جنوبی کرغزستان کے علماء رمضان کو کرغیز اور ازبک باشندوں کے اختلافات دور کرانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں
مقدس مہینے کے دوران تناؤ میں کمی
عوقیل بیک زہونوسوف
2010-09-02
اوش ۔۔ جون کے فسادات کے بعد کرغیز اور ازبک باشندے ایک دوسرے کی غلطیوں کو درگزر کرنے کے مہینے رمضان کو تعلقات کی بحالی کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔
رمضان سے قبل، قاضی (مفتیات کے تحت شہری اور ضلعی روحانی پیشوا) نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایسی سرگرمیوں کو منعقد کرنے کوشش کریں گے جن سے جون کے نسلی فسادات کے بعد چلی آنے والی تلخیوں میں کمی لائی جا سکے۔ انہوں نے غروب آفتاب کے بعد کرغیز اور ازبک باشندوں کی مشترکہ افطار محافل کا اہتمام کرنے کی تجویز دی۔
جلال آباد کی مرکزی مسجد میں اس قسم کی پہلی افطار محفل منعقد ہوئی جس کا اہتمام وزیر خارجہ رسلان قازق بائیف کے شہر کے دورے کی مناسبت سے کیا گیا تھا۔ اس تقریب میں مختلف قومیتوں کے مسلمانوں نے شرکت کی۔
افطار میں شریک ایک ریٹائرڈ شہری عبدو مومن علیئیف نے بتایا کہ ان کی ضلعی مسجد کے امام نے انہیں اس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔
بعض ازبک اور کرغیز باشندے اپنے طور پر مشترکہ افطار کا اہتمام کر رہے ہیں۔
کرغیز باشندے کوشالی اوسینوف اور اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرنے والے ان کے ازبک پڑوسی گزشتہ 20 سال سے ساتھ ساتھ رہ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ہمیشہ مختلف قومیتوں کے مسلمانوں کے ساتھ افطار کرتے رہے ہیں۔
اوسینوف نے کہا کہ ہمیں کوئی جدا نہیں کر سکتا۔ حقیقی اسلام میں کسی نسل کی اہمیت نہیں۔
ان کے پڑوسی نے کہا کہ بعض لوگ مشترکہ افطار کو پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری نسلی برادریوں کے بعض افراد مشترکہ افطار محافل منعقد کرنے پر ہمیں برا بھلا کہتے ہیں۔ حقیقی ملسلمان بہت کم ہیں۔ اگر نماز پڑھنے والے سب لوگ سچے مسلمان ہوتے تو جون کا سانحہ پیش نہ آتا۔
اوسینوف اور ان کے پڑوسی فسادات کو اپنی دوستی پر غالب آنے کو مسترد کرتے ہیں۔ مشترکہ افطار کے بعد وہ رات کی تاریکی میں نماز ادا کرنے کے لئے مسجد کا رخ کرتے ہیں۔ وہ مختلف گلیوں سے جاتے ہیں تاکہ کوئی شخص انہیں اکٹھا نہ دیکھ سکے۔ وہ مسجد پہنچنے پر ایک دوسرے سے ملتے ہیں کیونکہ اللہ کے گھر میں سب لوگ برابر ہیں۔
اسلامی عالم قادر مالکوف نے بتایا کہ بزرگوں کی بجائے نوجوانوں کے لئے منعقد کی جانے والی مذہبی رسومات مصالحتی سرگرمیوں کے طور پر زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔
جلال آباد میں اسلامی تعلیم کے مرکز کے ڈائریکٹر دل مرود ادزہی اروزوف نے کہا کہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار آج کے معاشرے میں مشترکہ افطار، شادی کی رسومات اور دیگر تقاریب کے انعقاد کے علاوہ بزرگوں کے اقوال زریں کی ضرورت ہے۔
کرغزستان کی مفتیات دونوں اقوام کے درمیان مصالحت کے لئے کوشاں ہے۔ 27 اگست کو اوش کے مفتی چوبک ادزہی جلالیلوف نے امام بخاری مسجد میں نماز جمعہ پڑھائی اور بعد ازاں مسلمانوں کے اتحاد کی اپیل کی۔
بشکیک کی مفتیات کے ایک نمائندے اورزوبیک قاسوموف نے کہا کہ مفتیات نوجوانوں کے لئے اسلام کے بارے میں درس پیش کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جس میں امن اور بھائی چارے کی اہمیت کو واضح کیا جائے گا۔
قاسوموف کا کہنا تھا کہ لوگ خود اسے اچھی طرح سے سمجھتے ہیں۔ اس وقت عوام دیگر مسائل کا شکار ہیں جن میں مکانات کی تعمیرنو اور ملازمت کی تلاش شامل ہیں تاہم کرغیز اور ازبک باشندے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور مدد کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل میں نے جنوبی علاقوں کا دورہ کیا۔ وہاں مجھے ایک بزرگ شخص نے بتایا کہ دونوں اقوام کے باشندے کئی سال تک ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے ہیں۔ اب بھی عام سوجھ بوجھ غالب آئے گی۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے