پاکستانی کھیلوں پر عسکریت پسندی کے منفی اثرات
اس کا ہدف نوجوانوں کو مایوس کر کے طالبان کی صفوں میں شامل کرنا ہے
اقبال خٹک
2010-03-06
پشاور، پاکستان ۔۔ شازیہ ملک مارچ کی 25 سے 31 تاریخ تک پشاور میں ہونے والے 31ویں قومی کھیلوں میں سائیکلنگ کے مقابلوں میں طلائی تمغہ جیتنے کا ہدف حاصل کرنے کے لئے روزانہ تین سے پانچ گھنٹے تربیت پر صرف کر رہی ہیں۔
گزشتہ نومبر میں کھلاڑیوں اور حکام کو موصول ہونے والی دھمکیوں کے بعد منتظمین نے کھیلوں کو ملتوی کر دیا تھا۔
پشاور، اسلام آباد، ایبٹ آباد اور مردان میں 18 مختلف مقامات پر منعقد ہونے والے ان کھیلوں کے 27 مقابلوں میں 5,000 مرد اور خواتین اتھلیٹ حصہ لیں گے جبکہ 2,000 تکنیکی حکام ان کی نگرانی پر مامور ہوں گے۔ چاروں صوبوں اور مختلف محکموں کی ٹیموں کے علاوہ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں اور اسلام آباد کی ٹیمیں بھی ملک کے ان سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلوں میں شرکت کریں گی۔
ستائیس سالہ شازیہ ملک کو مشتبہ اسلامی عسکریت پسندوں کی جانب سے موت کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ لیکن انہوں نے پھر بھی تربیت ترک نہیں کی اور ان کی نظریں بدستور سونے کے تمغے پر ہیں۔
سینٹرل ایشیا آن لائن سے باتیں کرتے ہوئے شازیہ نے کہا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور یہی میرا ایمان ہے۔ میں روزانہ اس امید پر تربیت کر رہی ہوں کہ مجھے طلائی تمغہ جیتنا ہے۔
وہ پشاور کے نواح میں رہائش پذیر ہیں جہاں نیم خود مختار جنوبی علاقے درہ آدم خیل کے عسکریت پسند در اندازی کرتے ہوئے شہر کے نزدیک تک آن پہنچے ہیں۔ چنانچہ وہ ہمیشہ بھیس بدل کر رکھتی ہیں اور اپنے گھر کا فرضی پتا بتانے کے علاوہ دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرتی ہیں۔
انہیں فون پر موصول ہونے والی ایک گمنام کال میں تربیت ترک کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ کال کرنے والے شخص نے کہا کہ اگر تم نے ہمارے انتباہ پر کان نہ دھرا تو تم پر بم سے حملہ کیا جائے گا یا پھر کوئی خودکش بمبار تمہیں اڑا دے گا۔
لیکن اس کے باوجود شازیہ کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ نومبر 2008 میں پشاور میں منعقدہ گزشتہ بین الصوبائی کھیلوں میں انہوں نے دو طلائی تمغے جیت کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا۔
اس مقابلے میں ان کی شاندار کارکردگی کے بعد پانی اور بجلی کے ترقیاتی ادارے یعنی واپڈا کی جانب سے انہیں ملازمت کی پیشکش کی گئی اور اس بار وہ قومی کھیلوں میں ان کی نمائندگی کریں گی۔ مختلف محکموں کی ٹیموں کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑی بہتر تربیتی سہولیات کے باعث صوبائی نمائندگی کرنے والی ٹیموں کے مقابلے میں زیادہ تمغے جیت لیتے ہیں۔
طالبان کے متواتر حملوں کا تعلیم اور کاروبار ی شعبوں کی طرح کھیلوں پر بھی منفی اثر پڑا ہے۔ اس خطرے کے باعث غیر ملکی کھلاڑیوں کے لئے پاکستان ایک ممنوعہ ملک بن گیا۔ اس کے نتیجے میں، پاکستان کی کرکٹ ٹیم اب ملک کے میچ متحدہ عرب امارات جیسی غیر جانبدار جگہوں پر کھیلنے کے لئے مجبور ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان شکیل خان نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ کسی اور کھیل کے مقابلے میں کرکٹ پر عسکریت پسندی سب سے زیادہ اثر انداز ہوئی ہے کیونکہ پاکستان میں کرکٹ کا کھیل انتہائی مقبول ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملکی کھیلوں کو ترک کرنے کے باعث کرکٹ بورڈ کروڑوں روپے کی آمدنی سے محروم ہو گیا ہے۔
انتہاپسند پاکستان میں غیر ملکی ٹیموں کی موجودگی کو ان پر حملہ کرنے کے لئے موقع غنیمت سمجھتے ہیں۔ 2002 میں، کراچی میں فرانسیسی بحریہ کے انجنیئروں پر ہونے والے ایک خودکش حملے میں نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم بال بال بچ گئی۔
