بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے پشتون جرگے کی ضرورت
بعض پشتون دانشوروں کے خیال میں جرگہ وہ واحد اجتماع ہے جو عسکریت پسندوں اور مذہبی انتہاپسندوں کو معاشرے سے الگ تھلگ کر سکتا ہے
حسن خان
2009-12-15
پاکستان، اسلام آباد – جرگہ تاریخی اعتبار سے پشتون معاشرے میں تنازعات کے تصفیے کا ایک مؤثر ترین ذریعہ رہا ہے اور بعض لوگ اسے ڈیورنڈ لائن کے آر پار پشتون علاقوں میں بدامنی کی موجودہ صورت حال پر قابو پانے کی اہلیت رکھنے والے آخری انتخاب کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
پاکستان کے شمال مغربی اور قبائلی علاقوں میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور لاقانونیت پر قابو پانے میں باضابطہ سرکاری اداروں کی واضح ناکامی جرگے کے غیر رسمی لیکن سماجی طور پر مؤثر ادارے کو بحال کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور انتہاپسندی کا مسئلہ حل کیا جاسکے۔
قبائل کے مابین تنازعات کو حل کرنے کے علاوہ، تاریخی لحاظ سے پشتون جرگے بیرونی خطرات اور مشترکہ دشمنوں کے خلاف قبائل کو ایک جگہ جمع کرنے کے مقصد کے لئے بھی بلائے جاتے تھے۔
" موجودہ صورت حال میں ایک پشتون لویہ جرگہ بلانے کی اشد ضرورت ہے " ، ایک معروف قوم پرست سیاست دان افضل خان لالہ نے کہا جو کہ نومبر 2000 میں پشاور میں پشتون لویہ جرگہ بلانے میں پیش پیش تھے۔
دو روزہ پشاور جرگے میں پاکستان، افغانستان اور دیگر ملکوں سے پشتون قبائلی رہنماؤں، قبائلی عمائدین، مصنفین اور زندگی کے مختلف شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔
" اگر میں اپنے گھر میں تقریباً قید نہ ہوتا تو میں اس وقت تک جرگہ بلانے کا انتظام کر چکا ہوتا " ، خان لالہ نے کہا۔ چونکہ وہ سوات کے عسکریت پسندوں کا ایک اہم ہدف ہیں، جو اس سے پہلے بھی انہیں ایک بار قتل کرنے کی کوشش کر چکے ہیں، سیکورٹی فورسز نے خان لالہ کی نقل و حرکت کو محدود کر رکھا ہے اور وہ بالائی سوات کے علاقے درش خیلہ میں اپنے گھر سے باہر نہیں نکلتے۔
جرگے کا پہلا کام تو اس بات پر سوچ بچار کرنا ہے کہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی نے پشتون علاقوں کو اپنی لپیٹ میں کیسے لیا۔ " لیکن جرگے کے لئے اہم چیلنج اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے اور آئندہ نسلوں کو محفوظ بنانے کے لئے ایک حکمت عملی وضع کرنا ہوگا " ، خان لالہ نے کہا۔
ایک سابق سرکاری افسر اور معروف کالم نگار، روئیداد خان، کا کہنا ہے کہ اب مزید وقت ضائع کیے بغیر ہنگامی طور پر ایک پشتون جرگہ بلایا جائے۔
" ہم بہت زیادہ بھٹک چکے ہیں۔ اپنی زمین، ثقافت سے بھٹک چکے ہیں ۔۔ یہاں تک کہ مستقبل بھی تاریک دکھائی دے رہا ہے " ، روئیداد نے کہا۔
روئیداد نے کہا کہ ریاستی اور سرکاری اداروں نے پشتون عوام کو دہشت گردوں کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
" اب وقت آن پہنچا ہے کہ پشتون عوام اس مسئلے کو اپنے قومی جرگے کے ذریعے حل کریں " ، انہوں نے کہا۔
روئیداد کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ جرگے کے عمل میں سیاسی رہنماؤں کی شمولیت کے خلاف ہیں۔
" کسی پشتون جرگے میں، آپ کو اپنے خیالات کا اظہار آزادی سے کرنا ہوتا ہے، لیکن سیاست دان، ہر صورت میں، ہمیشہ اپنی جماعت کا مؤقف اپناتے ہیں " ، انہوں نے کہا۔ حزب اختلاف کی ایک چوٹی کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (PML-N) کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا بھی جرگہ بلانے کے خواہش مند ہیں لیکن وہ اس کی نمائندگی کے بارے میں روئیداد خان اور خان لالہ سے اختلاف کرتے ہیں۔
" میرے ذہن میں جرگے کا تصور پشتون سیاسی رہنماؤں کی ایک طرح کی چھوٹی کل جماعتی کانفرنس کا ہے جو ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرتی ہو " ، جھگڑا نے کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں جرگے کو اس بات پر غور و فکر کرنا ہوگا کہ پشتون علاقوں میں عسکریت پسندی کا کیسے خاتمہ کیا جائے۔
مسلم لیگ کے تجربہ کار رہنما نے کہا کہ جرگے میں کیے جانے والے فیصلوں کی اخلاقی حاکمیت اور وزن کے باعث ان پر عملدر آمد کا ایک خود کار نظام ہوتا ہے۔
" جرگے کے متفقہ فیصلوں کو پوری قوم کی حمایت حاصل ہوتی ہے " ، جھگڑا نے بتایا اور مزید کہا کہ حکومت بھی ایسے فیصلوں کا احترام کرتی ہے۔
تاہم، تنازعے کی پیچیدگی کو ذہن میں رکھتے ہوئے، جھگڑا کا خیال ہے کہ جرگے کو وسیع البنیاد ہونا چاہیے۔
" یہ محض پشتون مسئلہ نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں کو بھی اس عمل میں شامل کرنے کی ضرورت ہے " ، جھگڑا نے پنجابی، سندھی اور بلوچ قومیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔
لویہ جرگہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ممتاز مذہبی عالم ڈاکٹر فاروق خان نے کہا کہ یہ واحد اجتماع ہے جو معاشرے سے عسکریت پسندوں اور مذہبی انتہاپسندوں کو الگ تھلگ کر سکتا ہے۔
ان کے خیال میں جرگہ کسی بھی بیرونی خطرے کے خلاف پشتونوں کی مجموعی حکمت عملی کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایک بار جب عسکریت پسندوں اور انتہاپسندوں کو دشمن قرار دے دیا گیا تو پشتون، ایک قوم کی حیثیت سے، انہیں دشمن تصور کریں گے۔ ان عناصر کو صرف جرگے کے ذریعے ہی الگ تھلگ کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (PML) کے صدر اور ایک سینئر پشتون سیاست دان، سلیم سیف اللہ خان، نے کہا کہ وہ کچھ عرصے سے جرگہ بلانے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔
سلیم کے خاندان نے اپنے آبائی ضلع لکی مروت میں ایک جرگے کے ذریعے کامیابی سے ایک مقامی لشکر (نجی فوج) ترتیب دیا۔ مقامی لشکر نے شمال مغربی سرحدی صوبے کے جنوب میں قبائلی علاقوں سے ملحق لکی مروت سے عسکریت پسندوں کا کامیابی سے صفایا کر دیا ہے۔
" یہ لشکر ہمارے اپنے جرگے نے بنایا ہے اور اسے معاشرے کے تمام طبقوں کی حمایت حاصل ہے " ، سلیم نے بتایا اور مزید کہا کہ لکی مروت کا ماڈل دیگر علاقوں میں بھی اپنایا جا سکتا ہے جہاں لویہ جرگہ کی ضرورت ہے۔












رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے