کرزئی مطالبات کی طویل فہرست کے ساتھ اسلام آباد کا دورہ کریں گے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان صدر گرفتار ہونے والے طالبان کمانڈروں کی حوالگی کی کوشش کریں گے
حسن خان
2010-03-09
اسلام آباد - افغان صدر حامد کرزئی 10 مارچ کو اپنے طے شدہ دورے پر پاکستان آئیں گے اور ان کے ذہن میں اس دورے کے کچھ بڑے مقاصد ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے سابقہ خارجہ سیکرٹری ہمایوں خان نے کہا کہ لندن کانفرنس میں طالبان کی جانب صلح کا ہاتھ بڑھانے کے اعلان کے بعد بلاشبہ یہ افغان صدر کا پاکستان کا انتہائی اہم دورہ ہے۔ وہ ایک بڑے ایجنڈے کے ساتھ اسلام آباد آ رہے ہیں۔
ایک سینئر صحافی اور افغان امور کے ماہر اجمل خٹک نے بتایا کہ اس بار صدر کرزئی کا انداز پاکستان کے ساتھ گزشتہ ملاقاتوں کی نسبت کم جارحانہ ہو گا۔
خٹک نے کہا کہ ماضی کے برعکس صدر کرزئی پاکستان کی بات زیادہ غور سے سنیں گے کیونکہ اس بار پاکستان کے پاس شکایات کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔
ماضی میں افغانستان پاکستان پر اپنی قبائلی پٹی میں موجود طالبان کے تربیتی مراکز اور خفیہ ٹھکانوں کو ختم کرنے پر زور دیتا رہا ہے۔
اجمل خٹک نے کہا کہ جنوبی وزیرستان اور باجوڑ میں حال ہی میں ہونے والی کامیاب کارروائیوں میں عسکریت پسندوں کے خفیہ ٹھکانوں اور تربیتی سہولیات کو ختم کر دیا گیا۔
تجزیہ کاروں کی پیش گوئی ہے کہ قبائلی علاقوں میں حکومت کی عملداری قائم کرنے کے بعد حوصلہ مند پاکستان صدر کرزئی کے ساتھ کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر بات کرے گا۔
امکان ہے کہ پاکستانی رہنما جنوبی افغانستان میں اتحادی فوج کی کارروائی کے نتیجے میں فرار ہو کر پاکستان میں داخل ہونے والے افغان طالبان سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کریں گے۔
افغانستان کے صوبہ ہلمند کے ضلع مرجا میں ہونے والی کارروائی کے بعد اتحادی افواج طالبان کے مضبوط گڑھ اور طالبان کے اعلٰی ترین رہنما ملا محمد عمر کی طاقت کے مرکز قندھار پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔
ملا عمر کے بعض قریبی ساتھی پاکستانی فوج کی تحویل میں ہیں۔ پاکستانی فوج نے حال ہی میں طالبان کے تقریباً سات اعلٰی رہنماؤں اور ملا عمر کے معتمدین خاص کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کو کراچی سے گرفتار کیا گیا۔
اجمل خٹک کے بقول، صدر کرزئی یقیناً گرفتار ہونے والے طالبان کمانڈروں کی حوالگی کا مطالبہ کریں گے جن میں خاص طور پر ملا عبد الغنی برادر، ملا کبیر، ملا سلام اور عامر محمد شامل ہیں۔
پاکستان نے ان قیدیوں کو ان کے آبائی ملک منتقل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور مبینہ طور پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس حوالے سے مذاکرات جاری ہیں کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان حوالگی کا کوئی معاہدہ موجود نہیں۔
صدر کرزئی کے دورے سے قبل پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ صدر حامد کرزئی کے دورے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور کثیر الجہتی تعاون میں توسیع اور اضافہ ہو گا۔
ہمایوں نے یہ پیش گوئی بھی کی کہ صدر کرزئی امن پر مذاکرات کے لئے آمادہ اعتدال پسند طالبان رہنماؤں کی جانب صلح کا ہاتھ بڑھانے کے لئے اسلام آباد کا تعاون بھی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملا عمر کے اعلٰی ساتھیوں کی حالیہ گرفتاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے خیال میں ملا عمر نئی صورت حال میں بہترین انتخاب نہیں ہیں۔
لندن کانفرنس میں صدر کرزئی کی جانب سے طالبان کے ساتھ مصالحت کی امید ظاہر کرنے اور اس ضمن میں پاکستان کی مدد حاصل کرنے پر ملا عمر اور ان کے قریبی حلقے کے ساتھیوں نے انتہائی برہمی کا اظہار کیا۔
افغانستان اس مقصد کے حصول کے لئے کام کر رہا ہے۔ ادھر، پاکستان بھی اپنے ہمسایہ ملک اور حریف بھارت کے افغانستان میں کردار پر تبادلہ خیال کی کوشش کر سکتا ہے۔ لیکن ہمایوں کا کہنا تھا کہ کرزئی یہ بات سننا بھی گوارا نہیں کریں گے کیونکہ وہ پاکستان کو فائدہ پہنچانے کی خاطر افغانستان میں بھارت کا داخلہ روکنا نہیں چاہتے۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
اس مضمون میں کرزئی کے دورہ اسلام آباد کا مقصد بہت اچھی طرح بیان کیا گیا ہے لیکن اس میں پاکستانی جنرل کیانی کی چند روز قبل کابل میں صدر کرزئی سے ملاقات کا ذکر نہیں جس میں انہوں نے عسکریت پسندوں کو منتشر کرنے میں مدد دینے کو کہا تھا اور افغان سرزمین پر بھارتی موجودگی پر تشویش ظاہر کی تھی۔ اپنے حالیہ دورے میں کرزئی کو پاکستانی مقتدر قوتوں اور سیاسی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات پر بھی جواب دینا پڑے گا۔ اگر آپ اس مضمون میں کچھ عسکری زاویہ بھی شامل کرتے تو اس سے مقصد بہتر واضح ہو جاتا۔ آداب