دوسری شادی: خواتین کے لئے سنگین مسئلہ لیکن پاکستانی قانون سازوں کے لئے مذاق
قانون سازوں کے مابین اس مسئلے پر دیوانی اور شرعی قوانین میں اختلاف رائے
حسن خان
2010-03-08
اسلام آباد -- مرد کی دوسری شادی خواتین کے لئے ایک سنگین مسئلہ بن جاتی ہے لیکن پاکستان کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے قانون سازوں کے لئے یہ معاملہ تفریح کا باعث بن چکا ہے۔
پاکستانی قوانین کے تحت کسی مرد کو دوسری شادی کرنے سے قبل اپنی پہلی بیوی سے واضح طور پر اجازت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستانی اور شرعی قوانین میں اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرنے کے لئے دوسری شادی پر کڑی پابندیاں لگائی گئی ہیں، تاہم خاص طور پر دیہی علاقوں میں ایک سے زائد شادیاں کرنے کا رواج اب بھی عام ہے۔
پاکستانی خواتین پر اس وقت حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا جب پنجاب اسمبلی کی ایک خاتون قانون ساز ثمینہ خاور حیات نے مردوں کو پہلی بیوی سے اجازت حاصل کیے بغیر دوسری شادی کرنے سے روکنے والے قوانین میں ترمیم لانے کے معاملے پر بڑے جوش و خروش سے اپنا مؤقف پیش کیا۔
ثمینہ حیات نے پنجاب اسمبلی کے اراکین کو بتایا کہ ہمیں اس سلسلے میں موجودہ قوانین میں ترمیم لانے کی ضرورت ہے اور مردوں کو پہلی بیوی سے اجازت حاصل کیے بغیر دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
صوبائی اسمبلی میں دوسری شادی کا معاملہ فروری کے آخری ہفتے میں سرکاری محکموں میں غیر شادی شدہ خواتین کی بھرتی کے حوالے سے ایک تحریک پر بحث کے دوران اٹھایا گیا تھا۔
ثمینہ نے لاہور سے سینٹرل ایشیا آن لائن سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے الفاظ پر قائم ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں اب اس معاملے پر مزید کوئی بات نہیں کروں گی اور پھر فون بند کر دیا۔
دوسری شادی کا مسئلہ قومی پارلیمان میں موجود قانون سازوں کے لئے بھی تفریح طبع کا باعث بنا ہوا ہے۔
صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک زمیندار اور حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما نبیل گبول نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ اسمبلی میں بیٹھے 80 فیصد سے زائد قانون سازوں نے دو یا دو سے زائد شادیاں کر رکھی ہیں۔
گبول کے غیر مصدقہ اعداد و شمار سے اسمبلی ہال قہقہوں سے گونج اٹھا لیکن ایک سے زائد شادیاں کرنے والے کئی اراکین پارلیمان کو خفت کا سامنا کرنا پڑا۔
پارلیمانی گیلریوں میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے نبیل گبول نے کہا کہ وہ صرف مذاق کر رہے تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ بیشتر اراکین پارلیمان نے خفیہ یا اعلانیہ دوسری شادی کر رکھی ہے۔
گبول دوسری شادی کے حوالے سے جاری بحث میں حصہ لے رہے تھے جو ان کی سیاسی جماعت کی ساتھی اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے شروع کی تھی۔
شیری رحمان نے اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر کہا کہ یہ معزز ایوان قانون کی خلاف ورزی میں دوسری شادی کی حمایت کرنے پر رکن پنجاب اسمبلی ثمینہ خاور حیات سے استعفٰی طلب کرے گا۔
تاہم، دوسری شادی کا مسئلہ ایوان میں صدائے احتجاج بلند کرنے والے قدامت پسند علماء کے لئے ہنسی مذاق کا معاملہ نہیں تھا۔
رکن اسمبلی مولانا عبد المالک نے ایوان کو بتایا کہ اسلام میں مرد کو چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے اور کسی طرح کا قانون بھی اس چیز سے روک نہیں سکتا جس کی ہمیں قرآن میں واضح طور پر اجازت دی گئی ہے۔
دوسری شادی کی حمایت میں بولنے پر ثمینہ حیات پر مستعفی ہونے کے لئے دباؤ پہلے ہی کافی بڑھ رہا تھا اور قومی اسمبلی میں شیری رحمان کی جانب سے اس مسئلے کو بر وقت اٹھانے سے ثمینہ کا مستقبل لازمی تاریک ہو سکتا تھا لیکن نبیل گبول کی جانب سے کھری کھری باتیں کرنے سے ان کے خلاف یہ مہم کمزور پڑ گئی۔
رکن قومی اسمبلی بشرٰی گوہر نے قومی اسمبلی میں نبیل گبول اور پنجاب اسمبلی میں ثمینہ حیات کی جانب سے اس معاملے پر ظاہر کیے گئے خیالات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی اراکین نے ایک انتہائی سنجیدہ مسئلے کو تماشا بنا دیا ہے۔
بشرٰی نے کہا کہ مرد کی دوسری شادی خواتین اور بچوں کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔
بشرٰی نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے اس چیز کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے اراکین پارلیمان کی خواتین کے مسائل کی جانب جاگیردارانہ ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے۔
میدان سیاست میں داخلے اور عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے سے قبل بشرٰی گوہر خواتین کے حقوق کی ایک سرگرم کارکن تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ثمینہ حیات غالباً اپنے شوہر سے تنگ پڑ چکی ہیں اور اسی لئے انہوں نے انہیں سر عام دو سے زائد شادیاں کرنے کا مشورہ دیا۔
لاہور میں پنجاب اسمبلی کی عمارت کے باہر ٹی وی کے ایک صحافی سے باتیں کرتے ہوئے ثمینہ نے زور دار آواز میں کہا تھا کہ خاور حیات صاحب، آپ دو، تین یا چار شادیاں بھی کر سکتے ہیں، مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
بشرٰی نے کہا کہ عام اور شرعی قوانین دونوں میں مرد کو دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں اور ان کا کہنا تھا کہ اسلام کی اکثر غلط تشریح کی جاتی ہے۔
بشرٰی نے کہا کہ اگر میں شریعت کی تشریح کروں تو اس میں دوسری شادی کی کوئی اجازت نہیں لیکن اگر یہی کام کوئی مولوی کرے تو پھر چار بیویوں کی اجازت نکل آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں پہلی بیوی سے اجازت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
ایک گھریلو خاتون نجمہ جہاں کا کہنا تھا کہ کوئی سمجھدار خاتون ان قوانین کو منسوخ کرنے کی حمایت نہیں کرے گی جن میں پہلی بیوی کی مرضی کے بغیر مرد کو دوسری شادی کرنے سے روکا گیا ہو۔
نجمہ نے کہا کہ کوئی عورت سوتن (مقامی زبان میں شوہر کی دوسری بیوی کے لئے استعمال ہونے والا لفظ) کو قبول کرنے پر موت کو ترجیح دے گی۔ انہوں نے فوراً کہا کہ جب کوئی اور آپ کے شوہر کے ساتھ شریک ہوتا ہے تو آپ کی زندگی جہنم بن جاتی ہے۔












رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
ایک سے زائد شادیاں جانوروں کا کام ہے۔ انسانی اور اسلامی اقدار کی آڑ لے کر دوسری شادی کی حمایت کرنے والے مردوں سے میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ کیا آپ کسی خاتون کو کئی مردوں سے شادی کرنے کی اجازت دیں گے؟ کیا آپ مجھے اپنی بیوی سے شادی کرنے دیں گے؟ احمق نہ بنیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے رفقاء آج سے چودہ سو سال پہلے ایسے جزیرہ نما سعودی عرب میں رہتے تھے جہاں تمدن نے اتنی ترقی نہیں کی تھی۔ اس کا آپ لوگوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔
سورۂ نساء میں اسلام میں مردوں کو ایک سے زائد شادیوں کی اجازت اس شرط پر دی گئی ہے اگر وہ بیویوں میں انصاف قائم رکھ سکیں۔ یہ ایک مذہبی معاملہ ہے اور اگر قانون میں بھی یہی اجازت مل جائے تو یہ ایک قانونی معاملہ بن جائے گا۔ تاہم اس قانون کے نفاذ کے دوران کوئی بھی اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ کوئی مرد اپنی بیویوں کے ساتھ انصاف پر مبنی سلوک روا رکھنے کی شرط پوری کر سکتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر، چوزے نکلنے سے پہلے انہیں گننے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں اس کے نتائج پر صرف اس وقت غور کرنے کا موقع ملے گا جب پہلے ہی پانی سر سے گزر چکا ہوگا۔ تاہم اس طرح کے قانون سے معاشرے میں خواتین پر نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ چاہے کسی خاتون کو ازدواجی زندگی میں پہلی بیوی کے طور پر اس کا کبھی تجربہ نہ ہوا ہو لیکن وہ ہمیشہ اس دباؤ کا شکار رہے گی کہ کب اس کے شوہر کے دل میں دوسری شادی کی خواہش جاگ اٹھے یعنی وہ اس پر غور کرے اور دوسری شادی کی اجازت سے فائدہ اٹھا لے۔ اس عورت کا کم از کم ردعمل یہ ہو سکتا ہے کہ وہ خاندان کی معاشی بہبود کے لئے اس حالت پر سمجھوتہ نہ کرے۔ معاشرے کی تمام خواتین کے لئے ذہنی سکون کا خاتمہ ایک صدمے کی مانند ہے اور اس پر معروضی اور انسانی ہمدردی کے انداز میں تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ بزرگ و برتر میری اور آپ کی رہنمائی فرمائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ میں اس پورے معاملے پر انصاف کے تناظر میں بات کرنا چاہوں گا کیونکہ ہر وہ چیز جس میں انصاف نہیں اسلام کا حصہ نہیں ہو سکتی اور اسلام کے ناقدین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔ ایک سے زائد شادیوں کے معاملے پر نہ صرف اسلام کے ناقدین بلکہ اس کے پیروکار بھی غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اسلام کی تعلیمات اور انصاف کے حقیقی روحانی تناظر میں یہ چیز اختیاری یا واجب کی بجائے لازمی ہے۔ یہ رضائے الٰہی سے ممکن ہے، اگر کوئی اپنے اعمال کے باعث وہ مقام حاصل کر لیتا ہے جو اللہ بہتر سمجھتا ہے اور اپنے اخلاقی کردار سے حقیقی معنوں میں مومن بن جاتا ہے تو اللہ اسے حوا کی ایک سے زائد بیٹیوں کی بیوی کے طور پر کفالت کا فریضہ سونپ دیتے ہیں۔ مذکورہ بالا حیثیت کی بناء پر ایک سے زائد شادیاں ہمیشہ کامیاب رہتی ہیں اور خواتین اپنے شوہر سے دل و جان سے محبت کرتی ہیں کیونکہ یہ رضائے الٰہی سے ممکن ہے اور اس میں مرد کی ہم بستری کی ہوس شامل نہیں۔ ایک سے زائد شادیاں کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں بلکہ مقدس فریضہ ہے۔ مسلمانوں کو اس بات پر فخر کرنا چاہیے کہ اللہ نے اس موضوع پر قرآن و سنت میں واضح ہدایات دے رکھی ہیں اور ہمیں اپنے بیانات سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اسلام میں اس کی اجازت ہے اور اس پر فخریہ عمل کرنا چاہیے۔ ایک مطالعے سے پتا چلا ہے کہ امریکا میں ایک اوسط مرد اپنی پوری زندگی میں شادی کے علاوہ آٹھ خواتین کے ساتھ ہم بستری کرتا ہے۔ یہ اللہ کی برکت ہے کہ ایک مسلمان حوا کی بیٹی کے ساتھ بیوی کی حیثیت سے ہم بستری کرتا ہے اور اس میں صرف جنسی خواہش کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ اسلام میں خواتین کو دیے جانے والے احترام کا یہ حقیقی مظہر ہے۔ اللہ میری ان بہنوں کو بھی ہدایت دے جو اسے ایک معمہ سمجھتی ہیں۔ اور وہ مرد جنہیں اللہ ایک سے زائد شادیوں کی توفیق دیتا ہے انہیں بھی اس کے ساتھ اس طرح انصاف کرنا چاہیے جس طرح کہ نظام الٰہی کا تقاضا ہے۔ آمین!
اگر آپ مسلمان ہیں تو آپ کو سچے جذبے سے اسلام کے احکامات پر عمل کرنا پڑے گا ورنہ اسلام کا ٹھپہ لگانے کا کوئی فائدہ نہیں۔
وسیم
ہم مسلمانوں کو زندگی کے ہر شعبے میں قرآن اور سنت پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ کوئی بھی قرآن کریم میں دیے گئے احکامات میں تحریف کی جرات نہیں کر سکتا۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کے بیشتر قوانین غیر اسلامی ہیں۔ یہ انتہائی حیرت کی بات ہے کہ پاکستان کے لوگ خود کو مسلمان کہتے ہیں جبکہ اسلامی قوانین پر مکمل طور سے عمل نہیں کیا جاتا۔ ہمارے دلوں میں خشیت الہٰی نہیں اور اسی چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ بلاشبہ، اسلام میں مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے بشرطیکہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ یکساں سلوک کر سکے۔ دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی اجازت کی کوئی ضرورت نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، خلفائے راشدین، علماء و مشائخ یا بزرگان دین کی جانب سے احادیث میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ یہی حال طلاق کا ہے اور اس کے لئے بھی کسی کی اجازت کی قطعی ضرورت نہیں۔ اللہ ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی دے اور منافقت کا خاتمہ کرے، آمین۔
ایک شادی کے برعکس ایک سے زائد شادیاں سادہ لفظ نہیں ہے۔ پاکستانی پارلیمان میں اس وقت زیر بحث مسئلہ ایک سے زائد بیویاں رکھنے کا ہے نہ کہ ایک سے زائد شادیوں کا۔ ایک سے زائد شادیوں سے عام طور پر یہ مراد ہے کہ I۔ ایک شوہر، کئی بیویاں II۔ ایک بیوی، کئی شوہر III۔ گروہ کی صورت میں شادیاں یعنی کئی شوہر، کئی بیویاں۔ چنانچہ اس مسئلے پر بحث کرتے ہوئے آپ کو ایک شوہر، کئی بیویوں کا حوالہ دینا چاہیے جو کہ اسلام میں کثیر ازواجی کی واحد قابل قبول شکل ہے جس میں سابقہ بیوی/بیویوں کی مکمل رضامندی شامل ہوتی ہے۔ اسلام شوہر کو اپنی بیویوں کے ساتھ انصاف روا رکھنے کی تلقین کرتا ہے اور مزید یہ کہتا ہے کہ انصاف قائم کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، پاکستان میں صنفی شرح 100 مردوں کے مقابلے میں 108 خواتین ہیں۔ چنانچہ ایک شوہر، کئی بیویوں کے معاملے میں کوئی بدنامی نہیں ہے۔ اس طرح کی صورت حال میں عمومی طور پر مطمئن، سماجی انصاف کے حامل اور زنا سے پاک معاشرے کا قیام ضروری ہے۔ بیواؤں، غیر شادی شدہ خواتین یا دیگر خصوصی معاملات میں ایک سے زائد خواتین سے شادی سرطان کی بجائے علاج ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ لوگ اسے ہر کسی کے لئے اجازت نامہ کیوں تصور کرتے ہیں اور ہمارے قانون ساز اس طرح کے سنجیدہ معاملے کا مذاق کیوں اڑاتے ہیں۔ ہمیں اس معاملے میں واضح سمجھ بوجھ کی ضرورت ہے اور معزز قانون سازوں کو بھی محتاط رہنا چاہیے۔
ایک سے زائد شادیوں کے مسئلے پر سیاق و سباق سے ہٹ کر بحث نہیں کرنی چاہیے۔ قرآن مجید میں اس کی مخصوص حالات میں اجازت دی گئی ہے اور اس کا مقصد جنسی خواہش کی تکمیل نہیں۔ خواتین کے بیوہ اور غلام ہونے کی صورت میں اس کی اجازت ہے نہ کہ ہر ملا کو اچھا وقت گزارنے کے لئے۔ تاہم، عمرانیاتی نقطہ نظر سے انسانی فطرتاً زنا کار ہے اور طبی نقطہ نظر سے یہ مرد عورت کے تعلقات میں پیچیدگی پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ شعور اور تاریخ کے لحاظ سے ارتقاء کی منازل طے کرنے والے انسانوں کو اس کی بھاری ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اللہ کی خاص رحمت تھی اور ان کی سوچ کا مطالعہ کرنے اور پھر دونوں پس مناظر کو سامنے رکھتے ہوئے جذبات اور تصادم کے بغیر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ سب تعریف اللہ کی ہے۔
ہمیں اپنے عظیم مذہب اسلام کا تمسخر نہیں اڑانا چاہیے۔ اسلام میں ایک سے زائد شادیوں کی کڑی شرائط رکھی گئی ہیں۔ ہمیں پہلے قرآنی احکامات کا مطالعہ کرنے کے بعد رائے زنی کرنی چاہیے۔ ہمیں مغرب میں زنا کے اعداد و شمار اور خبروں کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے جہاں ایک سے زائد شادیوں پر پابندی ہے۔ ہم جدیدیت کا لبادہ اوڑھ کر اپنی مرضی سے قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں تحریف نہیں کر سکتے یا مذہب کو دوش نہیں دے سکتے۔ نبیل گبول یا شیری رحمان کو اس موضوع پر دسترس حاصل نہیں ہے۔ رکن پنجاب اسمبلی ثمینہ خاور میں سچ بولنے کی تاب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ سچ کی بالادستی پر انہیں سلام پیش کریں اور ان کی ذات پر کیچڑ اچھالنے سے گریز کریں۔
ایک سے زائد شادی انتہائی مکروہ فعل ہے۔ معاشرے کے بعض آوارہ مزاج لوگ اپنی جنسی ہوس کی تسکین کے لئے قرآن اور سنت کی خود ساختہ تشریح کے ذریعے اس کا جواز پیش کرتے ہیں۔ ایک پرمسرت اور مطمئن زندگی گزارنے کے لئے ایک شادی سے بڑھ کر اچھی کوئی چیز نہیں۔ ازدواجی زندگی میں شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، محبت، مدد اور باہمی خیال رکھنا چاہیے۔ اگر یہ دونوں مقناطیسی قوتیں ایک دوسرے کے لیے وفاداری اور ایثار کا جذبہ رکھتی ہوں تو پھر دوسری شادی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگرچہ دوسری شادی بروقت یا غیر ضروری خدشات کے باعث کی جاتی ہے، تاہم ہم میں دوسری شادی کا جواز پیش کرنے کا شعوری رجحان پایا جاتا ہے۔ علی عمران چدھڑ 0300-7070494
شریعت اسلامی کے مطابق، دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی مرضی یا اجازت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اسلام میں مسلمان مرد پر زنا سے بچنے کے لئے زیادہ بیویاں رکھنے پر کوئی پابندی نہیں بشرطیکہ وہ ان میں انصاف کر سکتا ہو۔ قانون کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں نے یہ نقطہ نظر جاننے کے لئے بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے اور دینی علماء سے مشاورت کی ہے اور مجھے مسلمان مرد پر دوسری شادی کی کوئی پابندی نہیں ملی۔ علاوہ ازیں، پہلی بیوی کی اجازت یا مرضی کا تصور بھی پاکستان کے مسلم عائلی قانون میں متعارف کردہ غیر اسلامی شق سے آیا ہے۔ بیوہ یا مطلقہ خواتین کے پاس عصمت فروشی اپنانے سے بہتر راستہ کسی شادی شدہ مرد سے شادی کرنا ہے۔ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ یہ چیز پہلی بیوی سے قربانی مانگتی ہے لیکن اس سے معاشرے میں خوشیاں آئیں گی۔ میں اسلامی تعلیمات پر مکمل یقین رکھتا ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ قرآن اور سنت کی پیروی میں کوئی نقصان یا تکلیف نہیں ہے۔ یہ تصور خدا نے دیا ہے اور اس نظریے میں وابستہ مفادات پوشیدہ ہیں اور یہ چیز سماجی ڈھانچے کے لئے مفید ہے، چاہے ہم اپنی کمتر ذہنی صلاحیت کی بناء پر اسے سمجھیں یا نہ سمجھیں۔ نعوذ باللہ، اللہ ظالم نہیں ہے اور وہ مردوں اور عورتوں دونوں کا خدا ہے۔ چنانچہ وہ بہتر جانتا ہے۔ میں نے اس چیز کو انتہائی قریب سے دیکھا اور محسوس کیا ہے۔ میرے والد، دادا، سسر اور دیگر رشتہ داروں میں سے ہر ایک نے دو دو شادیاں کر رکھی ہیں اور وہ خوش باش زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ناجائز سرگرمیوں کی بجائے اسلامی شریعت پر عملدرآمد مشکل نہیں ہے۔ میں بھی دوسری شادی کے لئے مکمل تیار ہوں اور اگر کوئی شخص مجھ سے کسی مسلمان مطلقہ، بیوہ، غیر شادی شدہ خاتون کے رشتے کے سلسلے میں رابطہ کرنا چاہتا ہے یا دوسری شادی کے فیصلے کو غلط ثابت کرنا چاہتا ہے تو میرا پتا درج ذیل ہے۔ حسنین، اسلام آباد، dreamperishes@yahoo.com
کیا ہم پہلے ہی اسلام کو بالائے طاق رکھ چکے ہیں؟ قرآن پاک کے وضع کردہ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل کردہ قوانین میں تحریف کرنے والے ہم کون ہوتے ہیں۔ قرآن میں سورت نساء کا مطالعہ کریں اور آپ کو پتا چلے گا کہ شرائط بہت واضح طور پر لکھی ہیں اور یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ آپ کو ایک خاتون سے شادی کرنی چاہیے کیونکہ آپ سب کے ساتھ انصاف کرنے پر قادر نہیں ہو سکتے۔ تاہم، اسلام میں کسی جگہ اس کی ممانعت نہیں ہے۔ اللہ کی جانب سے حلال قرار دی گئی کسی چیز کو حرام قرار دینا دین میں تبدیلی کے مترادف ہے جو کہ گناہ کبیرہ ہے۔ میری ایک ہی بیوی ہے اور اللہ اسے خیر و برکت دے میں اس کے ساتھ انتہائی خوشگوار زندگی گزار رہا ہوں۔ لیکن یہ کہنا کہ مذہب کی دی گئی شرائط کو پورا کرنے کے باوجود میں دوسری شادی نہیں کر سکتا، یہ قرآن اور اس کے احکامات پر ایمان رکھنے والے کسی بھی مسلمان مرد اور عورت کے لئے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
یورپ میں باقاعدگی سے گرل فرینڈ تبدیل کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے اور اسے غلط نہیں سمجھا جاتا۔ وہاں ہم جنس پرستوں کو بھی شادی کا حق مل چکا ہے لیکن جب ایک مسلمان کسی خاتون کو پناہ اور تحفظ فراہم کرنے کے لئے ایک قانونی تعلق قائم کرنا چاہتا ہے تو یہ ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ میری گزارش ہے کہ مسلمان بھائی بہن کسی مذہبی مسئلے پر تبصرہ کرنے سے قبل اس کے متعلق خصوصی علم حاصل کر لیں ورنہ اپنے غلط اور گمراہ کن غیر اسلامی بیانات جاری کرنے کی نسبت خاموشی بہتر ہے۔
میں محترمہ ثمینہ خاور کی جرات کو سلام کرتا ہوں۔ شریعت اسلامی کے مطابق، دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی کی مرضی یا اجازت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اسلام میں مسلمان مرد پر زنا سے بچنے کے لئے زیادہ بیویاں رکھنے پر کوئی پابندی نہیں بشرطیکہ وہ ان میں انصاف کر سکتا ہو۔ قانون کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں نے یہ نقطہ نظر جاننے کے لئے بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے اور دینی علماء سے مشاورت کی ہے اور مجھے مسلمان مرد پر دوسری شادی کی کوئی پابندی نہیں ملی۔ علاوہ ازیں، پہلی بیوی کی اجازت یا مرضی کا تصور بھی پاکستان کے مسلم عائلی قانون میں متعارف کردہ غیر اسلامی شق سے آیا ہے۔ بیوہ یا مطلقہ خواتین کے پاس عصمت فروشی اپنانے سے بہتر راستہ کسی شادی شدہ مرد سے شادی کرنا ہے۔ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ یہ چیز پہلی بیوی سے قربانی مانگتی ہے لیکن اس سے معاشرے میں خوشیاں آئیں گی۔ میں اسلامی تعلیمات پر مکمل یقین رکھتا ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ قرآن اور سنت کی پیروی میں کوئی نقصان یا تکلیف نہیں ہے۔ یہ تصور خدا نے دیا ہے اور اس نظریے میں وابستہ مفادات پوشیدہ ہیں اور یہ چیز سماجی ڈھانچے کے لئے مفید ہے، چاہے ہم اپنی کمتر ذہنی صلاحیت کی بناء پر اسے سمجھیں یا نہ سمجھیں۔ نعوذ باللہ، اللہ ظالم نہیں ہے اور وہ مردوں اور عورتوں دونوں کا خدا ہے۔ چنانچہ وہ بہتر جانتا ہے۔ میں نے اس چیز کو انتہائی قریب سے دیکھا اور محسوس کیا ہے۔ میرے والد، دادا، سسر اور دیگر رشتہ داروں میں سے ہر ایک نے دو دو شادیاں کر رکھی ہیں اور وہ خوش باش زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ناجائز سرگرمیوں کی بجائے اسلامی شریعت پر عملدرآمد مشکل نہیں ہے۔ میں بھی دوسری شادی کے لئے مکمل تیار ہوں اور اگر کوئی شخص مجھ سے کسی مسلمان مطلقہ، بیوہ، غیر شادی شدہ خاتون کے رشتے کے سلسلے میں رابطہ کرنا چاہتا ہے یا دوسری شادی کے فیصلے کو غلط ثابت کرنا چاہتا ہے تو میرا پتا درج ذیل ہے۔ عثمان خان، ملتان، پنجاب، پاکستان (مشیر اطلاعاتی ٹیکنالوجی) usman1875@yahoo.com
میں یہاں تمام تبصروں سے اتفاق کرتا ہوں۔
اسلام میں مردوں کو چار شادیوں کی اجازت نہیں ہے۔ قرآن کے حکم کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ مرد کو چار شادیوں کی صرف اس صورت میں اجازت ہے اگر وہ چاروں بیویوں کے ساتھ انصاف کر سکے ورنہ وہ دوہرے عذاب میں مبتلا ہو گا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ دوہرے عذاب سے کیا مراد ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ روز قیامت وہ اندھا ہو کر اٹھے گا۔ ذرا تصور کریں کہ ایک شخص اندھا ہے اور قیامت کا سماں ہے جس میں آسمان ٹوٹ کر نیچے گر رہا ہے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ رہے ہیں۔ اس 21ویں صدی میں ایک فرشتہ بھی چار بیویوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا تو عام آدمی کیسے کرے گا؟ اس سے یہ مراد ہے کہ اسلام میں چار شادیوں کی اجازت نہیں۔
اسلام و علیکم! میں محترمہ بشرٰی کو تو نہیں جانتا لیکن یوں لگتا ہے کہ انہیں اسلام کی الف ب کا بھی علم نہیں۔ اس قسم کے لوگوں کو مذہب کے متعلق بات کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں اور نہ ہی انہیں اسلام کی حقیقی تعلیمات کی بجائے یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ان کے خیال میں اسلام کیا ہے۔
ہم سب اللہ کے ہیں اور ہمیں اسی کی جانب لوٹ کر جانا ہے۔ ہم چیزوں کو ان کے مکمل تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ہمیں گہرائی سے اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ دو شادیوں کے خواہش مند شخص پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ کیا ہم اللہ تعالٰی کی طے کردہ ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے قابل ہیں۔ ہم سب کو اس بات کا خوگر ہونا چاہیے کہ اپنے دل کی بجائے دماغ سے کام لیں۔
مجھے یہ پسند نہیں۔
آئیے، غیر متنازعہ باتیں کریں۔ ہم سب کا اس بات پر اتفاق ہو سکتا ہے کہ پاکستان میں جو لوگ ایک سے زائد شادیوں کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ دراصل اپنے سفید آقاؤں کے اشارے پر ایسا کر رہے ہیں۔ ایک عام پاکستانی یہ بات بخوبی سمجھتا ہے۔ قرآن میں ایک مسلمان کو چار شادیوں کی اجازت دی گئی ہے۔ ہر کوئی سورہ النساء کے پہلے رکوع، چوتھے پیرے میں یہ پڑھ سکتا ہے۔ حسن خان جیسے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں اس پر شرمندگی ہو۔
غیر مسلم یا ان کے پٹھو اسلام کے کسی ایک قانون کو پکڑ لیتے ہیں اور ذرائع ابلاغ پر اپنی گرفت کے باعث اس پر اعتراضات کی بھرمار کر دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ مسلم تحقیقی گروپوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دیگر مذاہب، رسوم و رواج اور قواعد کو کیوں نہیں چھیڑا جاتا۔ مسلمانوں کے علاوہ ہر کسی کو اپنے رسوم و رواج کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے؟
اسلام میں کسی شخص کو صرف اس صورت میں ایک سے زائد شادیوں کی اجازت ہے اگر وہ دونوں بیویوں کے ساتھ انصاف کر سکے۔
کوئی حیرانی کی بات نہیں
ایک سے زائد شادی کا رواج غلط ہے۔ جو کوئی بھی یہ کرتا ہے اس میں انسانیت کے لئے معقولیت کا کوئی جواز نہیں ہے۔
اسلام میں مرد کو ایک سے زائد اور زیادہ سے زیادہ چار شادیوں کی اجازت ہے بشرطیکہ وہ تمام بیویوں میں انصاف کر سکے، جو عام حالات میں ناممکن چیز ہے۔ اس طرح کی صورت حال میں، اگر یہ رواج بن جائے، تو قرآن میں واضح طور پر ایک شادی کی تاکید کی گئی ہے۔ تاریخی نقطہ نظر سے، اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ قبل از اسلام دور میں اپنی لڑکیوں کو قتل کرنے کا رواج عام تھا اور اس کے علاوہ جہاد اور غزوات کے دوران بہت سی خواتین بیوہ ہو جاتی تھیں۔ چنانچہ خواتین کو عصمت فروشی کے خطرے سے بچانے کے لئے چار شادیوں کی اجازت دی گئی۔ عارف الرحمٰن
میرے خیال میں ایک سے زائد شادیاں ایک اچھی چیز ہے اور ہر کسی کو ایک وقت میں دو یا تین عورتوں سے شادی کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کوئی بھی قانون ساز اسے روک نہیں سکتا کیونکہ پاکستان میں اس کی قانوناً اجازت ہے۔ میری تین بیویاں ہیں اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ خوش و خرم زندگیاں بسر کر رہی ہیں۔
بعض صورتوں میں ایک سے زائد شادیاں فطری تقاضا ہے۔
یہ نری حماقت ہے۔ ایک مکمل بے بنیاد بحث۔ چونکہ اس تصور پر مطالعے اور جائزے کی کمی ہے، لہٰذا لوگ بغیر جانے اس پر شور مچاتے رہتے ہیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ شادیوں کی اجازت کا ایک سے زائد شادیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اپنی چالیس سالہ زندگی میں بے شمار لوگوں سے ملنے کے دوران مجھے 10 سے بھی کم اس طرح کے جوڑے ملے ہیں۔ اس کی کیا شرح ہے؟ کیا تناسب ہے؟ کیا اثر ہے؟ دراصل مسلمان ذرائع ابلاغ میں اپنا دفاع نہیں کر سکتے۔ اگر ہم کھلے ذہن سے سوچیں تو اس چیز کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ اس سے کہیں زیادہ اہم مسائل موجود ہیں۔
سوچنے کی بات ہے
سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن میں چار بیویوں کی اجازت ہے لیکن یہ مشروط ہے۔ بدقسمتی سے ہم آیت کا صرف وہ حصہ سمجھتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں جو ہمارے مطلب کے مطابق ہو لیکن اسے مکمل طور پر پڑھ کر یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ مزید شادیوں کی صورت میں بعض شرائط عائد ہیں۔ سب سے پہلی اور اہم شرط یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے کہا ہے کہ اگر تم انصاف کر سکو۔ برائے مہربانی، اس بات پر غور کریں کہ آیا موجودہ حالات میں انصاف کرنا ممکن ہے۔ نہیں، ہم چار بیویوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتے بلکہ ہمارے لئے تو ایک بیوی کے ساتھ بھی انصاف کرنا مشکل ہے۔ یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ ہمارے علماء مکمل پس منظر، شرائط اور جواز کے ساتھ درست متن کی تبلیغ نہیں کرتے۔
