تکنیکی تعلیم قبائلی نوجوانوں کو عسکریت پسندی سے روکنے کی کوشش

ہنر سکھانے کی تربیت قبائلی نوجوانوں کو محفوظ مستقبل کے مواقع فراہم کرتی ہے

ایم ابراہیم

2010-02-06

خیبر ایجنسی - پشاور کے ایک تکنیکی تربیتی مرکز سے پلمبنگ میں چار ماہ کا ایک تربیتی کورس مکمل کرنے کے بعد سند حاصل کرنے والے باجوڑ ایجنسی کے 18 سالہ فرحان اللہ انتہائی پرجوش دکھائی دیے۔

"ہنر کی تربیت حاصل کرنے کے بعد مجھے ایک مفید زندگی کے آغاز میں مدد ملے گی کیونکہ مجھے اپنی اسکول کی تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی تھی"، انہوں نے کہا۔

فرحان اللہ نے بتایا کہ طالبان نے ان کے اسکول کو تباہ کرنے کے بعد انہیں اور ان کے دوستوں کو ڈرا دھمکا کر اپنی تعلیم کا سلسلہ ترک کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ چونکہ وہ بے کار ہو چکے تھے لہٰذا ان کے بعض دوستوں نے عسکریت پسند تنظیموں میں شمولیت اختیار کر لی کیونکہ ان کے پاس کوئی دیگر انتخاب نہیں تھا۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کی ترقیاتی اتھارٹی (ایف ڈی اے) کے سیکرٹری محمد ناصر نے کہا "شورش پھوٹ پڑنے کے بعد یہ نوجوان حالات کے دھارے پر سب سے کمزور ثابت ہوئے کیونکہ انہیں جاری لڑائی میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا گیا۔ پہلے ہی پلوں کے نیچے سے کافی پانی بہہ چکا ہے اور حالات کا رخ بدلنا کافی ۔۔۔ مشکل دکھائی دیتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ماضی میں قبائلی علاقوں سے گزرتے ہوئے "بے شمار نوجوان دکھائی دیتے تھے جو سڑکوں کے کنارے فارغ بیٹھے بلامقصد آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھ رہے ہوتے تھے"۔

حکام عام طور پر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ فاٹا کے علاقوں میں عسکریت پسندی کے پھیلنے کا سبب تعلیم کی کمی اور قبائلی نوجوانوں میں روزگار کے ہنر کا نہ ہونا ہے۔

قبائلی نوجوانوں کو روزگار کے ہنر سکھانے اور ان میں ایک امید کا احساس جگانے کے لئے فاٹا دیہی ترقیاتی منصوبے نے خیبر، مہمند اور باجوڑ کے قبائلی علاقوں کے بے روزگار نوجوانوں کے لئے تربیت کا اہتمام کیا ہے۔

قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے 18 سے 22 سال کی عمر کے کم از کم 432 نوجوانوں نے ٹیلی ویژن اور ریڈیو، کمپیوٹر، موبائل فون، ایئر کنڈیشنر اور ریفریجریٹر کی مرمت؛ پلمبنگ؛ الیکٹریشن کے فرائض؛ ویلڈنگ اور کپڑوں کی سلائی کے چار ماہ کے دورانیے پر مشتمل کورس مکمل کیے ہیں۔ فاٹا ترقیاتی اتھارٹی کے تعاون سے شروع کیے جانے والے اس منصوبے کے تحت، گزشتہ چند سالوں میں 2000 کے قریب قبائلی نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تربیت دی جا چکی ہے۔

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک سرگرم سیاسی کارکن نثار وزیر نے بتایا کہ "بہت سے قبائلی نوجوانوں کو ان کے والدین نے خودکش حملوں کے لئے رضاکارانہ طور پر حوالے کر دیا تھا یا پھر طالبان نے انہیں ۔۔۔ ایسے مقاصد کے لئے اغوا کرلیا تھا"۔

"پروگرام کا تصور قبائلی نوجوانوں کو پاکستان کے مرکزی دھارے میں شامل کرتے ہوئے معاشرے کے ذمہ دار افراد بننے کے قابل بنانا ہے۔ یہ پروگرام اداروں میں تربیت کے ساتھ ساتھ عملی تجربے پر بھی مشتمل ہے۔ مؤخر الذکر کا مقصد نوجوانوں کو 'ملازمت کے دوران' تربیت کی فراہمی ہے تاکہ انہیں تجربہ حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ متوقع آجروں کو بھی ان کے ہنر اور کارکردگی کو پرکھنے کا موقع مل جائے"، ناصر نے کہا۔

یہ بات شک و شبہے سے بالاتر ہے کہ عسکریت پسندوں نے ان قبائلی نوجوانوں کو بھرتی کی نیت سے ہدف بنایا تھا۔

شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے ذمہ دار افسران نے ان گھروں کو مسمار کرنے کے بارے میں بتایا ہے جنہیں "مصنوعی جنت" کہا جاتا تھا۔ یہ جنت طالبان کے تربیت کاروں نے 18 سال سے کم عمر قبائلی نوجوانوں کو متاثر کرنے کے لئے بنا رکھی تھی تاکہ انہیں خودکش حملوں کے لئے تیار کیا جائے۔ بھرتی کرنے والے طالبان ان نوجوانوں کو "شہادت" کا مرتبہ پانے کے بعد جنت میں "لازمی جگہ" کی وعید سناتے تھے۔

ٹیلی ویژن اور ریڈیو کی مرمت کا ایک کورس مکمل کرنے والے 19 سالہ احمد آفریدی نے اس مثبت امید کا اظہار کیا کہ ان تربیتی کورسوں سے قبائلی نوجوانوں کی عسکریت پسند تنظیموں میں شامل ہونے کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ کورس میں شریک ایک اور نوجوان جاوید مہمند کا کہنا تھا کہ ایسی صحت مندانہ سرگرمی کی تکمیل سے "ان (نوجوانوں) کا مستقبل اب محفوظ ہے"۔

مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ایک ممتاز قبائلی رہنما ملک شیر اکبر نے کہا کہ طالبان کی انسانیت سوز سرگرمیوں نے بیرونی دنیا کے سامنے ان کے حقیقی عزائم آشکار کر دیے ہیں۔ "ہر گزرتے مہینے کے ساتھ قبائلی نوجوانوں میں ان کی حمایت کم ہوتی جا رہی ہے اور سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی جانب سے نوجوانوں کو ملازمتوں کے مواقع کی پیشکش ان کے خودکش بمبار اور رضاکارانہ جنگجو بننے کے ارادوں کو مزید کمزور کر سکتی ہے"، انہوں نے مزید کہا۔

دیہی ترقیاتی منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر مسعود بنگش نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ ہر ماہ امیدواروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ تربیت حاصل کرنے والے بیشتر امیدوار اب کامیاب زندگیاں گزار رہے ہیں اور وہ قبائلی علاقوں میں دوسروں کے لئے ایک مثالی کردار ہیں۔

"ہنر کی تربیت فراہم کرنے کے علاوہ اس کا بنیادی مقصد ہمارے نوجوانوں کو غلط ہاتھوں میں جانے سے روکنا ہے"، انہوں نے کہا۔ "ان سرگرمیوں کے شاندار نتائج دیکھنے کو ملے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ اگر اس طرح کے اقتصادی لحاظ سے مفید پروگراموں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تو قبائلی نوجوان عسکریت پسندی کی جانب دوبارہ مائل نہیں ہوں گے"۔ بنگش نے کہا کہ مستقبل کے پروگراموں میں کمپیوٹر کے کورس اور ایئر کنڈیشننگ اور ریفریجریشن سے متعلق اسباق شامل کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، ایک سرکاری ادارے میں صنفی ترقی کی ایک ماہر خاتون مہناز افتخار نے کہا۔ عسکریت پسندی کے خاتمے اور قبائلی نوجوانوں کو طالبان کے ساتھ شامل ہونے سے روکنے کے لئے نوجوانوں کے بہت سے پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

"[ان] سے غربت میں کمی، آمدنی میں اضافہ، قبائلی نوجوانوں کی تعمیری اور مفید سرگرمیوں میں شمولیت اور سب سے بڑھ کر عسکریت پسندی کا خاتمہ جیسے بہت سے مقاصد حاصل ہوں گے"، انہوں نے کہا۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 0)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے