کوئٹہ خودکش حملے میں چون افراد جاں بحق، دو سو زخمی

کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی العالمی نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

غنی کاکڑ

2010-09-03

کوئٹہ – تین ستمبر کو کوئٹہ میں ایک پرامن مذہبی جلوس پر مسلح افراد کی فائرنگ اور خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم سے کم 54 افراد جاں بحق اور 200 دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ بات پولیس اور عینی شاہدین نے بتائی۔ تین ستمبر کو یوم القدس منانے کے سلسلے میں شیعہ جلوس کا اہتمام امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے کیا تھا۔

یہ حملہ یکم ستمبر کو لاہور میں تین خودکش بم دھماکوں کے بعد ہوا ہے جن میں 37 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ ان بم دھماکوں میں حضرت علی رضہ اللہ تعالٰی عنہ کے یوم شہادت کے موقع پر نکلنے والے جلوس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

حکام نے بتایا کہ کوئٹہ میں خودکش بم دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں افراتفری پھیل گئی جس میں سرکاری اور نجی املاک کو بری طرح نقصان پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ گولیوں سے بچنے کے لئے راہگیر جان بچا کر بھاگے یا زمین پر لیٹ گئے۔ حکام نے مزید بتایا کہ صورت حال ابھی تک کشیدہ ہے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کوئٹہ قاضی عبد الواحد نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ نماز جمعہ کے بعد امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام امام بارگاہ قلعہ سے ایک جلوس نکالا گیا۔ جب جلوس کوئٹہ کے مصروف میزان چوک میں پہنچا تو سہ پہر 3 بجے کے قریب ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں 30 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے اور 250 زخمی ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد بھی قتل عام کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران نامعلوم شرپسندوں نے فائرنگ شروع کر دی جس کے باعث سیکورٹی اہلکاروں سمیت متعدد دیگر افراد شدید زخمی ہو گئے۔ بعد میں مشتعل ہجوم نے متعدد دکانوں، عمارتوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس حکام اور دیگر سیکورٹی فورسز نے زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا۔

کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی العالمی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

اسپتال ذرائع نے 50 سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 15 مریض زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ اسپتال کے عملے کو ہلاکتوں میں اضافے کی توقع ہے کیونکہ 60 زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں صحافی بھی شامل ہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل کا ڈرائیور سرور خان بم دھماکے میں جاں بحق ہو گیا جبکہ خبروں کے مختلف چینلوں کی نمائندگی کرنے والے صحافی اور کیمرہ مین زخمی ہوئے۔

انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان ملک اقبال نے صحافیوں کو بتایا کہ صورت حال اب قابو میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے فوراً بعد پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے جلوس کے منتظمین کو راستہ تبدیل کرنے کا مشورہ دیا تھا تاہم انہوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔ ان کا اصرار تھا کہ جلوس اسی راستے سے گزرے گا اور پھر اس پر حملہ ہو گیا۔

ایک عینی شاہد حیات اللہ نے بتایا کہ خودکش بمبار دوڑتا ہوا جلوس میں گھس گیا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

انٹیلیجنس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اور اس طرح کے دیگر واقعات میں افغانستان کی سرحد سے ملحق دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں مقیم طالبان اور القاعدہ کے عسکریت پسندوں کا ہاتھ ہے۔

مذہبی علماء نے کوئٹہ کے قتل عام کو انتہاپسندانہ اور انسانیت سوز کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور جانی نقصان پر رنج و غم کا اظہار کیا۔

بلوچستان حکومت نے عوام سے استدعا کی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد رہیں۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 2)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے