تاجکستان میں خودکش بمباروں کا خجند تھانے پر حملہ

وزارت دفاع کی دور افتادہ چوکیوں پر رات کو ہونے والے حملوں کا الزام جیل سے فرار ہونے والے قیدیوں پر عائد کیا گیا ہے

نگمت اللو میر سیدوف اور رخشونہ ابراگیموفا

2010-09-03

خجند، تاجکستان -- یوں محسوس ہوتا ہے کہ تاجکستان میں بھی آخر کار خودکش بم دھماکوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

تین ستمبر کو صبح 7 بج کر 45 منٹ پر خجند ایک دھماکے سے لرز اٹھا۔ حکام نے بتایا کہ دو خودکش بمباروں نے دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی گاڑی اوبلاست میں وزارت داخلہ کے منظم جرائم کا مقابلہ کرنے کے ہیڈکوارٹر کی عمارت سے ٹکرا دی۔ وزارت داخلہ کے پریس دفتر نے بتایا کہ دھماکے میں ایک پولیس اہلکار جاں بحق اور 25 دیگر زخمی ہو گئے۔

وزارت داخلہ کے سینئر انسپکٹر مخمد زہون نرزیئیف نے دوشنبہ میں منعقدہ ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ دن کا آغاز ہونے سے قبل ایک گیز 24 کار منظم جرائم کا مقابلہ کرنے کے محکمے میں داخل ہوئی اور سیدھی عمارت سے جا ٹکرائی جس کے بعد ایک زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی۔

نرزیئیف نے بتایا کہ اس حملے میں دو خودکش بمبار ملوث تھے۔ نرزیئیف نے دعوٰی کیا کہ یہ افراد منظم جرائم کے رہنما خومد کریموف کے قتل میں ملوث تھے جنہیں 30 اگست کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ وہ اپنی سرگرمیوں پر پردہ ڈالنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے متعدد ساتھی پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں۔

خودکش بمباروں کا عسکریت پسندوں سے تعلق ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شبہ ہے کہ دہشت گردی کی یہ کارروائی گزشتہ تین چار سال سے صغد اوبلاست میں متعدد جرائم میں ملوث اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے اراکین نے کی ہے۔

شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ صرف اپنا آخری نام ظاہر کرنے والے خجند کے رہائشی ندزہوت نے بتایا کہ انہوں نے طبی اہلکاروں کو جائے وقوعہ سے بے جان لاشیں اٹھاتے دیکھا۔

اسپتال کے عملے نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم معلوم ہوا ہے کہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

صغد اوبلاست کی حکومت کے اطلاعات و تجزیہ مرکز کی سربراہ رانو بوبو دزہونوفا نے بتایا کہ اس واقعے میں مذہبی انتہاپسند تنظیموں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تاجکستان میں پہلی بار خودکش بمباروں نے حملہ کیا ہے۔ کوئی جنونی یا کسی نظریے کی گرفت میں مبتلا شخص ہی یوں اپنی جان لے سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف نام نہاد شہید ہی خود کو تباہ کرنے پر قادر ہیں جن سے جنت میں انعام و اکرام کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی علاقوں کے انتہاپسندوں نے غالباً تاجکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے خودکش دھماکوں کا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

حکام اوبلاست پولیس کے ہیڈکوارٹر کی جزوی تباہ ہونے والی عمارت کا ملبہ ہٹا رہے ہیں جبکہ تفتیش کا عمل جاری ہے۔ 3 ستمبر کو ایوستا ڈاٹ ٹی جے نے اپنی خبر میں بتایا کہ صدر امام علی رحمان نے سلامتی کونسل کے سیکرٹری امیر کل عظیموف کو تحقیقات کا سربراہ مقرر کیا ہے۔

اسی دوران، قانون نافذ کرنے والے ادارے وزارت دفاع کی دور دراز چوکیوں پر رات بھر ہونے والے حملوں کی تفتیش کر رہے ہیں اور انہوں نے ان حملوں کا الزام 23 اگست کی شب انتہاپسندی کے الزام میں سزا یافتہ قیدیوں کے فرار پر عائد کیا ہے۔ دو اور تین ستمبر کی شب دوشنبہ سے 45 کلومیٹر دور ضلع رومت میں وزارت دفاع کی تین میں سے دو بیرونی چوکیوں پر لگاتار فائرنگ کی گئی۔

وزارت داخلہ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ فائرنگ کا سلسلہ نصف شب سے لے کر صبح 4 بجے تک جاری رہا۔ انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی کیونکہ انہیں ذرائع ابلاغ سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

وزارت داخلہ کے ذریعے نے مزید بتایا کہ بنگاکیئن اور گل بولوک میں واقع دونوں بیرونی چوکیوں پر 10 سے 15 اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ فرار ہونے والے بعض قیدیوں نے ضلع چکائشا میں پناہ لے رکھی تھی اور وہ لڑائی کے دوران سرکاری فوج کا محاصرہ توڑ کر وادی رومت میں روپوش ہو گئے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ بعض قیدی ساتھیوں کے ساتھ مل گورنایا ماچا کی جانب فرار ہو گئے ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، ان کی تعداد دس کے قریب ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت ہلاکتوں کی درست تعداد معلوم نہیں ہے کیونکہ حکام نے عکسریت پسندوں کا آپس میں رابطہ روکنے کی غرض سے متاثرہ اضلاع میں موبائل فون کے رابطوں کو جام کر دیا ہے۔ حکام نے اس علاقے میں اضافی دستے بھجوا دیے ہیں۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 4)

رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )

* پُر کرنا ضروری ہے
Button

قارئین کے تبصرے