تین مارچ 2009 کو لاہور میں راکٹ لانچروں، خود کار رائفلوں اور دستی بموں سے لیس عسکریت پسندوں نے سری لنکا کی کرٹ ٹیم پر حملہ کر دیا۔ یہ واقعہ انتہائی ناخوشگوار صورت حال اختیار کر سکتا تھا لیکن کھلاڑیوں کی بس کے ڈرائیور نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گاڑی کا ایکسیلیٹر دبا دیا اور گاڑی کو برق رفتاری سے حملے کی جگہ سے نکال کر محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔ تاہم، اس کے باوجود اس حملے میں چھ پولیس اہل کار اور ایک ڈرائیور جاں بحق اور آٹھ کھلاڑی زخمی ہو گئے۔
عسکریت پسندی کے غلبے کے باعث پاکستان کی کرکٹ ٹیمیں بھی پشاور میں کھیلنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اس کی بجائے پشاور کی ٹیم کو 1,600 کلومیٹر سے زائد سفر کر کے جنوبی ساحلی شہر کراچی میں میچ کھیلنے پڑتے ہیں۔
پشاور کی ضلعی کرکٹ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری اصغر خان نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ گزشتہ دو سال سے کسی بھی شہر سے کوئی ٹیم پشاور میں مقررہ قومی ٹورنامنٹ میں کھیلنے کے لئے آنے پر راضی نہیں ہوئی۔ 2006 کے بعد سے ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم میں کوئی بھی بین الاقوامی میچ نہیں ہوا۔
یکم جنوری کو جنوبی اور شمالی وزیرستان کے قریب جنوبی ضلع لکی مروت میں والی بال کے ایک میچ کے دوران اسلامی عسکریت پسندوں نے بہت سے کھلاڑیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ واقعے میں ایک خودکش بمبار نے اپنی گاڑی کھیل کے میدان کی دیوار سے ٹکرا کر زور دار دھماکہ کیا جس میں 100 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے۔
اکتیسویں قومی کھیلوں کے مقام پشاور اسپورٹس کمپلیکس میں کھلاڑیوں کی کوچنگ کرتے ہوئے صوبہ سرحد کی والی بال ایسوسی ایشن کے سیکرٹری شاہد کمال نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا سانحہ تھا جس میں والی بال کے بہت سے کھلاڑی جاں بحق ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کی کسی سرگرمی میں شامل نہ ہونے والے نوجوانوں میں مایوسی جگہ بنا لیتی ہے اور یہی عسکریت پسندوں کا مقصد ہے، یعنی نوجوان مایوس ہو کر طالبان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔
نومبر 2008 میں پشاور میں بین الصوبائی کھیلوں کی رنگا رنگ اختتامی تقریب سے چند لمحے قبل قیوم اسپورٹس کمپلیکس کے مرکزی دروازے کے باہر ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا جس سے کئی افراد جاں بحق ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں کھلاڑی یا منتظمین شامل نہیں تھے۔
شازیہ ملک کی طرح منتظمین میں بھی سیکورٹی سے متعلق خدشات پائے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں حکومت نے پشاور کے جنوبی اور مغربی نواحی علاقوں میں آپریشن اسپرنگ کلیئرنگ یعنی موسم بہار کی صفائی کی کارروائی شروع کر دیا ہے۔ اس کارروائی میں نیم عسکری دستے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کر رہے ہیں۔
کھیلوں کے انتظامی امور کے سیکرٹری ذوالفقار علی بٹ نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ ہمیں علم ہے کہ حکومت سلامتی کے خطرات سے پوری طرح باخبر ہے اور وہ قومی کھیلوں کے انعقاد کے لئے خامیوں سے پاک سیکورٹی فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
پولیس کے ایک اعلٰی عہدیدار محمد کریم خان نے قومی کھیلوں کو ملنے والی براہ راست دھمکیوں کی تصدیق کی لیکن انہوں نے اس تقریب کو کامیاب بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سیکورٹی کا منصوبہ تیار کر لیا ہے اور ہم ضرورت کے مطابق نفری تعینات کریں گے۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے