پاکستانی خواتین میں نشے کی لت میں مبتلا ہونے کے رجحان میں اضافہ

ماہرین نے منشیات کی لت پر قابو پانے سے پہلے سماجی مسائل کے حل کا مشورہ دیا ہے

آمنہ ناصر جمال

2010-03-02

لاہور، پاکستان – منشیات کی لت میں مبتلا ہونا کوئی نئی بات نہیں لیکن پاکستان کو دو لحاظ سے اس مسئلے کا سامنا ہے۔

پہلا یہ کہ لوگ کم عمری میں ہی نشے کی لت میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ منشیات میں مبتلا افراد کے گزشتہ قومی سروے (2002 تا 2003) کے مطابق، ہیروئن کی لت میں مبتلا افراد کی اوسط عمر 26 سال سے کم ہو کر 22 سال تک پہنچ گئی ہے۔

دوسرا یہ کہ بڑی تعداد میں خواتین اس عادت بد میں مبتلا ہو رہی ہیں جبکہ ملک کے اندر اس بگڑتی ہوئی صورت حال کا باعث بننے والے سماجی عوامل پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا جا رہا۔

منشیات کی لت میں مبتلا ہونے کا آغاز اسکول کی عمر سے ہی ہو سکتا ہے۔ ایک نجی تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم لڑکیاں ریسٹ روم میں ایک خاتون صحافی کی موجودگی کے دوران چرس پی رہی تھیں۔ لاہور میں خواتین کے ایک کالج کی پرنسپل نے منشیات رکھنے اور تعلیمی درسگاہ کے احاطے کے اندر انہیں استعمال کرنے پر طالبات کے ایک گروپ کو کالج سے نکال دیا۔

لاہور کے میو اسپتال میں تعینات ایک کلینیکل سائیکالوجسٹ تسنیم نذیر نے بتایا کہ خواتین میں منشیات کی لت میں مبتلا ہونے کے مسئلے کو ان کے سماجی تربیت کے مختلف پہلوؤں مثلاً نسل پرستی، جنس پرستی اور غربت سے جدا نہیں کیا جا سکتا اور خواتین کے نشے کی عادت میں مبتلا ہونے کو سمجھنے کے لئے ان پر غور کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوعمر لڑکیاں وزن گھٹانے، ذہنی تناؤ یا بوریت کو دور کرنے، اپنے مزاج کو بہتر بنانے، جنسی پابندیوں میں کمی لانے، یاسیت کا دوائیوں سے خود علاج کرنے اور اعتماد میں اضافہ کرنے کے لئے منشیات کا سہارا لے سکتی ہیں۔ شراب نوشی اور منشیات کے مسائل کا علاج کرانے کی خواہش مند خواتین کا کہنا ہے کہ گھریلو تشدد، بچپن کے ناخوشگوار واقعات اور منشیات کے استعمال کا آپس میں تعلق ہے۔

ایک خاتون نے بتایا کہ انہوں نے جسمانی، ذہنی اور مالی بدسلوکی سے تنگ آکر منشیات میں پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کی۔

بیالیس سالہ خاتون نے اپنی نشے کی عادت کے بارے میں کہا کہ مجھے نہیں پتا کہ اس وقت مجھے اس چیز کا احساس کیوں نہ ہوا لیکن میں اس سلوک کی بھی مستحق نہیں تھی جو میرے شوہر نے میرے ساتھ روا رکھا۔

نذیر نے کہا کہ اپنی نشے کی لت کا سرعام اعتراف ایک طرح سے سماجی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف ہے۔

منشیات بحالی مرکز چلانے والی ایک کلینیکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر محمودہ آفتاب نے بتایا کہ نشے میں مبتلا بہت سی خواتین منشیات بحالی پروگراموں میں شرکت سے انکار کر دیتی ہیں۔ منشیات پر انحصار اور اس لت میں مبتلا ہونے سے وابستہ شرمندگی اور بدنامی کے باعث وہ بیرونی علاج کو ترجیح دیتی ہیں۔ وہ ثقافتی وجوہات کی بناء پر بحالی مراکز میں علاج کی غرض سے قیام نہیں کر سکتیں اور وہاں صرف ادویات اور مشورے کی خاطر جاتی ہیں۔

تسلیم نذیر نے تجویز دی کہ اس مسئلے کے علاج کے لئے جن چیزوں پر قابو پانا ضروری ہے ان میں تشدد اور جنسی زیادتی، غیر محفوظ گھر، بے روزگاری، جنسی کرداروں کے بارے میں پائے جانے والے عمومی تصورات، صحت کی دیکھ بھال اور بچوں کی دیکھ بھال کا فقدان شامل ہیں اور یہ تمام عوامل یاسیت اور ناامیدی کا سبب بنتے ہیں جن کے باعث خواتین میں منشیات کے استعمال کا رجحان زور پکڑتا ہے۔

انسداد منشیات فورس پنجاب کے فورس کمانڈر بریگیڈیر سجاد احمد بخشی نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ اگرچہ خواتین میں منشیات کے استعمال سے متعلق معلومات کم دستیاب ہیں لیکن نوجوان لڑکیوں اور خواتین میں منشیات کے استعمال میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کل کے نوجوانوں کی حالت قابل رحم ہے۔ لوگوں میں منشیات کے استعمال کے خطرات اور اس عادت سے بچنے کے لئے شعور بیدار کرنے کی کافی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

بخشی نے کہا کہ خواتین، بالخصوص مراعت یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والی نوجوان لڑکیاں، منشیات کی لت میں مبتلا ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض خواتین کو اس چیز کا احساس نہیں ہوتا کہ وہ منشیات استعمال کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر کوئی دوائی تجویز کرتے ہیں اور بعض لاپروا مریض اس کے ضمنی اثرات سے آگاہ نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ دافع درد یا مسکن ادویات کی خریداری پر کوئی پابندی نہیں۔

بہت سی خواتین کئی ماہ یا کئی سالوں تک ایسی ادویات استعمال کرتی رہتی ہیں اور پھر ان کی عادی ہو جاتی ہیں۔

بحالی مرکز میں زیر علاج ایک خاتون حاجرہ، جن کا نام ان کی شناخت خفیہ رکھنے کے لئے تبدیل کر دیا گیا ہے، نے بتایا کہ ہم علاج کی غرض سے ڈاکٹر کے پاس آئے تھے۔ ڈاکٹر نے یہ ادویات تجویز کی تھیں جنہیں میں پرسکون نیند اور پریشانیاں دور کرنے کے لئے استعمال کرتی تھی۔ مجھے یہ علم نہیں تھا کہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات زہر ہیں۔

بخشی نے کہا کہ انسداد منشیات فورس نے آٹھ سرکاری اسپتالوں میں وارڈ قائم کیے ہیں جہاں مفت علاج کیا جاتا ہے۔ لیکن بیشتر مریضوں کو منشیات کی لت میں مبتلا ہونے سے قبل یا بعد میں یہ پتا نہیں ہوتا کہ وہ مدد کے لئے کہاں سے رجوع کر سکتے ہیں۔

بخشی کا کہنا تھا کہ خواتین کے پاس ضروری علم اور صلاحیتیں ہونی چاہئیں تاکہ وہ اس مسئلے، بالخصوص امتناع منشیات، کا مثبت طاقت سے مقابلہ کر سکیں۔ وقت کا یہ تقاضا ہے کہ معاشرے کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ہمارے معاشرے سے منشیات کے خاتمے کے لئے متحد ہو کر کوششیں کریں۔

انہوں نے تجویز دی کہ منشیات کے مکمل خاتمے کے لئے، منظم تعلیم اور معاشرے کی مسلسل حمایت کی موجودگی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مؤثر انداز اور ذہانت سے شعور بیدار کرنے کے پروگراموں پر عمل درآمد ضروری ہے۔ اس طرح معاشرے کے ہر فرد کے لئے بہتر اور زیادہ خوشحال مستقبل کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔

اس معاملے پر تشویش ظاہر کرنے والے بعض مبصرین کے مطابق، منشیات کی لت سے متعلق معاشرے کی سوچ میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر محمودہ نے کہا کہ خواتین کے علاج کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر قابو پانا ضروری ہے کیونکہ بہت سے پروگرام مردوں کو ذہن میں رکھ کر تیار کیے گئے ہیں جو خواتین کی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ خواتین کی علاج تک رسائی اور اس میں شمولیت کی راہ میں حائل موجودہ رکاوٹوں پر قابو پانے کے پروگرام تیار کیے جائیں۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 111)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی سکول، کالج اور دیگر وسائل کو منشیات کے حوالے سے مزید معلومات فراہم کرنی چاہییں۔ اور بچوں کو بتانا چاہے کہ یہ ان کے لیے کیسے نقصان دہ ہیں۔ میں نے ایک مضمون پڑھا جس میں لکھا تھا کہ پاکستان میں میڈیکل کے طلبا بھی منشیات استعمال کرتے ہیں اور اس کے اثرات سے ناواقف ہیں۔

    November 21, 2011 @ 03:11:00PM
    mary
  • منشیات کی لت ایک انتہائی خراب عادت ہے اور ہمیں اس عادت بد سے دور رہنا چاہیے۔

    April 23, 2011 @ 03:04:00PM
    Amir abbas
  • منشیات کی لت تمام معاشروں میں موجود ہے اور خاص طور پر پاکستان کے خواتین کے کالجوں میں بھی یہ موجود ہے۔ پاکستان اور اس کے شہر لاہور میں بالائی طبقے میں اسے دیکھا جا سکتا ہے اور اس طبقے کے کالجوں میں زیر تعلیم نوجوان قصداً اس شوق میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ اعلٰی طبقے کی لڑکیاں منشیات کو تفریح اور لطف اندوز ہونے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ وہ اپنی دوستوں، ہم جماعتوں اور ساتھیوں کے ہمراہ عام طور پر ریستورانوں میں یہ استعمال کرتی ہیں۔

    March 4, 2011 @ 12:03:00PM
    kashan
  • میری رائے میں منشیات کی لت سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کا کبھی استعمال نہ کیا جائے۔

    February 26, 2011 @ 03:02:00AM
    dr asghar
  • ہمیں کالجوں اور نوجوانوں میں منشیات کے خلاف شعور بیدار کرنے کی مہم شروع کرنی چاہیے۔ حکومت کو اس مقصد کے لئے اشتہاری بورڈ آویزاں کرنے چاہئیں اور ٹی وی پروگرام شروع کرنے چاہئیں۔

    January 15, 2011 @ 08:01:00AM
    asimmir
  • میں روس میں منشیات بحالی مرکز میں گزشتہ پانچ سال سے ملازمت کر رہا ہوں۔ آج کل میں دو سال کی تعطیلات پر اسلام آباد میں ہوں۔ اگر کسی شخص کو منشیات کی لت سے نجات حاصل کرنے کے لئے گھر میں علاج کی ضرورت ہو تو میری خدمات حاضر ہیں۔

    November 24, 2010 @ 01:11:00AM
    Dr.mazhar ali
  • پاکستان کا حقیقی دشمن بھارت نہیں بلکہ افغانستان ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ہی ہمارے ملک میں ہتھیاروں اور منشیات کی لعنت آ گئی ہے۔ اس خاموش دشمن نے پاکستان کو تباہ کر کے رکھ دیا اور پاکستان ہمیشہ بھارت کو اپنا دشمن سمجھتا رہا۔ بھارت اپنی تمام تخریب کارانہ سرگرمیاں قندھار اور جلال آباد کے ذریعے کرتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان پاکستان کا دشمن ہے۔ اگر ہم افغان باشندوں کو پاکستان سے نکال باہر کریں تو ہمارے 50 فی صد مسائل حل ہو جائیں گے۔ باقی 50 فی صد آصف زرداری اور نواز شریف کو پھانسی دینے سے حل ہوں گے۔

    November 2, 2010 @ 08:11:00AM
    salmankhan
  • ایک اچھی ماں ایک مہذب معاشرے کی تشکیل کرتی ہے کیونکہ ماں بھی ایک عورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ان خواتین پر فوری توجہ دے کر ان کا علاج کرے اور ہماری قوم کے مستقبل کو بچائے۔

    April 17, 2010 @ 12:04:00PM
    Dr.M.Riaz
  • یہ بہت اچھا مضمون ہے۔

    March 16, 2010 @ 09:03:00PM
    Joe
  • عالمی برادری کو ایسی ادویات ایجاد کرنی چاہئیں جو ہر ممکن جلد پوست کے کھیتوں کو تلف کر دیں۔ اس سے پاکستان اور افغانستان کی صورت حال بہتر ہو جائے گی۔

    March 16, 2010 @ 08:03:00PM
    Jahongir(Joe)
  • حکومت پاکستان کو اس معاملے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہ صحت اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کو بڑی تباہی سے دوچار کر سکتا ہے۔

    March 9, 2010 @ 03:03:00AM
    shaneY
  • ایک بہتر تصور پر مبنی اور خیال انگیز مضمون۔ حقیقی زندگی میں نشے کی لت میں مبتلا لوگوں سے بات چیت کی کوشش کریں تو وہ آپ کو اپنے اس بحران کا پس منظر بتائیں گے۔ بہت اچھا مضمون ہے اور ایسی کوششیں جاری رکھیں۔

    March 6, 2010 @ 10:03:00AM
    Bakhshi
  • یہ سب ان کے والدین کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ وہ انہیں فالتو رقم دے دیتے ہیں جس کا نتیجہ ان کی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔

    March 4, 2010 @ 07:03:00AM
    amin bashir
  • آج لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں پاکستان میں منشیات کے موضوع پر ایک سیمینار ہے جو بہت مددگار ثابت ہو گا۔

    March 4, 2010 @ 12:03:00AM
    Fiaz
  • یہ ایک انتہائی تشویش ناک معاملہ ہے۔ ہر صحت مند شخص پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آگے بڑھ کر ایک صحت مند پاکستان کے حصول میں اپنا کردار ادا کرے۔

    March 3, 2010 @ 07:03:00AM
    Arshad Ullah.
  • یہ ایک انتہائی تشویش ناک معاملہ ہے۔ ہر صحت مند شخص پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آگے بڑھ کر ایک صحت مند پاکستان کے حصول میں اپنا کردار ادا کرے۔

    March 3, 2010 @ 07:03:00AM
    Arshad Ullah.