کرنے چاہئیں کیونکہ وہ بھاری ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، ان کی اپنے علاقوں میں چوکیداری/پہریداری کو بہتر بنانے کے باعث عزت کی جاتی ہے۔ اس سے غیر قانونی اور خطرناک سرگرمیوں کی روک تھام میں مدد ملتی ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں کوئی حادثہ رونما ہو سکتا ہے جو پورے علاقے کے لئے بدنامی کا باعث بن سکتا ہے۔ سب سے بڑی چیز قانونی ذمہ داریوں کے بغیر تعصب ہے۔ زحمت کے لئے معذرت خواہ۔

    April 28, 2010 @ 01:04:00AM
    Syed Shauket Ali
  • کاکڑ صاحب یہ آپ کی بہترین رپورٹ ہے۔ آپ حقائق کو اجاگر کرنے کے ذریعے واقعی بہترین کام کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت اس سلسلے میں خود مشکوک ہے۔

    April 27, 2010 @ 11:04:00AM
    Rehan Fazal
  • کاکڑ صاحب کی بہت اچھی تخلیق۔ میرے خیال میں پاکستانی حکام کو اس سنجیدہ مسئلے پر پیشگی توجہ دینی چاہیے کیونکہ اس سے ہر شعبے میں سخت مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

    April 12, 2010 @ 04:04:00PM
    \\hassan abdullah huzairi
  • بہت اچھی تحریر ہے۔ جب قانون ساز خود ہی قانون کا مذاق اڑا رہے ہیں تو پھر سب خاموش کیوں ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پولیس اور دیگر فورسز میں کچھ کالی بھیڑیں موجود ہیں اور ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔

    April 12, 2010 @ 05:04:00AM
    Tanveer awan
  • اسلحہ کی اسمگلنگ میں ملوث افراد جو ملک سے محبت کا دعوٰی کرتے ہیں، انہیں قانون کی آہنی گرفت میں آنا چاہیے۔ میرے خیال میں وہ تمام برائیوں کا راستہ ہیں۔

    April 12, 2010 @ 05:04:00AM
    Qahir shah
  • اگر زیادہ تر اسلحہ افغانستان سے آ رہا ہے تو پھر پاکستانی فورسز ان کارروائیوں کو ناکام کیوں نہیں بناتیں۔ یہ ایک مشکوک امر ہے۔

    April 12, 2010 @ 05:04:00AM
    ahmed
  • اچھا کام ہے۔ میں آپ کے کام کو انتہائی سراہتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ آپ اس قسم کا تحقیقاتی کام جاری رکھیں گے۔

    April 12, 2010 @ 05:04:00AM
    ejaz
  • آپ نے زیر زمین دنیا سے متعلق مسئلے پر لکھنے کا بہت اچھا کام کیا ہے۔ یہ عوامی مطالبہ تھا اور آپ کی اس کوشش سے عوام کو حکومت میں بیٹھے مجرموں کے اصل چہرے دیکھنے میں مدد ملے گی۔

    April 11, 2010 @ 01:04:00PM
    SAQLAIN
  • اس جرم میں ملوث زیادہ تر لوگوں کو سرحدی فورسز کی معاونت حاصل ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان کو اس پر سنجیدگی سے کارروائی کرنی چاہیے۔ اچھا مضمون ہے۔

    April 11, 2010 @ 01:04:00PM
    Ameer
  • بہت اچھا کام ہے اور مجھے پسند آیا۔ اتنا تخلیقی کام کرنے کا سہرا آپ کی پوری ٹیم کے سر ہے۔ میں تمام دیگر ذرائع ابلاغ کے کارکنوں کو بھی تجویز دیتا ہوں کہ آپ کے موضوعات کی پیروی کریں اور اپنے تمام ذاتی مقاصد کو ترک کر دیں جنہیں وہ صحافت میں ترجیح دے رہے ہیں۔

    April 11, 2010 @ 07:04:00AM
    Ikram mehmood
  • میرے خیال میں آپ کا ایک بہت متوازن اور معلومات افزاء مشاہدہ ہے۔ پاکستان اسلحہ کی فروخت کی منڈی ہے لہٰذا اسمگلنگ بڑھتی جا رہی ہے۔

    April 11, 2010 @ 07:04:00AM
    naveed
  • آپ کے تمام پرانے مضامین کی طرح یہ بھی لاجواب ہے۔ سینٹرل ایشیا آن لائن ایک اچھی ویب سائیٹ ہے جو حقیقی اور تحقیقاتی صحافت کو فروغ دے رہی ہے۔ میں آپ کے لئے بہترین تمناؤں کا متمنی ہوں۔ اسے خوب سے خوب تر بنانے کا کام جاری رکھیں۔

    April 11, 2010 @ 04:04:00AM
    Naeem ahmed
  • آپ بالکل درست کہہ رہے ہیں جناب۔ مجھے یقین ہے کہ مجرموں کو اسلحہ فراہم کرنے والے افراد حکام کی نظروں میں ہیں لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ قانون پر عملدرآمد کیوں نہیں کر رہے۔

    April 11, 2010 @ 04:04:00AM
    mirwise
  • اسلحہ اسمگل کرنے والے افراد امن کے دشمن ہیں۔ انہیں کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے۔

    April 11, 2010 @ 03:04:00AM
    Imran
  • سرحدی سیکورٹی فورسز کے ملوث ہونے کے بغیر یہاں اسلحہ اسمگل نہیں کیا جا سکتا۔ اعلٰی سطح پر کچھ مشکوک صورت حال ہے۔

    April 11, 2010 @ 02:04:00AM
    Sadia Jalallzai
  • آپ کا کہنا درست ہے لیکن اب پاکستان عالمی ہتھیاروں کی صنعت میں ایک اہم کھلاڑی بن چکا ہے۔ ہتھیاروں کی صنعت ایک عالمگیر صنعت اور کاروبار ہے جس میں ہتھیار، فوجی ٹیکنالوجی اور سامان تیار کر کے دنیا بھر میں فروخت کیا جاتا ہے۔

    April 10, 2010 @ 02:04:00PM
    Mudassir
  • اچھی رپورٹ ہے، کاکڑ صاحب۔

    April 10, 2010 @ 02:04:00PM
    Ameen
  • کاکڑ صاحب، آپ کا مضمون اچھا ہے۔ پاکستانی حکومت کو درہ آدم خیل کے قبائلیوں کو بھاری ہتھیار تیار کرنے سے روکنا ہو گا تاکہ طالبان اور القاعدہ ان ہتھیاروں تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔

    April 10, 2010 @ 02:04:00PM
    Simon petter
  • اچھی رپورٹ ہے۔

    April 10, 2010 @ 01:04:00PM
    samya
  • اچھی رپورٹ ہے۔ میرے خیال میں ہمیں پاکستان میں امن کے لئے دعا کرنی چاہیے۔ میرا نہیں خیال کہ اللہ نے انسان کو صرف جنگ کی تکالیف سہنے کے لئے پیدا کیا ہے۔ ہر ملک امن کا مستحق ہے۔ کاش ان اسمگروں کے دل میں امن اور خدا کی ذات کا جذبہ پیدا ہو جائے۔ افریقہ سے آپ کا دوست

    April 10, 2010 @ 01:04:00PM
    samya lionelle
  • میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ اس طرح کا معلوماتی اور تحقیقاتی مضمون لکھ کر آپ نے ایک بہت اچھا کام کیا ہے۔ حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر اسے روکنا چاہیے کیونکہ یہ جرائم کے راستے ہیں۔

    April 10, 2010 @ 10:04:00AM
    umar
  • اچھی رپورٹ ہے کاکڑ صاحب۔

    April 10, 2010 @ 10:04:00AM
    JanasrKhan
  • لگتا ہے کہ آپ سب پاکستان کے دشمن ہیں۔ اسی لئے آپ پاکستان کے خلاف لکھتے ہیں۔

    April 10, 2010 @ 10:04:00AM
    Fazal
  • انتہائی اہم تحقیقاتی اور معلوماتی مضمون۔ مجھے یہ پسند آیا۔

    April 10, 2010 @ 10:04:00AM
    Ahmed
  • اسلحے کی اسمگلنگ ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے اور میرا خیال ہے کہ حکومت نے اس پر مجرمانہ خاموشی طاری کر رکھی ہے۔

    April 10, 2010 @ 10:04:00AM
    Anwer
  • اسلحہ زیر زمین عناصر لا رہے ہیں اور یہ حیرت کی بات ہے کہ کابینہ کا ایک وزیر اس میں ملوث ہے۔ یقین نہیں آتا۔

    April 10, 2010 @ 10:04:00AM
    Dilshad
  • میرا خیال ہے کہ حکام ملوث ہیں کیونکہ اگر وہ ملوث نہ ہوتے تو ملک میں اسلحہ کیسے لایا جا سکتا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کیا کر رہے ہیں۔ یہ آنکھیں کھول دینے والی رپورٹ ہے جس میں درست تجزیہ کیا گیا ہے۔

    April 10, 2010 @ 07:04:00AM
    mutlib memon
  • حکومت کو بالائی علاقوں سے اسلحے کی آمد کو روکنا ہو گا۔

    April 10, 2010 @ 07:04:00AM
    Nadir Ali
  • مجھے یہ پسند آیا۔ اچھا مضمون ہے۔ میں آپ کے تحقیقاتی کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔

    April 10, 2010 @ 07:04:00AM
    Sajjid
  • آپ کا کہنا درست ہے کہ اسلحے کی غیر قانونی تجارت سرکاری حکام کے ملوث ہونے کے بغیر ممکن نہیں۔

    April 10, 2010 @ 07:04:00AM
    farooq khan