دہشت گردی اور خودکش بم حملوں کو حرام قرار دینے والا فتوٰی
اس فتوے کو اسلام پسندوں کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے خلاف اب تک کی انتہائی جامع تنقید قرار دیا گیا ہے
تجزیہ: راجہ سعید
2010-03-10
لندن - دو مارچ کو لندن میں مسلم مفکر اور منہاج القرآن انٹرنیشنل کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے 600 صفحات پر مشتمل ایک طویل فتوٰی جاری کیا جس میں دہشت گردی اور خودکش بم حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔
پاکستانی نژاد مذہبی عالم ڈاکٹر طاہر القادری کا القاعدہ کی سرگرمیوں سے متعلق مؤقف کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ تاہم، ان کے جاری کردہ اس فتوے نے انہیں متعدد اسلامی علماء سے ممتاز کر دیا ہے جو ماضی میں القاعدہ کی سرگرمیوں کی مذمت تو کرتے رہے ہیں لیکن انہوں نے خاص طور پر ان دہشت گردوں کو، اپنے مذہبی نقطہ نظر سے، سزا دینے کے متعلق بات نہیں کی جو بم دھماکوں اور لوگوں کو قتل کرنے کے واقعات میں ملوث ہیں اور جن کا نشانہ بننے والوں میں معصوم شہری بھی شامل ہیں، چاہے ان کے بقول وہ ان حملوں کے مرکزی اہداف نہ بھی ہوں۔
اپنے طویل فتوے میں شیخ قادری نے یہ دلیل پیش کی کہ خودکش حملے کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہو گی اور اس طرح انہوں نے اس امر کی نفی کی کہ خودکش بمباروں کو جنت اور حوروں سے نوازا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات میں معصوم افراد کی جانیں لینے والے حملوں کو قطعی طور پر مسترد کیا گیا ہے اور انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اسلام میں ایک بھی معصوم شخص کے قتل کی ممانعت ہے، چاہے اس حملے میں اس کے ساتھ درجنوں شرپسند بھی کیوں نہ ہلاک ہو تے ہوں۔
قادری کے فتوے میں دور جدید اور قدیم سے تعلق رکھنے والے بہت سے اہم علماء کی آراء شامل ہیں جو القاعدہ اور طالبان کی جانب سے جائز تصور کی جانے والی سرگرمیوں کو مسترد کرتے ہیں۔ ڈاکٹر قادری نے القاعدہ اور طالبان کو موجودہ عہد کے خارجیوں کا نام دیا ہے۔
پروفیسر طاہر القادری 1951 میں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے مقالے کا عنوان "اسلامی تعزیراتی نظام اور اس کا فلسفہ" تھا۔ انہوں نے 1974 میں اسلامی سائنس کے ایک لیکچرر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں اور 1976 سے 1978 تک پاکستان میں قانون کے پیشے سے وابستہ رہے۔ وہ وفاقی شرعی عدالت اور پاکستان کی ہائی کورٹ میں قانونی مشیر اور پاکستان کی وزارت تعلیم کی قومی کمیٹی برائے اسلامی نصاب کے رکن رہے۔
پاکستانی عالم نے الشرق الاوسط کے پانچ مارچ کے شمارے میں ایک طویل انٹرویو میں اپنا مؤقف پیش کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اسلام نے جنگ کے دوران بھی خواتین، بچوں، بوڑھوں اور راہبوں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے۔ اسلام نے دشمن کے جانوروں کو ہلاک کرنے، درختوں کو جلانے اور املاک کو تباہ کرنے کے علاوہ کاشت کاروں یا تاجروں اور سفارت کاروں اور سفراء کے قتل کی بھی ممانعت کی ہے۔
ڈاکٹر قادری نے کہا کہ ہماری آج کی افسوسناک حالت پر ہی نظر ڈالیں۔ لوگوں کو مسجدوں کے اندر اور سڑکوں پر ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ سوئے ہوئے لوگوں کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ دہشت گرد بازاروں میں دھماکے کرتے ہیں جہاں خواتین، بچے اور بوڑھے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اس کا ہرگز کوئی جواز نہیں پیش کیا جا سکتا۔ القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے یہ دہشت گرد پاکستان، سعودی عرب، افغانستان، عراق، نیویارک، لندن اور میڈرڈ میں معصوم افراد کو اندھا دھند ہلاک کر کے اسلام کے تصور کو داغدار کر رہے ہیں۔
انہوں نے القاعدہ کے رہنماؤں اسامہ بن لادن اور ڈاکٹر ایمن الزواہری پر موجودہ عہد کے خارجی ہونے کا الزام لگایا۔
بلاشبہ، قادری اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ وہ القاعدہ کے تمام اراکین کو اپنے نظریات تبدیل کرنے پر قائل نہیں کر سکتے۔ قادری کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے اراکین کے ذہنی خیالات تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔ تاہم، ان کی زیادہ تر توجہ اسلام پسندوں کی نئی نسل پر ہے جو القاعدہ کے نظریے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی لئے وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان ان کے نئے فتوے کا مطالعہ کر کے آیات قرآنی، احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کی روایات اور علماء کی آراء کو سمجھیں جس کے بعد وہ القاعدہ اور طالبان اور ان کی حمایت کرنے والے تمام گروپوں کے نظریات کے باطل ہونے پر قائل ہو جائیں گے۔
قلیئم نامی تنظیم ماضی میں انتہاپسند گروپوں سے تعلق رکھنے والے اسلام پسند اراکین پر مشتمل ہے جو اب انتہاپسند نظریات کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہیں۔ تنظیم نے شیخ قادری کے فتوے کو اسلام پسندوں کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے خلاف اب تک کی انتہائی جامع تنقید قرار دیا ہے۔
قلیئم نے اس حقیقت کی جانب اشارہ کیا کہ قادری کی تنظیم منہاج القرآن کے جنوبی ایشیا اور برطانیہ میں ہزاروں پیروکار ہیں اور ان کا مؤقف دیگر علماء کے لئے ایک مثال ہے تاکہ وہ بھی اسی انداز میں دہشت گردی کی حمایت کرنے والے خیالات کی مذمت کریں۔
لندن میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران قلیئم کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ فتوٰی اسلامی دہشت گردی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم کی علامت بن سکتا ہے۔ وہابی نظریے اور اسلامی نظریہ سازوں سے متاثر ہونے والے مذہبی علماء کے فتوے حال ہی میں عام شہریوں کے خلاف دہشت گردی کے مورثین ثابت ہوئے ہیں۔ القاعدہ کی طرح کے دہشت گرد گروپ اپنے مفادات سے مطابقت رکھنے والی قرآنی آیات کی تشریحات کے مطابق بڑے پیمانے پر لوگوں کو ہلاک کرنے کا جواز پیش کرتے رہتے ہیں۔ لیکن فقہ (اسلامی فلسفہ قانون) میں کی جانے والی اختراعات کے جھوٹ کا پردہ چاک کرنے والے علامہ قادری کے فتوے جیسے فتاوٰی اسلامی دہشت گردی کا نام و نشان تک مٹا دیں گے۔
قادری کے فتوے اور قلیئم کے خیالات سے قطع نظر، اسلامی تحاریک کے اندر بھی القاعدہ اور طالبان پر تنقید کرنے اور ان کے نظریات کی مخالفت کرنے کا واضح رجحان نظر آ رہا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں بہت سے اسلام پسند علماء اور اسلامی تحریکوں کے رہنماؤں کے نظر ثانی شدہ افکار میں عام شہریوں کے اندھا دھند قتل عام اور ان پر بم حملوں کی متفقہ مذمت کی گئی ہے، چاہے ان کارروائیوں میں بنیادی اہداف فوجی ہی کیوں نہ ہوں جنہیں القاعدہ اور طالبان کافر یا مرتد قرار دیتے ہیں۔
افکار پر نظر ثانی کی ایک نمایاں مثال مصر کی اسلامی جہاد تنظیم کے سابق رہنما ڈاکٹر فضل ("مصر اور دنیا میں جہادی سرگرمیوں کے لئے رہنما") اور الجمہوریہ الاسلامیہ المقاتلہ بہ لیبیا کی نظر ثانی (بعنوان "جہاد، مواخذے اور ادراک عامہ کو سمجھنے میں اصلاحی تعلیمات") ہیں۔ ان دو نظر ثانیوں سے قبل، مصر کے اسلامی گروپ کی نظر ثانیوں کی اشاعت ہوئی اور ان میں مصری حکومت کے خلاف اپنے لائحہ عمل سمیت سخت گیر مؤقف رکھنے والے اسلامی گروپوں کی مرتد حکومتوں کے خلاف سرگرمیوں پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔
ان نظر ثانیوں کے علاوہ، ممتاز علماء اور مذہبی قائدین نے ایسے مؤقف اپنا لیے ہیں جن میں ملتے جلتے نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ ان میں مراکش کے ایک ممتاز سلفی جہاد پسند عالم محمد الفیضی بھی شامل ہیں جو 2003 سے جیل میں قید ہیں۔ اپنے مضمون میں فیضی نے مسلمانوں کو یورپی ملکوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے سے قطعی طور پر منع کیا ہے۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
jaha tak hamlay ki bat hay to taher ki bat sahee hay.aman hona chaya. mager islam pasandoo ko kafeero kay muqabaly per badnam karney ke bat durust nahi
choro yar
میں اس حساس مسئلے پر ڈاکٹر قادری کے فتوے کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ دیگر مذہبی علماء بھی ان کی پیروی کریں گے۔
میرا خیال ہے کہ میں نے دہشت گردی کے بارے میں متذکرہ فتوٰی پورا پڑھا ہے اور اس میں اسلام کی حقیقت کی درست تصویر پیش کی گئی ہے۔ میرے خیال میں ہر شخص پر اس کا بغور مطالعہ لازم ہے اور اس کے بعد اس میں تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔ لیکن جہاں تک میرے مشاہدے کا تعلق ہے تو یہ اسلام کو جدید عالمی تقاضوں کے حوالے سے سمجھنے کے لئے اچھا ہے۔