اسلامی تحریک برائے ازبکستان بشکیک میں بدامنی پھیلا سکتی ہے
وڈیو جاری ہونے کے بعد کرغزستان میں حفاظتی اقدامات میں اضافہ
ایبک کارا بائیف
2010-08-27
بشکیک – اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے ہلاک ہو جانے والے سابق رہنما طاہر یلداشیف کے جانشین عثمون عودل نے جنوبی کرغزستان میں ازبک باشندوں کی ہلاکت کے ذمہ دار افراد کے خلاف جہاد کا اعلان کیا ہے۔
ایک وڈیو خطاب میں عثمون عودل نے کہا کہ یہ خونریز سانحہ مسلمانوں کے خلاف گھناؤنی سازشوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے اور اس کے پیچھے مرتدین کی حکومت کا ہاتھ ہے۔ اللہ مسلمانوں کو درست فیصلہ کرنے اور جہاد کی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔
کرغزستان میں اسے عام شہریوں کے خلاف اعلان جہاد سمجھا جا رہا ہے اور تحفظ عامہ کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ریاستی قومی سلامتی سروس کے ڈائریکٹر کینیش بیک دوئشی بائیف نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ ہمیں انٹیلیجنس اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے انفرادی اراکین بشکیک میں پہلے سے موجود ہیں۔ تاہم اسلامی تحریک برائے ازبکستان کی قیادت چاہے جس کے ہاتھ میں بھی ہو، ہمارے پاس اس کی مزاحمت کی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے سلامتی کی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے حفاظتی اقدامات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
ماہر سیاسیات یووجینیا نورن اسکایا نے انہیں محض گیڈر بھبکیاں قرار دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہم مجرموں کے کسی گروہ کو پورے ملک کو ڈرانے دھمکانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
توکتو گل کاکچیئیف اور متعدد دیگر تجزیہ کاروں نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ عودل عثمونوف کی جانب سے اعلان جہاد اس وقت تین گروہوں میں بٹی ہوئی اپنی تحریک کو منظم کرنے کی ایک خالصتاً سیاسی کوشش ہے۔ ان میں سے ایک گروہ نے اسلامی جہاد کے نام سے اپنی تحریک قائم کر لی ہے، دوسرا افغانستان میں طالبان کے شانہ بشانہ لڑ رہا ہے جبکہ تیسرا گروہ وسطی ایشیائی حکومتوں کا تختہ الٹنے کے اپنے پرانے مقصد پر کاربند ہے۔
اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے رکن کی منصوبوں پر تبادلہ خیال کی تصدیق
اپنی حفاظت کے نقطہ نظر سے آخری نام ظاہر نہ کرنے والے اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے ایک رکن حامت نے کرغزستان میں خونریزی کے امکان کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کئی ماہ سے بشکیک میں مقیم ہیں کیونکہ اسلامی تحریک برائے ازبکستان نے شہر میں ہنگامے کرانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ میں یہاں اس لئے آیا کیونکہ انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ اسلامی تحریک برائے ازبکستان کے اراکین کو بشکیک منتقل کیا جا رہا ہے۔ میری یہاں آمد کے بعد کسی نے بھی مجھ سے رابطہ نہیں کیا۔ وہ لوگ چلے گئے ہیں یا پھر غائب ہو گئے ہیں۔
حامت نے اس بات پر اصرار کیا کہ ان کی آمد کا مقصد لڑنے کی بجائے نئے اراکین بھرتی کرنا تھا۔
حامت نے کہا کہ میں نے سنا تھا کہ تحریک کے قائدین کے درمیان اتفاق نہیں ہو سکا۔ عثمون عودل لڑنا چاہتے ہیں تاہم ملا عبد اللہ کسی کے ساتھ رابطہ نہیں کرنا چاہتے۔
وسطی ایشیا میں دہشت گردی کے امور پر نگاہ رکھنے والے ایک تاجک ماہر فروحی صغدی نے اسلامی تحریک برائے ازبکستان کی صورت حال کو ناقابل رشک قرار دیا۔
انہوں نے پیش گوئی کی کہ یہ تحریک مزید کئی حصوں میں تقسیم ہونے کے بعد مقامی گروہ کی شکل اختیار کر سکتی ہے جس کا خطے کی صورت حال میں بہت کم اثر و رسوخ رہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ طاہر یلداشیف کی ہلاکت کے بعد پاکستان اور افغانستان کے طالبان اور عرب ملکوں کی جہاد پسند تنظیموں کی جانب سے اسلامی تحریک برائے ازبکستان کو ملنے والی مالی امداد میں کمی واقع ہو گی۔
کرغیز روسی سلافی یونیورسٹی کے ماہر سیاسیات مارات قازق پائیف نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی وزیرستان میں اسلامی تحریک برائے ازبکستان کو سخت ہزیمت اٹھانا پڑی اور اس میں پھوٹ پڑ گئی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اب وہ اپنی توجہ کا رخ کرغزستان کی جانب موڑ سکتی ہے۔ قازق پائیف نے کہا کہ وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے کچھ سرگرمیاں شروع کر سکتی ہے۔













رائے دیں ( کامنٹ پالیسی )
قارئین کے تبصرے