اسلامی تحریک برائے ازبکستان اور القاعدہ کی یورپ میں بھرتی، عسکریت پسندوں کا تبادلہ

اقوام متحدہ نے جرمن، آئی ایم یو اور آئی جے یو کے اراکین کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا

شاکر سعدی

2012-02-03

تاشقند – بہت سے ملکوں کے اداروں کے درمیان انٹیلیجنس کی جاری شراکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی تحریک برائے ازبکستان یورپ، روس، قفقاز اور مشرق وسطٰی میں اپنے پیروکار بھرتی کر رہی ہے اور اس کام میں القاعدہ اسے مدد فراہم کر رہی ہے۔

ازبکستان میں سلامتی کے امور کی تجزیہ کار یلینا فادیئیفا نے کہا کہ ایک دہشت گرد تنظیم کے اراکین قصداً دوسری تنظیم میں داخل ہو رہے ہیں جس کا مقصد خلافت کے قیام کے لئے جہاد کرنے میں اپنے تعاون کو مؤثر بنانے میں اضافہ کرنا ہے۔

ازبکستان کی قومی سلامتی سروس کے ایک تجزیہ کار اکرم خان اسماعیلوف نے کہا کہ القاعدہ کی حمایت اور مالی امداد سے چلنے والی اسلامی تحریک برائے ازبکستان اکثر القاعدہ کے ساتھ اپنے عسکریت پسندوں کا تبادلہ کرتی رہتی ہے۔ واضح طور پر یہ تجربات کے تبادلوں کا ایک منفرد طریقہ ہے۔

اسماعیلوف نے بتایا کہ اسی طرح کا ایک عسکریت پسند جرمن شہری مولت کر ہے جسے 2003 میں لبنان کی ایک عدالت نے ملک میں القاعدہ کا ایک گروپ قائم کرنے کی کوشش پر غیر حاضری میں پندرہ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مولت کر افغان پاکستان سرحد پر اتحادی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی حصہ لے چکا ہے۔

اسماعیلوف کے بقول مولت کر نے 2007 میں یاسین اور منیر شوکا برادران کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کی سازش کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2011 میں منیر شوکا نے اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے توسط سے افغانستان میں ایک دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں پانچ اتحادی فوجیوں کی جانیں چلی گئی تھیں۔

ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق اس خودکش بم حملے میں گیارہ افغان فوجی جاں بحق جبکہ آٹھ زخمی بھی ہوئے تھے۔

مختلف حکومتوں کے درمیان انٹیلیجنس کی شراکت کے بعد 25 جنوری کو اقوام متحدہ نے مولت کر، یاسین شوکا اور منیر شوکا کو اپنی بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق تینوں افراد کے بارے میں خیال ہے کہ وہ نئے افراد کو بھرتی کرتے ہیں، پراپیگنڈے میں ملوث ہیں اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی خیال ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد سے ملحق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کسی جگہ موجود ہیں۔

اقوام متحدہ کی دہشت گردی سے متعلق فہرست کے مطابق مولت کر پر بین الاقوامی جہاد یونین کی رکنیت کا شبہ ہے جس کا مقصد اور ہدف جرمنی میں دھماکہ خیز مواد سے حملے کرنا تھا۔

اقوام متحدہ کے مطابق جرمنی کی وفاقی عدالت انصاف نے بین الاقوامی جہاد یونین کی رکنیت اور جوتوں میں بم ڈیٹونیٹر چھپا کر جرمنی اسمگل کرنے کی ایک سازش میں حصہ لینے پر اگست 2009 میں مولت کر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

جرمن وفاقی عدالت انصاف نے ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کی رکنیت کے مضبوط شبے کے بعد اکتوبر 2010 میں شوکا برادران کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے۔ دونوں بھائی مسلح عسکریت پسندی کو فروغ دینے کی کافی زیادہ وڈیوز میں نظر آتے رہے تھے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ایک وڈیو میں انہوں نے جرمنی میں اپنے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ وفاقی صدر اور عام شہریوں کو قتل کریں۔

اسماعیلوف نے دہشت گردانہ تعاون کا ایک اور واقعہ بھی بتایا۔ فروری 2011 میں جرمنی کے شہروں ایسن اور کولون میں حکام نے دو نوجوانوں کو اسلامی تحریک برائے ازبکستان اور القاعدہ دونوں سے تعلق کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ تفتیش سے پتا چلا کہ انہوں نے 2009 اور 2010 میں پاک افغان سرحد پر دہشت گردی کے ایک تربیتی کیمپ میں شرکت کی تھی اور اس علاقے میں مقیم اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے رہنماؤں تک 39 ہزار یورو (9 کروڑ 29 لاکھ ازبک سوم) کی رقم پہنچانے میں مدد کی تھی۔

فادیئیفا نے کہا کہ القاعدہ اور اسلامی تحریک برائے ازبکستان یورپ میں مقیم مسلمانوں میں وسطی ایشیائی خلافت کے تصور کا پراپیگنڈا کرتی ہیں۔ انتہاپسند ان ملکوں پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں جو دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی جنگ میں مصروف ہیں۔ ان ملکوں میں افغانستان بھی شامل ہے جہاں بین الاقوامی فوج دہشت گردی کے خلاف برسر پیکار ہے۔

اسماعیلوف نے کہا کہ جرمنی میں رہنے والے بنیاد پرستوں کی تعداد کوئی اتنی زیادہ نہیں ہے۔ تاہم ان ملکوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے خطرے سے بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ القاعدہ کی مدد کی بدولت اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے خیالات آکٹوپس کی طرح پھیلتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے یورپی ملکوں میں اسلامی تحریک برائے ازبکستان سے ہمدردی رکھنے والے گروپ موجود ہیں۔

علاوہ ازیں، اسماعیلوف نے کہا، وسطی ایشیا اور اسلامی ملکوں کے طلباء بھی یورپ میں زیر تعلیم ہیں۔ وہ اسلامی تحریک برائے ازبکستان کی بھرتی کا ہدف بن سکتے ہیں۔

کرغزستان کے الوگ بیک تاگیروف نے بون یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ ایک بار میں بھی کام کرتے رہے۔

انہوں نے بتایا کہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد میرا ارادہ تھا کہ چند سال جرمنی میں ہی رک جاؤں کیونکہ میرے آبائی شہر اوش میں روزگار کے مواقع کم ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیم کے دوران مجھے رقم کی کمی کا بھی مسئلہ درپیش رہتا تھا۔ میرے بار میں باقاعدگی سے آنے والے ایک گاہک نے مجھ سے کہا کہ اس کے پاس میرے لئے کوئی کام موجود ہے۔ میرا کام یہ ہوتا کہ میں ایک شخص سے کوئی چیز لے کر کسی اور تک پہنچاؤں۔

اس گاہک نے مجھ سے سب سے پہلا سوال یہ کیا تھا کہ آیا میں اپنی زندگی سے مطمئن ہوں۔

یہ سوال سن کر میں کچھ تذبذب کا شکار ہو گیا تاہم میں نے پہلے ہی سن رکھا تھا کہ ایک دہشت گرد تنظیم کے اراکین اپنی بھرتی کا آغاز اسی جملے سے کرتے ہیں۔ میں نے حکام کو اس شخص کے بارے میں آگاہ کر دیا اور مجھے اپنی ملازمت تبدیل کرنا پڑی۔

اسماعیلوف نے کہا کہ دونوں گروپوں کو تباہ کرنے کے لئے مضبوط بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔ ہمارا تعاون جس قدر مضبوط ہو گا اتنی ہی تیزی سے ہم ان کا صفایا کر سکیں گے۔

ازبک جنرل پراسیکیوٹر کے ٹیکس اور کرنسی کے جرائم اور جرائم سے حاصل ہونے والی آمدنی کو قانونی شکل دینے کے انسداد کے محکمے کے سربراہ بخودر زلیائیف نے اس بات سے اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام ملکوں کے سلامتی کے اداروں کے درمیان قریبی تعاون سے ہی تمام دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کا خاتمہ ہو سکے گا اور دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکنے میں مدد ملے گی۔

اسماعیلوف نے کہا کہ گزشتہ سال اسلامی تحریک برائے ازبکستان اور القاعدہ کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ دسمبر 2011 میں اسلامی تحریک برائے ازبکستان نے اپنے ان معلوم کمانڈروں اور جنگجوؤں کی ایک فہرست شائع کی جو 2010 اور 2011 میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس فہرست میں افغانستان، سابق سوویت یونین اور پاکستان کے عسکریت پسندوں کے نام تھے۔ یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح مشترکہ کارروائیوں سے دہشت گردی کے خطرے کا صفایا کیا جا سکتا ہے۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 34)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے

  • بلاشبہ، اور بنیادی طور پر تمام ممالک میں خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ ملکر کام کرنا ضروری ہے، دہشتگردی کے راستے پر چلنے والوں اور امن کے ستونوں کو تباہ کرنے والوں کو ختم کرنے کے لیے۔ ہمارے ملک میں، بیوقوف حکام کی وجہ سے امتناعی اقدامات کے پس منظر میں شہری آبادی متاثر ہورہی ہے۔ وہ دنیاوی فائدے اور خودغرض مقاصد کے لیے قواعد کی غلط تشریح کرتے ہیں اور اس طرح لوگوں کو پریشان اور خوفزدہ بناتے ہیں اور انکی سرکاری حیثیت اور تنگ نظری ملکی قیادت کو کمزور کرتے ہیں، جس سے حالت بدتر کرکے دشمنوں کی مدد کرتے ہیں۔ گھریلوں طور پر، اس طرح کے کیڑے مکوڑوں اور گندے انڈوں کی شناخت کرنا ضروری ہے۔ صحیح اور تعلیم یافتہ لوگوں کو اختیار دیا جانا چاہیے اور وقت کے ساتھ ساتھ بہتر حکمت عملی، استحکام اور خوشحالی آئے گی۔ لیکن اب ملکی قیادت کی فراست کی وجہ سے ہمارے ملک میں کوئی جنگ نہیں ہے۔ اگر آپ اپنے آپ کو ٹھیک رکھیں، استحکام اور آمدنی ہو تو لوگ باہر سے افراتفری کو ملک میں آنے کی اجازت نہیں دینگے۔ یہ زندگی کا اصول ہے۔

    February 20, 2012 @ 02:02:25AM Сергей