روسی گندم کی برآمدات پر پابندی سے قازقستان کی گندم کی منڈی کو دھچکا
خشک سالی اور آتش زدگی کے باعث روس گندم کی درآمد پر مجبور ہو گیا ہے
کاپیزا نور تازینا
2010-09-07
آستانہ ۔۔ روس میں خشک سالی اور جنگلی آگ کے باعث ملک میں گندم کی پیداوار کے تخمینوں میں کمی آئی ہے جس پر روس نے ملک کی غذائی منڈی میں استحکام پیدا کرنے کے لئے 15 اگست کو گندم کی برآمدات پر پابندی عائد کر دی۔ اس پابندی سے قازقستان کی گندم کی منڈی پر کافی اثر پڑا ہے۔
بلومبرگ نیوز نے اپنی خبر میں بتایا کہ اگست میں عالمی ادارہ برائے خوراک و زراعت نے 2010 کے لئے روس کی گندم کی پیش گوئی میں کمی کرتے ہوئے اسے 4 کروڑ 80 لاکھ ٹن سے گھٹا کر 4 کروڑ 30 لاکھ ٹن کر دیا۔
یوریشیائی تجارتی نظام کی خاتون ترجمان زرینہ عبدینوفا نے بتایا کہ روسی برآمدات پر پابندی کے ردعمل میں عالمی منڈی میں گندم کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں قازقستان میں بھی گندم کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔
گندم کی برآمدات پر پابندی کا اعلان کرنے کے بعد روس نے کسٹم یونین کے دیگر ملکوں سے بھی اسی اقدام کی درخواست کی۔ یوریشیائی اقتصادی کمیونٹی کی زرعی صنعتی پالیسی سے متعلق کونسل نے اپنے رکن ملکوں بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، روس اور تاجکستان سے اکتوبر تک گندم کی ایک مشترکہ منڈی قائم کرنے سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔
ابھی تک کسٹم یونین کے دیگر ملکوں نے برآمدات پر مشترکہ پابندی کی روسی تجویز پر عملدر آمد نہیں کیا۔
قازقستان کی وزارت زراعت کے ایگزیکیٹو سیکرٹری ایوجینی امان نے کہا کہ قازقستان روسی مثال کی پیروی نہیں کرے گا۔ کارواں اخبار کی خبر کے مطابق، یہ فیصلہ قازقستان میں گندم کے بڑے تاجروں کے دباؤ کے تحت کیا گیا ہے۔
زرعی تجزیہ کار امانتئی کلتائیف نے بتایا کہ گزشتہ سال قیمتوں کے بحران کے نتیجے میں بہت زیادہ نقصانات کا سامنا کرنے والے گندم کے بعض تاجر روس کی جانب سے گندم کی برآمدات پر پابندی اور قازقستان میں گندم کی کم فصل کے باعث بلند قیمتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ گندم کی کچھ مقدار روس کو برآمد کرنے کی کوشش کریں گے۔
قازقستان کے کاشت کاروں کی یونین کے چیئرمین عوئزہان دارینوف نے بتایا کہ اچھی قیمتوں اور روس میں بڑھتی ہوئی طلب کے باعث عام کاشت کار اپنے قرضے ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔
قازقستان گندم کی قیمت اور مقدار کے درمیان توازن کا تعین کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آنے والی فصلوں سے متعلق پیش گوئیاں مختلف ہیں۔
کلتائیف نے پیش گوئی کی کہ قازقستان میں 1 کروڑ سے 1 کروڑ 10 لاکھ ٹن گندم کی فصل ہو گی اور اس میں سے 70 سے 80 لاکھ ٹن ملک میں ہی استعمال ہو جائے گی۔ تاہم، وزارت زراعت نے 1 کروڑ 35 لاکھ ٹن سے 1 کروڑ 45 لاکھ ٹن فصل کی پیش گوئی کی ہے۔ قاز ایگرو مارکیٹنگ کو 1 کروڑ 30 لاکھ ٹن فصل حاصل ہونے کی توقع ہے۔
امان نے کہا کہ گزشتہ سال 70 لاکھ ٹن گندم کے ذخیرے کو مدنظر رکھتے ہوئے تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ ٹن تقسیم کی جائے گی، جو ملک میں گندم کی طلب کو پورا کرنے کے لئے کافی ہے اور 80 لاکھ ٹن کے لگ بھگ برآمد کر دی جائے گی۔
تاہم، کلتائیف کو یقین نہیں ہے کہ قازقستان میں گزشتہ سال کی اتنی بچی ہوئی گندم موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر فصل کی مقدار کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے اور ملک کے گوداموں میں 2009 کی گندم کا ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔
دریں اثناء، گندم کی منڈی منجمد ہے۔
تورینو 06 بروکریج کے ڈائریکٹر اورازبیک سرسنبی نے بتایا کہ ہر کوئی نئی فصل کے نتائج کا انتظار کر رہا ہے اور اسے علم نہیں ہے کہ قیمت خرید یا فروخت کیا ہو گی۔ درجہ سوم کی گندم کی قیمت 23 ہزار سے 26 ہزار قازق ٹینگے (156سے 176 امریکی ڈالر) فی ٹن پر رک چکی ہے۔
قازقستان میں گندم کی ملکی قیمتوں کا انحصار اس کی فصل پر ہوتا ہے۔ روس کو گندم کی برآمدات میں اضافے سے ملک میں جنس کی قیمتیں بڑھ جائیں گی کیونکہ قازقستان کے پاس ملکی طلب کو پورا کرنے کے لئے گندم کم رہ جائے گی۔
سال 2010 میں روس میں گندم کی ضروریات کے تخمینے روسی گندم یونین کے 4 لاکھ ٹن سے وسطی ایشیائی ایجنسی فوڈ مارکیٹ کے 10 لاکھ ٹن کے لحاظ سے مختلف ہیں۔
بعض روسی مطبوعات کا تخمینہ ہے کہ 2005 سے 2009 تک روس نے قازقستان سے 55 فیصد تک گندم درآمد کی۔
کلتائیف نے بتایا کہ خشک سالی اور جنگلی آگ نے ملکی فصلوں کو تباہ کر دیا اور پیداوار میں کمی واقع ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ روس کو خاص طور پر مویشیوں کی غذائی ضروریات کے لئے قازقستان سے غذائی دانے کی ضرورت پڑے گی۔
قازقستان کی حکومت نے روٹی، آٹے اور دیگر غذائی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔
سرسنبی نے بتایا کہ ایک غذائی کارپوریشن منظور شدہ ریاستی ادارے کی حیثیت سے قازقستان کے اندر گندم کی خرید و فروخت کر رہی ہے اور اس نے بیرون ملک گندم کی فروخت کو ملتوی کر دیا ہے۔
سرسنبی نے کہا کہ اس وقت روٹی کی قیمت کو برقرار رکھنے کے لئے گندم کو استحکام دینے والے ذخائر کا خاطر خواہ ذخیرہ موجود ہے۔
سرسنبی نے بتایا کہ 2008-2007 میں حکومت نے روٹی کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لئے فلور ملوں کو ایک مخصوص قیمت پر گندم فروخت کی۔ ہو سکتا ہے کہ اس بار بھی یہی کرنا پڑے۔
امان نے بتایا کہ 16 اگست کو ایک حکومتی اجلاس میں ملک کی بیشتر فلور ملوں نے صارفین کو آٹے کی قیمتوں میں اضافے یا اضافے کے امکان کے بارے میں مطلع کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان فیصلوں کا کوئی بھی اقتصادی یا دیگر جواز نہیں ہے۔ حاکمت اور دیگر متعلقہ اداروں کو اس ضمن میں کارروائی کی ضرورت ہے۔
اس وقت قازقستان میں بیشتر مطبوعات کے ذریعے یہ خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ روس کے راستے عالمی منڈی میں قازقستان کی گندم فروخت کرنے کی راہ میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے تجزیہ کار ادارے قازق زرنو نے بتایا کہ قازقستان کے تاجروں کو روس کے جنوبی یورال ریلوے اسٹیشن پر گندم کی ترسیل میں مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ روسی ریلوے نے ان دعووں کی تردید نہیں کی ہے۔
قازقستان کی گندم کی روایتی منڈیوں تاجکستان اور کرغزستان میں بھی گندم کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
مجھے ہر ماہ ایک لاکھ ٹن درجہ سوم گندم درکار ہے۔
سلام۔
یہ بات سچ ہے کہ زیادہ قیمتوں پر گندم فروخت کرنے سے کاشت کار اپنے قرض ادا کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ایک اہم سوال یہ ہے کہ وہ گندم کی مصنوعات جیسا کہ روٹی اور پاستہ کے لئے کیا کرتے ہیں؟