کرغزستان میں بچوں کی مشقت پر خدشات کا اظہار
انتہاپسندوں کی جانب سے بھرتی اور صحت کے مسائل کو زائل کرنے کے لئے حکومت اس رجحان کے خاتمے کے لئے کوشاں ہے
اسکر علیئیف
2010-09-03
بشکیک – پندرہ سالہ آئیدر صوبروف ہر روز صبح 6 بجے بیدار ہوتا ہے تاہم وہ اسکول نہیں جاتا۔ وہ صبح 7 بجے سے مقامی بازار میں ہتھ گاڑی پر وزن کھینچنا شروع کرتا ہے جہاں وہ ایک سال سے زائد عرصے سے کام کر رہا ہے۔
اوش اوبلاست سے تعلق رکھنے والا چھریرے بدن کا حامل آئیدر وزن سے لدی ہتھ گاڑی کھینچتے ہوئے زہول، زہول کی آوازیں نکالتا ہے اور اپنے خاندان کو غربت کے چنگل سے نکالنے کے لئے بہتر آمدنی کے خواب دیکھتا رہتا ہے۔
آئیدر کرغزستان کے ان ہزاروں نوجوانوں میں شامل ہے جو محنت مشقت کی وجہ سے اسکول جانا ترک کر دیتے ہیں۔
اگرچہ ان کی جانفشانی قابل تعریف ہے تاہم حکومت اور عوامی فلاح و بہبود کی تنظیمیں اس رجحان میں مخفی مسائل سے آگاہ ہیں۔ ان میں صحت کے مسائل اور یہ خدشات شامل ہیں کہ غیر تعلیم یافتہ نوجوان انتہاپسندوں کا آلہ کار بن سکتے ہیں۔
حکومت اس مسئلے پر قابو پانے کی کوششیں کر رہی ہے۔
وزارت محنت، روزگار اور ترک وطنیت کی خاتون ترجمان سمیعہ طالبوفا نے بتایا کہ مثال کے طور پر وزارت بچوں کی ملازمت پر قومی پابندی کی پاسداری کو یقینی بنانے کی نگرانی کرتی ہے اور والدین کو اس پر عملدر آمد کرنے پر قائل کرتی ہے۔
تاہم حکومت کی اس کوشش سے آئیدر کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ بشکیک کے اوش بازار میں سبزیاں فروخت کرنے والی کوریمہ باشالوفا نے حال ہی میں اسے 50 کلوگرام وزن کھینچنے کا کام دیا۔ یہ سامان 3 کلومیٹر دور دیکن بازار میں پہنچانا تھا۔ باشالوفا نے اسے اس کام کی 50 کرغیز سوم (1 امریکی ڈالر) مزدوری دی۔
باشالوفا نے ہتھ گاڑی میں سامان لادنے میں اس کی مدد کرتے ہوئے بتایا کہ آئیدر اچھا لڑکا ہے۔ وہ 50 سوم کے عوض بہت لگن سے کام کرتا ہے جبکہ وزن کھینچنے والے بالغ لوگ 150 کرغیز سوم سے کم رقم پر انگلی بھی نہیں ہلاتے۔ اس میں کوئی چیز بھی زیادہ وزنی نہیں ہے، یہ صرف سبزیاں ہیں۔
آئیدر بازار میں راستہ بناتے ہوئے جب باہر سڑک پر آیا تو اس کی گردن اور کمر کے پٹھوں میں کھچاؤ پیدا ہو چکا تھا۔
اس نے بتایا کہ میں اپنے والدین کا سب سے بڑا بیٹا ہوں۔ میرے والدین کاشت کاری کرتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں کام کروں۔ میں رضاکارانہ طور پر شہر آ گیا جہاں میں بازار میں سامان فروخت کرنے والے اپنے عم زاد کے ساتھ مقیم ہوں اور میں نے اس سے درخواست کی کہ وہ کام تلاش کرنے میں میری مدد کرے۔
یونیسیف کا تخمینہ ہے کہ کرغزستان میں محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالنے والے 38 ہزار بچے اسکول نہیں جاتے۔ بعض مقامی غیر سرکاری تنظیموں نے یہ تعداد ایک لاکھ بیس ہزار بتائی ہے۔
عالمی محنت تنظیم کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کمتر معیار زندگی اور بے روزگاری کی بلند شرح کے باعث بچوں کو اکثر خاندان کے لئے روزی کمانے والا تصور کیا جاتا ہے۔
وزارت تعلیم کی نمائندہ خاطرہ صادقوفا نے بتایا کہ سرکاری حکام اسکولوں کے ساتھ کام کر کے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ 7 سے 18 سال کی عمر کے تمام بچے تعلیم حاصل کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ جو بچے اسکول نہیں جاتے یا اپنی کلاسوں سے غیر حاضر رہتے ہیں ہم ان بچوں اور ان کے والدین سے ملاقات کر کے انہیں اسکول جانے پر قائل کرتے ہیں۔
خاطرہ صادقوفا نے بتایا کہ اسکول اور والدین کی کمیٹیاں بھی اس سلسلے میں مدد کرتی ہیں اور غریب بچوں کو اسکولوں کے بستے، درسی کتب، قلم اور مفت کھانا فراہم کرتی ہیں۔
حکومت مشقت کرنے والے اور محروم بچوں کی زیادہ سرگرمی سے مدد کرنے کے لئے فوری ردعمل گروپ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
صادقوفا نے بتایا کہ یہ گروپ اسکولوں اور مقامی حکومتوں کے ساتھ رابطہ کر کے اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کتنے بچوں کا اندراج کیا گیا ہے اور ان میں سے درحقیقت کتنے اسکول جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت اسکول کے ضرورت مند بچوں کو کچھ مالی امداد فراہم کرنے کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ ان بچوں کو گھر کے لئے تفویض شدہ کام میں مدد دینے کے لئے اسکولوں میں اوقات کار کے بعد خصوصی کلاسوں کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
تاہم، بہت سے بچے سرعام مشقت کر رہے ہیں۔ جس روز باشالوفا نے اسے وزن کھینچنے کا کام دیا، دن کے اختتام پر آئیدر نے آڑوؤں کی 40 پیٹیاں اور 150 کلوگرام بینگن اپنی منزل پر پہنچائے۔ اس نے بتایا کہ اسے کوئی تھکاوٹ نہیں ہے۔
تاہم طبی ماہرین کو اس سے اختلاف ہے۔
ماہر اطفال علینا خاکیموفا نے کہا کہ وزن سے لدی ہتھ گاڑی کو کھینچنا بالغوں کے لئے بھی مشکل ہے، نوعمر بچوں کے لئے تو یہ کام حد سے زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے۔ میں تو اس بات پر حیران ہوں کہ اس کے والدین کیا سوچ رہے ہیں۔ ہتھ گاڑی کھینچنے والے کا کام چین میں رکشہ کھینچنے والوں جیسا ہے۔ ان میں سے اکثر 30 سال کی عمر کو پہنچنے سے قبل ہی فوت ہو جاتے ہیں۔
وزارت محنت کی خاتون ترجمان طالبوفا نے بتایا کہ بچوں سے غیر قانونی مشقت لینے والے آجروں پر جرمانے عائد کرنا ایک اچھا ابتدائی قدم ہے تاہم ہمیں ہر بچے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ خاص طور پر نوعمری میں وہ انتہائی نازک ہوتے ہیں۔ اگر ہم نے ہر بچے کو ایک اچھا انسان بنانے پر توجہ نہ دی تو کیا معلوم کہ وہ بعد میں کیا بن جائیں۔ نگرانی سے محروم بچے خراب گروپوں کے زیر اثر آ سکتے ہیں۔
صادقوفا نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اگر بچوں کو مناسب تعلیم نہ ملے اور وہ مطمئن نہ ہوں تو وہ آسانی سے انتہاپسند گروپوں کے ہتھے چڑھ سکتے ہیں۔ اور انتہاپسند گروپ کمزور لوگوں کے ہی متلاشی ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو ان سے محفوظ رکھنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہیے۔
بچے اکثر کھیتوں میں مشقت، بازار میں چیزیں فروخت کرنے، بس میں کرایہ وصول کرنے اور دکانداروں کے معاون کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔
اس کام سے ان کی صحت کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ امراض اطفال اور اطفال کی سرجری کے قومی مرکز کے ڈاکٹروں نے دوردوئی بازار میں کام کرنے والے 8 سے 16 سال کی عمروں کے 300 بچوں کا معائنہ کیا اور انہیں پتا چلا کہ ان کی خوراک ان کی جسمانی ضروریات کے لحاظ سے ناکافی ہے جس سے وہ نشوونما اور مدافعت کے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔
کرغزستان نے 1999 میں بین الاقوامی محنت تنظیم کے بچوں کی مشقت کی بدترین شکلوں کے کنونشن کی توثیق کی تھی اور بچوں کی مشقت کی انتہائی استحصال کا شکار اقسام کے خاتمے کا 2011-2008 قومی پروگرام منظور کیا۔ کرغزستان کے آئین کے تحت بچوں سے مشقت لینا منع ہے۔
تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتہائی دشوار اقتصادی حقائق کے پیش نظر یہ قانون مبہم شکل اختیار کر لیتا ہے۔
آئیدر نے اپنی آستین سے پسینہ پونچھتے ہوئے بتایا کہ میں یومیہ 200 سوم کما سکتا ہوں اور کسی اچھے دن یہ مزدوری 700 سوم تک پہنچ جاتی ہے۔ میں 45 سوم ہتھ گاڑی کا کرایہ اور مزید 20 سوم اس کو کھڑا کرنے کی جگہ کے دیتا ہوں، 50 سوم کھانے کے لئے ادا کرتا ہوں اور ایک ہزار سوم ماہانہ کرایہ ادا کرتا ہوں۔ اس نے بتایا کہ میں اپنے گھر والوں کے لئے کچھ رقم بچا بھی لیتا ہوں۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے
سلام، میرا نام علی شیر ہے اور میں بشکیک کی ایک یونیورسٹی کا طالب علم ہوں۔ ہمارے مذاکرہ گروپ میں جلد ہی بچوں کی مشقت کے مسئلے پر ایک مذاکرہ ہو گا لہٰذا میں اس مضمون کی اشاعت پر آپ کا مشکور ہوں۔ سب سے پہلے تو یہ معلومات کا ایک بہترین ذریعہ تھا اور دوسری چیز یہ ہے کہ میری رائے میں یہ مضمون انتہائی پیشہ وارانہ انداز اور سچائی سے لکھا گیا ہے۔ یہ آج کے حقیقی سچ کی نشاندہی کرتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس مضمون کو پڑھنے کے بعد ہر کوئی اس مسئلے کے حل میں مدد دینے کی کوشش کرے گا۔ میں ذاتی طور یہ کہنا چاہوں گا کہ ہماری جانب سے اپنے بچوں، کم سن اور نوعمر افراد کی تربیت کا ان کے مستقبل پر گہرا اثر پڑتا ہے۔