میں نے یہاں قرآن اور اسلامی احکامات کی بعض تشریحات دیکھی ہیں۔ خود مضمون میں بھی اس سیاست دان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اگر میں شریعت کی تشریح کروں تو اس میں دوسری شادی کی کوئی اجازت نہیں لیکن یہی کام اگر کوئی مولوی کرے تو پھر چار شادیوں کی اجازت نکل آتی ہے۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ علم کی کسی بھی شاخ کی سچائی صرف اس شعبے کے مسلمہ ماہرین کی جانب سے سامنے آ سکتی ہے۔ تمام ماہرین کو مولوی کے زمرے میں رکھ کر ان کے دلائل کو مسترد کر دینے کو معقول اور غیر جانبدار طریقہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ خود مولوی کا لفظ بھی بعض لوگوں کے لئے قابل احترام اور بعض کے لئے تحقیر آمیز ہے۔ یہ تو اس کہاوت کی مانند ہے کہ مجھے کوئی غرض نہیں کہ آئن اسٹائن کیا سوچتا ہے، میں تو نظریہ اضافیت کی تشریح مختلف انداز میں کرتا ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب اسلامی قوانین اور ان کی تشریح کی بات آتی ہے تو ہر کوئی خود کو ماہر سمجھنے لگتا ہے۔ اگر یہ کافی نہ ہو تو پھر بعض نام نہاد دانشوروں کے حوالے دیے جاتے ہیں جو خود بھی لاعلم ہوتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو لوگ اسلام کی حقیقی پوزیشن کا دفاع کرنے کے لئے غلط یا نامناسب زبان استعمال کر رہے ہیں، ان سے مجھے یہ کہنا ہے کہ ہمیں آپ کے گستاخانہ لہجے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اس شائستہ مذہب کی درحقیقت نمائندگی نہیں کرتا۔
قرآن میں ایک سے زائد شادیوں کے موضوع کا واضح طور پر احاطہ کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایک مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے بشرطیکہ وہ ان میں انصاف کر سکے۔ اور قرآن میں کہا گیا ہے کہ ان کے درمیان انصاف کرنا بہت مشکل ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن میں شادی کے بغیر کسی عورت سے جنسی تعلقات کی ممانعت ہے جس کا مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں اور غیر مسلموں میں عام رواج ہے۔ چنانچہ ان کا خیال ہے کہ ایک سے زائد شادیوں کی ممانعت ہونی چاہیے۔ تاہم، اللہ کے قرآن پر ایمان نہ لانے والے افراد شادی کے بغیر بھی جنسی تعلقات رکھتے ہیں اور ان کے لئے دوسری عورتوں کے ساتھ وقت گزارنا اور جہنم کے لئے تیار رہنا بے معنی ہے۔ چنانچہ خود کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لئے ہر کسی کو ان تعلیمات پر سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے جو اللہ نے مردوں کے سکون کے لئے دی ہیں۔
zeneda abad pakistan
میں ایک خاتون سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوں لیکن میرا خیال ہے کہ ایک اور شادی کی جا سکتی ہے کیونکہ مطلقہ اور بیوہ خواتین کے لئے کوئی موزوں جائے پناہ نہیں ہے۔ حتٰی کہ ان کے بھائی بہن بھی انہیں اپنے ساتھ رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اگر کسی کے پاس دوسری شادی کا انتخاب نہ ہو تو انہیں مردوں کے رحم و کرم پر رہنا پڑے گا۔ اس طرح کم از کم ان کی زندگی میں خوشیاں آ سکتی ہیں اور اگر سب کچھ صحیح چلتا رہے تو ان کا گھر دوبارہ آباد ہو سکتا ہے۔
اسلام نے ضابطہ قوانین مقرر کر رکھے ہیں اور ہم سب کو آنکھیں بند کر کے ان کی پیروی کرنی چاہیے۔ دور حاضر میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہو چکی ہے چنانچہ آج مسلمان خواتین اور مردوں کے مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔ مغرب اور امریکا میں کوئی شخص درجنوں خواتین کے ساتھ ہم بستری کر سکتا ہے لیکن اسلام شادی کے ذریعے مرد و خواتین کے بندھن کا قانونی طریقہ فراہم کرتا ہے۔
یہ مکروہ چیز ہے! مجھے ابھی پتا چلا ہے کہ پاکستان میں مردوں کو دوسری شادی کرنے سے قبل اپنی پہلی بیوی سے اجازت حاصل کرنا پڑتی ہے۔ یہ کب سے پاکستانی عوام کی سنت بن گیا ہے؟
کیا واقعی ان کا خیال ہے کہ وہ اللہ اور اس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کو تبدیل کر دیں گے؟ ہماری رگوں میں اب بھی خون دوڑ رہا ہے۔ یہ آپ کا خون ہو یا ہمارا خون۔ بات کو سمجھنے کی کوشش کریں!
InnaLillah e Wa Inna Ilaihey Raajaioon
اسلام میں اس کی اجازت ہے اور مسلمان مردوں کو دوسری شادی سے روکنے کا اختیار پاکستان پیپلز پارٹی کی لعنتی حکومت یا تمام نافرمان سیکولر لوگوں سمیت کسی کے پاس نہیں ہے، خدا ان کا بیڑا غرق کرے۔ تمام غیر مسلم جو چاہے کرتے پھریں، مجھے اس کی رتی بھر پروا نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی ہمارے دین میں تبدیلی لانے کی کوشش کرے تو پھر مرنے یا مارنے کے لئے تیار رہیں۔ کسی کو بھی حلال کو حرام میں تبدیل کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ کیا تمام ناجائز بچوں کو میری بات سمجھ آ گئی ہے، جو ثقافت کے دعویدار بنے پھرتے ہیں۔
پاکستان کے قانون سازوں کو عام آدمی تک قوانین کے ثمرات پہنچانے کے ذریعے ابھی تک اپنا مقام ثابت کرنا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شریعت کا مذاق نہیں اڑایا جا سکتا۔
ثمینہ خاور حیات کو ہمارے ملک میں پہلے ہی خواتین کے افسوس ناک حقوق کو مزید زک پہنچانے پر شرم آنی چاہیے۔ جب خان صاحب نے ان سے فون پر تبصرہ لینا چاہا تو ثمینہ نے فون بند کر دیا جو اس معاملے میں ان کی تربیت، تمیز اور عقل کا روشن ثبوت ہے۔ وہ ایک صحافی کے سامنے اپنے گمراہ کن مؤقف کا دفاع کیوں نہ کر سکیں؟ ان سے زبردستی استعفٰی وصول کرتے ہوئے پتھر کے زمانے کے خیالات رکھنے پر معافی مانگنے پر مجبور کیا جائے۔ لوگوں کے ذہنوں میں قرآن کی تشریح حقیقت سے اتنی دور ہے کہ ان کی جانب سے خود کو مسلمان کہنا بھی ایک مذاق ہے۔ لاس اینجلیس، کیلیفورنیا
محترم حسن، اسلام علیکم۔ پاکستان کے مرد و خواتین اور قانون سازوں کے بارے میں پہلے ہی بہت کچھ معلوم ہے۔ مکران کے علاقے میں اسلام کی آمد حضرت عمر رضی اللہ عنہہ کے دور میں ہوئی۔ 712 قبل مسیح میں محمد بن قاسم کی آمد سے سندھ میں اسلام کا نور پھیلا اور برصغیر پاک و ہند پر طویل عرصے تک ہندو، سکھ، مسلمان، عیسائی اور دیگر افراد کی حکمرانی رہی۔ قصہ مختصر، ہمارے ہاں مخلوط ثقافت ہے۔ ثقافت کیا ہے؟ اس پر خواتین کا غلبہ ہے، ذرا ہندو خواتین کے شادی سے پہلے اور بعد کے اور حتٰی کہ خاوند کی موت کے بعد کے تصورات اور روایات کا جائزہ لیں۔ مذہب کے نام پر پاکستان بننے کے بعد بھی خواتین سے متعلق تصورات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہی حال قانون اور قانون سازوں اور نادرا کے محکمے کا ہے۔ ب فارم میں میری بیٹی کا نام عنزہ ذوالفقار ہے اور 18 سال کی عمر کو پہنچنے تک اس کا یہی نام رہے گا۔ شادی کے بعد اس کے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگ جائے گا۔ یہاں بھی انگریز کی حکمرانی ہے۔ اگر بدقسمتی سے اس کا شوہر فوت ہو گیا یا اسلامی قانون کے مطابق اسے طلاق ہو گئی تو وہ شوہر کے نام کے بغیر عنزہ رہ جائے گی۔ اگر اس نے دوبارہ شادی کر لی تو اس کے نام کے ساتھ نئے شوہر کا نام لگ جائے گا اور پہلے شوہر کے سرکاری ملازم ہونے کی صورت میں اسے اپنی پینشن سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ سماجی تحفظ یا ستی کی نئی شکل کے نام پر شادی پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔ اگر اس وقت اس کے بچے چھوٹے ہوئے تو وہ خود مختار عنزہ یا عنزہ ذوالفقار ہو گی (اگر میں یہ دیکھنے کے لئے زندہ رہی تو) یا پھر عنزہ سیف (میرے بیٹے یا بچوں کے ماموں کا نام) کہلائے گی۔ یہ اسلامی ثقافتی ذمہ داری ہے۔ اگر اس کا جوان بیٹا ہوا تو وہ عنزہ عامر کہلائے گی (عامر اس کے بیٹے کا فرضی نام ہے)۔ جناب محترم، بات یہ ہے کہ اسلام میں ہم خواتین کے مسائل پوری طرح حل نہیں کیے گئے۔ خواتین کے معاملات میں اسلام سے پوری طرح استفادہ نہیں کیا گیا۔ شاید اس کی وجہ تعلیم و تربیت کی کمی ہے۔ ذرا سوچیں اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا خلافت کے دور میں نادرا کا محکمہ ہوتا تو وہ قرآن و سنت کی روشنی میں ہمارے آباؤ اجداد اور مومنین مومنات اور بیویوں اور مطلقہ خواتین، بیواؤں اور یتیم بچیوں کا اندراج کس طرح کرتا۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ اچھی قوم کی تشکیل کے لئے ماؤں کی عمدہ تربیت کرو، خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہہ وآلہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے اور صحابہ کرام نے اس کی پیروی کی ہے۔ شیری رحمان کو اس موضوع پر بات کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اسلام میں دوسری شادی کے قواعد و ضوابط کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے قانون ساز خود ہی اپنے دہشت گرد ہیں۔