پاکستان کا کاروباری طبقہ بھارت کے ساتھ آزاد تجارت کا خواہاں

ان کا کہنا ہے کہ اس سے لاگت اور ترسیلی اوقات میں کمی آئے گی

جاوید محمود

2010-02-03

کراچی، پاکستان ۔۔ وقت اور فاصلے کی بچت سے ہی منافع حاصل ہوتا ہے۔ دور دراز ملکوں سے مہنگے داموں سامان، پرزہ جات اور ترسیل کے وقت سے تنگ پاکستانی تاجر بھارت کے ساتھ آزاد تجارت کے خواہاں ہیں۔

"ٹیکسٹائل کی صنعت ایک ہمسایہ ملک سے مشینری اور فاضل پرزہ جات درآمد کرنا چاہتی ہے جو اپنی اعلٰٰی معیاری مشینری کے باعث مشہور ہے"، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے سابق چیئرمین اکبر شیخ نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا۔ "حکومت پاکستان نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ جولائی 2009 سے ان اشیاء کی بھارت سے درآمد کی اجازت دے دے گی لیکن اب جنوری 2010 آ چکا ہے اور اسے عملی جامہ نہیں پہنایا گیا"۔

انہوں نے بتایا کہ فی الوقت ٹیکسٹائل کی صنعت چین، جرمنی اور دیگر ملکوں سے مشینری اور فاضل پرزہ جات مہنگے داموں پر درآمد کر رہی ہے اور ساتھ ہی باربرداری کی زیادہ لاگت ادا کر رہی ہے۔ ترسیل میں تقریباً دو ماہ کا عرصہ لگتا ہے جبکہ یہی چیزیں بھارت سے درآمد کرنے پر دو سے تین ہفتے درکار ہوں گے، شیخ نے کہا۔

"بھارتی ٹیکسٹائل مشینری اور پرزہ جات چین اور جرمنی کے مقابلے میں کہیں ارزاں ہیں، لیکن ہم لاگت میں اس کمی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے کیونکہ ابھی حکومت نے ہمیں (اس) ہمسایہ ملک سے درآمد کی اجازت نہیں دی"، شیخ نے کہا۔

گزشتہ چار سالوں کے دوران، پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت نے مشینری اور پرزہ جات کی درآمد پر 4 ارب 50 کروڑ امریکی ڈالر سے زائد رقم صرف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت بھارت سے درآمد کی اجازت دے دے تو صنعت کی 20 فیصد تک بچت ہو سکتی ہے۔

"بھارت سے آزاد تجارت کے نتیجے میں دبئی کے راستے بالواسطہ تجارت پر انحصار ختم ہو جائے گا اور اس سے دونوں ملکوں کے کاروباری طبقے اور عوام کو فائدہ پہنچے گا"، کراچی کے ایوان صنعت و تجارت کے صدر عبدالمجید نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا جو کئی سالوں سے بھارت کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں۔

پاکستان نے بھارت سے 773 اشیاء کی درآمد کی اجازت دے رکھی ہے۔ دیگر سامان دبئی کے راستے درآمد کرنا پڑتا ہے۔ بھارت سے براستہ سمندر براہ راست درآمد پر 7 سے 8 امریکی ڈالر فی ٹن لاگت آتی ہے، جبکہ براستہ دبئی سامان درآمد کرنے کی لاگت 18 سے 20 امریکی ڈالر فی ٹن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت دبئی کے راستے سالانہ ایک ارب ڈالر سے زائد کے سامان کی تجارت کرتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کو نومبر 2008 میں ممبئی میں دہشت گردانہ حملوں کے بعد دھچکا پہنچا تھا لیکن دونوں ملکوں کی جانب سے اپنے سفارتی اور سیاسی تعلقات کو مضبوط بنانے کے بعد 2009 میں اس میں بتدریج بہتری آئی، انہوں نے کہا۔

گزشتہ حکومتوں کے ساتھ 14 سال تک اقتصادی مشیر کے طور پر کام کرنے والے اقتصادی ماہر اشفاق ایچ خان نے اسلام آباد سے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ "پاکستان اور بھارت کے درمیان 'اتفاقیہ' تجارت ہو رہی ہے۔"

اتفاقیہ تجارت کی وضاحت کرتے ہوئے خان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اکثر تجارت اس وقت ہوتی ہے جب ملک میں پیدا ہونے والی کوئی غذائی جنس آبادی کی ضروریات کو پورا نہ کر سکے۔ مثال کے طور پر، اگر پاکستان میں کسی غذائی جنس کی قلت ہو جائے تو وہ اسے بھارت سے درآمد کر لیتا ہے اور بھارت بھی ایسا ہی کرتا ہے۔

فی الوقت، دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ 1 ارب 50 کروڑ امریکی ڈالر کے سامان کی تجارت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سالانہ 5 ارب امریکی ڈالر کے قریب سامان کی تجارت کر سکتے ہیں۔

خان نے کہا کہ 2004 میں پاکستان نے درآمدی اشیاء کی فہرست میں اضافہ کرتے ہوئے 400 سے 773 اشیاء کی درآمدات کے ذریعے آزاد تجارت کو فروغ دیا لیکن اس کے بعد سے اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

"بھارت اور پاکستان دنیا میں صارفین کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ہیں اور آزاد تجارت سے دونوں ملکوں کے عوام کو فائدہ پہنچے گا"، عبدالمجید نے کہا۔

اکثر تجارتی حکام نے اس بات سے اتفاق کیا کہ دونوں ملکوں کو غذائی اجناس کی ہنگامی تجارت سے آگے بڑھنا چاہیے۔

"سارک (جنوبی ایشیائی تنظیم برائے علاقائی تعاون) کے ایوان صنعت و تجارت نے پاکستان اور بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ تجارت کو فروغ دینے اور کشیدگی میں کمی لانے کے لئے مذاکرات کی راہ اپنائیں"، سارک کے ایوان کے سیکرٹری جنرل اقبال تابش نے کہا۔ "ایوان دونوں ملکوں کے کاروباری طبقے کو تجارت بڑھانے کی ترغیب دے رہا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم نے گزشتہ چند سالوں سے پاکستان اور بھارت کے مابین تجارت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ باہمی تجارت کے فروغ سے، دونوں ملک سالانہ تقریباً 5 ارب امریکی ڈالر کی مالیت کے سامان کی تجارت کر سکتے ہیں، انہوں نے خان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا۔

"2003-2004 اور 2008-2007 کے سالوں کے درمیان پاکستان اور بھارت کے مابین تجارت میں 550 فی صد اضافہ ہوا اور 2008-2007 میں وہ 2 ارب 23 کروڑ امریکی ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ 2003-2004 میں وہ محض 34 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھی،" واشنگٹن میں بھارتی سفارت خانے کے ذرائع ابلاغ، اطلاعات اور ثقافت کے وزیر راہول چھابڑہ نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا۔ "2009-2008 میں گزشتہ سال کی نسبت بھارت کی پاکستان کو برآمدات 22.76 فیصد کمی کے ساتھ 1 ارب 42 کروڑ ڈالر رہ گئیں جبکہ بھارت کی پاکستان سے درآمدات 26.02 فیصد اضافے کے ساتھ 36 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں"۔

2008-09 میں مجموعی دو طرفہ تجارت میں 16.9 فیصد کمی واقع ہوئی جس کی بڑی وجہ عالمی سست روی اور ممبئی حملوں سے دونوں ملکوں کے دو طرفہ تعلقات کو پہنچنے والا نقصان تھا، انہوں نے کہا۔

تجارت میں اضافے کی راہ میں حائل رکاوٹوں میں سے ایک پاکستان سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی ہے جس سے بھارت اور پاکستان کے درمیان تجارت سمیت مجموعی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔ چھابڑہ کا کہنا تھا کہ دہشت کے ماحول میں دو طرفہ تجارت پروان نہیں چڑھ سکتی۔

چھابڑہ نے یہ بھی کہا کہ سامان کی آزادانہ اور بلا روک ٹوک نقل و حمل، جیسا کہ افغانستان نے پاکستان کے راستے اپنی مصنوعات کو بھارت کی بڑی منڈی تک پہنچانے کی اجازت مانگی ہے، سے سارک ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کی راہ ہموار ہو گی۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 0)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • سب کو دن بخیر! کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کمونو، سامدو اور جوڈو کے لباس کی تیاری کے لئے پاکستان سے روس کون کاٹن کپڑا برآمد کرتا ہے؟ ہمیں کمونو کی تیاری کے لئے کپڑا درکار ہے۔

    December 22, 2010 @ 02:12:00PM
    Водопьянов
  • میں ایک پاکستانی تاجر ہوں۔ بھارت کے ساتھ تجارت ممکن نہیں کیونکہ پہلے دیگر مسائل جیسا کہ کشمیر، پانی کا انتظام، غیر ضروری دھمکیاں اور دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے دباؤ کو حل کرنا ضروری ہے۔ دوسری جانب پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے۔ بھارت کے فوجی افسران پاکستان کے خلاف جارحانہ بیانات دے رہے ہیں۔ ان کے سیاسی رہنما بھی حالات کو معمول پر لانے میں تذبذب کا شکار ہیں۔ لہٰذا بھارت کے ساتھ کسی قسم کے تجارتی یا کاروباری تعلقات ناممکن ہیں اور ان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    March 11, 2010 @ 06:03:00AM
    Irfan Ahmed
  • یہ فروخت کے لئے بہت مفید ہے۔

    March 7, 2010 @ 07:03:00PM
    asad ali
  • بھارت اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارت ناگزیر ہے کیونکہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان دیگر مسائل کے حل کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔ دونوں ملکوں کے رہنماؤں کی نااہلی اور ہٹ دھرمی پر مبنی رویے کے باعث دونوں نسلوں نے بہت زیادہ نقصانات برداشت کیے ہیں۔ اس میں کسی تیسرے ملک کی مداخلت کی ضرورت نہیں کیونکہ دونوں کی قیادت کافی بالغ النظر ہے۔ چاہے کتنے بھی پیچیدہ مسائل کیوں نہ ہوں وہ انہیں حل کرنے کی اہلیت رکھتی ہے اور صرف حوصلہ افزائی ہی وقت کا تقاضا ہے۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ دونوں ملکوں کے حکمران اپنے عوام کے غیض و غضب سے خوفزدہ ہیں لیکن درحقیقت وہ احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں۔ درحقیقت یہ توقع کی جاتی ہے کہ دونوں میں سے جو بھی تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے قدم بڑھائے گا وہ برصغیر کے عوام کا فوری طور پر ہیرو بن جائے گا۔

    February 28, 2010 @ 07:02:00AM
    siddik s. jaangda
  • بھارت میں اپنی گاڑیاں تیار ہوتی ہیں۔ پاکستان بھی چھوٹے سائز کی گاڑیاں خود تیار کر سکتا ہے۔ ان گاڑیوں کی ٹیکنالوجی بھارتی گاڑیوں جیسی ہونی چاہیے۔ مستقبل قریب میں، فاضل پرزہ جات دونوں ملکوں کی کارکردگی سے توجہ ہٹا نہیں سکتے۔ ٹیکسٹائل کے علاوہ گاڑیوں کے شعبے پر بھی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔

    February 21, 2010 @ 01:02:00AM
    Shakir Imtiaz
  • ازراہ کرم اس کی مزید تفصیلات دیں۔

    February 11, 2010 @ 09:02:00AM
    Aafaque Ahmed